مرکز

تفہیمِ ہند کا دریچہ

اسکول فار انٹرنیشنل ٹریننگ کے بیرون ملک منفرد مطالعاتی پروگرام کے ذریعے طلبہ تفصیلی طور پرانڈیا کے بارے میں معلومات حاصل کرتے  ہیں۔

انڈیا جیسے کسی ملک کے بارے میں ہزاروں کیلو میٹر دورکسی کلاس روم میں بیٹھ کر واقفیت حاصل کرنا الگ بات ہے اور وہاں کی ثقافت کا بہ نفس ِ نفیس جائزہ لینا دوسری چیز۔یہی وجہ ہے کہ اسکول فار انٹرنیشنل ٹریننگ  کے ذریعے منعقد کیے جانے والے بیرون ملک فوری مطالعاتی پروگرام میں ہر برس ہزاروں امریکی طلبہ شرکت کرتے ہیں ۔ 

تجرباتی تعلیم

۱۹۶۴ ء میں قائم کیا گیا یہ اسکول ورمَونٹ کے بریٹل بورو میں واقع ہے جس کا   برانچ کیمپس واشنگٹن ڈی سی میں ہے۔ یہ انڈر گریجویٹ طلبہ کے لیے بیرون ملک مطالعاتی پروگرام کا اہتمام کرتا ہے۔ان پروگراموں میں انڈیا پر مرکوز مخصوص موضوع والے بیرون ملک مطالعاتی پروگرام بھی شامل ہیں ۔ یہاں ہر پروگرام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کے لیے صحت عامّہ سے لے کر پائیدار ترقی اور معاشرتی تبدیلی جیسے مسئلوں پر منفرد نظریات فراہم کرے۔

اسکول اپنے ان پروگراموں کو تجرباتی تعلیم قرار دیتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ طلبہ مقامی ماہرین اور راہنماؤں کے ساتھ قدرتی وسائل اور پناہ گزینوں کے مسائل جیسے اپنے پروگرام کے موضوعات سے متعلق اداروں کے ساتھ خاطر خواہ وقت گزارتے ہیں۔

اسکول فار انٹرنیشنل ٹریننگ اسٹڈی ایبروڈ(ایس آئی ٹی)  میں ایشیا اینڈ دی پَیسیفِک کے  اکیڈمک ڈین برائن ہیمر کہتے ہیں

 ’ ’ آزادانہ طور پر فیلڈ اسٹڈی کی حمایت کے لیے  ایس آئی ٹی پروگرام معروف ہیں ۔ہمارے پروگرام میں شرکت کے اہم نتائج میں سے ایک ہر طالب علم کا اس کی دلچسپی کے موضوع کی گہری معلومات ہے۔ ‘‘

 ہیمر کہتے ہیں کہ اس قسم کے ذاتی توجہ والے شعبوں کا تعلق ہمیشہ ہی بیرون ملک کے ہر مطالعاتی پروگرام سے ہوتا ہے لیکن مطالعے کا مخصوص موضوع طالب علم کی اپنی پسندکا ہی ہوتا ہے۔ ایس آئی ٹی اسٹڈی پروگرام کے شرکا ء بیرون ملک اپنے سمیسٹرس مکمل کرتے ہیں ۔ اس کے لیے انہیں چار ہفتے کے ایک آخر ی اور آزاد مطالعاتی پروجیکٹ کے ذریعے اپنے چنے ہوئے موضوعات پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوتا ہے جو ان کے میزبان ممالک کے لوگوں اور جگہوں کے ساتھ ان کے تعلقات میں مزید استحکام لاتا ہے۔

طلبہ کی کہانیاں

فلا ڈیلفیا کی ڈینِس ڈی فیلِس، یونیورسٹی آف پین سلوانیا  میں تیسرے سال کی طالبہ ہیں ۔وہصحت اور معاشرے کے شعبے میں صحت عامّہ کی پڑھائی کر رہی ہیں۔انہوں نے اپنے خصوصی مطالعے کے مضمون کی پڑھائی کے دوران اپنے ایک ساتھی سے اسکول فار انٹرنیشنل ٹریننگ کے  انڈیا پروگرام کے بارے میں سنااور  پبلک ہیلتھ ، جینڈر اینڈ کمیونٹی ایکشن کی پڑھائی کے لیے دہلی میں ہی قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتی ہیں ’’میں امریکہ میں اپنے کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھائی کرنے کی بجائے عالمی سیاق و سباق میں صحت عامّہ کے بارے میں پڑھائی کے بارے میں کافی پرجوش تھی ۔‘‘ 

وہ انڈیا کی متنوع ثقافت کی وجہ سے اس کی جانب ملتفت ہوئیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’ میں ایک نئی زبان سیکھنا چاہتی تھی ، مختلف قسم کے کپڑے پہننا چاہتی تھی اورایسے ثقافتی اقدار سے مطابقت رکھنا چاہتی تھی جو ہماری ثقافت سے کافی مختلف ہے۔ دہلی میں قیام نے خصوصی طور پر لوگوں سے بات چیت کرنے کے میرے انداز کو بدل کر رکھ دیا ۔ اب میں پہلے سے کہیں زیادہ جرات مند ، ملنسار اور تحمل پسند ہوں ۔ ‘‘ 

الیزابیتھ کَرٹِس مساچیوسٹس کے بوسٹن میں پلی بڑھیں اور انہوں نے ۲۰۱۷ ء میں ولیمس کالج سے گریجویشن کیا ۔ انہوں نے  اسکول فار انٹرنیشنل ٹریننگ پروگرام  کے  پبلک ہیلتھ ، پالیسی اَیڈووکیسی اینڈ کمیونٹی کے تحت  ۲۰۱۵ ء میں انڈیا کا سفر کیا اور اب وہ  فل برائٹ نہرو اسٹوڈینٹ ریسرچ فیلو شپ کے تحت یہاں قیام کررہی ہیں۔

انڈیا کا دورہ کرنے سے پہلے بھی کَرٹِس تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے کی طرف مائل تھیں ۔جب پڑھائی کے لیے پروگرام چننے کی بات آئی تو انہیںیہ پروگرام مناسب معلوم ہوا۔ وہ بتاتی ہیں ’’ مختصر تفریحی دوروں ، غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ورکشاپ کرنے ، مقامی ماہرین اور طبقات کے اراکین کے ساتھ ملاقات اور طلبہ کے لیے ان کے سب سے پُرجوش مضامین میں فیلڈ اسٹڈی سے متعلق ایک ماہ کے مطالعاتی پروجیکٹ کے لییایس آئی ٹیوہ چیز تھی جس سے مجھے امریکہ میں اپنا کالج چھوڑنے کی تحریک ملی۔ ‘‘

اپنے آخری آزادانہ مطالعاتی پروجیکٹ کے لیے کَرٹِس نے اتر پردیش کے دیہی علاقوں میں کمیونٹی پر مبنی تولیدی صحت کے پروگرام پر تحقیق کی جس میں ان کی توجہ کا مرکز حکومت کے ملازمین اور ادارے رہے۔ اپنے فیلو شپ کے ذریعہ اب بھی وہ اپنا یہ کام کر رہی ہیں۔ 

 ایس آئی ٹی اسٹڈی ایبروڈ پروگرامکے تمام شرکا ء کی طرح کَرٹِس جب بیرونی ممالک میں رہیں تو اپنے میزبان کنبوں کے ساتھ ہی رہیں۔ ہیمر باخبرکرتے ہیں کہ یہ ایک تجربہ ہے جو بیرون ملک پڑھائی کررہے تمام طلبہ پر مثبت اور اہم طویل مدتی اثرات ڈالنے کا باعث بن سکتا ہے۔کَرٹِس نے انڈیا میں اپنی پڑھائی کے دوران دو کنبوں کے ساتھ قیام کیا ۔ وہ اپنے تجربے کو پُر لطف انداز میں یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ اپنے میزبان بھائی بہنوں کے ساتھ دیر رات تک باہر رہا کرتی تھیں ، ان سے سوالات پوچھا کرتی تھیں اور انہیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ یہ وہ لوگ ہیں جن سے مجھے اب بھی محبت ہے اور میں ان کے ساتھ اب بھی وقت گزارتی ہوں ۔ ایک دوسری ثقافت سے واقفیت کا وہ میرے لیے راست ذریعہ تھے ۔ ہمارے درمیان ایسے گہرے تعلقات بن گئے جو شاید کبھی نہ بن پاتے اگر میں بیرون ملک پڑھائی کی غرض سے انڈیا نہ آتی ۔‘‘

وظیفے کی مدت ختم ہونے کے بعدکَرٹِس کی خواہش کسی نرسنگ اسکول میں جانے کی ہے جہاں وہ جنسی اور تولیدی صحت کو فروغ دینے کے شعبے میں اپنا کریئر بنانے کے لیے ایک دائی کے طور پر کام کرنے کی خواہش مند ہیں ۔وہ کہتی ہیں ’’ انڈیا میں مطالعے نے وسیع طور پر مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ حکومت کے کون سے پروگرام اور کون سی پالیسیاں طبقاتی اور تولیدی صحت کے لیے بہتر ہو سکتی ہیں ۔ یہاں پڑھنے سے مجھے اس بات کا بھی علم ہوا ہے کہ اس شعبے میں مجھے کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ‘‘ 

مستقبل کی راہ

 کَرٹِس اور  ڈی فیلِس کی طرح دیگر طلبہ کے انڈیا آتے رہنے اور اپنے تجربات سے حوصلہ پاتے رہنے سے ہیمرکو محسوس ہوتا ہے کہ اسکول فار انٹرنیشنل ٹریننگ پروگرام میں وسعت آتی جائے گی ۔وہ کہتے ہیں ’’انڈیا ایک دلچسپ، متحرک اور تاریخی اعتبار سے دنیا کا ایک با اثر علاقہ ہے، لہٰذا عالمی امور میں اس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ بہت سارے طلبہ اس ملک کو ایک بہت ہی مناسب جگہ خیال کرتے ہیں جہاں پڑھنے سے نہ صرف اس ملک کے بارے میں گہری سمجھ اور نئی معلومات کو فروغ ملتا ہے بلکہ عالمی تعلقات کے مستقبل کی یہاں نشوو نما بھی ہوتی ہے۔ اسکول فار انٹرنیشنل ٹریننگ کوانڈین اسٹڈی ایبروڈ پروگرامس کی طویل تاریخ پرفخر ہے ۔ ہم مستقبل میں اپنے طلبہ کے لیے نئے تعلیمی مواقع کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں ۔ ‘‘

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں ۔ وہ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں۔ 

تبصرہ کرنے کے ضوابط