مرکز
1 2 3

نوجوانوں کی آواز

ایک نیوز پورٹل ہندوستان کے نوجوانوں کو اپنے خیالات پیش کرنے کے لئے موقع فراہم کررہاہے۔''یوتھ کی آواز'' اپنے ۱.۸ملین قارئین کے ساتھ خبروں میں ہے۔


یہ نوجوانوں کا ایک نیوز پورٹل ہے لیکن یہ جن موضوعات کا احاطہ کرتا ہے ان میں ’’ اولڈ ایج ہومس میں عمر دراز لوگوں کے ساتھ بدسلوکی‘‘ اور ’’ خودکشی کے بعد اقربا پر اس کے اثرات‘‘ بھی شامل ہیں۔ یوتھ کی آواز نوجوانوں کے لئے نوجوانوں کا نیوز پلیٹ فارم ہے لیکن یہاں آپ کو چمک دمک اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والی نمائش نہیں ملے گی۔ یہ پورٹل انشل تیواری نے شروع کیا ہے جنہوں نے ۲۰۱۱میں دہلی یونیورسٹی سے صحافت میں ڈگری حاصل کی ہے۔ یہ خبروں اور خیالات کی ترسیل واظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جسے بنیادی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں کوئی جگہ نہیں ملی۔

تیواری کہتے ہیں کہ ’’ میں نے اخبارات و جرائد سے رابطہ قائم کیا۔ ایڈیٹروں کو مراسلے بھی لکھے۔ بنیادی طورپر میں نے اپنی بات کہنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہیں ملی۔ تب میں نے سوچا کہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ مددگار چیز شاید انٹرنیٹ ہی ہے۔‘‘ یوتھ کی آواز کو ۲۰۰۸ میں شروع کیا گیا۔ تیواری نے باضابطہ بلاگ لکھنا شروع کیا۔ انہیں اندازہ ہوا کہ ہندوستان کے نوجوان اپنی آرا کے اظہار کیلئے ایسے ہی کسی پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کرتے ہیں او ر اس طرح ’’یوتھ کی آواز‘‘ کو عوام کے سامنے لایا گیا۔

فی الوقت ’’یوتھ کی آواز‘‘ میں ۱۶ایڈیٹروں اور ۶۰۰سے زائد نامہ نگاروں اور طالب علم صحافیوں کی ایک ٹیم ہے اور اس پورٹل کے ماہانہ قارئین کی تعداد۱.۸ملین سے زائد ہے۔ تیواری نے کہا کہ ’’ ہوسکتا ہے کہ اس پورٹل کو شروع کرنے کا میرا فیصلہ وقتی ردعمل کا نتیجہ ہو لیکن دو مہینے گزرنے کے بعد میںنے بلاگنگ، سماجی ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ صحافت کے بارے میں حتی الامکان پڑھنا شروع کیا۔ میں نے وہ سب کچھ پڑھا جو مواد پر مبنی ویب سائٹ کی تیاری سے تعلق رکھتا تھا۔‘‘

اپریل ۲۰۱۰میں اس پورٹل کو Indiblogger.inنے ہندوستان میں سماجی مقاصدکیلئے بہترین بلاگ کا ایوارڈ دیا اور ستمبر ۲۰۱۰میں اسے نیویارک میں آن لائن صحافت میں بہترین طور طریقوں کیلئے انٹرنیشنل سنٹر فار نیو میڈیا اور یونائیٹڈ نیشنز گلوبل الائنس فار آئی سی ٹی اینڈ ڈیولپمنٹ کی طرف سے ورلڈ سمٹ یوتھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تبدیلیوں کی راہ پر
اس قبولیت نے تیواری اور ان کی ٹیم کا حوصلہ بڑھایا۔ سینئر ایڈیٹر شروتی وینوکمار نے کہا کہ ’’یوتھ کی آواز کیلئے اچھی بات یہ ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، یہاں کے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمیشہ آگے کی سمت بڑھتے جاناہے۔ہم لوگ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور باہمی ربط سے ہمیں مشکل حالات میں بھی آگے بڑھنے او رصورت حال پر قابو پانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ سرگرم ممبروں اور صلاح کاروں کے ایک بڑے ہمہ گیر گروپ کو ساتھ رکھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔‘‘

ایسا نہیں ہے کہ اس سائٹ کو مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تیواری اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’جب ’’یوتھ کی آواز‘‘ پورٹل بنیادی دھارے میں شامل ہوا تو مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ چوں کہ آزاد نیوز ویب سائٹس زیادہ تعداد میں نہیں ہیں، اس لئے یا تو آپ کا مقابلہ اس صنعت میں بڑے اداروں کے ساتھ ہے یا پھر آپ مقابلے میں کہیں نہیں ہیں۔ یہ صورت حال ایسی ہے جس میں عموماً آپ کی بصارت محدود ہوجاتی ہے اور اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ حقیقتاً آپ کہاں ہیں اور آپ کا اگلا مرحلہ کیا ہے۔ لیکن ہمارے ذہنوں میں یہ بات بالکل واضح رہتی ہے کہ ہم مقابلہ کیلئے نہیں آئے ہیں بلکہ بہتر کام کو آگے بڑھانا ہی ہمارا مقصد ہے۔‘‘

’’یوتھ کی آواز‘‘ کی ممبئی ایڈیٹر شرداسنکھے نے اس بیان میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں اس بات کااعتراف کرنا پڑے گا کہ اگرچہ مسائل بہت ہیں مگر ان کا حل نکالنے یا ان حالات کو بدلنے کے لائق وسائل (وقت ،لوگ، اقدامات) بھی بہت کم ہیں۔’’یوتھ کی آواز‘‘ میں ہم لوگ جب بھی آبروریزی ،منشیات کی لت یا ناموس کیلئے قتل وغیرہ کے بارے میں کوئی نئی خبر یا رپورٹ شائع کرتے ہیں تو بداندیشوں کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ ’’یوتھ کی آواز‘‘میرے لئے اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی نوجوانوں کی یہ ایک آواز اتنی مضبوط آواز ہے کہ نوجوانوںپر بے اعتنائی برتنے کے الزام کی مزاحمت کرسکے۔‘‘

بیداری کی لہر
شائع شدہ رپورٹوں کی فہرست سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی نوجوان خواہ جو کچھ ہوں، سرد مہری سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر گھریلو تشدد پر ایک پورا باب اس معاملہ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں قارئین کو اس سے بچنے کے راستے بھی بتائے گئے ہیں۔

ان لوگوں کو بھی اسی طرح کی ادارتی کشمکش کا سامنا ہے جس سے بنیادی دھارے کے نیوز پلیٹ فارم متاثر ہیں۔ ’’یوتھ کی آواز‘‘ پورٹل اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خبروں کے موضوعات سے تعلق رکھنے والی تمام آرا پیش کردی جائیں۔ تیواری نے کہا کہ ’’خبروں کے لئے ہمارا طرز عمل اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نوجوانوں کی آوازوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس صورت میں بھی نہیں جب وہ رائج رجحانات کے خلاف ہوں۔ البتہ ان میںمناسب معقولیت اور حقائق ہو نے چاہئیں۔‘‘

یہ لوگ اب بھی فنڈ حاصل کرنے کے بہت سے نمونوں کا تجربہ کررہے ہیں۔تیواری نے بتایا کہ ’’ ہماری آمدنی کا بنیادی ذریعہ ڈسپلے اشتہار ہیں جنہیں ہم ویب سائٹ پر چھاپتے ہیں ۔ اس سے ہمیں اپنے ویب سائٹ کے اعلی معیار اور محفوظ سَروَر کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے ۔‘‘

ان لوگوں کا تربیتی (انٹرن شپ) پروگرام ویب سائٹ کا ایک ایسا عنصر ہے جس پر وہ بجاطور سے فخر کرتے ہیں۔ انٹرن یعنی زیرتربیت صحافی کہیں سے بھی سائن اپ کرسکتے ہیں اورکہیں سے بھی کام کرسکتے ہیں۔ ایک زیر تربیت صحافی راہل شرما نے کہا ’’میری تربیت کی میعاد میں خصوصی توسیع کی گئی ہے تاکہ میں کچھ اور تجربہ حاصل کرسکوں اور یہاں زیر بحث متعدد امور سے متعلق اپنے علم میں اضافہ کرسکوں۔ اسسٹنٹ ایڈیٹرپارول سبھروال نے ،جو زیر تربیت صحافیوں کے ایک بڑے گروپ کا انتظام سنبھالتی ہیں۔ یہاںخود بھی بطور انٹرن ہی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا۔

اس سائٹ نے ہوم پیج پر فیچرڈنیوز سیکشن کا نیا ڈیزائن تیار کیا ہے او رفیس بک اور ٹوئٹر کو اس طرح مربوط کیا ہے کہ ’’یوتھ کی آواز‘‘ پورٹل سماجی سطح پر مزید مربوط ہوجاتاہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ متوازی طور پر مائیکرو بلاگ بنائے جائیں جن کے ذریعہ نوجوانوں کو سوال و جواب کے قالب میں اپنی آواز بلند کرنے کا موقع مل سکے ۔

 

پارومیتا پین،یونیورسٹی آف ساؤدرن کیلی فورنیا کے انن برگ اسکول آف کمیونی کیشن میں گریجویٹ پروگرام میں صحافت کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ وہ اس سے قبل چنئی میں ''دی ہندو'' سے بطور صحافی منسلک رہ چکی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط