مرکز
1 2 3

داخلے اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا کو آنے والے دنوں میں درخواست گزاری کے عمل میں ایک اہم وسیلے کی حیثیت سے فروغ حاصل ہوگا لیکن اس کی حدوں اور رہنما خطوط کا تعین لازمی ہے۔


’’سوشل میڈیا۔‘‘ اس سیدھے سادے دو لفظی فقرے نے دورِحاضر میں ایک ایسا خوش آئند انقلاب برپا کردیا ہے جس نے ۱۰ سال کی مختصر مدت میں دنیا میں زبردست تبدیلی پیدا کی ہے۔

ہماری روز مرّہ زندگی کے اہم عناصر مثلا ذاتی تعلقات یا خرید و فروخت وغیرہ ایک تغیرِ مسلسل کی زد پر ہیں۔ اِن تبدیلیوں نے فیس بُک، ٹوئٹر وغیرہ کے توسط سے گریجویٹ اسکولوں تک لے جانے والی شاہراہوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ پہلے، متوقع طلبہ لائبریریوں سے کالجوں کی کارکردگی پر مبنی ضخیم انسائیکلوپیڈیا جاری کرواتے تھے یا پھر ہزاروں کلومیٹر دور واقع کیمپسوں کا دورہ کیا کرتے تھے جن پر خطیر رقم صرف ہوتی تھی۔ اس کے برعکس آج ’’ہر لحظہ و ہر آن آمادہ و تیار‘‘ درخواست دہندگان مائوس کی محض ایک کلک کے ذریعے طلبہ، اساتذہ اور داخلے کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کی ایجاد اور اس کے ابتدائی دور سے پہلے کے ’’تاریک ادوار‘‘ میں درخواست دہندگان کے لئے ہر اسکول یا پروگرام کسی پہاڑی کی چوٹی پر قائم ایک ایسے گنبد کی طرح تھا جس میں کوئی کھڑکی اور کوئی روشندان نہ ہو۔ ایسا پر اسرار گنبد جس تک رسائی کی آرزو بھی ہو اور جہاں جانا خوف سے خالی بھی نہ ہو۔

لیکن اب Collegeconfidential.com جیسی ویب سائٹس اور مختلف بلاگ دو طرفہ رسائی کے ایسے امکانات روشن کر رہی ہیں جن کا تصور بھی محال تھا۔ ان میں کالج کے اپنے دفاتر برائے داخلہ کی وہ سائٹس بھی شامل ہیں جنھیں طلبہ کے لئے طلبہ ہی تیار کرتے ہیں۔

ایک حیرت انگیز نئی دنیا
ایک امتیازی طویل تحقیق کے ذریعے یونیورسٹی آف میساچوسٹس کو یہ معلوم ہوا کہ ’’سوشل میڈیا نے کالج میں داخلوں کے تصور کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔‘‘

Collegeconfidential.com پر طلبہ اپنے داخلے سے قبل اور اس کے بعد کے تجربات کے موازنے کے ساتھ ساتھ اپنے پسندیدہ پروفیسروں، کورس منصوبوں وغیرہ کے بارے میں گفتگو کرسکتے ہیں۔ مختلف اسکولوں کے ذریعے تشکیل کئے گئے بلاگوں پر طلبہ بلاگرس کو اپنے تجربات کو سچائی کے ساتھ لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

دونوں ہی کسی درجے تک شناخت کو صیغۂ راز میں رکھتے ہیں ۔ ان میں سے اول الذکر ایک کھلے فورم میں اپنے سچے واقعات اور خیالات کے اظہار کی اجازت دیتا ہے تو موخّر الذکر، متوقع طلبہ کو اپنے پسندیدہ اسکولوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے یا بلاگرس سے براہ راست سوالات کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبہ سازی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، یوٹیوب کے تعلیمی پروجیکٹ (www.youtube.com/education) نے کالجوں کو اپنے اسکول کے بارے میں اندر اجات کے بے مثال مواقع فراہم کئے ہیں جن میں تقرری ویڈیوز سے لے کر سوال و جواب کے اجلاسوں، کلاس لکچروں اور طلبہ کے مخصوص پروجیکٹوں تک ساری چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ متوقع طلبہ نے لنکڈاِن، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سائٹوں کا استعمال ڈینوں، پروفیسروں، داخلے کے ذمّہ داروں، موجودہ طلبہ اور رواں پروگراموں سے رابطے کے لئے بھی کیا ہے۔

حدوں کی تعیین
فیس بُک جیسی سائٹوں پر، تقرریوں اور اہم آخری تاریخوں کی تازہ صورتحال سے واقف ہونے کے لئے کسی اسکول یا پروگرام سے متعلق شائقین کے پیج کو دیکھنا مناسب اور مفید ہوگا۔

کئی لوگ اسکولوں کی خبریں جاننے کے لئے اسکول کے فیس بُک پیج یا ڈین کے ٹوئٹر کے درمیان ایک حد فاصل قائم کرلیتے ہیں لیکن کچھ لوگ تو ایک قدم اور آگے جاکر ذمّہ داروں اور طلبہ کو دوست کی فہرست میں شامل کرلیتے ہیں تاکہ مسابقے میں انہیں فوقیت حاصل رہے۔

داخلے کے ذمہ داروں کی فراہم کردہ ٹوئٹر معلومات کے ذریعے اپنی ذاتی ترجیجات کے بارے میں آپ کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ترجیحات طلبہ کی درخواستوں اور مضامین میں چاشنی پیدا کردیتی ہیں۔ یہ جاننے کے بعد کہ داخلے کا فلاں ذمہ دار سنہری شکاری کتّے کا شوقین ہے یا یہ معلوم کرنے کے بعد کہ فلاں ڈین سے کس شراب خانے میں اکثر و بیشتر ملاقات ممکن ہے، کوئی درخواست دہندہ اپنے ذاتی کوائف میں اس مخصوص نسل کے کتّے کا ذکر کرسکتا ہے یا اس مخصوص شراب خانے میں اس سے اتفاقیہ ملاقات کرسکتا ہے۔

ایک مطالعے سے معلوم ہو ا کہ کالج میں داخلے سے متعلق عملے کے ۸۰ فی صد افراد کو متوقع طلبہ کی جانب سے دوست بنائے جانے کی درخواستیں ملی ہیں۔ تاہم داخلہ کے ذمہ داروں اور طلبہ کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ فیس بک پر کسی کو بھی اس وقت تک دوست نہ بنائیں جب تک کہ وہ حقیقی زندگی میں ایک دوسرے کے شناسانہ ہوں۔ داخلے کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ اپنی دلچسپیوں میں اضافے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال لبھانے والا ہوسکتا ہے لیکن بنیادی عقل سلیم اور سماجی آداب کا استعمال بھی لازم ہے۔

جے کون ہیم، یونیورسٹی آف واشنگٹن کے میڈیکل اسکول میں سال دوم کے طالب علم ہیں جو آنے والے طلبہ کو معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پروفیشنلزم اور سوشل میڈیا میں گریجویشن بھی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’داخلے کے ذمّہ داروں کے ساتھ فیس بُک وغیرہ کے ذریعے تعلق پیدا کرنے کے بارے میں مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ یہ بہرحال ایک بری روایت ہے۔‘‘ انہوںنے داخلے کے ذمہّ داروں سے ’’دوستی کرنے ‘‘ اور دوسری تدبیروں کو دو متوازی خطوط سے تعبیر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’میڈیکل اسکول انٹرویو حلقوں میں داخلے کے ذمہ داروں کو شکریے کے کا رڈ بھیجنے کا چلن عام ہوگیا ہے۔ یہ بات تو اچھی ہے کہ اسکول میں آنے کا جو موقع آپ کو میسر ہوا ہے، اس کے لئے آپ ان کے شکر گزار ہیں لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ داخلہ آپ کی شکرگزاری پر نہیں بلکہ آپ کے اچھے انٹرویو کی بنیاد پرہوتا ہے۔ اِن دنوں نہ جانے کتنے لوگ شکریے کے کارڈ بھیجتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ انٹرویو لینے والوں کو ان تمام کارڈوں کو پڑھنے کا موقع ملتا ہوگا۔ حالانکہ اس بات کا اطلاق سوشل میڈیا سائٹوں پر براہ راست نہیں ہوتا، لیکن داخلے کے ذمہ داروں سے ’’دوستی کرنا‘‘ گویاایسا لگتا ہے کہ یہ چمکیلی روشنائیوں والے قلموں اور اسٹیشنری کا ڈیجیٹل متبادل ہو۔‘‘

فیلویونیورسٹی آف واشنگٹن میڈیکل اسکول کی طالبہ کیتھرین گلاس بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’میں متوقع طلبہ کو سختی سے مشورہ دینا چاہوں گی کہ وہ فیس بُک کے ذریعے داخلہ کمیٹی کے ارکان سے کوئی تعلق استوار کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔ اپنے دوستوں سے تعلق بنائے رکھنے کے لئے فیس بک کا استعمال بہت خوب ہے لیکن اس کے توسط سے داخلوں سے وابستہ لوگوں تک رسائی کرنا انتہائی غیر پیشہ ورانہ تصور کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ، یہ بات تو اپنے فیس بُک کے معائنے کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس کے بجائے میں ای میل ایڈریس کو استعمال کرنے کا مشورہ دوں گی۔‘‘

دو طرفہ سڑک
زیر نظر مضمون کے لئے جن لوگوں سے انٹرویو کیا گیا، ان میں سے ہر ایک نے کالج میں درخواست دینے سے قبل سوشل میڈیا پر اپنے تعارفی خاکے کو خس و خاشاک سے پاک کرنے پر زور دیا۔ کسی اسکول یا داخلے کے ذمّہ داروں کے بارے میں تحقیق کا جو طریقہ آپ نے اپنایا ہے، اس کا اطلاق آپ پر بھی کیا جاسکتا ہے۔

حال ہی میں، بہترین کالجوں کا جائزہ لینے والی فرم کیپلین نے ایک مطالعہ کرایا جس سے معلوم ہوا کہ ۸۰ فیصد اسکول، فیس بُک اور مائی اسپیس جیسی سائٹوں سے درخواست دہندگان کے بارے میں پتہ لگاتے ہیںاور جو کچھ انہیں معلوم ہوجاتا ہے، اسی کی بنیاد پر وہ فیصلے صادر کرتے ہیں خواہ وہ مثبت ہو یا منفی۔

داخلوں سے وابستہ عملے کو درپیش بعض اخلاقی دشواریوں کا تعلق رازداری کے اصولوں سے ہوتا ہے: اگر کوئی متوقع طالب علم اپنے دوستوں کے لئے فیس بک پر تصویریں یا پیغامات ڈال رہا ہے تو کیا کسی داخلہ افسر کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ زندگی کے محض اس چھوٹے سے پہلو کی بنیاد پر درخواست گزار کی سیرت و شخصیت کا فیصلہ کرے؟

گلاس کہتی ہیں ’’جب میں میڈیکل اسکول کے درخواست دہندگان کے انٹرویو لیتی ہوں تو میں ان کے تعارفی خاکوں سے احتراز کرتی ہوں کیوںکہ ۴۵ منٹ کے انٹرویو کے دوران آپ عام طور پر یہ اندازہ لگالیتے ہیں کہ کوئی شخص موزوں امیدوار ہے یا نہیں۔ میرے خیال میں، جسم کی حرکات و سکنات، نظر سے نظر کا اتصال، سماجی وقار وغیرہ جیسی چیزیں کسی کی شخصیت کا اندازہ کرانے میں زیادہ اہم رول ادا کرتی ہیں۔‘‘ لیکن گلاس یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ آن لائن، ایک پیشہ ورانہ شبیہ برقرار رکھنے کی اہمیت بھی سمجھتی ہیں۔

گلاس کہتی ہیں ’’ہم کو سوشل میڈیا اورآئندہ امکانات پر اس کے اثرات کے بارے میں تقریریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ میرے دوست جو تصویریں بھیجتے ہیں، ان میں سے میں ان تصویروں کو ذاتی طور پر ہٹا دیتی ہوں جنہیں میں نامناسب سمجھتی ہوں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ نا مناسب، ناموزوں اور ناشائستہ تصویروں کو پردے سے ہٹادوں۔‘‘

’’میں اپنے فیس بُک کی منصوبہ بندی پوری احتیاط کے ساتھ کرنا چاہتی ہوں تاکہ آئندہ دی جانے والی رہائشی درخواستوں پر پڑ نے والے اس کے اثرات بد کو کمتر کرسکوں۔‘‘

آن لائن ہاؤس کی صفائی ستھرائی
کون ہیم نے ۲۰۰۵ میں تفریحاً فیس بُک پر ٹیڈ کے ایک فرضی نام سے شرکت کی تھی۔ یہ ان کی تعلیم کا سالِ دوم تھا۔ ۲۰۱۰ میں میڈیکل اسکول میں داخلوں کے دوران، انہوں نے دیکھا کہ ان کے دوست اپنے فیس بُک پروفائلوں سے فحش و عریاں تصویروں اور اندراجات کو ہٹانے میں مصروف رہا کرتے تھے۔ کون ہیم کے بقول ’’میڈیکل اسکول میں داخلے کے بعد ہی مجھے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ داخلے کے بیشتر ذمّہ داران درخواست گزاروں کے نام گوگل یا سوشل میڈیا سائٹوں پر تلاش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انٹرویو لینے والے پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کے فرق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں چیزوں پر توجہ مرکوزکرتے ہیں جو کسی کے تشخص کے لئے ضروری ہو۔ اس کے باوجود میں درخواست دہندگان سے کہنا چاہوں گا کہ وہ اپنے آن لائن تشخص کی سیکورٹی میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔ جو لوگ رازداری برقرار نہ رکھنے کے فوری انجام سے واقف ہیں، وہ اس طرح کے اقدامات پہلے سے ہی کرچکے ہیں۔ لیکن بیشتر لوگ اس اہم نکتے پر توجہ نہیں دیتے کہ پیشہ ورانہ اقلیم میں داخل ہوتے ہی ایک سخت سیکورٹی کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘

کون ہیم کہتے ہیں کہ وہ درخواست دہندگان کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر داخلے کے ذمہ داران ان کے آن لائن اندراجات نہ بھی دیکھیں تو مستقبل قریب و بعید میں ان کے مریض انہیں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’انتہائی رازداری کے تمام تر انتظامات کے بعد بھی، اگر آپ انٹرنیٹ پر کچھ ڈالتے ہیں تو آپ یہ نہ جان پائیں گے کہ کون اسے محفوظ کرکے اس کا کس طرح غلط استعمال کرے گا۔ آپ کو پتہ چلے یا نہ چلے لیکن یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ لوگ آن لائن پر ہمیشہ نگاہ رکھتے ہیں۔ ذرا مارکیٹنگ ڈائر کٹروں سے پوچھ کر دیکھئے جو یہ جانتے ہیں کہ میں چند مہینوں پہلے بیک پیکس خریدنے کے لئے نکلا تھا۔ کاش کہ میں انہیں بتا سکتا کہ میں نے خریداری کرلی ہے...‘‘

اپنے تعارفی خاکوں کوصاف کرنے کے علاوہ اپنی درخواستوں میں انہیں شامل کریںاور اپنی خداداد صلاحیتوں، تفریحی مشغلوں، اپنی دلچسپیوں اور سرگرمیوں سے اپنی درخواستوں کو مزیّن کریں۔ داخلے کے ذمّہ داران آپ کی درخواست کے مشمولات کے علاوہ فیس بُک کے ذریعے آپ کی ’’مکمل شخصیت’’ کا اندازہ کرنا پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ آن لائن اپنی شخصیت کا خاکہ مصنوعی بنالیں تو بھی دیدہ ور لوگ ایک ہی نظر میں اندازہ کرلیں گے کہ یہ جعلی ہے، اور جب انہیں جعلسازی کا علم ہوجائیگا تو آپ نااہل قرار دے دئے جائیں گے۔ حال ہی میں ایسی کئی خبریں آئی ہیں۔

اپنے تعارفی خاکے کو اپنی پیشہ ورانہ اور عملی استطاعت کی بنیاد پر قائم کریں نہ کہ سراسیمہ اور شرمندہ کرنے والے واقعات سے اسے پُر کریں۔ اس سلسلے میں ایک بہت ہی دلچسپ بات کہی جاتی ہے: ایسی کسی چیز کا اندراج نہ کریں جو آپ کی شفیق دادی ماں کو ناگوارِ خاطر ہو۔ آپ کو سوچنا چاہئے کہ فیس بُک جیسی سائٹوں پر آپ کس قدر کھلیں اور کس قدر پوشیدہ رہیں۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ ۲۰۰۰ میں منعقدہ پارٹی کی تصویریں ہٹائی جائیں یا پوشیدہ رکھی جائیں تو کم از کم اُن پر ’’صرف دوستوں کے لئے‘‘ تحریر کریں۔ درخواست بھیجنے سے قبل جو کام آپ کو انجام دینے ہیں، اُن میں یہ بھی اضافہ کرلیں کہ آپ گوگل پر اپنا نام تلاش کریں اور پھرتمام قابل اعتراض چیزیں ہٹائیں۔

تصویر کا دوسرا رخ
Cappex.com کے سوشل میڈیا اینڈ کالج ایڈمیشنز بینچ مار کنگ اسٹڈی ۲۰۱۰ نے کالج کے ۱۷۰ داخلہ اہلکاروں کے بارے میں کئے گئے ایک مطالعہ کے نتائج کی تدوین کی ہے۔ اس مطالعہ کے مطابق داخلے کے عمل میں سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بُک کا استعمال بڑھ رہا ہے اور طلبہ سے روابط بنانے کے مقصد کے پیش نظر، کالجوں کے لئے یہ ایک عمدہ طریقہ ہے۔باسٹھ فی صد اسکولوں نے مستقبل میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافے کے لئے اپنے پلان پر نظر ثانی کی اور تقریبا آدھے اسکولوں نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنی داخلہ حکمت عملی کے لئے نہ صرف ’اہم‘ بلکہ ’انتہائی اہم‘ سمجھتے ہیں۔۴۳ فیصد نے اسے ’’کچھ اہم‘ کہا اور سات فیصد نے اسے ’غیر اہم‘ بتایا۔

انٹرویو دینے والوں کا کہنا ہے کہ فیس بُک کا پیج، اسکول کے ماحول سے آشنائی اور ایک اجتماعی احساس پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ یہ کالج کی ویب سائٹ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ مستند ماحول پیش کرتا ہے۔ جہاں تک طلبہ تک رسائی کا تعلق ہے، فیس بک، اسٹینڈرڈ ای میل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار ہے۔

سروے میں ایک نامعلوم شخص نے جواب دیتے ہوئے کہا ’’اس کا تعلق رسائی اور معتبریت سے ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کالج کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ طلبہ کے ساتھ معقول ڈھنگ سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔‘‘ چَیپ مین یونیورسٹی، کیلی فورنیا میں گریجویٹ ایڈ میشن کی ایسوسی ایٹ ڈائرکٹر، ایوا این کہتی ہیں کہ یونیورسٹی کا ہر پروگرام درخواستوں پر نظر ثانی کرنے کا تقاضہ کرتاہے۔

وہ کہتی ہیں ’’جہاں تک میں جانتی ہوں، ہمارے بیشتر پروگرام سوشل میڈیا پر دستیاب تعارفی خاکوں پر نظر نہیں ڈالتے۔ البتّہ اگر طلبہ انہیں یہ بتائیں کہ ان کا کام سوشل میڈیا پر دستیاب ہے تو چَیپ مین کا مشہورزمانہ فلم اسکول طالب علم کی رِیل یا پورٹ فولیو دیکھتا ہے۔

این کہتی ہیں کہ چیپ مین یونیورسٹی، مشیروں اور طلبہ کے بلاگوں، ٹوئٹر اور فیس بُک اکائونٹس وغیرہ کو بروئے کار لاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ چَیپ مین کے گریجویٹ اسکول شعبے بھی خود اپنے ٹوئیٹر اندراجات یا فیس بک صفحات تیار رکھتے ہیں تاکہ کلاسوں کے آغاز سے قبل ہی روابطہ قائم کرنے میں وہ طلبہ کے معاون ہوں۔

این کے بقول ’’ہم حال ہی میں خاص طور پر بین الاقوامی طلبہ کے لئے فیس بک کے چند صفحات منظر عام پر لائے ہیں۔ اُن میں سے ایک یہاں آنے والے بین الاقوامی طلبہ کے لئے مختص ہے۔ طلبہ مستعدی سے سوالات پر سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر سوالات کا تعلق رہائش، داخلے سے متعلق موصولہ مراسلوں، توقعات اور چَیپ مین کے شب وروز سے ہوتا ہے۔ فیس بُک کا ایک اور صفحہ طلبہ کو بیرون کیمپس رہائش میں مدد دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ دونوں صفحات پر خوب سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ دوسرے طلبہ اور صفحے کے ذمہ داران سوالوں کے جواب نسبتاً زیادہ جلدی دیتے ہیں۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ زیادہ تر ہندوستانی طلبہ زبانی گفتگو کو ہی ابلاغ کا موثر ترین وسیلہ سمجھتے ہیں۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے افسران برائے داخلہ کا کہنا ہے کہ ہم داخلے کے مراحل میں متوقع طلبہ کے سوشل میڈیا پروفائلز کو نہیں دیکھا کرتے۔ سارہ لینگ اور ایڈینا لیوو دونوں کا کہنا ہے کہ جب معلوماتی اجلاسوں، تحقیق کے موقعوں، اشاعتوں اور تقریبوں کو مشتہر کرنا ہوتا ہے تب ہی ہم کو فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ سارہ لینگ، یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ میں ڈائرکٹر برائے داخلہ جات ہیں، جبکہ ایڈینا، یونیورسٹی کے اسکول آف انجینئرنگ اینڈ ایپلائڈ سائنسز میں گریجویٹ مارکٹنگ، داخلوں اور ریکارڈ مینیجمنٹ کی ڈائرکٹر ہیں۔

لینگ کہتی ہیں ’’ہم اس موسم خزاں میں طلبہ کے بلاگوں پر مبنی ایک پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے جارہے ہیں جو گریجویٹ طلبہ کی زندگی اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالے گا۔ انہیں یہ بھی احساس ہوا کہ فیس بُک نے داخلے کے دفتروں اور طلبہ کے مابین حائل کئی دیواریں منہدم کردی ہیں۔ لینگ کہتی ہیں ’’ہم نے دیکھا ہے کہ بعض متوقع طلبہ، افسرانِ داخلہ سے رابطہ قائم کئے بغیر ویب سائٹ سے براہ راست معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔ میرے خیال میں، یہ ایک نئے آن لائن سوشل کلچر کو اپنانے کا مشورہ ہے جو گریجویٹ داخلوں کے اہلکاروں کو دیا جارہا ہے۔‘‘

لیوو کے مطابق ’’عام طور پر، سوشل نیٹ ورکس نے متوقع طلبہ کو اپنی باتیں بتانے کی صلاحیتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اسی طرح، میرے خیال میں کئی متوقع طلبہ، ای میل کے بجائے فیس بک کے ذریعے ہمیں اپنے پیغامات بھیجنے کو زیادہ آرام دہ سمجھتے ہیں۔‘‘

لینگ اور لیوو دونوںکا ہی کہنا ہے کہ سب سے عام غلطی جو دیکھی گئی ہے وہ یہ ہے کہ درخواست دہندگان داخلے کے مرحلوں میں انتہائی عامیانہ انگلش کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سوشل میڈیا کا غیر رسمی انداز ہے۔

مستقبل کے صدمات؟
اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ سوشل میڈیا کو آنے والے دنوں میں درخواست گزاری کے عمل میں ایک اہم وسیلے کی حیثیت سے فروغ حاصل ہوگا لیکن اس کی حدوں اور رہنما خطوط کا تعین لازمی ہے۔

کون ہیم کہتے ہیں ’’میں نہیں سمجھتا کہ مستقبل میں گریڈ اسکول داخلوں کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال اس وقت تک نہ ہوسکے گا جب تک کہ اس مقصد کے پیش نگاہ خاص طور پر کوئی پروگرام وضع نہ کیا جائے۔ حالانکہ سوشل نیٹ ورکنگ کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلہ جات کے عمل میں جو رومانویت پوشیدہ ہے اسے سوشل میڈیا تباہ کردے گا۔ اگر کوئی فیس بُک پر اپنی قبولیت درج کرانے پر ہی مُصر ہے تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے لیکن شارعِ عام میںکسی فرد کے ساتھ معاملہ کرنا، کسی ادارے کو زیب نہیں دیتا۔ میرے نزدیک یہ بے ادبی کی علامت ہوگی۔ میری کامیابیاں اور میرے نقائص میرے ذاتی معاملات ہیں اور مجھے ان کی حفاظت پر مامور ہونا چاہئے۔‘‘

لینگ کے مطابق ’’جدید ٹکنالوجی، کاروبار کا طریقہ ہمیشہ تبدیل کرتی رہے گی؛ روایتی ڈھنگ کے داخلہ دفاتر بھی تبدیلیوں کی زد پر ہیں۔ ہمیں اُن راہوں کو گلے لگالینا چاہئے جو ہمارے درخواست گزاروں کو بہت راس آتی ہیں، چاہے وہ فیس بُک ہو، ٹوئٹر ہو، لنکڈاِن ہو، ویب پر مبنی استعمالات ہوں ، یا پھر کوئی بھی یکسر نئی شے جو کسی کے گوشۂ خیال میں بھی نہ آئی ہو۔‘‘

کینڈس یکونو،جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم ایک قلمکار ہیں اور اخبارات و رسائل کے لئے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط