مرکز

ماحول دوست مصنوعات سازی

اَینشینٹ لیونگ نامیاتی طور پر جِلد اور بالوں کی دیکھ ریکھ کی آیوروید کی مصنوعات تیارکرنے کے علاوہ خصوصی طور پر دیہی خواتین کے لیے پائیدار ذریعہ معاش بھی پیدا کرتی ہے ۔

صحت کی دیکھ بھال کے لیے نامیاتی مصنوعات کی کمپنی  اَینشینٹ لیونگ کی بانی کلیانی گونگی کی پرورش و پرداخت قدرتی ماحول میں ہوئی۔ان کا سلسلہ نسب ریاست تلنگانہ کے کسانوں کی چار نسلوں تک جا پہنچتا ہے۔وہ بتاتی ہیں ’’ میں قدرت کے حسین نظاروں کے درمیان پلی بڑھی جس نے مجھے ماحولیاتی طور پر حساس بنا دیا۔ میرے والدبی این راؤ مختلف اقسام کی جڑی بوٹیوں اور خوشبودار پودوں کو اگانے میں کئی برسوں تک مصروف رہے۔ اسی لیے میں ان پودوں کی شفایابی کی خصوصیات سے متعلق کافی اہم معلومات یکجا کرسکنے کے قابل ہوئی ۔ اسی کی وجہ سے قدرت کے تئیں میرے اندر ایک قسم کی شدید محبت کا جذبہ سرایت کر گیا۔ ‘‘ 

قدرت کے تئیں اسی محبت نے انہیں ۲۰۱۰ ء میں ماحولیاتی طور پر اُن حساس صارفین کے لیے ایک کمپنی کے قیام کی ترغیب دی جو کھیتوں سے نکلی تازہ جڑی بوٹیوں اور ضروری روغنوں سے تیار نامیاتی مصنوعات کی قدر کرتے ہیں ۔ جلد اور بالوں کی دیکھ ریکھ کی مصنوعات کی پہلی کھیپ کا زیادہ تر حصہ ان کے اپنے کھیتوں میں پیدا ہوئی جڑی بوٹیوں سے تیار کیا گیا تھا۔بعد میں جیسے جیسے ان کی مصنوعات ساز ی کی اکائی میں توسیع ہوتی گئی ، مصنوعات کے لیے درکار خام مال دیگر پائیدار نامیاتی ذرائع سے بھی حاصل کیے جانے لگے۔ 

 کمپنی کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے خام مال صرف تصدیق شدہ فارم سے ہی لیے جاتے ہیں ۔ گونگی کا کہنا ہے ’’اپنے خریدو فروخت کے عمل میں ہم اخلاقیات کا خیال رکھتے ہیں اور اس پر ہمیں فخر ہے۔تحقیق و ترقی سے متعلق ہمار ا اپنا محکمہ لائے گئے خام مال کی جانچ کرتا ہے۔ ہماری کمپنی جی ایم پی کی جانب سے تصدیق شدہ کمپنی ہے۔  

جب گونگی سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ان کی کمپنی کی مصنوعات ان مصنوعات سے کیسے مختلف ہیں جن سے بازار اٹا پڑا ہے، تو وہ بتاتی ہیں ’’ہمارا تصور محفوظ اور ماحول دوست صحت کی دیکھ ریکھ کی عمد ہ نامیاتی مصنوعات اپنے صارفین تک پہنچانا ہے جو انڈیا کے صدیوں سے جاری آیورویدکے اصول و نظریات پرمبنی قدروں اور خوبی کے اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ تیار کیے گئے ہوں۔ ہماری پیداوار مصنوعی رنگ ، عطر ، آمیزش، پارا بینس، فٹالیٹس اور سلفیٹ سے پاک ہوتی ہے۔ ان مصنوعات کی تیاری میں کسی بھی قسم کے ظالمانہ رویے کا گزر بھی نہیں ہوتا ۔ ہماری تمام مصنوعات ہاتھوں سے بنے زمین دوست کاغذوں میں لپٹی ہوئی ہوتی ہیں اور قابلِ تحلیل بھی ہوتی ہیں ۔ ‘‘

گونگی محسوس کرتی ہیں کہ لوگ آج کے زمانے میں صحت اور ماحولیات کے تئیں زیادہ حساس ہیں۔ وہ اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتی ہیں ’’لوگ اب صحت کو بہتر رکھنے والی مصنوعات کی تلاش میں رہتے ہیں جو کیمیا سے پاک ہوں ، نامیاتی ہونے کے علاوہ ماحول دوست ہوں۔ آج کے صارفین کیمیا سے پاک مصنوعات کی خرید کے لیے زیادہ پیسہ خرچ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں ۔ ‘‘

 ان کی کمپنی کا فلسفہ کسان ، دست کار ، رسد رساں ، تھوک فروش ،خردہ فروش اور صارفین تمام قسم کے لوگوں کے لیے پائدار ذریعہ معاش پیدا کرنا ہے ۔

اس کمپنی کا ایک دیگر حساس پہلو بھی ہے اور وہ ہے معاشرے میں اقتصادی طور پر کمزور خواتین کو روزگار فراہم کرنا تاکہ وہ بھی با اختیار بن سکیں۔گونگی بتاتی ہیں ’’ ہم نے خواتین کو باختیار بنانے کا ایک پروگرام  وِدّیا  شروع کیا ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ معاشرے میں پائیدار ترقی کی خاطر ضروری سماجی ، معاشی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو عمل میں لانے میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ ہم خواتین کو تربیت فراہم کرتے ہیں ، انہیں اپنے ہنر اور اپنی مہارت کو نکھارنے کے لائق بناتے ہیں ۔ بدلے میں وہ ہماری پیداوار کو بہتر سے بہتر بناتی ہیں ۔ ‘‘

اپنی مصنوعات کی خردہ فروشی کے لیے کمپنی تین طریقوں پر کام کرتی ہے جس کی اطلاع گونگی یوں دیتی ہیں ’’پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہمارے صارفین ہمارے اپنے خصوصی اسٹور اور ای کامرس پورٹل (www.ancientliving.in) سے انہیں حاصل کر سکتے ہیں، دوسرا یہ کہ انڈیا بھر میں ۲۰۰ سے بھی زیادہ نامیاتی اسٹور پر ہماری اشیاء دستیاب ہیں اور تیسرا طریقہ یہ کہ ہماری مصنوعات عالمگیر طور پر نمایاں ای کامرس سائٹس سے خریدی جاسکتی ہیں۔‘‘

گونگی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ کمپنی کے قیام کی ابتداء میں انہیں بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، خاص طور پر ایک خاتون کاروباری پیشہ ور کے طور پر ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خواتین تجارت کے لیے موزوں نہیں ہوتیں مگر گونگی نے اس خیال کو غلط ثابت کیا ۔ وہ کہتی ہیں ’’ دشواری تو ہر جگہ اور ہر قسم کے کاروبار میں ہے۔اگر آپ اعلیٰ معیار کی کوئی چیز تیار کرتے ہیں اور درست خدمات بہم پہنچاتے ہیں تو آپ کی تیار کی ہوئی شئے ضرور فروخت ہوگی۔ میری توجہ اعلیٰ معیار کی نامیاتی ، مرغوب اور دل پسند مصنوعات تیار کرنے پر ہے ۔ اور میں اسی کام میں اپنی تمام توانائی صرف کرتی ہوں۔ میرا صارف میراسرمایہ کار ہے اور میں اس کی اس سرمایہ کاری کی قدر کے لیے اپنی بہتر سے بہتر خدمات فراہم کرتی ہوں۔‘‘

گونگی امریکی وزارتِ خارجہ کے کاروباری پیشہ وروں کے لیے  گولڈ مین سَیکس کے امداد یافتہ پروگرام  ٹین تھاؤزینڈومین اِنی شی ایٹو کا حصہ تھیں ۔ یہ امریکی وزارتِ خارجہ کا کاروباری پیشہ وروں کے لیے ایک پروگرام ہے ۔ وہ ۲۰۱۶ ء کے  فورچون /یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمینٹ گلوبل وومینس مینٹرنگ پارٹنرشپ کا بھی حصہ تھیں۔ ان کے علاوہ گونگی حیدر آباد میں ۲۰۱۷ ء میں منعقد کاروباری پیشہ وروں کی عالمی چوٹی کانفرنس کا بھی حصہ تھیں ۔ 

ان پروگراموں کے بارے میں گونگی کہتی ہیں ’’میں نے ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں ہی طریقے سے ان سے فائد ہ حاصل کیا ہے ۔ مشورہ دینے اور قائدانہ صلاحیت پیدا کرنے سے متعلق اجلاس اور اپنے خیالات اور تجربات کے اشترا ک نے مجھے اپنے معاشرے پر اثر انداز ہونے کی ترغیب دی ۔ اس نے مجھے دنیا بھر کے دیگر علاقوں کی خاتون رہنمائوں کے ساتھ سیکھنے، تجربات کا اشتراک کرنے اور ترقی کرنے کا موقع فراہم کیا ۔میں نے محسوس کیا کہ ہم تمام لوگوں میں اپنے معاشرے کے لیے کچھ کرنے کی ایک مشترکہ خواہش ہے۔‘‘

رنجیتابِسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں جو سفر، فلم،خواتین اور صنفی امور پر لکھتی ہیں۔ و ہ افسانوںکا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط