مرکز
1 2 3

حکمرانوں سے سوال کرنا

مصنفہ اور پروفیسر  جِگنا دیسائی امریکہ میں جنوب ایشیا ئی خطے سے ہجرت کرکے آنے والی مہجری آبادی میں معاشرتی تبدیلی سے متعلق لوگوں کے خیال و فکر کو تبدیل کرنے کا کام کرتی ہیں۔

مصنفہ  جِگنا دیسائی نے بچپن میں ہی ماہر فلکی طبیعات بننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۱۹۸۰ ء کی دہائی کے اواخر میں مسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کالج کی پڑھائی کے دوران انہیں فلکیات کے شعبے میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے شادمانی حاصل ہوئی۔مگر علمی سفر میں پیش قدمی کے دوران انہیں سنیما سے بھی محبت کا ادراک ہوا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے چند برسوں میں انڈیا سے ہجرت کرنے والوں سے متعلق فلموں نے ان کی دانشورانہ جستجو کی گہرائی کے ساتھ شکل سازی کی ۔ 

یہ شوق اس قدر پروان چڑھا کہ فلمیں ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئیں۔ یہاں فلموں سے مراد ہندی فلمیں ہیں۔یوں بھی انڈیا میں رہتے ہوئے یا پھر کسی دوسرے ملک میں غیر مقیم ہندوستانی برادری کے ساتھ رہ کر ان سے گریز مشکل تو ہے ہی۔یونیورسٹی آف منیسوٹا کے دو شہروں پر مشتمل کیمپس میں جنس، خواتین اور جنسیت سے متعلق مطالعات کی پروفیسر دیسائی بتاتی ہیں ’’۱۹۷۰ ء کی دہائی کی فلموں کا مواد الگ قسم کا تھا۔ یہ صرف انڈیا کے بارے میں ہوا کرتا تھا، ملک سے باہر رہنے والی غیر مقیم برادری کا اس دور کی فلموں میں ذکر نہیں ہوتا تھا۔ آپ اسے اتفاق کہیں کہ جب میں کالج کی پڑھائی کر رہی تھی تو اسی زمانے میں حنیف قریشی کی فلمیں کامیاب ہورہی تھیں۔ پھر اس کے بعد ۱۹۸۵سے ۱۹۹۵ ء کی دہائی میں دیگر فلمسازوں کی فلمیں بھی منظر عام پر آئیں۔ حقوق نسواں اور  غیر مقیم ہندوستانی برادری سے متعلق موضوعات پر مبنی ہم جنس پرست فلمیں غیر مقیم برادری کے انگریزی بولنے اور پڑھنے والے طبقے کے حساب سے ابھر کر سامنے آرہی تھیں۔ یہ فلمیں غیر مقیم ہندوستانی برادری کی زندگی کی عکاسی کیا کرتی تھیں۔‘‘

ان فلموں کے ذریعہ داغے گئے سوالات میں دیسائی نے دلچسپی لینا شروع کی۔وہ کہتی ہیں ’’یہ سوالات صرف ثقافتی تعلق کے بارے میں نہیں تھے یعنی کہ کیا آپ میں ہندوستانی ثقافت اور روایتیں باقی ہیں؟بلکہ یہ اس چیز سے متعلق بھی تھے کہ آپ کس طرح نسل ، قبیلہ، جنس ، جنسی تعلق اور قوم سے متعلق مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ہندوستانی ، برطانوی یا امریکی یا کناڈائی شہری ہونے کا آپ کے لیے کیا مطلب ہے۔ یہ صرف یا /تو کا معاملہ نہیں ہے۔ ‘‘

۲۰۰۳ ء میں منظر عام پر آئی ان کی پہلی کتا ب  بیونڈ بالی ووڈ غیر مقیم ہندوستانی برادری اور غیر ملکی سنیما کے بہتر طور پر کیے گئے تجزیے کے ذریعہ ان مسائل کی تحقیق کرتی ہے۔ یہ کتاب ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب جنوب ایشیائی مہجری آبادی کے بارے میں مجموعی طور پر بہت کم علمی کام ہو پایا تھا۔ دیسائی با خبر کرتی ہیں کہ جنوبی ایشیائی مہجری آبادی کی نظریہ سازی اس طور پر نہیں کی گئی تھی جس طرح سے افریقی غیر مقیم برادری کی کی گئی تھی ۔ ’’میں نے غور کیا کہ غیر مقیم برادریوں میں تین مقامات(برطانیہ ، امریکہ اور کناڈا )کے بارے میں سوچنے کا ، ان ملکوں میں مقیم جنوب ایشیائی برادری میں نسل پرستی کے عمل کا اور ان کی مہاجرت کی تاریخ وغیرہ اور تنقید کے ایک طریقے کے طور پر غیر مقیم ہندوستانی برادری کے بارے میں غور و فکر کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ یہ تمام چیزیں سوچ کر پہلے تو میں اپنی کتاب شائع ہی نہیں کروا پائی۔ پھرمجھے اس خیال کی تشہیر کے لیے بالی ووڈ کے زیادہ مقبول وسیلے کا سہارا لینا پڑا۔ ‘‘

دیسائی کہتی ہیں کہ ان کی تحقیق ہمیشہ اقتدار اور اختلاف سے متعلق سوالات سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کی تحقیق میں اس امر پر بھی غور و فکر ہوتا ہے کہ ہند کی مہجری برادری کے تناظر میں کس طرح ان کے متعلق افہام و تفہیم کیا جاتا ہے جس میں طبقے سے لے کر مذہب ، نسل ، جنس اور جنسی تفریق شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جنس پرست کس طرح اس میں خود کو شامل کر پاتے یا نہیں کر پاتے ہیں۔ دیسائی اب اعصابی اور ادراکی خاص طور سے نسل، مہاجرت اور نوآبادیاتی دور کے بعد کے زمانے سمیت بے اختیاری اورمعذوری کی وجہ سے ہونے والی تفریق پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔ 

 دیسائی سوال کرتی ہیں ’’ ان لوگوں کا کیا ہوتا ہے جو خود تسکینی میں مبتلا نہیں ہوتے ہیں ؟ ہم لوگ کس طرح رسوا کرنے کے عمل کو ختم کر سکتے ہیں؟کیا ہوتا ہے جب مجسم فرق کے بارے میں غور و فکر کرنے کے طریقے شعبہ طب کے دائرے میں آجاتے ہیں اور یہ عالمی سطح تک پہنچ جاتے ہیں اوریہ کس طرح معلومات کے سابقہ طریقوں کے رابطے میں آتے ہیں؟ ہمیں اعصابی تنوع کو تسلیم کرنے ، اس کا احترام کرنے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس میں اقدار ہیں خواہ یہ خود تسکینی پڑھنے کی اہلیت کا فقدان ،توجہ کی کمی یا کسی دیگر چیز کے ذریعے ہو۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ اپنے وجود کا ، اور اسے برقرار رکھنے کا ایک درست طریقہ ہوتا ہے۔ ہم سب خود کو اور اپنے ذہن کو بہتر کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن بعض افراد کے لیے اس میں مداخلت کی جاتی ہے کیوں کہ وہ ذہنی اور جذباتی طور پر معمول کے زمرے میں دیکھے نہیں جاتے ، لہٰذا قابل تسلیم نہیں ہوتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم ذہنی اور جذباتی طور پر درست ہونے کی امید کیوں کرتے ہیں ۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہم جیسے ہیں اسی طور پر تسلیم کب کیے جائیں گے اور کس طرح نسل ، قوم اور عالمگیریت ذہنی اور جذباتی اعتبار سے ہمارے حسبِ قاعدہ اور بے قاعدہ دماغ کے خیالات پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ 

دیسائی زور دیتی ہیں کہ ان کے تمام کام حقوق نسواں کے حامی اور ہم جنس پرستی کے مطالعے سے متعلق ان کے فاؤنڈیشن سے لیے گئے ہوتے ہیں کیوں کہ اس کا تعلق اقتدار کے سوالات، غور وفکر اور افہام و تفہیم کے نئے طریقوں سے ہوتا ہے۔ وہ یونیورسٹی میں مختلف طرح کے گریجویٹ طلبہ سے اشتراک کرتی ہیں جن میں بہت سارے بین الاقوامی صنف اور جنسیت کے مسائل اورنوآبادیاتی دور کے بعد کے ہم جنس پرستی کے تجربے پر کام کرنے کے لیے انڈیا سے منیسوٹا آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے نوآبادیاتی دورکے بعد کے انڈیا میں معذوری کے تعلق سے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ سے بھی اس کے بارے میں سنا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ترقی کے لیے اہم ہے۔وہ کہتی ہیں ’’ میں یہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں تک دراز ہوتا ہے۔‘‘ 

تو ایسے میں یہ بات تو اٹھے گی کہ خلا اور فلکیات سے متعلق بچپن کے ان خوابوں کا کیاہوا؟ تو دیسائی کو اب بھی فلکیات کے شعبے سے محبت ہے اور وہ    حتی الامکان اپنے بچوں کو اس کے بارے میں پڑھانے کی کوشش کرتی ہیں ۔  

وہ کہتی ہیں ’’میرے خیال سے میں وہ کام کرتی ہوں جو لوگوں کو اپنی کہانیاں کہنے اور اپنی معلومات خود تخلیق کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔سچ کہوں تو اسی وجہ سے میں نے میدانِ عمل تبدیل کیے اور ماہر فلکیات نہیں بنی۔ میں نے علمی ضرورت کی خاطر معلومات حاصل کرنا پسند کیا ۔ فلکیات کے شعبے نے مجھے غور و فکر کرنے کے لیے حیرت انگیز سوالات دیے۔ لیکن اب میں دوسروںکے سماجی تبدیلی سے متعلق خیالات کو ایک شکل دینے میں مدد کے ذریعے ان کی معلومات کو تبدیل کرنے کے اپنے کام سے محبت کرتی ہوں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہیومَینیٹیز (ایسے علمی شعبہ جات جن میں انسانی معاشرے اور ثقافت کا مطالعہ کیا جاتا ہے)اس دنیا کو بدل ڈالے۔‘‘

کیری لو وینتھل میسی نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط