مرکز

گنّے سے توانائی حاصل کرنا

امریکی ریاست ایلی نوائے میں واقع اَربنا-شَیمپین میں یونیورسٹی آف ایلی نوائے کی قیادت میں ایک کثیر ادارہ جاتی ٹیم نے یہ دکھا دیاہے کہ بایو ڈیزل (حیاتیاتی ڈیزل) تیار کرنے کی خاطر گنّے  کی پتیوں اور تنوں میں تیل کی مقدار میں اضافے کے لیے جینیاتی افزائش کی جاسکتی ہے۔

لاکھوں کار، ٹرک ، ٹرین اور طیارے جو ہمیں اور ہمارے سامانوں کو لانے اور لے جانے کا کام کرتے ہیں وہ بد قسمتی سے ایک ضمنی پیداوار کا بھی باعث بنتے ہیں .....اور وہ ہے ماحولیات مخالف گیسوں کا اخراج جس سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ یہی نہیں اس سے عالمی حدت کی شدت بھی بڑھتی ہے۔ لیکن کیا ہو اگر توانائی کی ہماری بڑھتی ضروریات کے بیشتر حصے کی تکمیل پٹرولیم مصنوعات سے نہ ہو کر بڑے بڑے کھیتوں میںلہلہاتے ہرے بھرے پودوں سے ہو جس میں کسانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی ہوں ، ساتھ ہی استعمال شدہ زمین کے چھوٹے سے خطے کو منافع بخش وسائل میں تبدیل کر دیا جائے۔  

یہ ریاست ایلی نوائے کے اَربنا-شَیمپین میں واقع یونیورسٹی آف ایلی نوائے کے  سینٹر فار ایڈوانسڈ بایو انرجی اینڈ بایو پروڈکٹس اننو ویشن میں سائنس اور ٹیکنالوجی شعبے کے نائب ڈائرکٹر پروفیسر وجے سنگھ کی بصیرت کا نتیجہ ہے۔ ان کی یونیورسٹی تحقیق کار سائنسدانوں کی ایک کثیر ادارہ جاتی ٹیم کی قیادت کررہی ہے جس نے یہ دکھا دیا ہے کہ گنیّ کو ان کی پتیوں اور تنوں میں تیل کی مقدار میں اضافے کے لیے جینیاتی طور پر افزودہ کیا جا سکتا ہے۔ اور اس اضافی تیل سے حیاتیاتی ڈیزل پیدا کیا جاسکتا ہے جو توانائی کی ضرورت کی تکمیل کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا ایک متبادل بن سکتا ہے۔ پلانٹس انجینئرڈ ٹو رِپلیس آئل اِن شوگر کین اینڈ سویٹ سورغم (پیٹروس)نامی یہ پروجیکٹ انڈیا کے لیے امکانات سے پُر ہے کیوںکہ انڈیا گنا پیدا کرنے والا ایک ایسا ملک ہے جہاںفضائی آلودگی کی سطح بھی انتہائی زیادہ ہے۔ 

اس پروجیکٹ کے کاروباری شعبے کے سربراہ سنگھ کہتے ہیں ’’ یہ فصلیں قابلِ تجدید توانائی کا ذریعہ بننے والی ہیں جن کی پیداوار مقامی طور پر کی جائے گی۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ ملک کو ڈیزل کی جتنی مقدار درآمد کرنی پڑتی ہے ، اس پر اس کا بہت بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ پہل غیر ملکی تیل پر انحصار میں کمی بھی لا سکتی ہے۔ اس سے کسانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے ۔ اس کے علاوہ اس سے کسانوں کو ایسی زمینوں پر بھی فصل اگانے کا موقع ملے گا جہاں ابھی کوئی فصل نہیں اگائی جاتی۔ ‘‘

 حیاتیاتی ڈیزل نباتاتی سائنسدانوں کا ایک دیرینہ ہدف رہا ہے کیوں کہ یہ ایندھن ڈیزل کی طرح ہی انجن کو کارکردگی کی سہولت فراہم کرتا ہے مگر اس میں گیسوں کا اخراج کم ہوتا ہے اور اس کی قیمت بھی مسابقتی ہوتی ہے۔ تاہم تکنیکی مشکلات کے علاوہ یہاں ایک اہم مسئلہ لاگت کا بھی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں بایو ڈیزل بنانے کے لیے سویابین کا استعمال کیا جاتا ہے مگر کھانے اور جانوروں کو کھلانے کی اشیاء کے طور پر فی الحال یہ کسانوں کے لیے زیادہ سود مند ہے۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ گنّے پر توجہ مرکوز کرنے سے ،جو کم قیمت پر پیدا کیا جاسکتا ہے، پیٹرو س کی ٹیم حیاتیاتی ڈیزل کے ایک اہم اور نئے وسیلے کو پیدا کرنے کے امکان کو جگہ دے رہی ہے جس کی کھیتی کسانوں کے لیے فائدے مند ثابت ہوگی۔ 

دنیا بھر میں پیدا ہونے والے گنے میں حیاتیاتی توانائی کے طور پر بہت زیادہ دلچسپ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔گنے کی پیداوار نم مٹی کے علاوہ پہاڑی زمین پر بھی کی جاسکتی ہے جو دوسری فصلوں کے لیے موافق نہیں ۔ اس کے علاوہ اس میں سورج کی روشنی کوکیمیائی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو اس پودے میں ہی جمع رہتی ہے۔مثال کے طور پر ایک مطالعہ کے مطابق ایک ایکڑ زمین میں جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے سویا بین سے حاصل ایک بیرل تیل کے مقابلے گنے سے ۱۷ سے ۲۰ بیرل تیل پیدا کیا جاسکتا ہے۔ جہاں یہ چینی، گڑ اور شیرہ جیسی متعلقہ مصنوعات کا ایک ذریعہ ہے وہیں اس سے حیاتیاتی ڈیزل کے بڑے پیمانے پرتیارکیے جانے سے خوراک کے تحفظ سے متعلق سنگین اثرات بھی مرتب نہیں ہوں گے۔ شایدسویابین کی ایک بڑی مقدار کو انسانوں اور جانوروں کے استعمال کے لیے رکھنے کی بجائے اس سے حیاتیاتی ایندھن پیدا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو۔ سنگھ کی ٹیم چینا یعنی چینی گنے سے حیاتیاتی ڈیزل کی مؤثرپیداوار پر بھی کام کر رہی ہے ۔چینا میں چینی کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔

پیٹروس سے وابستہ دیگر ادارے یونیورسٹی آف فلوریڈا، یونیورسٹی آف نیبراسکا ۔ لِنکَن اور  بروک ہیون نیشنل لیب ہیں ۔  اس پروجیکٹ کو امریکی محکمۂ توانائی کے تحت کام کرنے والی  ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی ۔ اِنرجی (اَرپا ۔ئی) مالی اعانت فراہم کرتی ہے۔ 

پیٹروس پروگرام کو ، جس کی ٹیم گنے سے جیٹ ایندھن (ایتھنول ) نکالنے کی اہل ہے، کثیر مدتی تحقیقی عطیہ کے طور پر امریکی محکمۂ توانائی کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ گنے پر مشتمل حیاتیاتی ڈیزل کے کاروباری امکان میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں نے بھی اس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

سنگھ کہتے ہیں ’’محکمۂ توانائی کا عطیہ کافی جامع ہے جو ان فصلوں کی پائیداری اور اقتصادیات کا احاطہ کرتا ہے یعنی دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے مقابلے اس حیاتیاتی ڈیزل کو تیار کرنے میں کیا لاگت آئے گی اورماحولیات مخالف گیسوں کے اخراج پر اس کا کیا اثر ہوگا جیسی باتیں میں شامل ہیں ۔‘‘

سنگھ مزید کہتے ہیں ’’ہمارے کام میں لوگ کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔ ہمیں اشتراک کی غرض سے ایسے لوگوں سے سرمایہ کاری کی تجاویز بھی ملی ہیں جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان فصلوں کی پیداوار کب تک ممکن ہے اورجس تیل کی بات ہم کر رہے ہیںاسے تیار کرنا کب تک ممکن ہو سکتا ہے ۔ہماری تحقیقی پیش قدمی بھی گرچہ جاری ہے مگر اب ہمارا ہدف زمین کے اتنے ہی حصے سے زیادہ تیل پیدا کرنا ہے۔ ‘‘

مگر سنگھ خبردار کرتے ہیں کہ ایک طرف جہاں پیٹروس فصلوں کے زرعی امکانات کافی زیادہ ہیں وہیں اس کے نتائج کچھ وقت کے لیے فوری طور پر حاصل ہونے والے نہیں ہیں۔ سنگھ وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’یہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ایک فصل ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی منظور ی حاصل کرنے کے لیے ہمیں بہت ساری سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا تاکہ اس فصل کو کاروباری مقصد کے لیے پیدا کیا جائے۔ ایسا ممکن ہے کہ حقیقی طور پر اس فصل کو کسی کسان کے کھیت میں دیکھنے کی آرزو میں ۱۰ برس اور لگ جائیں۔‘‘

سنگھ کا ماننا ہے کہ ماحولیات مخالف گیسوں کے اخراج کے مسئلے سے نمٹنے کا کوئی واحد حل موجود نہیں ہے لیکن پیٹرولیم مصنوعات  والے توانائی کے ذرائع کی جگہ قابل ِ عمل متبادل کو فروغ دینا ہمیں ایک زیادہ    سبز اور صاف شفاف مستقبل کی طرف ضرور لے جاسکتا ہے۔ 

 

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے وِنچورا میں مقیم آزاد پیشہ قلمکار، ایک اخبار کے سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط