مرکز

نگاہِ ناز سے متحرک تصویرکشی

ایئر لِفٹ اور شیف جیسی فلموں کی کامیابی کے ساتھ سنیما ٹو گرافر پریا سیٹھ بالی ووڈ میں صنف سے متعلق دقیانوسی تصورات کی بیخ کنی کا کام کررہی ہیں۔ 

آسکر کی تاریخ میں اس سال ایسا پہلی بار ہوا ہے کسی خاتون کو متحرک تصویریں کھینچنے کے زمرے میں آسکر کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ریچل موریسن کو نیٹ فلکس کے مَڈ باؤنڈ کے لیے  سنیما ٹو گرافی  میں نامزدگی ملی۔  سنیما ٹو گرافی  کا تعلق بنیادی طور پر فلم کی عکس بندی سے ہے یعنی فلم کی تصویروں کا کیمرے اور روشنی کے موزوں استعمال کے ذریعے قید کیا جانا۔ یہ ایسا واحد زمرہ تھا جس میں اب سے پہلے کبھی کسی خاتون کو نامزد نہیں کیا گیا ۔ مگر ۹۰ برس کی طویل مدت کے بعد اس بندش کو  موریسن نے توڑ دیا جن کی آنے والی فلموں میں  بلیک پینتھر شامل ہے۔ 

بالی ووڈ میں یہی کام سنیما ٹو گرافر  پریا سیٹھ کر رہی ہیں جومشرق میں بندشوں کو توڑنے والی خواتین میں سے ایک ہیں۔سیٹھ ۱۹ برس سے یہاں کام کررہی ہیں ۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں اعلیٰ مقام اس وقت آیا جب انہوں نے ہدایت کار راجا کرشنا مینن کی ۲۰۱۶ ء میں بنی فلم ایئر لِفٹ کے لیے  سنیما ٹو گرافی  کی جس میں مرکزی کردار معروف اداکار اکشے کمار نے ادا کیا تھا۔ باکس آفس پر دھوم مچا دینے والی بڑے بجٹ کی اس بالی ووڈ ایکشن فلم نے پریا سیٹھ کو راتوں رات غیرمتوقع شہرت سے مالا مال کر دیا ۔ 

مگر مینن کے لیے سیٹھ کو یہ ذمہ داری سونپنا آسان نہیں تھا۔سیٹھ بتاتی ہیں ’’شروع میں بہت ساری رکاوٹیں تھیں۔‘‘

 توجہ کا مرکز 

سنیما ٹو گرافر جو ڈائرکٹر آف فوٹو گرافی بھی کہلاتے ہیں ، عام طور سے سیٹ پر ہدایت کار کے بعد ذمہ داری سنبھالنے کا کام کرتے ہیں۔اس کام کے لیے فنکارانہ صلاحیت درکار ہے۔ ساتھ ساتھ ہر منظر کے لیے روشنی، شاٹ اور عملے کے اراکین کو درست طریقے سے کام پر لگانے کے لیے تکنیکی معلومات اور بڑے کیمرے کو اٹھانے کی استعداد کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ 

جسمانی محنت کا ایسا کام کرنے کے لیے کسی خاتون کی صلاحیت سے متعلق بعض شکوک و شبہات تھے۔ سیٹھ بتاتی ہیں ’’ میں اس کام کو ویسے ہی کیا کرتی جیسے کہ کوئی دوسرا شخص ۔‘‘

سیٹھ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب نقاد اور فلم شائقین نے ان کے کام کی ستائش کی۔ وہ بتاتی ہیں ’’ اس کام کے لیے میرا تقرر میرے لیے نئی پیش رفت ثابت ہوا۔میں نے اچھی طرح یہ ذمہ داری نبھائی ۔ اس کام کے لیے میرا چنا جانا خود میرے لیے کافی حیرت انگیز چیز تھا۔ پھر اچانک مجھے توجہ دی جانے لگی۔ میرے خیال میں کسی بڑی بالی ووڈ فلم کی  سنیما ٹو گرافی کرنے والی میں پہلی خاتون تھی۔ مگر یہ میرا کام ہی تھا جس نے مجھے شناخت دلوائی۔ اس فلم اور اسے ملی کامیابی نے مجھ میں خود اعتمادی جگائی اور میں نے اپنی صلاحیتوں پر مشکوک ہونا چھوڑ دیا۔‘‘

سیٹھ اپنی بات جاری رکھتی ہیں ’’ اب میں یہ کہنے کے قابل تھی کہ یہ معاملہ صلاحیت کی کمی کا نہیں بلکہ موقع کی عدم دستیابی کا تھا۔ اور زیادہ کیا کہوں ، تب سے تو حالات ہی بدل گئے ہیں۔‘‘

مینن کے ساتھ سیٹھ نے کئی فلمیں کی ہیں ۔ان کے ساتھ سیٹھ کی حالیہ فلم  ۲۰۱۷ ء میں منظر عام پر آئی فلم  شیف تھی جس میں سیف علی خان نے اداکاری کی تھی۔سیٹھ نے  ڈَو ، ماؤنٹین ڈیو اور اورل بی جیسے مصنوعات کے لیے بھی اشتہارات کی عکس بندی کی ہے ۔

 

لائٹس، کیمرا ، ایکشن 

 سیٹھ کی پیدائش امرتسر میں ہوئی ۔بچپن میں ہی و ہ اپنے کنبے کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئی تھیں ۔نیو یارک یونیورسٹی میں ۶ ماہ کا فلمسازی کا کورس کرنے سے پہلے انہوں نے کالج میں معاشیات کی پڑھائی کی۔ وہ مذاق کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’ اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ یہ کام کتنا مشکل ہے تو شاید میں اس کا انتخاب ہی نہ کرتی۔ جب میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے  سنیما ٹو گرافر ہی بننا ہے تو نیو یارک یونیورسٹی کے میرے پروفیسر نے مجھ سے کہا کہ دیکھو یہ ایک مشکل بھرا کام ہوگا مگر اسے صحیح جذبے کے ساتھ انجام دینا کیوں کہ یہ ایسی پیشہ ورانہ زندگی ہے جسے خواتین امریکہ میں بھی اختیار نہیں کرتی ہیں ۔‘‘

اس سے قطع نظر سیٹھ اپنے ارادے پر قائم رہیں ۔ان کے مطابق یونیورسٹی میں ان کا تجربہ بہت پُر اثر رہا۔وہ کہتی ہیں ’’ وہ شاندار تھا۔ وہ ایسی بنیادی چیز تھی کہ اسی سے فلموں سے میرا باقاعدہ تعارف ہوا ۔ کاش میں نے جو کیا اس سے زیادہ

 کر پاتی۔‘‘

سیٹھ کو بتایا گیا کہ فلم میں پیشہ ورانہ زندگی کا انتخاب صرف ایک ملازمت نہیں ہے بلکہ یہ ایک پوری کائنات ہے۔ ان کا خیال ہے’’ آپ اسے شروع یا بند نہیں کرتے ، خواہ آپ کوئی فلمساز ہو ں یا نہ ہوں ۔‘‘

 

منظر نامے کی وضاحت  

نیو یارک یونیورسٹی میں اپنا وقت گزارنے کے بعد جب سیٹھ انڈیا واپس آئیں تو وہ کہتی ہیں کہ وہ خوش قسمت تھیں کہ انہیں ایک ایسے شخص نے کام دیا جو خصوصی طور پر کسی خاتون معاون کو ہی کام پر رکھنا چاہتا تھا۔ وہ پورے ملک میں ان گنی چنی خاتون معاونین میں سے تھیں جن کو کسی نے موقع دیا تھا۔ وہ بتاتی ہیں ’’میرے خیال میں اگر مجموعی آبادی کے نصف حصے کی آواز سنی نہیں جاتی ہے تو آپ کو پریشان کن کہانیاں دیکھنے کو ملیں گی ۔ کوئی کہانی آخرکار ہمدردی کا جذبہ ٔ اظہار ہی تو ہے۔ اگر کوئی خاتون کسی جنگ کی عکس بندی کر رہی تو کیا لوگ اسے کسی دوسرے نظریے سے دیکھیں گے؟کسی خاتون کے نقطہ نظر سے تشدد کیسا نظر آتا ہے؟ دونوں پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

سیٹھ کو امید ہے کہ جب عورتوں کی کہانیاں زیادہ کہی جائیں گی تو عورتیں انہیں دیکھنے اور ان پر غور و فکر کرنے کی اہل بھی ہوں گی۔ وہ برملا کہتی ہیں ’’میں کوئی پاگل نہیں ہوں جو ایسا سوچتی ہوں ۔ دوسری عورتیں بھی ایسے ہی سوچتی ہیں۔‘‘

سیٹھ کو یہاں فوری پیش رفت کی کوئی امید نہیں ہے ۔ اس کی بجائے وہ کہتی ہیں کہ پہلے اس سے بڑے مسئلے سے نمٹنا چاہئے۔ ’’ نظام میں فوری طور پر کوئی تبدیلی ہونے نہیں جارہی ہے۔اس کے لیے ہر جگہ ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے ، صرف فلموں ہی میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ۔‘‘

کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیںجو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط