مرکز

سب کے لیے صاف اور محفوظ پانی کی دستیابی

حیدر آباد میں واقع واٹر لائف انڈیا ملک کے دیہی علاقوں میں لاکھوں لوگوں کو مستقل طور پر سستی قیمت پر صاف و شفاف پانی فراہم کر رہا ہے۔ 

سُدیش مینن امریکی جنرل الیکٹرک میں بہت اچھے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے لیکن ایک سنگین معاشرتی ضرورت سے نمٹنے کی خاطر وہ ۲۰۰۶ ء میں انڈیا لوٹ آئے جس کے بارے میں انہیں احساس تھا کہ وہ اسے اہم کاروبار ی موقع میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

بین الاقوامی خیراتی تنظیم واٹر ایڈ کے مطابق صاف و شفاف پانی سے محروم لوگوں کی دنیا کی سب سے زیاد ہ آبادی انڈیا میںبستی ہے ۔۲۰۱۶ء میں تنظیم کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ۷۵ اعشاریہ ۸ ملین ہندوستانی یا ملک کی ایک اعشاریہ ۲۵ بلین آبادی کے ۵ فی صدحصے کو محفوظ پانی دستیاب نہیں ہے۔ انڈیا میں پینے کے پانی کے معیار سے متعلق واٹر ایڈ کی ۲۰۱۷ ء کی رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ ایک اعشاریہ ۵ ملین بچے ڈایئر یا سے جان گنوا دیتے ہیں ۔ 

انڈیا کی بہت ساری ریاستی حکومتوں نے اپنے دیہی علاقوں میں صاف و شفاف پانی دستیابی کا نظام قائم کرنے کی کوششیں کی ہیں مگر اس میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم مینن اور ان کے دو شراکت دار ، موہن رنبور اور اندرانِل داس نے ایک ایسے کاروبار کے قیام میں کامیابی حاصل کی جو اب ملک بھر کے ۳  ہزار دیہی علاقوں میں لاکھوں لوگوں کو صاف و شفاف پانی فراہم کررہا ہے ۔واٹر لائف انڈیا پرائیوٹ لمیٹیڈ ایک نئے قسم کے کاروبار کی مثال ہے جو معاشرتی کاروبار کے نام سے مقبول ہے اور جوغریب علاقوں میں ضروری خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک منضبط کاروباری طریقے کا استعمال کرتا ہے اور اس سے اسے منافع بھی حاصل ہوتا ہے ۔ 

حیدرآباد میں واقع اس کمپنی نے ہند ۔امریکی حکومتوں کے زیر اہتمام ۲۰۱۷ ء میں اسی شہر میں منعقد ہوئی کاروباری پیشہ وروں کی عالمی چوٹی کانفرنس میں حصہ لیا تھا ۔ 

واٹر لائف گائوں کے مرکز میں پانی کو صاف کرنے کا نسبتا چھوٹا سسٹم نصب کرتا ہے ۔جرثومے اور کیمیا وی مادّوں کو صاف و شفاف اور محفوط پینے کے پانی میں تبدیل کرنے کے لیے یہ سسٹم آسان اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن اس کی حقیقی اختراع اس کمپنی کا کاروباری ماڈل ہے جو  کمیونٹی واٹر سسٹمس کے نام سے معروف ہے۔اس نظام کے تین ستون ہیں۔ اس میں پہلی چیز ہر گاؤں میں پانی کے نظام کا اہتمام اور اسے برقرار رکھنے کا پائیدار عزم ، دوسرا صاف کیے گئے پانی کی قیمت کو بہت کم رکھنے کا عزم اور تیسرا گاؤں کے لوگوں کو صاف اور محفوظ پانی کے فوائد سے روشناس کرانے اور انہیں اس کے لیے تیار کرنے کا عمل شامل ہے۔ 

واٹر لائف میں سی ای او کی خدمات انجام دینے والے مینن کے مطابق دیہی علاقوں میں صاف و شفاف پانی بہم پہنچانے کی انڈیا کی ریاستی حکومتوں کی کوششوں میں رکاوٹ ایک ہی وجہ سے آئی ہے اور وہ وجہ یہ تھی کہ ان پلانٹو ں کے لیے حتیٰ کہ سادہ اور آسان ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے پلانٹوں کے اہتما م اور رکھ رکھائو کے لئے بھی آمدنی کا ذریعہ نہیں تھا ۔مینن کہتے ہیں ’’عام طور سے ریت والے فلٹرس ڈیڑھ برس کے بعد کام کرنا بند کردیتے ہیں اور لوگ اسے استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیںاور پھر کنویںاور تالاب وغیرہ جیسے روایتی ذرائع کا رجوع کرتے ہیں جن کا پانی اکثر آلود ہ ہوتا ہے ۔‘‘

اس کے برعکس واٹر لائف نے اپنے سسٹم کے رکھ رکھاؤ کے لیے دیہی علاقوں سے کئی سو افراد کی تقرری کی ہے اور انہیں تربیت فراہم کی ہے۔ کمپنی اس کے لیے لازمی اشیا ء اور قابل اعتبار بجلی فراہم کرتی ہے تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے یہ کام جاری رہے ۔ کمپنی نے باقاعدگی سے معیار کی نگرانی کا نظم بھی کیا ہے ۔ اس کے علاوہ گاؤں کے لیے نصب سسٹم کی بھی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔دیہات میں قائم نظام کا ایک تہائی حصہ انٹرنیٹ سے منسلک کیا جا چکا ہے ۔ انٹرنیٹ کے توسط سے کمپنی کے صدر فتر ہی سے نظام کی نگرانی کی سہولت موجود ہے۔

صاف پانی کی ۱۹ لیٹر والی کین کے لیے کمپنی صرف ۷ روپے وصول کرتی ہے۔ یہ مفت نہیں ہے ۔ بہت سارے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ انسان کے لیے لازمی صاف و شفاف پانی جیسی اشیا ء کے لیے کم قیمت وصول کرنا ایک اچھی پالیسی ہو سکتی ہے خاص طور سے تب جب اس کا کوئی متبادل نہیں ہو ۔ مینن کہتے ہیں ’’ریاستی حکومتیں آہستہ آہستہ اس طریقے کوعمل میں لارہی ہیں اور اب یہ ایک معیاری ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔‘‘

وہ کہتے ہیں اب یہ کاروبار بہت زیاد ہ منافع دے رہا ہے اور اس کی توسیع ملک گیر پیمانے پر ہو رہی ہے۔ کمپنی کا منصوبہ اب شہر کے جھگی جھونپڑی والے علاقوں میں پانی کی فراہمی کا ہے جہاں صاف و شفاف اور محفوظ پانی کی بہت زیادہ کمی ہے ۔ کمپنی نے اب تو بہت سارے مشرقی افریقی علاقوں میںبھی یہ سسٹم نصب کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں اس کاروبار کی ترقی کے قوی امکانات ہیں۔ 

مختلف معاشرے واٹر لائف کے پانی صاف کرنے کے نظام سے خود کو منسوب خیال کریں اس کے لیے کمپنی نے اپنی تنصیبات کی خوبصورتی پر بھی پیسہ صرف کرنے کا اور توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔واٹر لائف وقتا فوقتا ٹینکوں اور پمپوں کی صرف نمائش کے لیے ہی انہیں شیشے کے اندر رکھتا ہے ۔ مینن بتاتے ہیں ’’ ہم گاؤں کے لوگوں کو ایک ایسا سسٹم فراہم کرنا چاہتے ہیں جس پر یہ لوگ فخر کر سکیں ۔‘‘

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میںمقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔ 


تبصرہ کرنے کے ضوابط