مرکز
1 2 3

لہروں میں پنہاں توانائی کی گرفت

براؤن یونیورسٹی کے انجینئر وں کی بنائی ہوئی آبی وِنگ ٹیکنالوجی قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں نئی راہ کی نمائندگی کر رہی ہے۔

قابل تجدید توانائی آج کل بجلی فراہمی کا روزمرہ کا عنصر ہے۔ گر چہ قابلِ تجدید ذرائع جیسے ہوا، سورج ، بایو ماس ، جیو تھرمل اور پن بجلی کی اہمیت میں اضافہ روز افزوں ہے مگر پھر بھی زیادہ بھروسے مند ، محفوظ ، خودکار اور طاقت ور توانائی کی ٹیکنالوجی کی ہماری تلاش مسلسل جاری ہے۔ 

یہیں آبی وِنگ ٹیکنالوجی منظر عام پر آتی ہے۔رہوڈ آئی لینڈ میں واقع براؤن یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے اسے تیار کیا ہے۔اسے  ہائیڈرو فوائل بھی کہا جاتا ہے۔سمندر میں مدوجزرکے دوران پانی کی کم گہری لہریں جب واپس ہوتی ہیں اس وقت پانی کا بہاؤ سب سے تیز ہوتا ہے ۔ اس بہاؤ میں توانائی پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے۔ آبی وِنگ ٹیکنالوجی کی مددسے پانی میں چھپی اسی توانائی کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ 

براؤن یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے پروفیسر کینی بریور کہتے ہیں ’’سمندری طاقت بھروسہ مند اور امکانات سے بھرپور ہے۔ اس کی توانائی میں کثافت بھی بہت ہے۔توانائی کے دوسرے قابل ِ تجدید ذرائع مثلاََ شمسی اور ہوائی ذرائع کے لیے یہ ایک کامل تکملہ ہے۔‘‘ 

اس تکنیک سے وابستہ ٹیم سمندری طاقت کو مرکزی قطب پر ایک پر باندھ کر قابو میں کرتی ہے۔ مرکزی قطب پر یہ پر اوپر نیچے حرکت کرتا ہے۔ قطب کی بنیاد پر اس کی صورت کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ یہ پانی کو قطب کے اوپر کی جانب پھینکتا ہے۔ وہاں سے پانی پر کو نیچے کی جانب ڈھکیلتا ہے۔ اسی حرکت سے جنریٹر چلتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پر اپنی لہری طاقت کی بدولت وہیں پر نصب کمپیوٹر سے کنٹرول سافٹ ویئر کی مدد سے لگاتار اضافہ کرتا رہتا ہے۔ سافٹ وئیر حقیقی وقت میں پیمائش کے حساب سے کام کرتا ہے۔

 ہائیڈرو فوائل کی ترغیب بریور اور اُن کے ساتھی اسسٹنٹ پروفیسر شریاس مانڈرے کو  پِچنگ پلیٹ کی سیّال میکا نیات پر کام کے دوران آئی۔اس پروجیکٹ کو امریکی فضائیہ کے سائنسی تحقیق کے دفتر نے مالی امداد فراہم کی تھی۔اس کے علاوہ ایک اور ترغیب بریور کو پرندوں ، خاص کر چمگادڑوں کی اڑان کے مطالعہ سے آئی ۔ بریور کہتے ہیںچمگادڑوں کے اڑنے کے دوران پر پھڑپھڑانے کے طریقہ سے اس کی ترغیب ملی‘‘۔

بریور اور مانڈرے کو تجرباتی طور پر امریکی محکمۂ توانائی کے  ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی ۔ اِنرجی کی جانب سے ایک برس کے لیے گرانٹ ملی جس کی مدت میں بعد میں توسیع کرکے اسے ۳ برس کے لیے کر دیا گیا ۔ اس مدت کی تکمیل ۲۰۱۷ ء میں ہوئی۔ اس کا مقصد پروجیکٹ کے دوران ٹیکنالوجی کی ترقی اور ڈینے کا نمونہ تیار کرنا تھا۔ 

بریور کہتے ہیں ’’ شروعاتی امداد کو اس طور پر کامیاب کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ثابت کر دیا کہ تکنیک قابلِ عمل ہے۔یہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود کافی مضبوط ہے جس میں تکنیک کا استعمال کم ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں اس کی تنصیب آسانی کے ساتھ کی جاسکتی ہے،خاص کر ایسے علاقوں میں جہاں بادی اور شمسی توانائی کی رسائی ممکن نہ ہو۔ یا ان کی تنصیب اور دیکھ بھال

 مشکل ہو۔ ‘‘

ہائیڈرو فوائل کے ڈیزائن سے تجارتی اور تفریحی جہازوں کی آمدو رفت اور جنگلاتی زندگی کو ہونے والے نقصانات کے اندیشے کا ازالہ بھی ہو گیا۔گرچہ ہائیڈرو فوائل مصروف ترین خلیجوں اور جزیروں کے درمیان موجود گزرگاہوں میں کام کرتی ہے مگر جب جہاز گزرتے ہیں تو یہ سمندری سطح پر سیدھے لیٹ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کا مچھلی کے پھیپھڑے کی طرح پھڑ پھڑانے کا عمل پُر تشدد نہیں ہے جیسا کہ جہاز کے ٹربائن کا ہوتا ہے ۔ اس لیے یہ سمندری جانوروں کے لیے کم خطرناک ہے۔ 

بریور اور ان کی ٹیم کو موقع ملا تھا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کی جانچ کریں جس کے نتیجے تسلی بخش رہے۔ وہ بتاتے ہیں ’’جب ہم نے اپنا دوسرا نمونہ (جول )  کیپ کَوڈ کنال میں نصب کیا تو وہ ایک بہت خوشگوار لمحہ تھا جب ہم نے بریک چھوڑا تو آلہ نے کام کرنا شروع کردیا ،ٹھیک اُسی طرح جس طرح ہم نے پیش گوئی کی تھی یعنی ہم توانائی حاصل کر رہے تھے۔ ہم سب .....یعنی اساتذہ ، عملہ اور خاص طور پر طلبہ کو اپنے منصوبے کی کامیابی کو دیکھ کر بہت مسرت ہو رہی تھی۔ ‘‘

پروجیکٹ کی ابتدائی دَور کی کامیابی کے بعد اب ٹیم مالی امداد کی خواہاں ہے تاکہ آگے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔بریور کہتے ہیں ’’ صنعتی اداروں نے بعض غیر رسمی دلچسپیاں تو دکھائی ہیں مگر ہمیں ابھی معتبریت اور کام کرنے کے متعلق بعض مزید پہلوؤں کو ثابت کرنا ہے، تبھی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے پیش قدمی کریں گی۔ فی الحال ہم اس طرح کی نمائشوں کے لیے امداد حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ‘‘

دوسری جانب براؤن یونیوسٹی میں استانی رہ چکیں اور اب وِسکونسِن میڈیسن یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ  پروفیسر جنیفر فرینک کے ذریعہ محدود پیمانے پر تجربات اور حسابات جاری ہیں تاکہ اس کے پس پردہ کارفرما ٹیکنالوجی اور سائنس کو مزید تقویت پہنچائی جا سکے۔

بریور کو امید ہے کہ جاری کوششیں جب ثمر آور ہوں گی تو صاف توانائی کی رسائی اور اس کے اثر کو مزید بہتر بنانے میں سازگار ثابت ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں ’’میرا ہدف ہے کہ مستقبل میں پائیدار توانائی کے ذرائع کے درمیان یہ تکنیک ایک اہم عنصر ثابت ہو۔‘‘

 

کیری لوو ینتھل میسی نیویارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط