مرکز
1 2 3

علمی سرپرستی

امریکی یونیورسٹیوں میں موجود اتالیقی خدمات غیر ملکی طلبہ کو تعلیمی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مدد پہنچانے کا باعث بنتی ہیں ۔ 

امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے فیصلے کے ساتھ ایک طالب علم کے ذہن میں کئی سوالات بھی آتے ہیں جیسے کہ کیا ہوگا اگرپڑھائی میں مدد کی ضرورت پڑجائے یا انگریزی ، مضمون نویسی ، ریاضی یا طبیعات وغیرہ میں کسی قسم کی مدد درکار ہو؟ 

خوش قسمتی سے امریکی یونیورسٹیوں کو ان خدشات کا اندازہ پہلے ہی سے ہوتاہے اور وہ بقدر ضرورت ان معاملات میں طلبہ کی مدد کے لیے تیار بھی رہتی ہیں ۔ امریکی یونیورسٹیاںغیر ملکی طلبہ کو ان کی تعلیمی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مدد فراہم کرنے کے لیے مختلف قسم کی اتالیقی خدمات فراہم کرتی ہیں ۔ 

امریکی یونیورسٹیوں میں موجود انٹرنیشنل اسٹوڈینٹس سروسیز غیر ملکی طلبہ یا ان کے رفقائے حیات کو امریکی معاشرے اور ثقافت کے مطابق ڈھلنے اور انگریزی زبان سیکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ انگلش اَیز اے سکنڈ لینگویج (ای ایس ایل )سے تلفظ ، پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی مہارت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔مگر مختلف یونیورسٹیوں میں اس کی تدریس کا طریقہ جداگانہ ہے۔بعض جگہ طلبہ کو انفرادی طور پرتوکہیں طلبہ کے ایک چھوٹے گروپ کوجن کے شرکا ء یکساں مہارت والے ہوںیا جن کا پس منظر اور زبان کے فہم کا معیار ایک طرح کا ہو..... تدریسی سہولت مہیا کروائی جاتی ہے۔  یونیورسٹیاں مختلف کلاس اورورکشاپ کے ذریعہ بھی طلبہ کو امریکی ثقافت سے واقف کرانے میں مدد کرتی ہیں۔ 

مساچیوسٹس کی  نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ٹیوٹرنگ سینٹر  میں طلبہ انگریزی زبان اور امریکی ثقافت کے ورکشاپ میں شرکت کرسکتے ہیں جس میں توجہ امریکی ثقافت ، انگریزی زبان کی استعداد اور تعلیمی شعبے میں کامیابی سے متعلق نسخے پر مرکوز ہوتی ہے ۔ان میں سے بعض ورکشاپ میں طلبہ کو تعلیمی ذرائع اور حوالہ جات ، وقت کا درست استعمال،حوصلہ افزائی ، اپنا مقصد طے کرنے یہاں تک کہ کھانا پکانے کا بنیادی ہنر سمجھانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ٹیوٹرنگ سینٹر پڑھنے سے متعلق مختلف ورکشاپ بھی منعقد کرتا ہے۔ایسی ۶ مفت اور بغیر کریڈٹ والی کلاس پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے اور توجہ بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ ایسی کلاس مضمون کو سمجھنے کی تکنیک اور نئے الفاظ یاد رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ بہت سی یونیورسٹیاں مختلف تعلیمی مضامین کے معاملے میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔

 مورہیڈ میں واقع منیسوٹا اسٹیٹ یونیورسٹی میں تعلیمی تعاون کے پروگرام کے توسط سے تمام طلبہ کو مختلف مضامین میں معلمی کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔طلبہ ہفتے میں دو بار دو یا تین طلبہ کے گروپ میں ملتے ہیں ۔ اور ان طلبہ کی ان کے مضامین میں مددکے لیے ایک معلّم موجود ہوتا ہے۔ طلبہ ہی میں سے آنے والے ان معلّمین کی سفارش ان کا شعبہ ہی کرتا ہے ۔ ایسے طلبہ کے پاس معلّمی کا بین الاقوامی سند نامہ ہوتا ہے۔ یہ خدمات تعلیمی اعانت سے متعلق مراکز سے دستیاب کروائی جاتی ہیں ۔ معلّمین کا یہ گروپ ہر سمسٹر کے آغاز میں تشکیل دیا جاتا ہے۔ 

مورہیڈ میں واقع منیسوٹا اسٹیٹ یونیورسٹی کے بعض شعبے ایسی خدمات طلبہ کی آمد کی بنیاد ہی پر فراہم کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر کسی طالب علم کو ریاضی ، طبیعات ، اکاؤنٹنگ ، معیشت یا  پارالیگل اسٹڈیز  میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو ایسے طلبہ براہ راست متعلقہ شعبوں میں جا سکتے ہیں اور مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔  

امریکی یونیورسٹیاں اپنے رائٹنگ سپورٹ سینٹرس پر ایسے طلبہ کو مضامین لکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں خواہ انگریزی ان کی مادری زبان ہو یا انہوں نے اسے دوسری زبان کے طور پر اختیار کیا ہو۔   

جہاں تک نارتھ ایسٹرن رائٹنگ سینڑ  کا تعلق ہے تو یہ سینٹر مضامین لکھنے میں دونوں طرح سے مدد کرتا ہے ۔ اس میں معلّم کے ذریعہ کی جانے والی مدد بھی شامل ہے اور آن لائن مدد بھی۔ یونیورسٹی کے معلّم ملاقات کے دوران طلبہ کو لکھنے کی حکمت عملی سیکھنے میں مدد کرتے ہیں ۔ اس کا مقصدطلبہ کو پڑھنے اور لکھنے میں زیادہ قابل بنانا ہوتا ہے۔ معلّم طلبہ کے ساتھ لکھنے کے عمل کے مختلف مراحل میں کام کرتے ہیں اور انہیں سکھاتے ہیں کہ مختلف نوعیت کی تحریر کا جواب کس طرح دیں اور تحریری مہارت کیسے حاصل کریں۔ 

 غیر ملکی طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ معلمی مراکز پر دستیاب ان خدمات کا فائدہ اٹھائیں کیوں کہ ان سے امریکی تعلیمی اداروں میں تعلیمی شعبے میں بہترین کارکردگی انجام دینے میں اضافی مدد ملتی ہے جو طلبہ کے تعلیمی سفر میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ 

نتاشا مِلاس نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط