مرکز

اتفاقی اسفار کی انتظامی کامیابیاں

ہند نژاد امریکی ماہر تعلیم مادَھو وی راجن   یونیورسٹی آٖ ف شکاگو بوتھ اسکول آف بزنس میں ڈین کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کی مہارت اور ان کے جوکھم اٹھانے کے جذبے کی وجہ سے ان کو اپنی یہ ذمہ داری  سہل لگتی ہے۔  

یونیورسٹی آف شکاگو بوتھ اسکول آف بزنس کے ڈین کے طور پر ہند نژاد امریکی ماہر تعلیم مادَھو وی راجن تعلیم کے شعبے میں سیکڑوں نوجوان طلبہ کی راہنمائی کرتے ہیں اور ایک ایسے ادارے کے مستقبل کو سنوارتے ہیں جس کا احترام دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔

یہ ایک بہت اہم ذمہ داری ہے جسے تجربہ کار ماہر تعلیم راجن بڑے ہی ذوق و شوق سے نبھاتے تو ہیں مگر انہیں گمان بھی نہیں تھا کہ یہ ذمہ داری ان کے سر آنے والی ہے۔وہ دل کھول کر ہنستے ہوئے کہتے ہیں ’’حتیٰ کہ ۲ برس پہلے بھی مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں یہاں ڈین بنوں گا ۔اور ۱۰ برس پہلے تو میرے خیال میں بھی نہیں تھا کہ میں تعلیمی انتظامیہ کے شعبے میں قدم رکھوں گا۔مگر یہ حقیقت ہے کہ ایسی ملازمتیں دنیا بھر میں بہت ہی کم ہیں اور یہ میرے لیے واقعی ایک نادر موقع ہے۔ ‘‘

جو لوگ تعلیمی انتظامیہ کے کام سے واقف نہیں ہیں ان کے لیے راجن اپنی ملازمت کا موازنہ کسی نجی کمپنی کے سی ای او سے کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’جب آپ کسی بزنس اسکول کے ڈین ہوتے ہیں تو آپ کئی طرح سے ایک عوامی چہرہ ہوتے ہیں۔آپ ادارے کے بہت سارے حلقوں میں نمائندگی کا کام کرتے ہیں۔‘‘

راجن کے کاموں میں اہم ذمہ داری اسکول کا باہر کی دنیا سے رابطہ قائم کرنا ہے ۔ اس کا مطلب سابق طلبہ سے تعلق استوار کرنا ، نئی تعمیرات یا نئے اقدامات کے لیے رقم اکٹھا کرنا یا اسکول کی کوششوں اور حصولیابیوںکے بارے میں بیداری پھیلانے میں مدد کرنا ہے۔

اس کے علاو ہ داخلی امور سے متعلق کام بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ راجن کے دیگر کاموں میں اسکول کا بجٹ بنانااور پروگرام اور عملے کے

 نظم و ضبط کوسنبھالنا بھی ہے ۔وہ کہتے ہیں ’’ میں ذہین اور قابل لوگوں کو ملازمت دینا پسند کرتا ہوں کیوں کہ وہ چیزوں کو مختلف طریقے سے انجام دیتے ہیں اور اسے برقراررکھتے ہیں ۔ میں ہمیشہ سے لوگوں کی بہتر چیزیں انجام دینے کی غرض سے

 حوصلہ افزائی کرتا ہوں اور انہیں با اختیار بناکر خوش ہوتا ہوں ۔ اس کے علاوہ میں جو چیزیں بہتر طور سے کر سکتا ہوں اسے انجام دینے میں اوردیگر کاموں کولوگوں کے سپرد کرنے میں بھی اچھا محسوس کرتا ہوں۔ کام کرنے کا یہ طریقہ میر ے لیے کافی مددگار رہا ہے۔‘‘

راجن کی پیدائش چنئی میں ہوئی تھی۔ انہوں نے انڈیا اور امریکہ دونوں ملکوں میں تعلیم حاصل کی۔یونیورسٹی آف مدراس سے کامرس میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکی ریاست پین سلوانیا کے مغربی حصے والے شہر 

پِٹس برگ میں واقع کارنیگی میلن یونیورسٹی سے بزنس میں ایم بی اے اور

 پی ایچ ڈی کی۔ پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم کے طور پر بھی انہوں نے تعلیمی شعبے یا انتظامیہ میں عملی زندگی سے متعلق کچھ نہیں سوچا تھا ، یہاں تک کہ یہ چیز حقیقت بن کر ان کے سامنے آ گئی۔ 

وہ کہتے ہیں ’’میں نے سوچا تھا کہ پہلے اپنی ڈگری مکمل کرلوں ، پھر سوچوں گا کہ کرنا کیا ہے۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ مجھے یونیورسٹی آف پین سلوانیا کے  وارٹن اسکول میں تدریس کی پیشکش کی گئی جو میرے لیے ایک بہت بڑا موقع تھا ۔‘‘

۲۴ برس کی عمر میں تدریس شروع کرنے کے بعد راجن نے دنیا کے معروف ترین بزنس اسکولوں میں سے ایک وارٹن اسکول میں ۱۲ برس تک طلبہ کو اکاؤنٹس پڑھایا۔ 

ان کے تیز رفتار کریئر میں دوسرا اہم پڑاؤ کیلی فورنیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی تھی جہاں سے انہیں ۲۰۰۱ ء میں پروفیسر کی خدمات کی پیشکش ملی۔اس کے فوراََ بعد وہ اسکول کے اکائونٹس شعبے کے سربراہ بھی مقرر ہو گئے اور پھر۸ برس کی خدمات کے بعد ان سے ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۶ ء تک تعلیمی امور کے شعبے میں سینئر ایسو سی ایٹ ڈین کی خدمات انجام دینے کی گزارش کی گئی ۔ وہ بتاتے ہیں ’’میں نے خیال بھی نہیں کیا تھا کہ میں کبھی تعلیمی انتظامیہ میں ملازمت کروں گا ۔ لیکن یہ ایسی ملازمت تھی جس سے میں لطف اندوز ہوتا ہوں۔یہ میرے لیے بہت اچھی ثابت ہوئی ۔‘‘

راجن کی طرح ہی عملی زندگی گزارنے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے تعلیمی میدان میں ایک مضبوط بنیاد بنانے اور تعلیمی انتظامیہ کے ہدف کو ثانوی خیال کیے جانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں ’’کسی اعلیٰ اسکول میں اپنا مقام بنانا اس کا پہلا قدم ہے۔ اپنے کاموں کو معروف رسائل و جرائد میں شائع کرائیں اوراس پر غور و فکر کرلیں کہ آپ کس طرح تدریسی خدمات انجام دینا چاہتے ہیں۔اگر آپ کی شخصیت ایسی ہے کہ آپ دنیا کے بارے میں تجسس سے کام لیتے ہیں، مسائل کے حل تلاش کرنے میں آپ کومزہ آتا ہے اور آپ بنیادی مسائل میں زیاد ہ گہرائی سے دیکھنا چاہتے ہیں تویہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے اندر تعلیمی ذمہ داری ہی کی نہیں بلکہ انتظامی امور پر بھی اثر انداز ہونے کی اہلیت ہے۔‘‘

کسی بھی شعبے کے پُر عزم طلبہ کے لیے راجن کسی مقام اور کام کی نوعیت کی تفریق کے بغیر بہتر کام کے لیے جاں فشانی ، سخت محنت اور عہد بستگی کا مشورہ دیتے ہیں ۔راجن کہتے ہیں ’’ کریئر کا زیاد ہ تر حصہ صحیح اورمناسب لوگوں سے ملنے اوربہتر مواقع ملنے سے تعلق رکھتا ہے۔اور میں اس معاملے میں واقعی خوش قسمت ہوں لیکن زندگی میں اہم چیز یہ سمجھنابھی ہے کہ آپ کو ن ہیں،آپ کی استعداد کیا ہے اور ان میں کیسے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

سب سے اہم بات جس کا مشورہ راجن دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ خواہ آپ کا کردار کوئی بھی ہو اور آپ کسی مقام پر ہوں ، آپ کو خود میں معتبر ہونا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ’’آپ جونہیں ہیں و ہ بننے کی کوشش نہ کریں۔اور جب تک آپ خود کو سمجھتے ہیں اور اس بات کو ذہن میں رکھ کر اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے اہل ہیں تو چیزیں بالکل اچھی طرح کام کریں گی۔‘‘

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اورسی ای او ہیں۔ وہ نیویارک سٹی میں مقیم ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط