مرکز
1 2 3

تشدد کی بیخ کنی

لبرٹی ایلڈرِک نے جنسی تشدد کی تخفیف  کے لئے خود کو وقف کردیا ہے۔

نیویارک سٹی میں مقیم اٹارنی لبرٹی ایلڈرِک سنٹر فار کورٹ اِنّو ویشن میں خانگی تشدد اور اور فیملی کورٹ پروگرام کی ڈائرکٹر ہیں ۔سنٹر فار کورٹ اِننو ویشن سرکاری اور نجی شراکت داری میں قائم شدہ پروگرا م ہے جس میں ’نیو یارک اسٹیٹ یونی فائڈ کورٹ سسٹم‘ اور’ فنڈ فار د سٹی آف نیویارک‘ ساجھے دار ہیں ۔ گھریلو اور جنسی تشدد میں کمی لانے کے لئے بہترین طریقوں کو فروغ دینا اور انھیں پوری دنیا میں پھیلانا مذکورہ مرکز کے کام کا ایک جزو ہے۔ ایلڈرِک نے ۱۴ برس تک اس مرکز میں کام کیا ہے ۔ اس سے قبل وہ متاثرین کی مدد کرنے والی

 نیو یارک کی سب سے بڑی ایجنسیوں میں سے ایک، سیف ہورائزن، میں قانونی خدمات کے شعبے کی ڈائرکٹر تھیں۔۲۰۱۳ میں انھوں نے کولکاتہ اور نئی دہلی کا دورہ کیا جہاں انھوں نے طلبہ، ماہرین ِ تعلیم ،صحافیوں ، غیر سرکاری تنظیم کے اراکین اور پالیسی سازوں سے بات چیت کی۔ پیش ہیں ان سے لئے گئے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

جنس پر مبنی تشدد کے متاثرین کی مدد کے لئے برادریاں کیا طریقہ ٔ کار اختیار کرسکتی ہیں ؟ 

گھریلو تشدد اور جنسی تشدد کے معاملات میں سب سے بڑی رکا وٹوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک جان دو قالب جیسے تعلقات رکھنے والوں کے درمیان جب استحصال وقوع پزیر ہوتا ہے تو یہ متاثرہ کو شدید تنہائی کا شکار بنا دیتا ہے۔ اس احساسِ تنہائی کو ختم کرنے کے لئے سب سے اہم حکمتِ عملی،خواہ وہ حکومت کی ایما پر ہو یا برادری کی سطح پرہو،خدمات کی جہاں تک ہو سکے رسائی کو یقینی بنانا ہے۔متاثرہ افراد کو برادرانہ خدمات کی ضرورت اسی زبان میں ہوتی ہے جس میں وہ اپنا مافی الضمیر بیان کرسکیں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ وہ کسی ایسے شخص سے محو ِ گفتگو ہیں جو یہ سمجھنے کے قابل ہے کہ وہ کن حالات سے گزر رہے ہیں ۔ حکومت کی ایجنسیوں کو عدالتی نظام تک رسائی میں آنے والی رکاوٹوں کو خواہ وہ ما لی ہوں، زبان سے متعلق ہوں یا ادارہ جاتی ہوں، دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ حفاظتی آرڈر حاصل کرنے کے لئے صرف صبح نو بجے سے دوپہر ایک بجے تک آنا لازمی ہے ۔اس طرح کی رکاوٹیںچیزوں کو مزید مشکل بنا دیتی ہیںاور وہ آخری عمل جسے آپ انجام دینا چاہتے ہیں وہ اس میںمزید پیچیدگی پیدا کر دیتے ہیں۔رسائی کا مطلب حصولِ انصاف کے لئے متعین کسی فرد تک فقط ابتدائی ملاقات تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب ایک ذمہ دار نظام کی تشکیل ہے جہاں لوگوں کو احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور انھیں عزت بخشی جار ہی ہے۔ 

جنس پر مبنی تشدد میں کمی لانے کے لئے برادری اور غیر منافع بخش تنظیموں کا کردار کیا ہو سکتا ہے؟

سب سے بڑا سبق جو ہم لوگوں نے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ کمیونٹی خدمات فراہم کرنے والوں،حکومت اور مجرمانہ انصاف سے متعلق  ایجنسیوں کو با معنی تبدیلی کے لئے شراکت میں کام کرنا ہوگا۔ ان میں سے کوئی بھی اسے اکیلے انجام نہیں دے سکتا۔ایسی بات کرنا آسان ہے مگر اس پر عمل درآمد مشکل ۔ 

اس قسم کے اشتراک میں درپیش دشواریوں میں سے بعض کون سی ہیں ؟ 

شک غالباََ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیوں کہ ایجنسیوں اور اداروں کے مقاصد الگ الگ ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر حکومت فوجداری معاملے پر زیادہ توجہ دیتی ہے جب کہ برادری کی سطح پر قائم کوئی تنظیم اس چیز کی فکر زیادہ کرتی نظر آسکتی ہے کہ متاثرین کہاں رہنے والے ہیں ۔ ان اداروں کے مقاصد ہمیشہ ہی مختلف ہوں گے تاہم الگ الگ مشن ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ان کے متجاوز مقاصد نہیں ہو سکتے جس پر وہ ایک ساتھ کام کر سکیں۔   

ایک ساتھ مل کر کام کرنے میں درپیش رکاوٹوں کو وہ کیسے دور کر سکتے ہیں ؟ 

میرے خیال سے پہلا قدم مقاصد کے فرق کی شناخت ہے اور یہ کہنا ہے کہ’ چلو کوئی بات نہیں۔ ‘  اس کے بعد ہی ہم اس بات پر توجہ دے سکتے ہیں کہ جرائم سے متعلق انصاف کا نظام کس طرح متاثر کی ضروریات اور حکومت کے مقاصد، دونوں کے تئیںذمہ دار ہو سکتا ہے۔ ان اختلافات کی شناخت ہمیں آگے بڑھنے میں مدد کر تی ہے۔ 

انون کی خلاف ورزی کر نے والوں کی جوابدہی میں کیسے اضافہ کیا جا سکتا ہے ؟

قانون کی خلاف ورزی کر نے والوں کی جوابدہی کے معا ملے پر ہما رے کام کی  ابتدائی توجہ ایک متحد پیغام دینا ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ تشدد ناقابلِ تسلیم ہے ۔ہم لوگ حقیقت میں حکومتوں، عقیدے پر مشتمل تنظیموں، کمیونٹی گروپوں اور کام کرنے والی جگہوں سے لگاتار تشدد مخالف پیغامات بھیجنے سے لے کر مجرمانہ سیاق و سباق میں مزید با معنی اورقابلِ نفاذ سزا تک، ہر ایک چیز میں کئی سطحوں پر اس کے طریقے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ 

کیاامریکہ میںکچھ ایسی بہترین چیزیں رائج ہیں جن کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ ان کا استعمال ہندوستان میں جنس پر مبنی تشدد کو روکنے میں کیا جا سکتا ہے؟ 

میرے خیال سے امریکہ میں متاثرین کے لئے خدمات میں حقیقی طور پر سرمایہ کاری کرنے کی وفاقی حکومت کی کوششوں کا بہت بڑا اثر رہا ہے۔دوسرے الفاظ میںیہ صرف جرائم پیشہ روئیے کے لئے قانون سازی نہیں ہے بلکہ متاثرین کو خدمات فراہم کرنے میں مددکرناہے جس نے میرے خیال میں بنیادی فرق پیدا کیا ہے۔ ۱۹۹۴میںخواتین کے خلاف تشددقانون بن جانے کے بعد امریکہ میں جنس پر مشتمل تشدد میں ۵۰ فی صد کی کمی دیکھی گئی اور میرے خیال میںمتاثرین کی خدمت میں مسلسل کام کرتے رہنے کی وجہ سے یہ کمی آئی ہے ۔اس سلسلے میں ہمیں اب بھی ایک طویل راستہ طے کرنا ہے۔ تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار ہمیشہ سے ہی تشویش کا باعث رہے ہیں لیکن اس میں حقیقی طور پر کافی کمی دیکھی گئی ،خاص طور سے گھریلو تشدد کے واقعات میں ہونے والے قتل میں۔ اورابھی تو یہ آغاز ہے۔ 

ہندوستان کے اپنے دورہ میں آپ کو کیا معلومات حاصل ہوئیں؟

میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے نئی دہلی اور کولکاتہ کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ میں کہوں گا کہ وہ چیز جس نے مجھ پر زیادہ اثر کیا اور جس پر میری توجہ اب بھی ہے وہ یہ ہے کہ جنسی تشدد کے مسئلے پر نوجوان طبقہ کس توانائی سے کام کر رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جنس پر مشتمل تشدد کے مسائل پر وہاں بہت سارے کمیونٹی پروگرام ہوتے ہیں۔ تشدد کے معاملے پر اسے صرف خواتین کا مسئلہ ماننے کے برعکس مردوں سے بات کرنے کے نتیجے میں مَیں کچھ بہت اچھے خیالات کے ساتھ واپس آیا۔میں نے ہندوستان میں دیکھا کہ جنس پرمبنی تشدد سے متعلق حالات کو تبدیل کرنے کی تحریک میں بہت سارے نوجوان سرگرم تھے۔ہندوستان کے ناقابلِ یقین تنوع اوران تمام مختلف معاشرے میں لوگوں کے   مل جل کر کام کرنے کے طریقے سے بھی میں کافی متاثر ہوا۔ 

کیری لووینتھل میسی نیویارک سٹی میں مقیم آزاد پیشہ قلم کار ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط