مرکز
1 2 3

نصب العین کے حصول کی خاطر رد عمل کا اظہار

یونیورسٹی تھیٹر کی بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ممنوعہ معاملات کو بھی اٹھانے کی پہل۔ 

 

امریکہ کے تمام کالج کیمپسوں میں جنسی حملوں سے متعلق خبرنگاری میں زبردست اضافے کی وجہ سے اب طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جانے لگی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں ۔ یہی نہیں ،مشی گن میں ایک یونیورسٹی ایسی بھی ہے جو طلبہ سے اپنے طالبِ علم ساتھیوں کے سامنے اس کے خلاف کاروائی کرنے کو کہتی ہے۔اسی کے مدِ نظر یونیورسٹی کے طلبہ نے ’ری ایکٹ ‘ کے نام سے ایک تھیٹر گروپ تشکیل دیا ہے جس کا مقصد مذکورہ معاملات کو اس طور پر اٹھانا ہے کہ سارا کیمپس ان سے نہ صرف باخبر ہو بلکہ ان کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور بھی ہو۔ 

گرانڈ ویلی اسٹیٹ یونیورسٹی ہر طور پر کسی دوسرے تعلیمی ادارے کی طرح ہی ہے جہاں بہت ساری اسپورٹس ٹیمیں ہیں ، کیمپس میں تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے اور یہاں اکاؤنٹنگ سے لے کر رائٹنگ تک میں میجر کرنے کی سہولت میسر ہے۔ مگر اس کے تھیٹر ڈپارٹمنٹ میں کچھ ایسا ہے جو معمول سے ہٹ کر ہے ۔اور یہ جو کچھ بھی ہے وہ ایلی میس نامی تخلیقی پروفیسر کی بدولت ہے ۔ ۲۰۰۹ میں جب پروفیسر موصوفہ کی حیثیت یونیورسٹی اور شعبۂ تھیڑ دونوں میں نووارد کی تھی تو ان کے ذہن میں باہمی تشدد ، تعاقب اور جنسی حملوں کے تئیں بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ایک پروگرام شروع کرنے کا خیال آیا …..اور وہ بھی اسٹیج پر۔ 

 میس اپنے پروگرام کے لئے امریکی محکمہ ٔ خارجہ کی جانب سے خواتین کے خلاف تشدد ایکٹ ۱۹۹۴ کے تحت منظوری لینے میں کامیاب رہیں ۔ اس طور پر اس پروگرام کا جنم ہواجس کا نام پروگرام میں شامل طلبہ کے پہلے بیچ نے ’ری ایکٹ‘ رکھا۔سببِ تسمیہ آسٹِن کی ٹکساس یونیورسٹی کا ’ وائس اگینسٹ وائلینس، ری ایکٹ‘ پروگرام بنا۔ اس پروگرام کے تحت تشدد کی روک تھام کے ساتھ تھیٹر تکنیک کا درس بھی شامل ہے ۔ مگر ’ ری ایکٹ‘ کو ڈراما کے ذریعہ علاج سمجھنے کی غلطی نہ کریں ۔ میس اس امر کو یقینی بناتی ہیں کہ تمام شرکا ء حساس موضوع کی تفہیم اور اداکاری کے ذریعہ اس کے اظہار میں دشواری محسوس نہ کریں۔وہ انھیں دوبارہ تلخ تجربات سے دوچار کرنے پر مجبور بھی نہیں کرتیں جو ان کے لئے تکلیف دہ یادیں ہو سکتی ہیں ۔  

  میس بتاتی ہیں ’’گرانٹ کی ضرورت کے اعتبار سے چیزوں کو انجام دینا میرے لئے چیلینج تھا کیوں کہ اس کے تحت مخصوص موضوعات کا احاطہ کرنا ، پریزینٹیشن کے طور پر درست جواب کی محض ترسیل سے گریز کرنا اور سوالات اٹھانا جوتھیٹر کے لئے فطری چیز ہے ۔ مگردرمیان میں اس بات کا خیال رکھنا کہ اس سے کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ۔ گرانٹ کی شرائط میں اس کی جانب واضح اشارہ کیا گیا ہے۔ ہم ناظرین کے لئے اس وجہ سے سوالات قائم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جوابات کے ساتھ آگے آئیں ۔‘‘ 

گرانڈ ویلی اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک نیوز لیٹر کے مطابق ’’ جب تربیت یافتہ طلبہ حقیقی معنوں میں ری ایکٹ تھیٹر گروپ میں شامل ہوتے ہیں تو انھیں اس کی اجرت ملتی ہے جس سے ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا ہے ، ان کی پیشہ ورانہ مہارت بہتر ہوتی ہے اور یہ بعض طلبہ کے لئے اہم مضمون کے طور پر انتخاب کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے ۔ ‘‘اس کا مطلب یہ ہوا کہ طلبہ کو اپنے باقاعدہ نصاب کے حصہ کے طور پر پہلے ری ایکٹ کلاس کا انتخاب کرنا ہے ۔ اور یہ تمام طلبہ کے لئے ہے نہ کہ صرف تھیٹر میں میجر کرنے(مضمون کا خصوصی اور تفصیلی مطالعہ ) والے طلبہ کے لئے ۔ اس کے بعدطلبہ ری ایکٹ تھیٹر گروپ کے لئے آڈیشن دینے کے اہل بنتے ہیں اور جو اداکاری وہ کرتے ہیں ، انھیں اس کے لئے اجرت دی جاتی ہے ۔ ۲۰۱۰ سے لے کر اب تک’ ری ایکٹ ‘کے معلمین نے تمام مشی گن میں کالج کے ہزاروں طلبہ اور سماجی خدمات فراہم کرنے والوں کے سامنے اپنا پروگرام پیش کیا ہے ۔ 

میس کہتی ہیںکہ گرانڈ ویلی اسٹیٹ یونیورسٹی میں’’ جنسی تشدد میں اضافہ سے متعلق خبریں ہمارے سامنے آتی ہیں جو اچھی تو معلوم نہیں ہوتیں مگر یہ حقیقت ہے ۔ جنسی حملوں کی شکایات کم سامنے آنے سے بھی نمٹنا ضروری ہے ۔ ‘‘  وہ امید کرتی ہیں کہ ’ری ایکٹ ‘قسم کے کسی پروگرام کے رابطے میں رہنے سے طلبہ اپنے دوستوں کے لئے وسائل اور ا ن کی مدد کا ذریعہ بن سکتے ہیںاور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے بہت سارے حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے میں کامیاب رہیں ۔ 

میس کہتی ہیں ’’جب کوئی کسی فردسے اپنے اوپر ہوئے تشدد کے بارے میں بتاتا ہے تو بہت سارے لوگ متاثرہ کو اس کیفیت سے نجات دلانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اسے ’ کیا کرنا چاہئے ‘ کی ایک فہرست تھما دیتے ہیں جس میں طبی توجہ کی ضرورت اور ملزم کے خلاف فوجداری کا مقدمہ کرنے وغیرہ چیزیں شامل ہوتی ہیں ۔حالاں کہ متاثرہ کی مدد کرنے والوں کے ارادے نیک ہوتے ہیں مگر متاثرہ کے لئے سب سے بہترین اور اسے بااختیاربنا نے والی چیز یہ ہو سکتی ہے کہ اسے سنا جائے ، اس سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے اور جو قدم وہ اٹھانا چاہتی ہے اس کی حمایت کی جائے۔ ‘‘

 اور اب جب کہ’ ری ایکٹ ‘نے کیمپس میں رکاوٹوں کا سدّباب کرنے والے ایک گروپ کے طور پراپنی شناخت قائم کرلی ہے تو اس نے اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے لئے سڑک پر شو منعقد کرنے شروع کر دئے ہیں ۔ چنانچہ ’ ری ایکٹ‘ کا نیا پروگرام ’ گوریلا تھیٹر‘ تھیٹر کے اندر کے اس کے پروگراموں سے زیادہ موثر ثابت ہو رہا ہے ۔ اس میں شرکت کرنے والے طلبہ اداکار کیمپس میں مختلف مقامات پر عوامی مظاہرہ کرتے ہیں ۔ لیکن انھوں نے خود کو یہیں تک محدود نہیں رکھاہے بلکہ یہ بسوں کے علاوہ کسی بھی ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں انھیں پابست سامعین میسر آسکیں۔ ایک بار جب ان کا پروگرام شروع ہو جاتا ہے تو اداکارجنسی مسائل کے موضوع پر بات کرتے ہیں جس کانتیجہ اکثر دھماکہ خیزہوتا ہے اور بے گمان ناظرین کو اس چیز سے گہرائی سے متاثر کرتا ہے جو انھوں نے ابھی ابھی دیکھا ہے۔  

مثال کے طور پر میس کہتی ہیں ’’ ایک پروگرام بس میں کیا جانا تھا جس میں ’عصمت دری پر ایک مذاق‘ کو دکھانا تھا ۔ اسے دراصل زبان کی طاقت کے ذریعہ ہی پیش کرنا تھا ۔ ‘‘

دو اداکار بس میں سوار ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کسی سخت امتحان کے بار ے میں زور زور سے بولنا شروع کر دیا ۔ایک جگہ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ امتحان نے تو گویا اس کی آبرو ریزی کر ڈا لی۔ اس کی دوست یعنی دوسری اداکارہ یہاں اس سے یہ کہہ کر بحث کرنے لگی کہ اسے اس قسم کی زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے۔ یہ تمام چیزیں ایک چھوٹی سی جگہ پر پیش کی گئیں جہاں بس کے مسافرکچھ نہیں کرسکتے تھے ۔ وہ صرف سنتے رہے اور رد عمل کا اظہار کرتے رہے۔  

 میس کہتی ہیں ’’ تمام سامعین کو یہ لگا کہ یہ واقعہ حقیقت میںرونما ہوا۔ ان دونوں اداکاروںکی بس میں بات چیت کے بعد وہاں دراصل ایک مباحثہ چھڑ گیا۔‘‘

میس گویا ہوئیں ’’ہم لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ ہم سوالات اٹھانے کو پسند کرتے ہیں ۔ ہم لازمی طور پر یہ نہیں کہتے کہ ہمیں ان کے جوابات معلوم ہی ہیں ۔ ‘‘

 

اَین والس لاس اینجلس ، کیلی فورنیا میں مقیم ایک مصنف اور فلمساز ہیں ۔ 


تبصرہ کرنے کے ضوابط