مرکز

مہمان نواز میزبان

ممبئی میں پیدا ہونے والے امریکی شیف اور ریستورانوں کے مالک جہانگیر مہتا کے خیال میں کسی عمدہ کھانے میں ذائقہ کے ساتھ تندرستی اور پائیداری کے عناصر کا امتزاج بھی ہونا چاہئے۔

جہانگیر مہتا کو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں میں اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے امریکہ کے ایک سٹیلائٹ ٹیلی ویژن چینل فوڈ نیٹ ورک کے دی نیکسٹ آئرن شیفپروگرام میں دوسرا مقام حاصل کیا ۔ لیکن جب ان سے ٹیلی ویژن پر کھانا بنانے کے اس مقابلے میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ایک شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ’’ اس کے بارے میں تو سب جاننے کے خواہش مند ہوتے ہیں مگر اس کے علاوہ بھی ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جن کے متعلق بہت ساری باتیں کی جا سکتی ہیں ۔ ‘‘

ٹیلی ویژن پر جا بجا نظر آنے کے علاوہ مہتا نیو یارک سٹی میں کئی مشہور ریستوراں بھی چلاتے ہیں۔ پیسٹری بنانے کے فن پر لکھی گئی ان کی کتاب  منتر:دی رُولس آف اِنڈَلجینس شائقین میں انتہائی مقبول ہے۔ مہتا باورچی خانہ کے اندر اور باہر ذائقے کے بقا کی وکالت کرتے ہیں۔ 

مین ہَٹن کے مرکزی علاقے کے ایک کافی شاپ میں مہتا کے ساتھ بیٹھنے سے ان کی شاندار کامیابی کے اسباب معلوم ہونے لگتے ہیں۔ ان کی شخصیت پُر جوش ہے جس میں خیالات اور تحریک کے فقدان کا نام و نشان نہیں ملتا۔ 

 اختراعی کھانے 

کھانوں سے متعلق مہتا کے تجربات کی جھلک ان کے نیویارک کے ریستورانوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ می اینڈ یو مہتا کا ایسا ہی ایک ریستوراں ہے جہاں جانے والے افراد اپنی پسند کے کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہت پہلے سے اپنی نشستیں محفوظ کر لیتے ہیں۔ مہتا بتاتے ہیں ’’ یوں سمجھیں کہ ہم کھانے کے ساتھ قصہ نویسی کرتے ہیں۔ ہم اپنے مہمانوں کو سوال نامہ بھیجتے ہیں ۔ جیسے کہ ان کا پسندیدہ کھانا کون سا ہے؟ کون سی فلمیں دیکھتے ہیں؟ کیسی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟ بس یہ جانئے کہ ہم دسترخوان کے ذائقوں کی ترتیب مہمانوں کے جوابات کے مد نظرکرتے ہیں۔‘‘

مہتا پولینڈ اور اسپین سے تعلق رکھنے والے کسی جوڑے کے لیے پیش کیے جانے والے کھانے میں عملی طور پر دونوں ہی ملکوں کے ذائقے شامل کرتے ہیں ۔ اگران کے سوال نامے میں جوابات میں کہیں  ٹیپ ڈانسنگ کا ذکر آتا ہے تو مہتا کھانے میں  پَوپ راکس بھی شامل کرلیتے ہیں ۔ یہ ایک قسم کی ٹافی ہے جو منہ میں رکھنے کے ساتھ ہی بے ضرردھماکوں کے ساتھ پھٹنا شروع ہوجاتی ہے۔ مہتا اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہمارا مقصد کچھ ایسا پیش کرنا ہوتا ہے جو کھانے کے ذریعے آپ کی مدد کرے کہ آپ اپنی یادوں کو تازہ رکھ سکیں۔‘‘

 ممبئی میں پیدا ہونے والے مہتا می اینڈ یو ، گرافیٹی اور  گرافیٹی ارتھ میں ہندوستانی ذائقوں سے متعلق اپنے تجربات کی وضاحت تو نہیں کرتے ، مگرکھانا بنانے کی پیچیدگیوں کے باوجود اس پیشے سے محبت کرنے کا سہرا اپنی وراثت کے سر باندھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’میں ہلکی پھلکی چیزیں پسند نہیں کرتا ہوں۔اگر کوئی چیزچٹپٹی اور مسالے دار نہیں بھی ہے تو بھی میں اس میں تمام طرح کے ذائقے ڈالنا چاہتا ہوں۔کھانے کو خوشبو دار بنانے کے لیے اس میں بُوٹیاں ڈالتا ہوں ۔ اس کے علاوہ میں اس میں بنیادی لذت کے لیے بھی اجزا شامل کرتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ کھانوں کو ذائقے دار تو ہونا ہی چاہئے۔ اگرمیں خود کھانا بناؤں تو یہ وہ چیز ہے جو میرے کھانے کا لازمی جز ہوتی ہے۔‘‘

خوبیوں والا دسترخوان چُننا 

باورچی خانے کے علاوہ مہتا کا شوق یہی جاننے تک محدود نہیں کہ لوگ کیا کھاتے ہیں بلکہ ان کی دلچسپی اس امر میں بھی ہے کہ لوگ جو کھاتے ہیں ،اسے کیسے کھاتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ کھانے کے معاملے میں تھوڑی سی بھی تبدیلی نہ صرف شخصی صحت کی بہتری کا باعث بنتی ہے بلکہ ماحولیاتی پائیداری پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اسٹین فورڈ یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں اس سلسلے میں جو تحقیق ہوئی ہے وہ یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر آپ کسی دوسرے رنگ کی رکابی کی بجائے سرخ پلیٹ میں کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں تو وہ چیز آپ کو زیادہ میٹھی لگے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ شکرکی کم آمیزش کے ساتھ تیار کی گئی آئس کریم سرخ پیالوں یا سرخ رنگ کے مخروطوں میں مہمانوں کے سامنے پیش کی جائے۔ اس سے کسی کو تبدیلی کا احساس بھی نہیں ہوگا اور اسی بہانے کھانے والا چینی کا استعمال کم کرے گا۔‘‘

جب بات کفایت شعاری کی آتی ہے تو مہتا اپنی اس دلچسپی کا تعلق انڈیا میں اپنے ابتدائی دنوں سے جوڑتے ہیں جہاں کے بارے میں وہ کہتے ہیں ’’ آپ جو کچھ بھی سیکھتے ہیں اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ تو ہوتا ہی ہے۔‘‘

اور یہی وہ اصول ہے جس کے مدنظر وہ اپنے نیویارک کے ریستورانوں میں ہر روز کام کرتے ہیں ۔ مہتا اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں ’’گرافیٹی کے شروع ہونے کے بعد سے کبھی بھی ہم نے نوٹ بک یا پلیس مَیٹ (ڈائننگ ٹیبل پر رکابی کے نیچے رکھا جانے والا کپڑا،ربڑ یا چٹائی جس سے کھانے اور پلیٹ کی گرمی سے ٹیبل کی حفاظت کی جاتی ہے)نہیں خریدا ہے۔ اس کام کے لیے ہم اخبارات کا استعمال کرتے ہیں۔ اور ایک اخبار کا مختلف چیزوں کے لیے بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر مینو میں کوئی داغ لگ گیا ہے جسے صاف نہیں کیا جا سکتا تو ہم اس داغ کو جلا کر ختم کر دیتے ہیں۔‘‘

مہتا ہنستے ہوئے بتاتے ہیں ’’اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی خاص طرز ہے یا کوئی ایسی مخصوص چیز ہے جس کے لیے ہم کوشاں ہیں۔ لیکن یہ ایک ضرورت ہے ۔ اگر کوئی چیز زیاد ہ دیر تک چل سکتی ہے ، اس کا بار بار استعمال ہو سکتا ہے تو اس کا استعمال کیوں نہ کیا جائے؟‘‘ 

مہتا کے ریستورانوں میں اختیار کی جانے والی یہ روش یہیں ختم نہیں ہوتی ۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے یہاں تمام برتن اور چاندی کی چیزیں استعمال شدہ ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے مربع نما کپڑوں والے نیپ کِنس استعمال ہوتے ہیں جنہیں نیو یارک کے نزدیکی گارمینٹ ڈسٹرکٹ سے ردی کے طور پر اکٹھا کرکے دوبارہ کام میں لایا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں ’’چھوٹے نیپ کِنس کو صاف کرنے اور استری کرنے میں پانی اور بجلی کا خرچ کم ہوتا ہے۔‘‘

مہتا کی اپنے وسائل کو احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے کی یہ سوچ ان کے ریستورانوں کے باہر بھی کام آتی ہے۔ ایمہرسٹ کی یونیورسٹی آف مساچیوسٹس میں پائیداری کے شعبے کے مشیر کے طور پر وہ کھانوں کی بربادی کو کم کرنے اور مقامی اور زیاد ہ دن تک باقی رہنے والے اجزا ء کے استعمال پر کام کرتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی کے ساتھ طلبہ کی تندرستی اور ان کی معاشرتی ذمہ داری کو فروغ دینے کا بھی کام کرتے ہیں ۔ 

کم سے کم پلاسٹک کے استعمال اور کھانے کی کم برباد ی کے لیے یونیورسٹی میں پلاسٹک کے الگ الگ چھوٹے برتنوں میں سلاد رکھنے کی بجائے بوتلوں میں سلاد رکھنے کی مہتا کی پہل دیکھنے میں چھوٹی معلوم ہوسکتی ہے لیکن ان کے لیے اس طرح کا ہر قدم ضرور کار آمد ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں ’’ ہم لوگ جہاں کہیں بھی وسائل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں،وہاں ہمیں انہیں برباد ہونے سے بچانا چاہئے ۔ توانائی کے استعمال کو کم کرنا چاہئے ۔اور یہی وہ شعبہ ہے جس پر میں توجہ دیتا ہوں۔‘‘

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اورسی ای او ہیں ۔ وہ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط