مرکز

ذائقوں میں تجربہ کرنے کا کاروبار

معروف شیف اور کاروباری پیشہ ور روہینی ڈے کے لیے نئے طریقوں کا استعمال کرکے کھانا تیار کرنا تو بس ایک اتفاقیہ آغاز ہے۔

روہینی ڈے نے مینیجمنٹ سائنس  میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ، واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک کے لیے کئی سال خدمات انجام دیں اور پھر مینیجمنٹ کنسلٹینٹ فرم، میک کِنسے اینڈ کمپنی کے لیے صلاح کار کے طور پر کام کرتے ہوئے پوری دنیا کا سفر کیا۔ مگر ۲۰۰۴ ء میں انہوں نے اس نمایاں کاروباری کریئر کو خیر باد کہنے اور بالکل ہی کچھ نیا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک  ریستوران کی داغ بیل ڈالنے کا فیصلہ کیا ۔ 

ڈے ریاست ایلی نوائے کے مشہور شہر شکاگو میں خاصے مقبول ریستوران وَرمیلیَن   کی بانی ہیں ۔اس ریستوران میں انڈیا اور لاطینی امریکہ کے کھانوںمیں استعمال ہونے والی الگ الگ چیزوں کو ملاکر منفرد اور لذیذ کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ڈے کے پسندیدہ کھانے  تندوری اسکرٹ اسٹیک کی بات کریں تو اس میں ارجنٹینا کے طرز پر کاٹے گئے گوشت میں انڈیا کے مسالے جیسے زیرہ ،دھنیا ، گرم مسالے اور دہی ملا دیے جاتے ہیں ۔تاز ہ سمندری مچھلیوں میں ناریل اور کڑھی ملاکر تیار کی جانے والی یہاں کی  ڈِش ،لابسٹر پرتگیز کو  وَرمیلیَن کے کھلنے کے دو ہفتے بعد ہی  یو ایس اے ٹوڈے  اخبار نے دنیا کا بہترین کھانا قراردیا۔ یہی نہیں اسکوائر اور  بَون اپیٹِٹ  جیسے رسالوں نے بھی   وَرمیلیَن کی خوب ستائش کی اور اسے اپنے بہترین ریستورانوں کی فہرست میں جگہ دی۔ 

حال آں کہ اتنی جلدی اس قدر بڑی کامیابی کی امیدڈے کو نہیں تھی مگر اس کے باوجود اس کامیابی کو وہ مضحکہ خیز انداز میں احمقانہ اور نا عاقبت اندیش قرار دیتی ہیں۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ وہ ریستورانوں کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔ یہ تو بس ہندوستانی کھانوں سے ان کی دیرینہ محبت تھی جس نے کسی خاص لمحے میں ان کے اندر اس کا سفیر بننے کی آرزو پیدا کردی اور انہوں نے کاروباری پیشہ وری میں غوطہ لگا دیا۔

ڈے بتاتی ہیں ’’ میں نے صلاح کار کے طور پر ۱۵ برس گزارے ۔ یہ وہ دَور تھا جب مجبوری میں کھانوں پر زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑے ۔ اس دوران مجھ پر یہ بات منکشف ہوئی کہ اس شعبے میں کاروباری پیشہ وری کے امکانات روشن ہیں ۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ جاپانی ، کوریائی اور ویت نامی کھانوں کے بارے میں لوگوں میں نئی بیداری پیدا ہو رہی تھی ۔ اسے دیکھ کر ہندوستانی کھانوں کے لیے ایسی ہی بیداری پیدا کرنا میرا بھی جنون بن گیا۔ ‘‘

اس طور پر جب  وَرمیلیَن کا قیام عمل میں آیا تو ڈے نے انڈیا اور لاطینی امریکہ کے ذائقوں کی جزوی آمیزش کا فیصلہ کیا کیوں کہ انہوں نے دریافت کیا کہ ان دونوں روایتوں میں بہت سارے اجزا ء مشترک ہوتے ہیں ۔ اس سے ان ثقافتوں کے امتزاج کی بھی عکاسی ہوتی ہے جو پرتگالیوں ، اہلِ فارس، شمال مغربی افریقیوں اور ہسپانوی باشندوں کے ایک دوسرے کے علاقوں میں آمدو رفت سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ڈے کا اعتراف ہے ’’ میں بھی کچھ منفرد کرنا چاہتی تھی۔ ان کھانوں کی آمیزش کا ہمار ا عمل جداگانہ تھا ۔ بہت سارے لوگ اس کے بارے میں پوچھا بھی کرتے تھے۔ یوں ہم تجربہ کرتے ہوئے بھیڑ سے الگ ہوتے گئے اور اپنی ایک شناخت بنا لی۔ ‘‘

آج ڈے نہ صرف  وَرمیلیَن کی قیادت کرتی ہیں بلکہ کئی امریکی یونیورسٹیوں میں کاروبار ی پیشہ ور کے طور پر طلبہ سے کاروبار کی حکمت عملی کا اشتراک بھی کرتی ہیں۔ وہ آگاہ کرتی ہیں ’’ اگر طلبہ شیف بننا چاہتے ہوں یا ریستوران قائم کرنا چاہتے ہوں تو میں سب سے پہلے انہیں اس خیال سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ۹۰ فی صد ریستوران کامیاب نہیں ہو پاتے ۔ یہ بہت نا استوار کاروبار ہے جس میں بہت سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے اور ذمہ داریاں بھی کم نہیں ہیں۔ یہ لوگوں کا ناقص تصور ہے کہ آپ اس کاروبار میں قدم رکھتے ہی ایک معروف شیف بن جاتے ہیں اور آپ کے پاس پیسوں کی ریل پیل ہو جاتی ہے۔جب کہ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔‘‘ 

ڈے باخبر کرتی ہیں کہ جب آپ اس شعبے میں کام کرنا شروع کرتے ہیں تو آپ کو محنت طلب کام اور کم اجرت کی روایت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’’ باورچی خانے زیادہ تر گندے ، آزمائشی، گرم ، جسمانی طور پر محنت طلب اور چمک دمک سے بالکل دور ہوتے ہیں ۔ ‘‘

اگر طلبہ اس کے باوجود دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں تو ڈے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ اس میں خود کو مکمل طور پر وقف کردیں اور اپنے جیسے کسی ریستوران میں ایک معاون کے طور پر کام کا آغاز کریں ۔ 

ڈے بتاتی ہیں کہ کام کرتے ہوئے تجربہ حاصل کرنے کے علاوہ درست تربیت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔وہ فرماتی ہیں ’’ شیف بننے والوں کو یا ریستوران قائم کرنے والوں کو خود میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے اور کاروبار اور مالی امور کے کورس کرنے چاہئے۔آپ لگاتار ۶۰ قسم کے کھانوں ، مشروبات اور دیکھ ریکھ کرنے والوں کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ کو سرمایہ کاروں اور قانونی اجازت ناموں کی ضرورت بھی پڑتی ہے ۔ لہٰذا اگر آپ اعدادو شمار ، نفع اور نقصان اور پیسہ کمانے کے طریقوں کو نہیں سمجھتے ہیں تو آپ جلد ہی اس کاروبار میں ناکام ہو جائیں گے۔‘‘

ڈے کے مشاورت کے کام میں  جیمس بیئرڈ فاؤنڈیشن کے لیے  وومن اِن کلینری لیڈرشپ پروگرام کے شریک بانی کے طور پر کام کرنا بھی شامل ہے۔جیمس بیئرڈ فاؤنڈیشن نیویارک میں واقع کھانا پکانے کے فن سے متعلق ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جہاںڈے ٹرسٹی کی خدمات بھی انجام دیتی ہیں ۔ڈے کی جانب سے کی جانے والی یہ پہل دراصل وہ چیز ہے جس کے حوالے سے وہ ریستورانوں کی صنعت میں خاتون قیادت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں ۔وہ اس سلسلے میں اپنی جدو جہد کے بارے میں یوں بتاتی ہیں ’’کئی برسوں سے میں اس پر بات کررہی ہوں کہ امریکی ایوان بالا میں صرف ۲۱ فی صد خواتین اور سر فہرست ۱۰۰ سی ای او میں سے صرف ۳ فیصد خواتین کا ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ ہماری صنعت میںتو یہ اعداد و شمار اور بھی خراب ہیں اورہماری کوشش پختہ کارروائی کے ذریعے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی ہے۔‘‘ 

ڈے کہتی ہیں کہ امریکہ میں  ٹائم اِز اَپ اور   می ٹو جیسی خواتین کے لیے کام کرنے والی موجودہ ثقافتی تحریکیں اسی موضوع کے دیگر پروگرام ہیں ۔ وہ امید کرتی ہیں کہ تیز ہوتی یہ رفتار تمام صنعتوں کی خواتین کی مشترکہ طور پر مدد کرے گی ۔

باورچی خانہ ، بورڈ روم اور کلاس روم میں ڈے جدید طریقوں کا استعمال کرتی ہیں ۔ان کے اہم مقاصد میں سے ایک خواتین کی نہ صرف بولنے اور سنے جانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے بلکہ قیادت کرنے اور کچھ قائم کرنے میں بھی ان کی

 حوصلہ افزائی کرنا ہے۔وہ کہتی ہیں ’’بنیادی طور پر میرا یقین ہے کہ کسی کے با اختیار بننے کا عمل اپنے کاروبار کو قائم کرنے سے ہی شروع ہوتا ہے۔‘‘

روہینی ڈے اپنے منفرد ریستورانوں کے برانڈ کو براہ راست یا شراکت داری کے ذریعے نہ صرف شکاگو میں بلکہ امریکہ کے دوسرے علاقوں میں ، ہند میں اور دنیا میں کہیں بھی توسیع دینے کے اپنے خواب کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’  وَرمیلیَن کو مزید توسیع دینا ایک غیر معمولی کام ہوگا۔ ‘‘  

مائیکل گیلنٹ ،گیلنٹ میوزک کے بانی اورسی ای او ہیں۔ وہ نیویارک سٹی میں مقیم ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط