مرکز

خاتون کاروباری پیشہ وروں کی ترغیب

 پروجیکٹ اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای کی سیما چتر ویدی کامیابی حاصل کرنے میں انڈیا میں نو جوان خاتون کاروباری پیشہ وروں کی مدد کرتی ہیں۔ 

حالیہ برسوں میں کامیاب خاتون کاروباری پیشہ وروں کی تعداد میں مستقل طور پر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اپنے کاروبارکو شروع کرنے کے لیے خواتین نے جتنے بھی قدم اٹھائے ہیں ان میں اب تک ان کو صنفی تعصب اور وسائل کی رسائی میں کمی جیسے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان دشواریوں سے نمٹنے کے لیے بہت ساری تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ کیلی فورنیا میں واقع  دی اِنڈَس انٹرپرینرس ایسی ہی ایک تنظیم ہے۔

دی اِنڈَس انٹرپرینرس خواتین کو با اختیار بناکے ان کی اہمیت میں اضافے کے لیے اور اس سے حاصل ہونے والے ہمہ جہت اثرات کے لیے اہم موقع کی شناخت کرتی ہے ۔اس طرح  دی اِنڈَس انٹرپرینرسوومن پلیٹ فارم خواتین کوبااختیار بنانے کے لیے معلومات اور وسائل فراہم کرتا ہے ۔ ان کے بڑے پروجیکٹوں میں ایک پروجیکٹ  اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای(آل انڈیا روڈ شو آن وومنس اکانومک امپاورمینٹ تھرو انٹر پرینرشپ)ہے۔انڈیا کی خواتین کو ٹیئر ٹو  اور ٹیئر تھری شہروں میں صنعت سازی کے ورکشاپ کے ذریعے بااختیار بنانے کے مقصد سے امریکی وزارت خارجہ اس پروجیکٹ کو مالی اعانت فراہم کرتی ہے اور اس کی مدد کرتی ہے ۔ 

پروجیکٹ  اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ایکی چیئر پرسن سیما چترویدی اِنویسٹمینٹ بینکر اور کارپوریٹ فائنانس ایڈوایزر کے طور پر سرمایہ منڈی اور مالی بندوبست کے شعبے میں ۱۷ برس سے زیادہ کا تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ سرمایہ کاری اور معلومات سے متعلق خدمات کے ادارے اکسیلیریٹر گروپ کی بانی اور مینیجنگ ڈائرکٹر ہیں۔فلوریڈا ، مشی گن اور نئی دہلی میں  اکسیلیریٹر گروپکے دفاتر واقع ہیں۔پیش ہیں ان سے لیے گئے انٹریو کے اقتباسات ۔

آپ کے خیال میں انڈیا میں خاتون کاروباری پیشہ وروں کے لیے بعض اہم فائدے کیا ہیں؟

میرے خیال میں عام طور سے خواتین چیزوں میں کافی تفصیل چاہنے والی ہوتی ہیں ۔یہ تب زیادہ کارآمد ہوجاتا ہے جب آپ پیچیدہ منصوبوں پر کام کرتے ہیں اور آپ ہر چیز کو اپنے حساب سے کرنے کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔دوسری اہم چیز جو میں نے عالمی طور پر خواتین کے بارے میں محسوس کی ہے وہ یہ ہے کہ فطری طور پر وہ مسائل کو حل کرنے والی ہوتی ہیں۔ جب بھی وہ کسی مسئلے کو دیکھتی ہیں تو وہ اس کے حل کے لیے منظم طریقے کی تلاش کرتی ہیں۔ 

انڈیا میں خواتین کو جو فائدہ حاصل ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ عام طور سے وہ وسائل کی کمی میں بھی کام کرنے کے لیے بہت اچھی طرح تربیت یافتہ ہوتی ہیں۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر وہ ایک مربوط خاندان میں ر ہ کر ہی کام کرتی ہیں جس میں لوگوں سے بات چیت کرنے اورانہیں سمجھنے کی کچھ حد تک ضرورت ہوتی ہے اور ساتھ ہی میں کئی رشتوں کو نبھانا بھی ہوتا ہے ۔ میرے خیال سے ایک رہنما بننے کے لیے اہم ترین خصوصیات میں سے ایک چیز یہ ہے کہ ہر ایک کی انا اور دیگر چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے پوری ٹیم کو ایک ساتھ لے کر چلا جائے۔ 

امریکہ اور انڈیا کی شراکت انڈیا میں خاتون کاروباری پیشہ وروں کو درپیش چیلنجوں کے حل میں کس طرح مدد کرسکتی ہے؟

امریکہ اور انڈیا کی شراکتیں بہت وسیع ہو سکتی ہیںکیوں کہ یقینی طور پر ایسی بہترین مشقیں ہیں جن کا اشتراک کیا جا سکتا ہے۔ صنفی تعصب کے حوالے سے ایک مشترک نسب نمابھی ہے۔ اس کے درجے مختلف ہو سکتے ہیں مگر یقینی طور پر اس کا وجود ہوتا ہے۔ صنفی تعصب سے متعلق بہترین مشقوں کو یقینی طور پر مشترک کیا جا سکتا ہے ۔یکساں طور پر اور اہم طور پر کاروبار میں استعمال  ہونے والی بہترین مشقیں ایک حد تک اپنے حساب سے کی جا سکتی ہیںاور انہیں انڈیا کے لیے موزوں بھی بنایا جا سکتا ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت یہ دیکھنا بڑا ہی دلکش رہا ہے کہ خواتین جو اپنے گھروں سے کسی مرد کے بغیر باہر نہیں نکلا کرتی تھیں اب ان کا دعویٰ ہے کہ اب ان میں اتنا اعتماد آ گیا ہے کہ وہ ملک بھر میں سفر کر سکتی ہیں ۔ بعض تو بیرون ملک بھی گئی ہیں ۔ ہمیں ایک ایسی کمپنی کو دیکھنے کا موقع بھی ملا جو اپنے مقامی معاشرے سے باہر اپنی اشیا ء فروخت نہیں کرتی تھی لیکن اب امریکہ سے انہیں گاہک مل رہے ہیں۔ 

 سرمایہ منڈی اور مالی بندوبست سے متعلق آپ کا دہائیوں طویل تجربہ کس طرح نوجوان کاروباری پیشہ وروں خاص طور پر خواتین صنعت سازوں کی راہنمائی کرتا ہے؟ 

میں تو چاہتی ہوں کہ میرا تجربہ ان کے کاروبار، کمپنیوں اور ان کی زندگیوں میںاضافے کا باعث بنے ۔ میں نے پہلے اس طرح کی چیزیں دیکھی ہیں ۔ لہٰذا میں ان سے کہہ سکتی ہوں کہ ان کے کاروبار اور اس کی ترقی سے انہیں کیا امید کرنی چاہئے۔ ایکسیلیریٹر گروپ کو صرف ایک تناظر میں دیکھیں تو یہ ایک سرمایہ کاری اور معلومات کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔

اِنویسٹمینٹ بینکنگ میں ہم لوگ الحاق اور حصول کا کام کرتے ہیں اور نمو پذیر سرمائے کو دیگر جگہوں پر لگانے میں اپنے گاہکوں کی مدد کرتے ہیں۔ لہذا ہم لوگ ان تمام باریکیوں کو سمجھتے ہیں جو کسی کمپنی کو حصول مقصد کی سطح تک لے جاتی ہیں۔ میں تجربے، معلومات، بات چیت اور رابطوں کی اس سطح کو ان بعض خواتین تک لانا چاہتی ہوں ،جنہیں ہم اس پروجیکٹ کے ذریعے مشورے دے رہے ہیں۔ 

ہم نے بازار میں ایک بڑے چیلنج کا مشاہدہ کیا ہے اور وہ ہے خواتین کی اپنی اور ان کی قیادت والی کمپنیوں کے لیے مالی اعانت تک رسائی میں کمی کا۔ ایکسیلیریٹر گروپ کے طور پر ہم لوگوں نے۲۵ ملین ڈالر کے ابتدائی مراحل کے اکویٹی فنڈ کا اعلان کیااورملک میں صرف خواتین کے اپنے اور خواتین کی قیادت والے کاروبار وں میں سرمایہ کاری کرنے پرہی توجہ دی ۔

 آپ کیا ہمیں اس پروجیکٹ کے بارے میں مزید بتا سکتی ہیں ؟ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کس طرح اس پروجیکٹ نے ملک کی خواتین کاروباری پیشہ وروں کی مدد کی؟ 

اس پروجیکٹ کا مقصدکاروباری پیشہ وری کے ذریعے معاشی طور پر خواتین کو با اختیار بنانا تھا ۔ ہم لوگوں نے اسے دو مراحل میں انجام دیا ۔ پہلے مرحلے میں پانچ شہروں میں پانچ ورکشاپ کا انعقادکیا۔اس میں ان پانچ شہروں میں ہونے والے ورکشاپ میں شرکت کے لیے۲۷ شہروں سے خواتین نے سفر کیا تھا ، لہٰذایہ کافی متاثر کن رہا ۔

ہم نے قانون ، حساب کتاب ، نفع نقصان کا مطالعہ ، بیلینس شیٹ، پیداوار میں فرق کرنے کا عمل، مارکیٹنگ کی حکمت عملی اور فروخت کرنے کا فن سمیت کاروبار سے متعلق تمام چیزوںکے بار ے میں شرکاء سے بات چیت کی ۔

  اس کے بعد انڈیا اور امریکہ دونوں ملکوں میں دورہ کرکے صلاح دینے والے پختہ کار مشیر وں کے ذریعے اضافی تربیت کے لیے  ۱۲۵ خاتون شرکا ء میں سے ۲۵ خواتین کا انتخاب کیا ۔ ان تربیت حاصل کرنے والوں کو اپنے کاروبار میں بہتر طور پر توجہ دینے ، کاروبار کے اپنے منصوبوں کو دیکھنے ، کاروبار کے ماڈل کینوس کوتیار کرنے اور کاروبار کے لیے خود کو بہتر طور پر پیش کرنے جیسے عمل میں میں بڑی مدد ملی ۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خواتین جو کچھ سیکھتی ہیں اسے اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتیں ۔ مثال کے طور پرکوئمبٹور میں تربیت حاصل کرنے والی دو خواتین نے مقامی اسکولوں اور کالجوں میں ۳۰۰ خواتین سے بات کی اور اپنی کہانیاں اسی طرح مشترک کیں جس طرح ہم لوگوں نے اپنی کہانیوں کا اشتراک کیا تھا۔ میں اسے آگے بڑھنے کے لیے توجہ دینے والا وقوعہ قرار دیتی ہوں۔ دوسرے مرحلے میں ہم نے ہراُن۱۵۰ تربیت حاصل کرنے والوں کے لیے یہ لازمی قرار دیاجن کا ہم لوگ انتخاب کرنے والے تھے کہ ان میں سے ہرایک کم از کم  مزید دو دیگر خواتین کو یہ باتیں بتائیں گی ۔ ہم لوگوں نے جو بھی چیزیں سیکھی ہیں اسے آگے بڑھائیں گے تاکہ اس کے ہمہ جہت اثرکا دائرہ کافی وسیع ہو۔ ان میں سے بہت ساری خواتین اپنی سیکھی ہوئی چیزوں کے بارے میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے بات کرتی ہیں۔اس سے اپنے کنبے سے ان کو ملنے والی عزت اور وقار میں کافی تبدیلی آگئی ہے ۔بچے اب اپنی مائوں کو کافی مضبوط خواتین اور رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 

پروجیکٹ کے دوران وہ کون سے اہم چیلنج تھے جن کا آپ کو سامنا کرنا پڑا اور ان سے آپ کیسے نمٹ پائیں؟

ہمارے سامنے تین اہم چیلنج تھے جن کا ہم نے مقابلہ کیا ۔ ان میں پہلا اس کی شناخت تھی جسے واضح طور پر ایک چیلنج خیال نہیں کیا جارہا تھا لیکن حقیقت میں وہ ایک چیلنج تھا ،یعنی صنفی تعصب ۔ ہم لوگوں نے صنفی تعصب کا سامنا کرنے کے اپنے تجربات مشترک کیے اور پروجیکٹ کے شرکا ء صنعت سازوں کو اس معاملے میں غیر معمولی طور پر حساس بنانے میں مدد کی کیوں کہ انہیں بعض تجربات کا صرف کاروباری پیشہ ورہونے کے برعکس خواتین ہونے کے ناطے زیاد ہ سامنا کرناہوگا۔  

دوسرا چیلنج سرمائے تک رسائی کی کمی تھی خاص طور سے اکویٹی کیپیٹل کی ۔جب حکومت بینکوں سے قرضوں کے بہت سارے منصوبے پیش کرتی ہے تو حصص سے سرمائے کی رسائی میں انتہائی طور پرمرد وں کا غلبہ رہتا ہے۔لہٰذا اس کے حل کے لیے ہم لوگوں نے ۲۵ ملین ڈالر کا فنڈ شروع کیا ۔ 

تیسرا چیلنج صلاحیت سازی کی کمی تھی۔ یہ ایک بار پھر اس بات کی عکاس ہے کہ مختلف کنبے اپنے بیٹوں کے مقابلے اپنی بیٹیوں کی پرورش کیسے کرتے ہیں ۔ میں صرف کسی کاروبار کو چلانے کے قانونی ، مالی اور حساب و کتاب کے پہلوئوں کی بات نہیں کر رہی ہوں بلکہ موثر طور پر سامان کیسے فروخت کیا جائے اور نیٹ ورک کیسے قائم کیا جائے جیسی دوسری صلاحیتوں کی بھی بات کر رہی ہوں۔ 

آپ نے تبدیلی کی کہانیوں کے بارے میں بات کی ۔ کیا آپ ان میں سے بعض کو مشترک کر سکتی ہیں؟

کچھ کہانیاں ہیں جو میرے لیے نمایاں رہیں لیکن میں ان کے نام نہیں بتائو ں گی ۔ ایک خاتون تھیں جنہوں نے ہم لوگوں کو بتا یا کہ ان پر ان کے کنبے کے لوگ گھر پر ہی رہنے اور کام نہیں کرنے کا کتنا دبائو ڈال رہے ہیں۔ وہ کاروبار کرتی تھیں اور وہ اس پروجیکٹ کے لیے بھی منتخب کر لی گئیں۔انہوں نے مجھ سے کہا ’’اب مجھ میں اتنا اعتماد ہے کہ میں اس سے خود ہی نمٹ سکتی ہوں۔میں اسے کاروبار کے نقط نظر سے دیکھتی ہوں ۔یہ ایک مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ‘‘  لہٰذا یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہے کہ وہ اپنی سیکھی ہوئی چیزوں پر کس طرح عمل کرتی ہیں اور اپنے کنبے میں پیدا ہوئی صورت حال پراس کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں۔ 

ایک خاتون ٹیکنالوجی سے متعلق ایک کمپنی چلاتی تھیں۔ ہمارے پختہ کار مشیروں نے اس پر غور و خوض کیا اور کہا کہ صرف خدمات کے برعکس چیزوں کوتیار کرنے پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے ۔ اب اس کمپنی نے ایک چیز تیار کرنے کا منصوبہ بنا لیاہے ۔ اس کے لیے کمپنی اس پہلی ممکنہ جگہ کے بارے میں غور و خوض کر رہی ہے جہاں اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ایک دوسری خاتون نے کہا ’’میں اپنے گھر سے کبھی باہر نہیں جایا کرتی تھی لیکن اب میں خود دہلی سے باہر جاتی ہوں اور اس سے میرے بچے حیرت زدہ ہیں۔‘‘

ایک نوجوان ما ں اپنی ۷ یا ۸ ماہ کی بچی اور ساس کو ورکشاپ میں لے کر آئی ۔وہ کوئمبٹور سے باہر بہت دورکے ایک گائوں سے آئی تھی جو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاکر سنگھارکرنے اور زیورات تیارکرنے کا کام کرتی تھی ۔ باقی تما م ۲۴ خواتین نے اس بچی کا خیال صرف اس لیے رکھا کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کر سکے ۔ ایک دوسرے سے پیار و محبت کے رشتے کو یہاں جو فروغ ملا ہے وہ ناقابل یقین ہے ۔  

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط