مرکز
1 2 3

وقت اور پیسے کا درست استعمال

امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے دوران طلبہ کو اپنی کفالت کے لیے  وقت اور پیسے کا درست طور پر استعمال سیکھنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ دنیا میں بہترین اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے بعض کا مسکن ہے۔ کسی طالب علم کے لیے ان میں سے کسی ایک میں داخلہ حاصل کرنا ایک بہت اچھا تجربہ ہو سکتا ہے مگر یہ شوق یقیناََ مہنگا بھی ہوگا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ طلبہ اپنے تجربے کو پُر لطف مگر دسترس میں بنائے رکھنے کے لیے اپنے وقت اور پیسے کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں۔ یہاںاسی کام کے لیے بعض گُر سکھائے جاتے ہیں۔  

اچھی طرح سے تحقیق کریں 

  آ سٹِن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کی فائنل ایئر کی کمپیوٹر سائنس کی طالبہ پریا رائے بتاتی ہیں ’’ امریکہ میں پڑھائی کے لیے آپ کو اپنے بجٹ کا صحیح استعمال اسی وقت سے شروع کر دینا پڑتا ہے جب آپ اپنے ادارے کا انتخاب کر رہے ہوتے ہیں۔ ‘‘

جب پریا کالج میں داخلے کے لیے درخواست دے رہی تھیں تو  آئیوی لیگ انسٹی ٹیوٹ  کے کتابچے میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کے لیے دستیاب ایک خصوصی وظیفے کا علم انہیں ہوا تھا مگر جب انہوں نے کالج سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ وظیفہ اب دستیاب نہیں ہے۔اپنے بجٹ سے خرچ کے زیادہ ہو جانے کے ڈر سے انہوں نے ایسے ادارے کا انتخاب کیا جو ان کو معیاری تعلیم فراہم کرے، ساتھ ہی ان کا تعلیمی قرض بھی ایسا رہے جو ادا کیے جاسکنے کے قابل ہو ۔غیر ملکی طلبہ کے لیے پریا آسان سا مشورہ دیتی ہیں ’’ وظیفے پر توجہ دیں اور ان تمام وظائف کے لیے درخواست دیں جن کے آپ اہل ہیں ۔ ‘‘

اس لیے طلبہ کو اپنی دلچسپی کے شعبوں کے پروفیسروں کے علاوہ گریجویٹ رابطہ کاروں سے طلبہ کے رد عمل اور دستیاب اسکالرشپ سے متعلق راہنمائی کے لیے پوچھنا چاہئے۔چنانچہ درخواست دینے سے پہلے تمام معلومات کو ایک بار پھر سے دیکھ لیں اور اس بات کو یقینی بنا لیں کہ مالی امداد مہیا ہو۔ پریا کہتی ہیں ’’ ملازمت کے برعکس اسکالر شپ کے حصول کے لیے اکثر طلبہ کو اپنی تحقیق پیش کرنی ہوتی ہے جسے ایک کورس ورک کے طور پر کیا جاتا ہے۔امریکہ کے تعلیمی اداروں میں عام طور سے ٹیوشن یا سفر کے لیے دیے جانے والے فنڈ پر بہت رعایت دی جاتی ہے۔ یہ وہ رقم ہے جسے آپ اپنے کورس میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرکے حاصل کرتے ہیں ۔‘‘

کام کرنا ہے تو کیمپس ہی میں کریں 

 غیر ملکی طلبہ کے لیے کیمپس پر توجہ دینا ایک مثالی عمل ہے ۔ کیمپس کی ملازمتیں و ہ کام ہیں جنہیں آپ مختلف شعبوں میں کیمپس ہی میں کر سکتے ہیںاور جن کی وسعت کسی پروفیسر کے تحقیقی معاون سے لے کے کالج کے کیفے ٹیریا میں کام کرنے تک ہے۔ اس کی اجرت  یونیورسٹی فراہم کرتی ہے ۔کیمپس میں پڑھائی کرنے کے ساتھ کام کرنے کے لیے طلبہ کے پاس درست دستاویز ات ہونے چاہئیں۔

یونیورسٹیاں بین الاقوامی دفتر یا پھر  یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسیز کے خصوصی اجازت نامے کے بغیر کسی طالب علم کو کیمپس سے باہر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہیں۔ 

کالجوں کے بین الاقوامی دفاتر اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر مختلف کاموں سے متعلق معلومات اور راہنمائی کے اہم ذرائع ہو سکتے ہیں۔غیر ملکی طلبہ کوموسم ِ خزاں اور موسمِ بہار کے سمسٹر کے دوران ۲۰ گھنٹے او ر موسمِ گرما اور تعطیلات کے دوران اس سے بھی زیادہ مدت تک کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ آسٹِن میں واقع یو نیورسٹی آف ٹیکساس کے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہمانشو شرما کہتے ہیں ’’موسم ِ گرما میں طلبہ کو زیادہ دیر تک کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔لہٰذا موسم گرما وہ وقت ہوتا ہے جب آپ زیادہ کام کرتے ہیں تاکہ دیگر سمسٹر میں آپ کے وقت کی بچت ہو سکے۔‘‘

پڑھیں  اور ہوشیاری سے خرچ کریں

یونیورسٹیاں اکثر وقت کے بند و بست پر ورکشاپ کا اہتمام کرتی ہیں اور ایک حقیقی بجٹ بنانے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعدد وسائل فراہم کرتی ہیں۔ شرما کا مشورہ ہے کہ بعض ورکشاپ میں شرکت کرنی چاہئے۔ مثال کے طور پر ان کی یونیورسٹی میں ایسے ہی ایک ورکشاپ میں شرما نے یہ سیکھا کہ مالی بندوبست اور وقت کے صحیح استعمال کے لیے اسپلِٹ وائز اور ایکسیل شیٹ جیسے مفت ایپ کو کیسے بروئے کار لایا جائے۔ وہ اسپلِٹ وائز میں اپنے روزانہ کے خرچ لکھ لیا کرتے تھے۔اس تدبیر سے انہیں یہ علم ہوا کہ وہ کافی پینے پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں۔ لہٰذا اب وہ کیمپس میں اپنی کافی لے کر جاتے ہیں۔ 

رائے بھی اس طرح کے ورکشاپ میں شرکت کے شرما کے مشورے کی تائید کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسے ہی ایک ورکشاپ میں انہوں نے موثر طور پر چیزوں کو لکھنے اور پڑھنے کا بہترین طریقہ سیکھا ’’میں چیزوں میں بہت زیادہ تاخیر کیا کرتی تھی۔ احساس ہوا کہ بے چینی اور فکر وقت پر کام کرنے سے بازرکھتی تھی ۔ لہٰذا اس معاملے میں مدد لینے پر غور و فکر کیا اور پڑھائی کی اپنی عادتوں کے تجزیے کے لیے ایک پیشہ ور مشیر سے بات کی ۔ زیادہ تر کالج اس طرح کے مشاورتی اجلاس کا مفت میں اہتمام کرتے ہیں۔آپ کلاسوں کے درمیان کے وقت کا عقلمندی سے استعمال کریں۔اس وقت کا استعمال اپنا ہوم ورک مکمل کرنے میں کریں۔جب تک آپ کیمپس میں ہیں جہاں تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ کام ختم کرلیں۔‘‘

قیام کریں اور خود کھانا بنائیں

تعلیم پر خرچ کے علاوہ یہاں رہنے سہنے کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ کیمپس کے باہر رہنے کے مقابلے مختلف شعبوں کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کیمپس میں ڈورمیٹریز اکثر مہنگی ہوتی ہیں ۔ یونیورسٹی کی بسوں کے راستے میں کہیں باہر مشترکہ طور پر رہنا طلبہ کے لیے بہت اچھا ہو سکتا ہے ۔بہت ساری یونیورسٹیاں کم شرح پر گریجویٹ ہاؤسنگ  کا بھی انتظام کرتی ہیں۔ 

کھانے بہت زیادہ مہنگے نہیں ہو سکتے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ آپ کے اخراجات میں یہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ کیلی فورنیا میں ایک اسٹیٹ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی  سائنس میجر  کی طالبہ جھانوی شرما کہتی ہیں ’’جب میں انڈیا سے آرہی تھی تو امی نے ایک پریشر کُکر بھی پیک کر دیا تھا ۔دو مہینے بعد اس کی اہمیت کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب میں نے اپنے پورے مہینے کے کھانے کے لیے رکھی گئی رقم کو تقریباََ دو ہی ہفتوں میں سینڈوِچ اور کافی پر ختم کردیا۔ ‘‘

لہٰذاا بنیادی ڈشیں جو بڑی آسانی سے تیار ہو جائیں، ان کا سیکھنا یقینی طور پر کار آمد ہو سکتا ہے ۔ رائے مگر خبردار کرتی ہیں ’’کبھی یہ فراموش نہ کریں کہ آپ کا وہاں جانے کا مقصد کیا ہے۔ آپ وقت اور پیسے دونوں کا ہی ہوشیاری سے استعمال کریں۔ پیسوں کے برعکس وقت کبھی بھی پھر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔اس لیے وقت کی ہر حال میں قدر کریں۔‘‘

پارومیتا پین ٹیکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط