مرکز

رابطوں کا قیام

امریکہ میں تعلیمی اداروں میں سابق طلبہ سے رابطوں کے قیام کی طویل روایت ہے۔اس سے یونیورسٹی سے وابستہ اراکین میں فخر اور وابستگی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور یہ رابطے توسیعی کنبوں کا کردار ادا کرتے ہیں ۔یہ طلبہ اور دیگر فریقین کی پیشہ ورانہ صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

کسی تعلیمی ادارے کے سابق طلبہ نیٹ ورک کے جہاں دور رس اثرات پڑتے ہیں وہیں یہ تین بنیادی فریقوں موجودہ یا ممکنہ طلبہ اور سابق طلبہ پر طویل عرصے تک اثر انداز ہونے کی خاطر ماحول تشکیل کرتے ہیں۔

انڈیا میں موجودسابق طلبہ کے بہترین عادات و اطوار
• نیوز لیٹرس یا ای میلس کی باقاعدگی۔
• مقررین کے ذریعے تقاریب اور تبادلہ خیال کے پروگرام کا انعقاد۔
• سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے تعلقات کا قیام۔
• ہند وستانی طلبہ کے لیے سابق طلبہ کی قیادت میں اجلاس کا اہتمام۔
• سرگرمیوںمیں اپنے رفیقِ حیات کی شمولیت۔
• ہفتے کے آخری دنوں میں تقاریب کا اہتمام ۔

موجودہ اور ممکنہ طلبہ

ان سے ربط ضبط کے مواقع پیدا ہوتے ہیں :  سابق طلبہ کے نیٹ ورک کی وجہ سے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق مشاورتی پروگرام ، رابطہ سازی کے پروگرام اور اطلاعاتی اجلاس کے ذریعہ طلبہ کو مصروفیت کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں ۔نئی دہلی میں ہارورڈ کلب آف انڈیا کے صدر انیرُدھ سوری کہتے ہیں ’’ایک کلب کے طور پر ہم کافی سرگرم ہیں ۔ہم ہر برس  ینگ ہارورڈ  تقریب کا اہتمام کرتے ہیں جہاں ہارورڈ یونیورسٹی کے ممکنہ طلبہ ، موجودہ طلبہ ، اساتذہ اور سابق طلبہ یکجا ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ۔‘‘ 

سوری باخبر کرتے ہیں کہ وہ لوگ فیس بک اور لِنکڈ اِن جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی سرگرم ہیں ’’موجودہ اور ممکنہ طلبہ ہمارے پاس سوالات کے ساتھ آتے ہیں ۔ہم لوگ عام طور پر اپریل یا مئی کے مہینے میں سوال جواب کا ایک سیشن منعقد کرتے ہیں ۔ یہ ان طلبہ کے لیے ہوتا ہے جنہوں نے داخلہ لے لیا ہے تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں ۔‘‘ 

•   عملی زندگی کے امکانات روشن کریں : بہت سارے گریجویٹ سابق طلبہ گروپ پر اس بات کے لیے انحصار کرتے ہیں کہ وہ عملی زندگی کے نئے مواقع کی جانب ان کی راہنمائی کریں گے ، انہیں مشورے دیں گے اور مضمون کی مہارت اور پیشہ وارنہ مواقع کے بہت سارے پہلوؤںسے متعلق حقائق سے روشناس کرایں گے۔ ایک مضبوط نیٹ ورک درست تعلقات قائم کرنے اور صحیح فیصلے کرنے میں ان طلبہ کی مدد کرسکتا ہے۔

 ثقافتی اخلاقیات پر توجہ دیں : سابق طلبہ کی انجمنیں مشترک تجربات کے ساتھ طلبہ برادری سے وابستگی کے احساس کو فروغ دیتی ہیں ۔ سوری کہتے ہیں ’’یہ کلب (ہارورڈ کلب آف انڈیا)اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہمارے سابق طلبہ ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط رسمی اور غیر رسمی تعلقات قائم کریں تاکہ یونیورسٹی کے دنوں والا دوستانہ تعلق ہمارے درمیان انڈیا میں بھی برقرار رہے۔ ‘‘

ادارے

برانڈ ایمبسڈر بنیں اور اثر انداز ہوں: سابق طلبہ کا اپنی یونیورسٹیوں کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی یونیورسٹیوں کے پروگرام، فلسفہ ، ثقافت اور اقدار کے محافظ اور غازی بن سکتے ہیں ۔

 یونیورسٹی کے داخلہ جاتی مراحل میں مدد کریں: سابق طلبہ تقاریب اور میلوں میں یونیورسٹی کے نمائندوں کی مدد کے ذریعہ ، طلبہ کے انٹرویو کے انعقاد کے ذریعہ اور داخلے کے وقت استقبالیہ میں طلبہ سے ملاقات کے ذریعہ نئے طلبہ کو اپنی یونیورسٹیوں میں داخلے کی طرف مائل کرتے ہیں۔مثال کے طور پر پرنسٹن یونیورسٹی کا المنائی ایسوسی ایشن  درخواست گزار طلبہ کے لیے انٹرویو منعقد کرتا ہے اور کورس مکمل کرکے جانے والے طلبہ کے لیے الوداعیہ پارٹی کا اہتمام کرتا ہے۔ نئی دہلی کے ایم آئی ٹی کلب  کی صدر نشا برلیا کہتی ہیں ’’پچھلے دو سال سے ہم موسم گرما میں الوداعیہ پارٹی کا اہتمام کر رہے ہیں ۔ہمارے بہت سارے سابق طلبہ مشیر بن چکے ہیں ۔ ممکنہ طلبہ ان تک ایک رسمی  ایم آئی ٹی (مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی)  پروگرامکے ذریعے پہنچ سکتے ہیں۔ 

 سرمایہ کا انتظام :سابق طلبہ اداروں کی مالی امداد کرکے مربی بننے کا موقع رکھتے ہیں ۔ یونیورسٹیوں میں سیکھنے اور بہتر بننے کے بہت سارے خصوصی مراکز کے نام اکثر ان سابق طلبہ پر رکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنے اداروں کے لیے تعاون کیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق طلبہ کی انجمنیں اپنی یونیورسٹیوں کے لیے اسکالرشپ اور عطیہ کی خاطر مالی امداد حاصل کرنے میں بااثر عوامل کے طور پر بھی مدد کرسکتی ہیں۔ 

سابق طلبہ

 مسلسل سیکھتے رہنے کے مواقع پیدا کرنا : سابق طلبہ کے بعض سرگرم اور بڑے نیٹ ورک یونیورسٹی کے پروگرام اور ورک شاپ کے ذریعے اپنے ممبران کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔سوری اس کے لیے ایک مناسب مثال پیش کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’ کلب (ہارورڈ کلب آف انڈیا) ایسے اساتذہ کے لیے ایک پلیٹ فارم کی طرح کام کرتا ہے جو سابق طلبہ کے ساتھ ملاقات کرنے ،اپنی تحقیق کا اشتراک کرنے اور سابق طلبہ اور دیگر متعلق اداروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے انڈیا کا دورہ کرتے ہیں ۔ہم سابق طلبہ کے لیے ایک

      پلیٹ فارم کی بھی خدمات انجام دیتے ہیں تاکہ وہ ہندوستانی معاشرے کے لیے زیادہ سرگرمی کے ساتھ تعاون کر سکیں۔ہم لوگ حکومت ہند کی انتظامیہ، مقنّنہ اور قانون سازی کے محکموں کے ساتھ مل کر اس کام کو انجام دیتے ہیں ۔ ہم ان اداروں کے مقررین کے لیے پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاں بھی ضرورت پڑتی ہے وہاں متعلقہ پالیسی کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں ۔‘‘

 معاشرتی اور پیشہ ورانہ وابستگی میں اضافہ کریں :سابق طلبہ کے نیٹ ورک معاشرتی اور پیشہ ورانہ وابستگی کے لیے وافر مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ وہ تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں اور انتظامی اور پالیسی ساز کمیٹیوں اور سابق طلبہ بورڈوں میں مصروف بہ عمل ہوتے ہیں ۔ 

ایجوکیشن یو ایس اے انڈیا کی بہترین عادتیں اور رواج 

ایجوکیشن یو ایس اے کے پاس سابق طلبہ اور ان کے نیٹ ورک کے ساتھ قریبی تفاعل کا ایک منفرد موقع ہے۔یہاں طلبہ اور سابق طلبہ کے ساتھ ان کے اشتراک کی کچھ بہترین مشقوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ 

 سالانہ طور پر سابق طلبہ میلوں کا اہتمام جس میں ہرسال ۶۰ امریکی یونیورسٹیوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ 

 انڈیا میں امریکی مشن کے سفارتکاروں کے ساتھ سابق طلبہ میلوں کا اہتمام۔

 موجود ہ اور سابق طلبہ کے ساتھ مشاورتی اجلاس کا اہتمام ۔

 طلبہ کی ادارے سے رخصتی سے قبل تعارفی عمل سے متعلق پینل ڈسکشن کا اہتمام ۔ 

 انڈیا میں مقیم سابق طلبہ کے ساتھ خصوصی اجلاس کا اہتمام ۔

 سابق طلبہ کا امریکی سابق طلبہ سے ملاقات کا اہتمام ۔ 

یہ پلیٹ فارم سابق طلبہ کی انجمنوں کو ان کے کردار کے بارے میں بیداری پھیلانے ،یونیورسٹیوں کو فروغ دینے ، طلبہ کے ساتھ ربط ضبط پیدا کرنے ، ان کے چیلینج پر تبادلہ خیال کرنے اور بہترین مشقوں کے اشتراک کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

سابق طلبہ کو اگرچہ اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کے مطالبوں کی وجہ سے وقت اور جغرافیائی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے مگر وہ لوگ دوسرے ممبران اور طلبہ کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کے لیے اختراعی طریقوں کی تلاش میں کافی پُر جوش اور پابند عہد ہوتے ہیں۔ سوری کہتے ہیں ’’یہ انجمنیں کسی بھی یونیورسٹی کے سابق طلبہ کو یونیورسٹی، موجودہ طلبہ اور ممکنہ طلبہ اور ساتھ میں اپنے ساتھی سابق طلبہ کے ساتھ مصروف رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اسی طرح سابق طلبہ کی انجمنیں کسی یونیورسٹی کے بہت سارے حصوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے میں بھی بہت اچھا کردار ادا کرتی ہیں۔‘‘

آستھا وِرک سنگھ  امریکہ ۔ہند تعلیمی فائونڈیشن میںایجوکیشن یو ایس اے کے لیے مشاورت کرتی ہیں ۔ 

 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط