مرکز

تعلیمی اداروں میں طلبہ کو دستیاب سہولتیں

طلبہ کو ذہنی کشیدگی سے پاک سیکھنے کا ماحول اور گھر سے دور گھر جیسا ماحول فراہم کرنے کے لیے امریکی یونیورسٹیاں مختلف حفاظتی اقدامات اور انتظامات کرتی ہیں۔ 

طالب علم یا کسی طالب علم کے والدین کی حیثیت سے گھر سے ہزاروں میل دور ، غیر ملکی سرزمین پر تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں حفاظت اور سلامتی کے تعلق سے فکر مند ہونا فطری بات ہے۔طلبہ کو ذہنی کشیدگی سے پاک سیکھنے کے ماحول اور گھر سے دور گھر جیسا ماحول فراہم کرنے کے لیے امریکی یونیورسٹیوں نے موجودہ اور مستقبل کے حفاظتی خطرات کے مد نظر ایک جوابدہ نظام قائم کیا ہے۔

امریکہ کا اعلیٰ تعلیم کا نظام دنیا میں موجود قدیم ترین نظاموں میں سے ایک تو ہے ہی، بہترین نظاموں میں سے بھی ایک ہے۔لازمی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ان اداروں نے تدریس کے طریقوں اور طلبہ سے متعلق اپنی خدمات کو بہتر بنایا ہے جس کی وجہ سے ان اداروں میں بتدریج ترقی کے نتیجے میں ایسا عالمی سطح کا تعلیمی ماحول پیدا ہو اہے جو مستعد ہونے کے ساتھ ساتھ مطابقت پذیر بھی ہے۔ ان اداروں کا دورہ یا انٹرنیٹ پر ان کا جائزہ طلبہ، اساتذہ اور عملہ کو حاصل جدید سہولیات ، خدمات ، بنیادی ڈھانچہ اور حفاظتی انتظامات کو عیاں کرتا ہے۔ 

امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ ان میں معذور طلبہ کی سہولیات کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کی حفاظت اور ہر جگہ ان کی بہ آسانی رسائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں تمام عمارتیں  رَیمپ  اور اسی طرح کی خصوصیات سے لیس ہوتی ہیں تاکہ معذور طلبہ کیمپس میں آسانی کے ساتھ داخل ہو سکیں اور موجود سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔کئی امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ایسے طلبہ کے لیے خصوصی مراکز قائم ہیں تاکہ وہ اپنے تعلیمی اہداف کو حاصل کرسکیں۔

امریکہ کے اعلی تعلیمی اداروں میں بہترین تربیت یافتہ کیمپس پولیس، نقل و حمل کی سہولیات ، ہنگامی حالات میں الارم کا نظام اور کیمپس کے اندر ہی رہائش کی سہولتیں موجود ہوتی ہیں ۔ ان تعلیمی اداروں کے قائدین اور منتظمین نہ صرف ان کے حفاظتی انتظامات کی تعمیر اور بقا میں اپنا وقت اور توانائی لگاتے ہیں بلکہ یہ افراد اپنے کیمپس کے تنوع اور جامعیت کی تشہیر پر بھی توجہ دیتے ہیں ۔ ۲۰۱۶ء میں امریکی تعلیمی نظام کی جانب سے بین الاقوامی طلبہ کے استقبال کے لیے ایک منفرد YouAreWelcomeHere# مہم شروع کی گئی جس کی رُو سے اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکہ طلبہ کے لیے محفوظ، متنوع اور دوستانہ مقام ہے۔ 

یونیورسٹی آف میری لینڈ کی سابق طالبہ بھاونا جَولی بتاتی ہیں ’’میری یونیورسٹی میں باقاعدگی سے حفاظتی مشقیں ہوا کرتیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہنگامی حالات میں عمل میں لائی جانے والی تدابیر سے طلبہ ، اساتذہ اور عملے کے اراکین باخبر ہوں ۔ نا مہربان موسمی حالات میں بھی ہمیں ادارے کے بند ہونے یا دیر سے کھلنے سے متعلق ہدایات موصول ہوا کرتیں ۔ ‘‘

امریکی تعلیمی اداروں میں مندرجہ ذیل حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں:

شناختی کارڈ سے داخلہ

تمام طلبہ کو شناختی کارڈ جاری کیے جاتے ہیں جو انہیں کیمپس کے کچھ حصوں میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور دوسروں کے غیر قانونی داخلے کو محدود کرتے ہیں ۔کیمپس میں رہائش گاہ کی تنظیم بھی کارڈ کے ہی ذریعہ کی جاتی ہے جس سے طلبہ کو ڈَورمیٹری  اور کمروں میں داخلے میں آسانی ہوتی ہے۔ 

کیمپس پولس

امریکی یونیورسٹیوں میں اچھی تربیت یافتہ کیمپس پولیس ہوتی ہے جوکیمپس میں پہریداری کرنے کے ساتھ ٹریفک کے نظام کو دیکھتی ہے اورعام قوانین کے نفاذ کو یقینی بناتی ہے۔

ہنگامی فون سسٹم 

امریکہ کے زیادہ تر تعلیمی اداروں کے احاطوں میں بلو روشنی والے ہنگامی فون سسٹم فعال ہیں جو کیمپس کے پولس ڈیپارٹمنٹ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اس نظام کے ذریعہ انتظامیہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ طلبہ جب کسی مشکل میں ہوں تو انہیں فوری مدد مل سکے۔نیلی بتی والے ہنگامی پوسٹ احاطے میں تمام اہم جگہوں پر ہیں ۔ان کی خدمات ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیں ۔ 

شٹل سروس اور اسکارٹ سسٹم

امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے احاطوں میں شٹل سروس یا منی بس چلائی جاتی ہے ۔ ان کا استعمال کرکے طلبہ کیمپس کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں بحفاظت پہنچ سکتے ہیں۔یونیورسٹی طلبہ کے لیے رات کے وقت کیمپس میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانے کے لیے اسکارٹ سروس بھی دیتی ہے جس میں حفاظتی عملے کا ایک رکن ضرورت مند طالب علم کے ہمراہ جاتا ہے۔ 

طلبہ کے لیے طبی خدمات 

طلبہ کے لیے مخصوص  ہیلتھ سروس سینٹر  انہیں معیاری اور بر وقت طبی خدمات فراہم کرتے ہیں ۔ تمام بین الاقوامی طلبہ کو نجی انشورینس کمپنیوں یا یونیورسٹی میں دستیاب انشورینس ایجنسی سے طبی بیمہ کرواناپڑتا ہوتا ہے ۔ضرورت پڑنے پر طلبہ کو ڈاکٹر اور نرس کی خدمات بھی مہیا کروائی جاتی ہیں ۔

نفسیاتی سماجی صحت

امریکی یونیورسٹیوں میں مشیروں اور نفسیاتی ماہرین کی ٹیم موجود ہوتی ہے جو طلبہ کو معیاری اور ثقافتی لحاظ سے حسّاس نوعیت کی امداد بہم پہنچانے میں مہارت رکھتی ہے۔ ایسی ٹیمیں طلبہ کی ذاتی اور تعلیمی ترقی کے لیے لازمی ہنگامی اور طویل مدتی نفسیاتی سماجی مدد کو یقینی بناتی ہیں۔ 

امریکی تعلیمی اداروں میں ممکنہ طلبہ کو ایک اور سہولت بھی دستیاب ہے جسے  کیمپس سیفٹی اینڈ سکوریٹی ڈیٹا انالیسس کٹنگ ٹول کہتے ہیں جو امریکی محکمہ تعلیم کی جانب سے طلبہ کے لیے ایک اہم وسیلہ ہے۔ آن لائن دستیاب اس سہولت سے طلبہ امریکی احاطوں میں ہوئے جرائم کے بارے میں تحقیق بھی کر سکتے ہیں ۔ ممکنہ طالب علم https://ope.ed.gov/campussafety  پر لاگ اِن کر کے اپنے چنے گئے کالج یا یونیورسٹی میں جرم سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لے سکتے ہیں۔حال آں کہ کالج اور یونیورسٹیاںتعلیم کے لیے سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے پابند ہیں۔یہ بھی اہم ہے کہ حفاظت کی ذمہ داری طلبہ کی بھی ہے۔ خواہ آپ دہلی میں رہ رہے ہوں یا نیو یارک میں ، بعض حفاظتی اور ذاتی دیکھ بھال کے قوانین عالمی ہیں۔ طلبہ کو  اورینٹیشن ویک کے دوران فعال رہنا ضروری ہے تاکہ وہ کیمپس میں موجود حفاظتی سہولیات سے واقفیت حاصل کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر ان کی مدد بھی لے سکیں۔ کیمپس پولس طلبہ کے جنسی تشدد ، تعاقب اور ذاتی حفاظت سے متعلق خطرات کی پہچان اور ان کو رپورٹ کرنے میں مدد کے لیے اکثر خود مدافعتی ،ہم مرتبہ طلبہ سے مشورہ اور ذاتی حفاظت سے متعلق پروگرام منعقد کرتی ہے۔ ان خدمات سے آگاہ ہونے کے بعد ، ضرورت پڑنے پر مدد طلب کرنا اور جب جرم ہو تو اس کے بارے میں رپورٹ کرنا ، ایسے طریقے ہیں جن پر عمل کر کے طلبہ تمام متعلقہ لوگوں کے سیکھنے ، صحت اور حفاظت والا ماحول بنانے میں اپنابھی تعاون دے سکتے ہیں۔

انوبھوتی اروڑا  امریکہ۔ہند تعلیمی فاؤنڈیشن  میں ایجوکیشن یو ایس اے کے لیے مشاورت کا کام انجام دیتی ہیں۔  

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط