مرکز

رقص کے ذریعہ قصّہ گوئی

پریتی واسودیون پرفارمنگ آرٹس کی روایتی اور عصری طرز کا استعمال کرکے ہند اور امریکہ کے درمیان ثقافتی رشتے قائم کرنے میں مدد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ 

رقص کا استعمال کرتے ہوئے فنون لطیفہ کے امکانات اورصلاحیت کی تلاش کوئی نئی بات نہیں مگر نیویارک سٹی میں مقیم رقاصہ اور کوریو گرافر(رقص کی خاکہ کشی کرنے والی)پریتی واسو دیون اپنی تازہ پیشکش اسٹوریز بائی ہینڈ کے ذریعے رقص کی حرکات و سکنات، فنون لطیفہ ، ثقافت اور لوگوں کے درمیان ایک پائیدار مکالمہ شرو ع کرنے کی متلاشی ہیں۔وہ کہتی ہیں ’’یہ ذاتی کہانیوں کے ذریعے انفرادیت کا جشن ہے۔‘‘

واسودیون کو ابھرتے فنکاروں کے زمرے میں ۲۰۱۸ ء کا ممتاز  لنکن سینٹر ایوارڈسملا۔ انہیں  پرفارمنگ آرٹس کے لیے  جیروم روبنس ڈانس ڈیویژن  کی  نیو یارک پبلک لائبریری کی جانب سے دی جانے والی ۲۰۱۸ ء کیڈ انس ریسرچ فیلو شپ سے بھی نوازا گیا۔ لنکن ایوارڈس کے فاتحین کو ۷۵۰۰ ڈالر( تقریباََساڑھے پانچ لاکھ روپے) ملتے ہیں جس کا استعمال عملی زندگی کو رفتار فراہم کرنے میں کیا جا سکتا ہے جب کہ ڈانس ریسرچ فیلو کو اپنا تحقیقی کام مکمل کرنے کے لیے اتنی ہی رقم فراہم کی جاتی ہے۔ نیویارک سٹی میں واقع لَبَن انسٹی ٹیوٹ آف موومینٹ اسٹڈیزسے رقص کی سند یافتہ تجزیہ کار واسو دیون کو۲ برس کے لیے  آرٹسٹ اِن ریزیڈینس کے طور پر  کوریو گرافر بل ٹی جونس کے نیو یارک لائیو آرٹس  میں نومبر۲۰۱۷ ء میں مدعو کیا گیا تھا۔واسو دیون کی پیشکش اسٹوریز بائی ہینڈپر اس پروگرام کا اختتام ہوا۔واسودیون اور ملٹی میڈیاآرٹسٹ  پَول قیصر کے ذریعے اکیلے فنکار کی اداکاری کے لیے قیاس اور تخلیق کی گئی اسٹوریز بائی ہینڈ میں ان کی زندگی کی ذاتی کہانیوں کو بیان کرنے کے لیے ڈراما اور رقص دونوں کو ہی شامل کیا گیا ہے۔ اس میں انڈیا میں ان کی پیدائش سے لے کر نیویارک میں ایک خاتون تک کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کی نمائش حال ہی میںہند کے ۶ شہروں میں کی گئی جس کی ناقدین نے کافی ستائش کی ۔ 

انڈیا میں واسو دیون کو اپنی پیشکش کے بہترین رد عمل ملے جن میں ناظرین کا کھڑے ہوکر تالیاں بجانے سے لے کر ناظرین کا ان تک آنا اور اپنی زندگی کے بارے میں بات کرنا بھی شامل ہے۔وہ اعتراف کرتی ہیں ’’فنون لطیفہ سے یہی امید کی بھی جاتی ہے۔اس کا کام جذباتی رد عمل کے اشتراک کا حوصلہ بخشنا ہے۔‘‘

 ان کے لیے انڈیا ہمیشہ سے ہی ان کا گھر رہا ہے جہاں ان کی روحانی جڑیں پیوست ہیں۔ اب وہ امریکہ میں رہتی ہیں جہاں وہ ’تارکین ِ وطن کے بڑے طبقے کی فنکارانہ آواز ‘ بن گئی ہیں اور اپنی عالمی شناخت کی تلاش کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’ہر برس دورۂ ہند کرتی ہوں اور وہاں کے فنکاروں اور پروگرام پیش کرنے والے گروپوں کے رابطے میں بھی رہتی ہوں۔‘‘

واسو دیون امریکی محکمہ ٔ خارجہ کے بیورو آف ایجوکیشنل اینڈ کلچرل افیئرسکے ڈانس موشن یو ایس اے ۲۰۱۸ فَولو آن پروفیشنل ڈیولپمینٹ پروگرام کے لیے چنی گئی فنکارہ ہیں۔ اس پروگرام کا انعقاد بَیم (بروکلِن اکیڈمی آف میوزک )ثقافتی تبادلے کی راہیں آسان بنانے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک معاصر امریکی رقص کو پیش کرنے کے ارادے سے کرتی ہے۔واسو دیون فنون لطیفہ کے ذریعے ثقافتی سفارتکاری کو فروغ دینے کے مقصد کے تحت سیلو(وائلن فیملی سے تعلق رکھنے والا ایک باجاجسے دونوں پیروں کے درمیان زمین پر ٹکا کر بجایا جاتا ہے)بجانے والے معروف شخص  یو یو ما کے ذریعے قائم کی جانے والی تنظیم سِلک روڈ سے بھی بطور فنکارہ وابستہ ہیں۔ 

رقص کی طالبہ

رقص ہمیشہ سے ہی سے واسو دیون کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ وہ بتاتی ہیںکہ بچپن میں انہوں نے چلنے سے زیادہ رقص کیا ہے۔ چنئی میں پیدا ہوئیں واسودیون نے یو ایس کرشنا راؤ، وی پی دھننجین اور ان کی شریک حیات شانتا دھننجین سے بھرت ناٹیم سیکھا۔رقص ان کے لیے یکسوئی اور توازن قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ باخبر کرتی ہیں ’’یہ ایک ایسی چیز ہے جو رقص اور کھیل دونوں میں مشترک ہے مگر کھیل فطرتاََ ہدف پر زیادہ توجہ دیتا ہے جب کہ رقص اظہارِ ذات کا ایک منفرد ذریعہ ہے۔ میری تمام اچھی یادوں کا تعلق کسی نہ کسی طور پر رقص ہی سے ہے۔ ‘‘

واسودیون خود کو رقص کی طالبہ قرار دیتی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ یہ صرف بھرت ناٹیم یا بیلے رقص کے بارے میں نہیں ہے۔ رقص انتہائی متحرک ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی تعبیر آپ مراقبہ سے بھی کر سکتے ہیں۔رقص کو ایک مکالمہ نہ کہخود کلامی خیال کرتے ہوئے انہوں نے فن کے مظاہرے سے متعلق باہمی تنظیم تھریش قائم کی۔ جس نے اسے انڈیا سے رقص کے روایتی طریقوں کو رقص اور اظہار کے جدید نظریات کے شانہ بہ شانہ رکھنے کی وجہ سے کافی شہرت دلائی۔ 

تھریشکی وضاحت کرتے ہوئے واسو دیون کہتی ہیں ’’یہ ماضی اور مستقبل کے درمیان کی دہلیز کے دلچسپ تصور پر مبنی ہے جہاں آپ کو ماضی کی جھلک ملتی ہے اور آپ  ایک نامعلوم مستقبل کی جانب قدم بھی بڑھاتے ہیں۔‘‘ تھریشکا قیام ۲۰۰۴ ء میں اس وقت عمل میں آیا تھا جب واسودیون لندن میں ماسٹر ڈگری مکمل کرنے والی تھیں۔ 

پروگراموں کی پیشکش اور درس و تدریس

واسو دیون کی بھرت ناٹیم میں تربیت نے کہانیاں کہنے کی ان کی صلاحیت میں اضافے کو یقینی بنایا۔وہ کہتی ہیں ’’رقص کی ایک صنف کے طور پر اس میں ڈراما بھی ہے اور رقص بھی۔ یہ ایک وضع شدہ صنف ہے نہ کہ ایک خالص صنف۔‘‘

ایک پُرجو ش معلم کے طور پر واسودیون نے نئی نسل کو بھرت ناٹیم کی تعلیم دینے کے لیے ایک تفاعلی ملٹی میڈیا ویب سائٹ ، ڈانسنگ فار دی گاڈس  بنائی۔ یہ ان کے شوہر  برونو کیوانا  کے ساتھ مل کر انڈیا میں دو برس تک کی گئی ان کی جاں فشاں تحقیق کا نتیجہ تھا۔ 

طلبہ اور اساتذہ کی ضروریات کے پیش نظر تیار کی گئی یہ ویب سائٹ اب نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔ واسودیون اس کے بارے میں بتاتی ہیں ’’ہم اس ویب سائٹ کو نئی شکل دینا چاہتے ہیں تاکہ اسے نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ رفتار فراہم کرسکیں۔ ہمیں اب اتحادیوں اور شراکت داروں کی بھی جستجو ہے ۔‘‘

دریں اثنا چنئی میں واقع تاریخی ورثے کی ایک نمایاں عجائب گاہ  دکشن چتر اور  نیویارک پبلک لائبریری فار پرفارمنگ آرٹس کے ساتھ  تھریشکاایک نیا پروجیکٹ دنیا بھر کے لیے جنوبی انڈیا کے تقریباََفراموش کیے جا چکے فنکاروں اور فنون لطیفہ کی اصناف کا ذخیرہ بنانے کے لیے کام کرے گا۔ واسودیون کہتی ہیں ’’لوگوں کو اپنی کہانیاں کہنے کا اہل ہونا چاہئے ۔ اور اس عمل کا ایک اہم حصہ بننے پر مجھے ناز ہے۔‘‘

پارومیتا پین ٹکساس کے آسٹِن میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط