مرکز
1 2 3

انڈیا کے بارے میں جاننا کریئر کا آغاز کرنا ہے

ایڈم گروتسکی نے اپنے پرجوش کریئر کا آغاز جنوبی ایشیا میں اپنی گہری دلچسپی اور جنوب ایشیائی مطالعات میں اعلیٰ تعلیم سے کیا۔

امریکہ۔ہند تعلیمی فاؤنڈیشن(یو ایس آئی ای ایف )کے ایکزیکٹو ڈائرکٹرایڈم جے گروتسکی کا کام جتنا پیچید ہ ہے اتنا پرجوش بھی ۔ 

باوقار فل برائٹ ۔نہرو فیلو شپ کے انتظامیہ کی نگرانی ان کے ذمے ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایجوکیشن یو ایس اے کے مشاورتی مراکز کے ذریعے انڈیا کے ہزاروں طلبہ کو بہتر بنانے کی خدمات بھی انجام دیتے ہیں ۔ وہ کئی ملین ڈالر کے بجٹ کا انتظام و انصرام دیکھتے ہیں ۔ انڈیا کے مختلف علاقوں میں موجود امریکہ۔ہند تعلیمی فاؤنڈیشن کے پانچ دفاتر کی نگرانی کرتے ہیں اور باقاعدہ طور پر انڈیا اور امریکہ کے عہدیداروں کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں۔ مگر اس پر ہی بس نہیں ہے بلکہ یہ تو بس آغاز ہے۔ 

انہیں آخر یہ عہدہ کیسے ملا جس کی وجہ سے وہ لوگوں پر مثبت طور پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔گروتسکیکے مطابق اس کا آغاز ایشیا کے تئیں گہری دلچسپی اور جنوب ایشیائی مطالعات میں یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ہوا۔  

ان کا اس خطے سے تعلق بہت پہلے یعنی ان کے کالج کے زمانے سے بھی قبل شروع ہوا ۔جب وہ چھوٹے تھے تب بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنے کنبے کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ اس طور پر وہ اس خطے کے گرویدہ ہو گئے ۔ بعد ازاں انہوں نے سری لنکا میں ہائی اسکول کی پڑھائی کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس تجربے نے ان کی زندگی بدل ڈالی اور انہیں ترغیب دی کہ وہ جنوب ایشیا کے بارے میں مزید جانیں۔ 

وہ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’’میں خوش قسمت تھا کہ میرا داخلہ   یونیورسٹی آف پین سلوانیا  میں ہوگیا جہاں امریکہ کے سب سے قدیم اور سب سے باوقار جنوب ایشیائی مراکز میں سے ایک واقع ہے۔ ‘‘

 انہوں نے سیاسیات کو مضمون برائے تخصیص چنا لیکن ہندی سمیت جنوب ایشیائی مطالعات میںبہت سارے کورسیز کی بھی پڑھائی کی ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وہ بتاتے ہیں ’’میں نے یونیورسٹی کا پہلا سال یونیورسٹی آف وِسکانسن کے کالج ایئراِن انڈیا پروگرام کے تحت وارانسی میں گزارا جہاں میں نے ہند ی کی اپنی پڑھائی جاری رکھی ۔میں نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سیکھنا شروع کیا اور انڈیا کی اعلیٰ  تعلیم سے متعلق ایک  فیلڈ ورک پروجیکٹ بھی مکمل کیا ۔اس سال میں نے بہت کچھ سیکھا لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں نے بس ابھی آغاز کیا ہے۔‘‘

نتیجے کے طور پر انہوں نے یونیورسٹی آف وِسکانسن ۔ میڈیسن کے جنوب ایشیائی مطالعات پروگرام میں ماسٹرس کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ بتاتے ہیں کہ جنوب ایشیائی مطالعات کا وصف یہ ہے کہ یہ اپنے آپ میں کوئی شعبہ معلوم نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں بہت سارے شعبوں کا احساس ہوتا تھا۔ان کے کورس ورک میں عمرانیات ، تاریخ، مذہب ، زبان و ادب کے علاوہ دیگر شعبے کی کلاسیز بھی شامل تھیں۔ 

وہ بتاتے ہیں ’’میرا ہدف جنوب ایشیا اور خاص طور سے انڈیا کے بارے میں اتنی واقفیت حاصل کرنا تھا جتنا میں کر سکتا تھا اور جنوب ایشیا مطالعات سے متعلق ڈگری میرے لیے بالکل مناسب تھی۔ ‘‘

جنوب ایشیائی مطالعات میں جستجو نے ان کی مدد کی کہ وہ کامیاب بین الاقوامی کریئر شروع کر سکیں۔اس سلسلے میں وہ بتاتے ہیں ’’اسکول سے گریجویٹ ہونے کے فوراََبعدمیرا تقرر   کالج ایئر اِن انڈیا پروگرام میں ریزیڈنٹ ڈائرکٹر کے طور پر ہوا۔ میں نہیں سمجھتا کہ میں اس کام کو اتنے موثر طریقے سے یونیورسٹی آف وِسکانسن ۔ میڈیسن اور اس سے پہلے  یونیورسٹی آف پین سلوانیا میںتعلیم اور تربیت حاصل کیے بغیر انجام دے سکتا تھا۔ ‘‘

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ و ہ نیویارک سٹی میں رہائش پذیر ہیں۔  


تبصرہ کرنے کے ضوابط