مرکز
1 2 3

چابکدست تشخیص

نیکسَس کی امداد یافتہ نوخیز کمپنی ڈاکٹرنَل، اسمارٹ فون اَیپس کے ذریعے مختلف اقسام کی بیماریوں کی تشخیص کرتی ہے۔

ٹی بی انسانی صحت کو درپیش اُن سب سے زیادہ سنگین مسائل میں سے ایک ہے جن کا سامنا انڈیا کو ہے۔ دنیا بھر میں تپِ دِق کے سب سے زیادہ مریض انڈیا میں ہیں۔ملک میں دنیا بھر کے ٹی بی معاملات اور مختلف ادویات کے مزاحم ٹی بی کے معاملات کے ۲۵ فی صد سے بھی زیادہ مریض موجود ہیں۔ ۲۰۱۶ ء میں ملک میں تقریباََ ۲ اعشاریہ ۸ ملین افراد اس بیماری میں مبتلا تھے ۔ ۴ لاکھ ۳۵ ہزار مریضوں کی تو اس بیماری سے موت بھی ہو گئی۔ہر برس ٹی بی کے ۸ لاکھ ۵۰ ہزار معاملے ایسے سامنے آتے ہیں جن کے بارے میں لوگ یا تو لا علم ہوتے ہیں یا وہ بیماری کے علاج میں غیرمعیاری دوا اور غیر معیاری علاج کے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔بین الاقوامی ترقی کے لیے وقف امریکی ایجنسی (یو ایس ایڈ)کے مطابق اس طرح کی دوائیں اور علاج کے طریقے نہ صرف ٹی بی کے جرثومے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر پاتے ہیں بلکہ یہ ادویات ٹی بی کی مزاحمت میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہیں۔

راہل پتھری نے ٹی بی کی بہتر تشخیص کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ۲۰۱۶ ء میں ڈاکٹرنَل  قائم کیا تاکہ امراض کی تشخیص کو نسبتاََ آسان ، لوگوں کی دست رس میں اور سستا بنایا جاسکے۔  ڈاکٹرنَل  کی جانب سے دستیاب اشیاء میں ٹی بی کے معائنے اور ذیابیطس کی  ریٹینو پیتھی کے لیے بالترتیب  ٹِم برے  اور ریٹین اَیپ اسمارٹ فون اَیپس شامل ہیں جن میں غیر جارحانہ طریقے سے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹرنَلکو نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں واقع نیکسَس انکیوبیٹر کی حمایت حاصل ہے جس کا قیام آسٹِن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکساس کے آئی سی ٹو انسٹی ٹیوٹ  اور نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانہ کے اشتراک کا نتیجہ ہے۔یہ کمپنی اوبر ایکسچینج اسٹارٹ اپ مینٹر شپ پروگرام کے فاتحین میں سے ایک رہی ہے جس کا اعلان ۲۰۱۷ ء میں حیدرآباد میں منعقد عالمی کاروباری پیشہ وری سے متعلق چوٹی کانفرنس میں کیا گیا تھا ۔ 

انڈیا میں صحت کے شعبے کی دشواریوں اور راہل پتھری کے تیار کیے گئے اَیپس کے طریقہ کار پر اسپَین نے ان سے بات کی ۔ پیش ہیں بات چیت کے اقتباسات۔ 

ڈاکٹرنَل کے قیام کے پس منظر پر روشنی ڈالیں؟ 

مجھے  انٹر فیرون گاما ریلیز اَسے( آئی جی آراے)  او ر  مَینٹوکس  جیسے ٹی بی کی جانچ کے طریقوںکا تجربہ ہے۔جانچ کے ان طریقوں کا بے ہنگم پن اور نادر سُستی ہی نے مجھے تبدیلی لانے پر غور کرنے کو مجبور کیا ۔

مجھے پہلی بڑی کامیابی گرانڈ چیلنجیز اِن ٹی بی کنڑول  مہم کے دوران ملی جہاں میں نے اپنے خیال میں لوگوں کو شریک کیا۔ یہ پیش رفت  ٹِم بریحقیقی شکل میں آنے سے بھی پہلے کی ہے ۔اس کے بعد میں ہم خیال افراد کی ایک جماعت سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب رہا جو صوتی کھانسی کے بارے میں تشویش میں مبتلا تھے۔اور بس یہیں سے  ڈاکٹرنَلکا آغاز ہوا۔ 

کس چیز نے آپ کو ٹی بی پر ہی کام کرنے کی ترغیب دی ؟ اس کی تشخیص اور اس کے علاج کی بہتری میں آپ نے کیا مواقع دیکھے؟

کنبے کے بعض قریبی ارکان اور دوستوں میں بھی ٹی بی کی تشخیص ہوئی۔ میں نے محسوس کیا کہ ٹی بی کی تشخیص کے موجودہ طریقوں میں ایک ہی طرح کے بہت سارے مسائل ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان چیزوں میں دیر لگتی ہے ۔ بعض جانچ میں تو کئی دن لگ جاتے ہیں اور مریض کو کئی دن تشخیصی لیب تک کئی بار جانا پڑتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ٹی بی کے بہت سارے معائنے یا تو غیر تسلی بخش یا معروضی نتائج فراہم کرتے ہیں اور درست تشخیص میں مشکلات پیدا کرتے ہیں ۔اور آخری مسئلہ یہ ہے کہ ٹی بی کی تشخیص کے بہت سارے معائنوں میں باقاعدہ تکنیک کاروں کی اور طبی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ڈاکٹرنَل کے قیام کا ہمارا مقصدان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک ایسا حل تلاش کرنا تھا جوسستا اور درست ہونے کے علاوہ دست رس میں بھی ہو۔  

میں نے امریکہ میں۷ برس کام کرنے کے دوران  بایو انفارمیٹکس کی بھی معلومات حاصل کیں جس نے مجھے ممکنہ پیشن گوئی سے متعلق  الگورِدم کو فروغ دینے کے طریقے کو سمجھنے کے لائق بنایا۔ذیابیطس کی  ریٹینوپیتھیکے لیے ہمارے  ڈیپ لرننگ سولیوشن کو نمایاں کامیابی ملی جس نے  ٹِم برے کے ساتھ کھانسی کے فائل کے  اسپیکٹروگرام پر ایک  ڈیپ نیورل نیٹ کے کام کرنے کی راہ ہموار کردی۔

کیا آپ مختصر طور پر بتائیں گے کہ  ٹِم برے کس طرح کام کرتا ہے؟یہ کتنا درست ہوتا ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے آپ کس طرح کام کررہے ہیں ؟ 

ٹِم بریبنیادی طور پر کسی مریض کی کھانسی کی ریکارڈ شدہ آواز کی فائل کا طیفی تجزیہ کرتا ہے ۔یہ اَیپ اس کے بعد کھانسی کی نوعیت کی درجہ بندی کے لیے ہمارے حساب و شمار کے عمل کا استعمال کرتا ہے۔پھر مریض کے پہلے کی صحت کی صورت حال اور آبادیاتی کوائف جیسے طبی ڈیٹا پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔ یہاں اَیپ یہ بتانے میں مدد کرسکتا ہے کہ آیا اس شخص کو ٹی بی کا خطرہ تو نہیں ہے ۔فی الحال ہمارا اَیپ تقریباََ ۸۵ فی صد معاملات میں درست اعداد و شمار بتاتا ہے۔ہم لوگ اعداد و شمار اکٹھا کرنے اور اپنے اَیپ کو مزید بہتر بنانے کے لیے حیدر آباد میں گاندھی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔ جب اس کی درستی کی سطح ۹۸ سے ۹۹ فی صد تک پہنچ جائے گی تب ہم  نیشنل اَیکریڈیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کَیلیبریشن لیبو ریٹریز (این اے بی ایل )میں اس کی منظور ی کے لیے درخواست دیں گے۔

ٹِم برے کے بارے میں آپ کو ڈاکٹروں اور مریضوں سے کیا رد عمل ملا؟ 

ٹِم بریکو اب تک حیدر آباد کی  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ، ایئر میکر اینڈ ایم اسمارٹ سٹی( اَیکسلیریٹر س )، نیکسَس انکیوبیٹر اور  بایو ٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹینس کونسل کی منظور مل چکی ہے۔ حیدر آباد میں اَیپ کی آزمائشی کاروائی کے بعد ہمار ا منصوبہ آگرہ شہر کے اسپتالوں میں اس کی آزمائش کا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ ۶ مہینے میں ہم  ۵۰ اسپتالوں میں اس کی آزمائش کرلیں گے ۔ 

کیا  ڈاکٹرنَل  فی الحال کسی نئے پُر جوش پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے؟ 

ڈاکٹرنَل ، کرونِک آبسٹرکٹِو پَلمو نیری ڈیزیز جیسے نمونیا، کالی کھانسی اور دمہ جیسے پھیپھڑوں کے امراض کا پتہ لگانے کے لیے اپنے  اَیلگورِدم میں توسیع کرنے کا کام کر رہا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ اَیپ ہندکی اور دنیا کے دیگرملکوںکی زبانوں میں بھی تیار ہو۔ اصل میں ہمارا مقصد  ٹِم برے کو انڈونیشیا ، چین ، افریقہ اور روس جیسے دیگر ممالک میں توسیع دینا ہے کیوں کہ ٹی بی کی شرح وہاں بھی بہت زیادہ ہے۔ 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔   

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط