مرکز

ہند کے دیہی علاقوں کو بااختیار بنانا

ایس ایم سہگل فاؤنڈیشن دیہی ہندوستان میں سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی ترقی کو حاصل کرنے کے لیے طبقات پر مبنی قیادت والی سرگرمیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔

تبدیلی کا لانا ، خواہ وہ کتنی بھی معمولی کیوں نہ ہو، مشکل کا م ہے۔ مگر سریندر ایم سہگل کا خیال ہے کہ صبر اور استقلال ہر مزاحمت پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ ایس ایم سہگل فاؤنڈیشن کے چیئر مین ہیں ۔ یہ فاؤنڈیشن ۱۹۹۹ء سے ہریانہ میں درج ایک ٹرسٹ ہے جو عوام کے لیے خیراتی کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سہگل فاؤنڈیشن کے بھی چیئر مین ہیں جو ۱۹۹۸ ء میں ریاست آئیووا کے ڈیس موئنز میں قائم کی گئی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے ۔ مسٹر سہگل کا خاندان اسی شہر میں ۲۴ برس تک رہا۔سہگل فاؤنڈیشن پائیدار ترقی،پانی کے وسائل کے نظم، زرعی پیداوار میں اضافے اور گروگرام اور ہریانہ کے نوح (پہلے اسے میوات کہا جاتا تھا )ضلع میں ۴۳۱ گاؤں میں دیہی حکومت کو مضبوط بنانے کا کام کرتا ہے ۔ یہ علاقہ سماجی ترقی سے متعلق انڈیکس کے معاملے میںملک کے کچھ سب سے بدتر علاقوں میں شامل ہے۔سہگل بتاتے ہیں ’’ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہم میوات میں پائیدار تبدیلی لا سکتے ہیں تو دیگر علاقوں میں اس کامیابی کو پہنچا کر معاشرے کی مزید مدد کی جا سکتی ہے۔ ‘‘

سہگل ۱۹۵۹ ء میں امریکہ آئے۔ انہوں نے مسا چیوسٹس میں واقع ہاروڈ یونیورسٹی سے پلانٹ جینیٹکس میں پی ایچ ڈی کی اور پھر ہارورڈ بزنس اسکول سے بزنس مینجمنٹ میں ڈپلوما حاصل کیا ۔ان کی اپنی بیوی ایڈّا سے پہلی ملاقات بھی ہارورڈ میں ہی ہوئی تھی۔ لیکن اپنے ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ ان کے دل سے کبھی بھی ختم نہیں ہوا۔ بیج کے کاروبار میں طویل عملی زندگی گزارنے کے بعد وہ اور ان کی بیوی ایڈّا (جو کہ انکی کمپنیوں کی مالک تھیں)نے ان کو فروخت کرنے کے بعد محسوس کیا کہ ہندوستان میں ترقی کو فروغ دینے اور دیہی علاقے میں رہنے والے غریبوں کو بااختیار بنانے کا یہی صحیح موقع ہے۔ 

پانی اوردیگرچیزیں

  فاؤنڈیشن ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بعض مشکل شعبوں میں کام کرتا ہے۔ ڈاکٹر سہگل کا کہنا ہے ’’میوات کے ۴۳۱ گاؤں میں سے صرف ۶۰ ہی میں تازہ پانی دستیاب ہے۔باقی گاؤں کے باشندوں کو یا تو پانی خریدنا پڑتا ہے یا عورتوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا پانی کی کمی کو دور کرنے کی شروعات کرنا یہاں کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔علاقے کے پدری غلبہ والی ثقافت نے خواتین کو چہار دیواری تک محدود کررکھا تھا،جب کہ مرد خود کھیتوں میں کڑی محنت کرکے بڑے خاندانوں کی پرورش کرتے۔ 

فائونڈیشن کے تینوں بنیادی پروگرام ...پانی کا نظم ، زرعی ترقی اور دیہی حکمرانی - سماجی انصاف کے مسئلہ؛ خاص طور پر جنسی مساوات کے اہم مسئلہ کو براہ راست اور بالاواستہ طور پر حل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ خواتین کو با اختیار بنانے کا مطلب سماج کو بااختیار بنانا ہے۔اگر پینے کے پانی اور علاحدہ بیت الخلا کی سہولیات کے ساتھ لڑکیاں اسکول میں رہنے کے قابل ہوں تو ان کی شادیاں دیر سے ہوں گی اور ان کے پاس مستقبل کے بارے میں مزید انتخاب کے لیے زیادہ مواقع ہوں گے۔ ‘‘

تعلیم کے ذریعے تبدیلی

فائونڈیشن بہت سے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔مثال کے طور پراس کے کچھ ابتدائی پروگرام لڑکیوں اور لڑکوں کو لائف اسکل ایجوکیشن فراہم کرنے کے لیے تھے تاکہ ان میں خود اعتمادی اور فیصلہ سازی کی صلاحیتیں پیدا کی جا سکیں ۔ان برسوں میں اس پروگرام میں توسیع ہوئی اور اسے اپنایا گیا اور یہ ایک وقت میں اسکول میں ٹرانسفارم لائف نامی پہل کا لازمی حصہ رہا۔ اس پہل کے ذریعہ ۲۰۱۶ ء میں لائف اسکل ایجوکیشن، ڈیجیٹل لٹریسی ٹریننگ اور  گورنینس ٹریننگ کے علاوہ خستہ حال سرکاری اسکولوں کو محفوظ اورسیکھنے کے معنی خیز ماحول میں پینے کے پانی،علاحدہ بیت الخلا کی سہولت ، مڈ ڈے میل کے لیے صاف ستھرا کچن، کھیل کا میدان اور ایک ساتھ اسکول میں جمع ہونے کے لیے جگہ کوبحال کرناوغیرہ پر توجہ دی گئی۔ 

ایک اور دلچسپ پروجیکٹ الفاظِ میوات(میوات کے دیہی علاقے کی نمائندگی کرنے والا ریڈیو اسٹیشن )ہے جس کی شروعات ۲۰۱۲ء میں ہوئی۔یہ ایک کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن ہے جس سے ہرروز ۱۳ گھنٹے کے پروگرام نشر ہوتے ہیں ۔ ریڈیو کی رسائی ۲۲۴ گاؤں تک ہے ۔ نشریات مفید معلومات فراہم کرتا ہے۔ ریڈیو سامعین زراعت ، حکومتی خدمات ، خواتین کے مسائل ، بچوں کے پروگرام اور عام تفریح جیسے موضوعات پر اپنی رائے دینے کے لیے یہاں فون بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں تیار کیے گئے پروگرام ملک میں دیگر کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنوں سے بھی نشر کیے جاتے ہیں۔ 

فصل کی بہتری کے لیے کئے جانے والا کام بھی فائونڈیشن کی جانب سے کیے جانے والے اہم کاموں میں سے ایک ہے۔ سہگل باخبر کرتے ہیں ’’ فصل پر کام کرنے والے ہمارے سائنسداں بہترین اور مختلف قسم کی پیداوار کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں جو بیماری اور کیڑے مکوڑے سے پاک ، خشک اور نیم خشک علاقوں کے سخت ماحول کے مطابق ہوں ۔ ‘‘

سست مگر مستحکم رفتار

کسی پیش قدمی کے اثرات کو یقینی بنانے کے لیے فاؤنڈیشن کی ٹیم کسی بھی منصوبے پر عمل کرنے سے قبل پرو جیکٹ کا تجزیہ کرنے ، اس کی توسیع اور پائیداری کے تعین کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیق کرتی ہے۔سہگل کہتے ہیں ’’ بہتر حکومتی نظام اور لوگوں کو با اختیار بنانے کی خاطر راہنمائی کے لیے افراد ، طبقات ، گاؤں کی سطح کے اداروں اور مقامی حکومتی اداروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے بہت صبر اور استحکام درکار ہوتا ہے۔ ‘‘

اس فاؤنڈیشن کی جانب سے چلائے جانے والے پروگراموں کو کئی شراکت داروں اور عطیہ دہندگان کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔امریکہ والا سہگل فاؤنڈیشن ہندوستان میں کام کررہے فاؤنڈیشن کے اخراجات میں ہونے والے نقصان کو پورا کرتا ہے۔ ہریانہ میں کام کرنے کے علاوہ ایس ایم سہگل فائونڈیشن کے پروگرام راجستھان ، بہار ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بھی چل رہے ہیں ۔ سہگل دعویٰ کرتے ہیں ’’ہمارا مقصد ہمارے سب سے زیادہ کامیاب پروگراموں کو مزید وسعت دینا ہے۔ یہ جاہ طلب کام ہے لیکن ہم دیہی ہندوستان کو بااختیار بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔ "

پارومیتا پین ٹیکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط