مرکز

رقص کی بدولت شناخت

فل برائٹ اسکالرسُوَرن مالیہ گنیش زندگی میں مسلسل سیکھتے رہنے کے لیے تعلیم اور تحقیق کے ساتھ فنونِِ لطیفہ کو یکجا کرنے کی اہمیت کی وکالت کرتی ہیں۔ 

جب   سُوَرن مالیہ گنیش کی عمر محض ۳ برس تھی ، تبھی ان کی امی انہیں اپنے گرو کے جے سرسا کے پاس لے گئیں۔سُوَرن مالیہ گنیش کا خیال ہے کہ اسی چیز نے انہیں رقص کی تخلیقی راہ پر گامزن کر دیا۔ ان کا اعتراف ہے ’’ رقص میری شناخت کی قدرتی توسیع ہے ۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ میں کون ہوں ۔‘‘

گنیش ایک ایسی فنکاروہ ہیں جن کی فنونِ لطیفہ سے وابستگی اسٹیج سے پرے ہے۔وہ انڈیا میں موجود رقص کی مختلف ہیئتوں ،بنیادی طور پر بھرت ناٹیم اور اس کی اصل صادِر نا ٹیم سے متعلق تحقیق سے منسلک ہیں۔ چنئی میں مدراس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد انہیں امریکی حکومت کے بین الاقوامی تعلیمی تبادلہ پروگرام ، فُل برائٹ پروگرام کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ وہ لاس اینجلس میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا  میں ۱۵۔۲۰۱۴ء کے دوران فُل برائٹ ۔نہرو اسکالر شپ پر پڑھتی رہیں ۔ ان کے مضامین عالمی فنونِ لطیفہ، ثقافت اور رقص تھے۔ 

رقص اور تعلیم

گنیش کے لئے بھرت ناٹیم کو مرکز میں رکھ کر انڈیا میں فنِ رقص کی تحقیقات کا فیصلہ ہمیشہ سے شعوری رہا ہے۔وہ بتاتی ہیں ’’اصل میں بہت سارے لوگ جن میں رقاص بھی شامل تھے اس بات پر حیرت زدہ تھے کہ میں نے رقص کے فن کی بجائے اس کی ادائیگی کے پہلو کو مطالعہ کے لیے چنا ۔‘‘

گنیش کی والدہ کا اصرار تھا کہ وہ مزید تعلیم حاصل کریں ۔ ان کا یقین تھا کہ ایک خاتون کے طور پر انہیں اعلیٰ درجے کے فنکار ہونے یا اچھی تعلیم سے زیادہ کوئی بھی دوسری چیز با اختیار نہیں بنا سکتی۔گنیش بتاتی ہیں ’’ایک فنکارہ کے بطور میری زندگی اور میرے فن پر کے جے سرسا کے علاوہ میری والدہ کا سب سے زیادہ اثر رہا ہے۔‘‘

رقص کے علاوہ گنیش نے کیلی فورنیا کی  سان جوز اسٹیٹ یونیورسٹی سے کیمرے کے لیے اداکاری کا ڈپلومہ بھی حاصل کیا ۔ وہ بتاتی ہیں ’’یہ بالکل اتفاقیہ طور پر ہو گیا۔ ‘‘

رقص کرنے کی ان کی صلاحیت نے انہیں ٹی وی شو میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا ۔اس کے بعد انہیں فلموں میں بھی کام کا موقع ملا۔مشہور ہدایت کار منی رتنم کے ساتھ کی گئی ان کی پہلی تمل فلم  الائی پے یو تھے نے انہیں گھر گھر مشہور کر دیا۔وہ بتاتی ہیں ’’میںاس وقت بہت چھوٹی تھی اور فلم میں کام کرنا بہت دلچسپ تجربہ تھا۔‘‘

سنیما دلچسپی کے ایک شعبے کے طور پر ان کے سامنے آیا۔ لہٰذا جب انہیں  یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں اداکاری کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا تو وہ بہت مسرور ہوئیں۔ 

رقص اور تحقیق

گنیش کے نزدیک تحقیق کا مطلب رقص کی ہیئتوں اور ان سے متعلق مختلف ثقافتوں کے بارے میں گہرائی سے غور و فکر کا موقع ملناہے۔وہ کہتی ہیں ’’ میری دلچسپی چیزوں کو جاننے کے بارے میں ہے۔ ایم اے کی پڑھائی کے دوران میرا رجحان تاریخ اور آثارِ قدیمہ کی طرف ہو گیا ۔ میں نے علمِ کَتبات کا بھی مطالعہ شروع کیا۔ ‘‘

متعدد تعلیمی مضامین میں دلچسپی نے ان کے لیے مزید تعلیم کی راہ ہموار کی۔ فُل برائٹ پروگرام میں ہمیشہ سے دلچسپی رکھنے والی گنیش نے چنئی میں امریکہ ۔ہند تعلیمی فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد ایک تعلیمی میلے میں شرکت کی۔پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ تدریسی فیلو شپ کے لیے درخواست دینا چاہتی تھیں اوردرخواست کے عمل کی بہتر سمجھ اور مجموعی تجربے کی خاطر انہوں نے پہلے فیلو شپ پانے والے لوگوں کے بارے میں جانا۔ وہ کہتی ہیں ’’متعدد تعلیمی مضامین میں دلچسپی میرے لیے کافی مددگارثابت ہوئی۔ اس سے مجھ پر واضح ہوگیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ "

پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے کی گئی گنیش کی تحقیق انڈیا کی نایاب ہوچکی رقص کی ہیئتوں پر مرکوز تھی۔انہوں نے اس موضوع پر مبنی لیکچر اور پروگراموں کی ایک سیریز تیار کی۔تاہم وہ تسلیم کرتی ہیں کہ اب بھی بہت سے مسائل اور خیالات نامعلوم ہیں۔ 

سیکھا گیا سبق

گنیش کی دلچسپی سماجی تبدیلی، سیاسی سرگرمی اور فنونِ لطیفہ کے درمیان موجود تعلق میں بڑھتی گئی۔ لاس اینجلس میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں ان کا کام جنوبی ہند کی سب سے قدیم ترین رقص ہیئتوں میں سے ایک بھرت ناٹیم پر مرکوز رہا جو فطری طور پر جامع اور لامذہبی ہے۔ ان کی توجہ اس بات پر رہی کہ بھرت ناٹیم نے کیسے خود کو تمام دنیا میں پھیلایا۔ 

یونیورسٹی میں گنیش نے پایا کہ ہند کے فلسفہ اور فنونِ لطیفہ نے علمی برادری پر گہرا اثر مرتب کیا ہے۔وہ کہتی ہیں ’’مجھے یہ احساس ہوا کہ اسے وسیع پیمانے پر دیکھنے کے قابل ہونا بھی کس قدر اہمیت کی حامل چیز ہے۔فنونِ لطیفہ کے طور پر رقص کے نازک پہلوؤں کو سمجھنا اہم ہے کیوں کہ رقص کسی ایک قسم یا کارکردگی کے انداز تک محدود نہیں ہے۔‘‘

یونیورسٹی میں جس احتیاط اور آزادی کے ساتھ کورسز اور کلاسوں کو ڈیزائن کیا گیا تھا ، اس چیز نے بھی گنیش کو متاثر کیا۔یہی سبب ہے کہ مختلف فنون ، آرٹس کی تعلیم اور اس کے ذریعہ سماجی تعلقات سے متعلق کام کرنے والے چنئی میں واقع رنگ مندر ٹرسٹ کے تعلیمی شعبے رنگ مندر اکیڈمی آف ورلڈ ڈانس /پرفارمینس اینڈ اِنڈک اسٹڈیز میں تدریسی رکن کے طور پر کام کرنے والی گنیش وہاں سے مختلف نظریا ت کے ساتھ واپس آئیں ۔ وہ بتاتی ہیں ’’بڑی تعداد میں ناظرین فن کی اس شکل سے متعلق تاریخی اور سماجی تبدیلی کے پہلو سے بہتر طور 

پر وابستہ محسوس کرتے ہیں ۔ آج میرا زور اس بات پر ہے کہ فن کس طرح فن اور مصارفِ زندگی کی روزانہ سیاست میں جائز مداخلت کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

پارو میتا پین ٹیکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط