مرکز

آلودگی سے فنکاری کا کام لینا

گَریویکی لَیبس آلودگی پھیلانے والے نقصاندہ ذرّات کو فنکاروں کے لیے طاقتور وسائل میں تبدیل کرنے کا کام کر رہی ہے۔

گاڑیوں کے استعمال سے لے کر بجلی کی پیداوار اور مصنوعات سازی سے لے کر کان کنی تک .....انسانی سرگرمیاں ہر روز فضائی آلودگی پھیلانے والی خطرناک اشیاء کی بڑی مقدار پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

اگر ایسا ہو کہ صرف خوردبین سے دیکھی جاسکنے والی آلودگی پھیلانے والی یہ اشیاء زہریلی ہوا کے عناصر کے طور پر سانسوں میںسما جانے کی بجائے گرفت میں لی جاسکیں ، انہیں لگام دی جا سکے اور ان کو ایسی چیزوں میں تبدیل کیا جا سکے جو ہمارے کام آ جائیں؟ یہی چیزیں ایک ٹیکنالوجی اسٹارٹ اَپ کمپنی،گَریویکی لَیبسکا مرکزی ہدف ہیں ۔ کمپنی آلودگی کے بارے میں دنیا کی سمجھ اور اس مسئلے سے نمٹنے کے اس کے طریقے کی نئی تعریف دنیا کو سکھا رہی ہے۔

بنگالورو میں واقع یہ نووارد کمپنی  ایئر اِنک نامی ایک شئے تیار کرتی ہے جو روایتی ایندھن کے جلائے جانے کے بعد باقی رہ جانے والی کالک سے بنا ایک سیاہ روغن ہے۔ کالِنک نامی ایک رجسٹر شدہ سسٹم کے ذریعے کمپنی اس فضائی آلودگی کو گرفت میں لیتی ہے۔

یہ کام ڈیزل جنریٹر اور روایتی ایندھن استعمال کرنے والی مشینوں کی چمنیوں سے تھیلا لگا کر کیا جاتا ہے تاکہ چمنیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں اور دیگر اشیا ء کو چھانا جا سکے ۔ کمپنی دیگر ذرائع سے بھی آلودگی کی گرفت کاکا م کرتی ہے مگر یہ کاربن دستیابی کے امکانات پر منحصر کرتا ہے۔ کمپنی کالک کی صفائی کرنے اور ضروری عمل سے گزارنے کے بعد اسے مزید چھوٹے ذرّات میں توڑ دیتی ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تمام اشیاء انسانوں کے لیے محفوظ ہیں،کمپنی بین الاقوامی جانچ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سے ہمیں ملتا کیا ہے؟ اس سے ہمیں ایک سیاہ روشنائی ملتی ہے جس کا استعمال دنیا بھر میں ایک ہزار سے بھی زیادہ فنکاروں کے ذریعے حیران کن تصاویر بنانے اور جداری نقاشی میں ہوتا ہے۔

ایئر اِنک کا خیال پہلے پہل انیرودھ شرما کو اس وقت آیا تھا جب وہ ایم آئی ٹی میں طالب علم تھے۔اس نوجوان سائنسداں نے کالک پر اس وقت توجہ دی تھی جب ممبئی میں اپنے گھر کے دورے کے دوران انہوں نے دن بھر اپنی ٹی شرٹ پر اسے یکجا ہوتے دیکھا تھا۔ 

شرما نے ۲۰۱۷ ء میں ایم آئی ٹی نیوز کو بتایا تھا ’’ مجھے علم ہوگیا تھا کہ اس کا سبب فضائی آلودگی ہے ۔ کالے ریزوں سے بنی یہ کالک گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے بن رہی تھی۔ صحت سے متعلق یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ‘‘ 

سچائی یہ ہے کہ فضائی آلودگی صرف انڈیا ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیز رفتاری کے ساتھ سنگین تشویش کا باعث بنتی جار ہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازے کے مطابق لاکھوں لوگ ہوائی آلودگی کی گرفت میں آنے سے ہر سال لقمۂ اجل بن جاتے ہیں اور یہ کہ دنیا کی آبادی کا ۹۰  فی صد حصہ اس خراب ہوا میں سانس لیتا ہے جو خطرناک حد تک گندی ہے۔ 

اس شدید صورت حال اور ممبئی میں آلودگی پھیلانے والے ذرّات کے حیران کن سیاہ رنگ کے مشاہدے نے شرما کو ایم آئی ٹی واپس لوٹنے کے بعد تجربات کی تحریک دی۔ ان کے پہلے نمونوں نے موم بتیوں سے حاصل ہونے والی کالک کو روشنائی میں تبدیل کیا۔مزید تجربات نے انہیں روایتی ایندھن کے فضلات کو جمع کرنے اور انہیں قابل استعمال فنکارانہ آلات میں تبدیل کرنے کے طریقے کی دریافت تک پہنچایا۔ ایم آئی ٹی میڈیا لیبسے فراغت کے بعد شرما نے چندہ یکجا کرنے کی ایک کامیاب مہم کے ذریعے مالی اعانت حاصل کرنے کے بعد ۲۰۱۶ ء میں شریک بانی کے طور پر انڈیا میں گَریویکی لَیبس کی شروعات کی۔ بیئر کی ایک کمپنی کی کفالت کی بدولت کمپنی اس قابل ہوئی کہ ایئر اِنک کو دنیا بھر میں فنکاروں تک پہنچا سکے۔ ان فنکاروں نے اس سیاہی کا استعمال لوگوں کو بیدار کرنے میںکیا۔ ان کی بعض تصاویر میں تو یہ لکھ دیا گیا ’’ یہ تصویر ہوائی آلودگی کے استعمال سے رنگی گئی ہے۔‘‘

کمپنی کی کاوشوں نے اسے نمایاں اورمعتبر اعزازات سے سرفراز کرنے کے علاوہ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی اس کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ گرچہ فضائی آلودگی کو فنکاروں کے لیے سیاہی میں تبدیل کرنا عالمی فضائی آلودگی کے مسئلے کے مضمرات کے مقابلے ایک معمولی کام معلوم ہوتا ہے مگر اس سے فرق تو پڑا ہی ہے۔ مثال کے طور پر ایئر اِنک سے بھرے ایک چھوٹے قلم میں دو گھنٹے تک چلی کار میں ڈیزل ایندھن سے پیدا ہونے والی آلودگی سما سکتی ہے۔گَریویکی لَیبس کا کہنا ہے کہ اس کی کوششوں کے نتیجے میں ایک اعشاریہ ۶ ٹریلین لیٹرہوا صاف کی جا چکی ہے۔  

گَریویکی فنکارانہ مقاصد کے لیے آلودگی کا پھر سے استعمال کرنے والا واحد ادارہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر نیدر لینڈ کے فنکار  ڈان روز گارڈ نے ہوا صاف کرنے والی بڑی بڑی مشینیں تیار کی ہیں جو ہوا سے آلودگی کو الگ کرتی ہیں ، یکجا کی گئی کالک کو دبا کر اس کا حجم کم کرتی ہیں اور پھر اسے گوہر سیاہ میں بدل ڈالتی ہیں۔ وہ دھوئیں سے بننے والے ان ہیروں کا استعمال انگوٹھی اور ہاتھ کی کڑیوں کی شکل میں جواہرات بنانے کے دوران کرتے ہیں۔ 

نیویارک میں مقیم فنکارہ  کلارا شین بتاتی ہیں کہ پہلے وہ فضائی آلودگی کا سبب بننے والے ذرّات کو فن پاروں میں تبدیل کرنے کی روز گارڈ کی کاوشوں سے ہی واقف تھیں مگر حال ہی میں انہوں نے گَریویکی لَیبس کے آلودگی سے مصوّری تیار کرنے کے مشن کے بارے میںبھی واقفیت حاصل کی ہے ۔ وہ کہتی ہیں ’’میرے خیال سے یہ ایک اختراع پسندانہ خیال ہے، اگریہ تیار کرنے اور استعمال کرنے میں محفوظ ہوں اور ان سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔ میں اس کے تئیں کافی متجسس ہوں اور میں یقینی طور پراسے اپنے کام میں استعمال کرنے میں دلچسپی لوں گی۔‘‘ 

ہانگ کانگ میں مقیم فنکار کرسٹو فر ہو ایئر اِنک کا سب سے پہلے استعمال کرنے والوں میں سے تھے۔انہوں نے اپنے بہت سارے پروجیکٹ میں اس کا استعمال کیا ہے۔شروع میں گرچہ انہیں اس سیاہی کے معیار اور اس کی افادیت سے متعلق شک و شبہا ت تھے لیکن جلد ہی ان کا خیال بد ل گیا۔وہ کہتے ہیں ’’یہ چیز کسی تشہیری مہم سے کہیں زیادہ بہتر ثابت ہوئی ہے۔اس کا رنگ ٹھوس سیا ہ ہے جس میں شفافیت کافی کم ہے۔ اسی لیے یہ ہر قسم کی سطح کے لیے بالکل موزوں ہے۔ اس سیاہی کی ساخت بازار میں ملنے والی سیاہی سے زیادہ موٹی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب سوراخ دار سطحوں پر کام کیا جاتا ہے تو یہ وہاں بہتر کارکردگی انجام دیتی ہے یعنی یہ فوری طور پر خشک ہوجاتی ہے اور انتہائی پائیدار بھی ہوتی ہے۔‘‘ 

گَریویکی لَیبس ماحولیاتی ٹیکنالوجی کے ایک نئے محاذ کی نمائندگی کرتی ہے، ایک ایسی تکنیک جو تخلیق ِ انسانی کی سطح پر کام کرتی ہے مگر یہ پوری دنیا میں ماحول دوست اختراع سازی کے نمونے کے طور پر کام کرسکتی ہے۔انجینئر ، ماہر تعلیم اور گَریویکی کے مشیر نیل واٹسن  کہتے ہیں ’’گَریویکی لَیبس ہمارے معاشرے کے سب سے مشکل مسائل میں سے بعض کا اختراع پسندانہ حل تلاش کرنے میں تو قائدانہ کردار ادا کرہی رہا ہے ، یہ آلودگی کو جواہرات میں بدلنے کا کام بھی کرتا ہے۔‘‘

 

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں ۔ وہ نیویارک سٹی میں رہتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط