مرکز

خورد و نوش کا نیا نظریہ

 صحافی اور ماہر تعلیم سِمرن سیٹھی کھانوں کی ثقافتی اور جذباتی اہمیت کی تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کے تنوع کو درپیش خطرات کو نمایاں کرتی ہیں۔

خوراک زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے مگر غذا کی اہمیت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ سِمرن سیٹھی کے لیے لوگوں اور مختلف برادریوں کے ساتھ کھانے کا تعلق ، اس کا ذائقہ ، اس کی خوشبو اور یہ کہ یہ کہاں اور کس طرح پیدا ہوتے ہیں ...یہ تمام چیزیں ایک ایسی کہانی کا حصہ ہیں جس کو جاننے کے لیے گہرائی سے تحقیق کا عمل ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ کھانوںاور اس کی پائیداری اور معاشرتی تبدیلی پر توجہ مرکوز کرنے والی صحافی اور ماہر تعلیم سیٹھی کو  وَینیٹی فیئر میگزیننے ماحولیات کے پیامبر کا نام دیا ہے۔اور  میری کلیئر میگزیننے انہیں زمین کو بچانے والی سر فہرست ۸ خواتین میں سے ایک قراردیا ہے۔ اسمتھ سونین کے ذریعہ ۲۰۱۶ ء میں کھانوں کی بہترین کتابوں میں سے ایک قرار دی جانے والی  بریڈ، وائن، چاکلیٹ : دی سلو لاس آف فوڈس وی لوکی وہ مصنفہ ہیں۔وہ چاکلیٹ کی صنعت کی کامیابی کے پیچھے کام کرنے والوں ، جگہوں اور ان کے عمل کو نمایاں کرنے والے چاکلیٹ کو وقف پوڈ کاسٹ، دی سلو میلٹکی تخلیق کار بھی ہیں۔ یعنی یہ کہنا بہتر ہوگا کہ کھانوں میں معاشرتی انصاف اور عوامی تعلیم کے تصورات میں سیٹھی کی بہت زیادہ دلچسپی رہی ہے۔  

  کھانوں کی پائیداری اور معاشرتی تبدیلی کے شعبے میں ان کی دلچسپی کی شروعات ۱۹۹۰ ء کی دہائی میں ہوئی۔ سیٹھی کہتی ہیں ’’اوک لینڈ انسٹی ٹیوٹکی   ایکزیکٹو ڈائریکٹر  انورادھا متل نے اپنے ایک مضمون میں بھوک کو صرف خوراک کی کمی سے ہی تعبیر نہیں کیا ہے بلکہ اسے جغرافیائی سیاست کی بنیاد پر تجربہ قرار دیا ہے ۔ ‘‘وہ کہتی ہیں ’’انہوں نے واقعی غذائی مساوات و انصاف اور بھوک کے معاملوں سے متعلق میرے خیالات کی تشکیل میں میری مدد کی۔‘‘

قرارداد کے ذرائع 

سیٹھی کہتی ہیں ’’کھانے اس طرح کا لینس ہیں جس کے ذریعہ ہم ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیوں سمیت دنیا کو آج درپیش بہت سارے مسائل سے نمٹنے کا کام کر سکتے ہیں ۔ کھانے کی اشیاء پیدا کرنے ،انہیں تیار کرنے اور ان کے اشتراک کاکام اور فن شدید جذباتی اوراطلاعاتی تجربات ہوتے ہیں۔ اس جدید دور میں کوئی بھی ملک اپنے عوام کو کھلانے کے معاملے میں خود کفیل نہیں ہے۔‘‘

یعنی کھانے رابطے پیدا کرنے اور رشتے قائم کرنے کے معاملے میں بہت اہم شعبہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے ایک شعبے کے طور پرغذا کا معاشرتی انصاف سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ سیٹھی کہتی ہیں ’’وہ لوگ جو ہمیں کھانا کھلا تے ہیں (جیسے چھوٹے کسان جو فصل اگاتے ہیں)اکثر بہت غریب ہوتے ہیں ۔ اسی لیے وہ دوسروں کو جو کھانا فراہم کرتے ہیں اس سے الگ طرح کی غذا کھاتے ہیں ۔ یہ انصاف و مساوات کے معاملے ہیں جن پر مزیدتحقیق کی ضرورت ہے۔‘‘   

اس طرح کے عدم مساوات کو کم کرنے کا ایک طریقہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ لوگ اس کے تئیں باخبر ہوں کہ کھانے کس طرح تیار کیے جا رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر کھانے تیار کرنے کی کہانیوں کو زیادہ ذاتی بنانا۔سیٹھی جانتی ہیں کہ اس طرح کے تعلقات کس طرح بہت زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے جب اپنی کتاب لکھنی شروع کی(کہ کس طرح جن کھانوں کو ہم اگاتے اور ان کا لطف لیتے ہیں وہ کس طرح جینیاتی کشیدگی کی وجہ سے معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں اور ان فصلوں میں تنوع کم ہوتا جارہا ہے)تو انہیں حیاتیاتی خصوصیات، ذاتی ترجیحات اور جذبات کے درمیان گہرے تعلقات کا احساس ہوا۔ وہ بتاتی ہیں ’’اس کے بعد ہی میں نے ان تمام کھانوں کے بارے میں غور و فکر کرنا شروع کیا جنہیں ہم لوگ روزانہ کھاتے ہیں جیسے کافی جس سے ہمارے دن کا آغاز ہوتا ہے یا پھر چاکلیٹ جو شکستہ دلوں کو جوڑے کا کام کرتا ہے۔‘‘

وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’جب ہم لوگ کافی کا ایک کپ پیتے ہیں(جس سے ہمارے دن کا آغاز ہوتا ہے)تو کیا ہم کبھی ان کسانوں کے بارے میں غور کرتے ہیں جو اس کو اگاتے ہیں ؟کیا کبھی ہم ماحولیات پر اس کے اثرات کے بارے میں سوچتے ہیں ؟‘‘

اپنی کتاب کے ذریعے وہ لوگوں کو تحریک دینا چاہتی ہیں کہ وہ زیادہ ہوش مندی سے کھانا کھائیں،پہلے سے واقف اور نئے کھانوں کو مزیدبہتر طورپر سمجھیں اور اس بات کوجانیں کہ ذائقوں کی اس دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے کیاکیے جانے کی ضرورت ہے۔

پرورش اور رابطہ

سیٹھی کے لیے غذاکا مطلب جسم کی پرورش ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’لذت ایک بیش بہا نعمت ہے ۔ اور اس میں بھی دو رائے نہیں کہ ذائقے کی اپنی اہمیت  ہوتی ہے۔‘‘ وہ ہمیشہ ان حیر ت انگیزافراد سے متاثر ہوتی ہیں جن کے بارے میں وہ لکھتی ہیں۔ان کے موضوعات کی وسعت کافی زیادہ ہے جس میں کوکو پیدا کرنے والی چھوٹے کسانوں کی جماعت سے لے کر وہ کسان بھی شامل ہیں جو تخلیقی طور پر لوگوں کا رابطہ ان تحقیق کاروں سے قائم کرنے کے لیے تکنیک کا استعمال کرتے ہیں جو اس بات کا پتہ لگا لیتے ہیں کہ کم آمدنی والی برادری کے لوگ اپنے بچوں کو وہ کھانا کیوں کھلاتے ہیں جسے دوسرے غیر صحت بخش خیال کرتے ہیں۔ سیٹھی کہتی ہیں ’’کھانے بڑی حد تک یہ بتاتے ہیں کہ ہم کیا ہیں اور ہماری حیثیت کیا ہے۔ میرے لیے تو یہ ایک مستقل طور پر تبدیل ہوتے رہنے والی پہیلی ہے۔‘‘

تنوع کی حوصلہ افزائی

عوامی تعلیم کی کنجی لوگوں کے موجودہ سیا ق و سباق کے اندر ہی مسائل کو رکھنے کی اہلیت میں نہاں ہے۔ سیٹھی کہتی ہیںکہ انہیں ہمیشہ سے اس کا احساس تھا کہ پھل، گوشت اور سبزیوں کی بعض قسمیں معدوم ہو رہی ہیں لیکن جب انہوں نے اپنی کتاب لکھنی شروع کی تو انہیں معلوم ہوا کہ پورے ماحولیاتی نظام میں اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ اس لیے میں اپنی کتا ب میں یہ بات کہتی ہوں کہ کھانوں کا ذائقہ تو لیا جائے مگر ان کی حفاظت بھی کی جائے۔‘‘

سیٹھی مزید کہتی ہیں کہ زرعی تنوع کی وسعت میں اور اس کی حوصلہ افزائی میں ہر کوئی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔وہ کہتی ہیں ’’یہ بہت ہی آسا ن ہے ۔اس کے لیے آپ کسانوں کے بازار سے سامان خریدسکتے ہیںاورایسے ریستوراں کا انتخاب کرسکتے ہیں جو مقامی طور پر چیزیں خریدتے ہیں۔تنظیموںکی اپنی رسائی میں توسیع کے لیے  فوڈ بینکس کے ساتھ رضاکارانہ طور پر خدمات پیش کرنا اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی مہارت کا استعمال کرنا بھی گراں مایہ ہے۔‘‘ 

پارومیتا پین ٹیکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک صحافی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے ضوابط