مرکز

تقسیم کرکے کام نکالنا

شرے یا دوے کی کمپنی وایا سیپیریشنس خوراک اور مشروبات کی صنعت میں کیمیاوی مادّوں کو الگ کرنے کے عمل کے دوران صرف ہونے والی نوّے فی صد بجلی بچانے  پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ 

کھانے پینے، ادویہ اور دیگر صنعتوں میں کیمیاوی مادّوں کو الگ کرنے کے صنعتی عمل کے دوران کثیر مقدار میں توانائی صرف ہوتی ہے۔ شرے یا دوے نے مساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کے دوران چھاننے کی ایک نئی تکنیک ایجاد کی ہے جس کے استعمال سے اس عمل کے دوران صرف ہونے والی ۹۰ فی صد توانائی بچائی جا سکتی ہے۔پیش ہیں امریکی ریاست مساچیوسٹس میں واقع نوواردکمپنی  وایا سیپریشنس کی شریک بانی اور سی ای او شرے یا دوے سے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

 

 آپ کی دلچسپی سائنس ،خاص کر ماحولیاتی تبدیلی میں کیسے پیدا ہوئی؟ 

میری پرورش سائنس کے بہترین اُستاد جناب گِری فِن  کی نگرانی میں ہوئی۔اُنہوں نے پائیداری اور ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں میری دنیا ہی بدل کر رکھ دی۔ اور یہ سب  اَین اِنکونوینینٹ ٹُرتھ (ماحولیات سے متعلق آسکر جیت چکی ایک دستاویزی فلم) اوردیگر تعلیمی وسائل کے دستیاب ہونے سے قبل کی بات ہے۔میرے والدین نے بھی میری حوصلہ افزائی کی کہ میں ماحولیات کے بارے میں جانوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں ہائی اسکول کی طالبہ تھی تو اخبار میںہفتہ وارسا ئنسی مضامین میںماحولیاتی تبدیلی سے متعلق مضمون کو تلاش کیا کرتی تھی۔ اس وقت سے اب تک بہت کچھ تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ 

 

آپ نے  وایا نیو فِلٹریشن کا پلیٹ فارم کیسے دریافت کیا جو آخرکار  وایا سیپریشنس کی بنیاد بنا؟ 

ایم آئی ٹی سے گریجویشن کے دوران جب ہم پانی سے کھاراپن دور کرنے کے لیے  مِمبرین تیار کر رہے تھے ، تاکہ پانی سے نمک کو خارج کرکے تازہ پانی حاصل کر سکیں ، تو اس کام کے لیے ہم نے  گِری فِن آکسائد نامی مادّے کا استعمال کیا ۔ یہ حقیقت میں نہایت قیمتی تحقیقی تجربہ تھا جس کی بدولت میں نے  مٹیریل سائنس کے متعلق بہت کچھ سیکھا۔مگر اس کی قیمت بہت زیادہ تھی اور بازاری قوتوں کے سبب اس سے پانی کی قیمت پر کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ 

پھر میں نے ایک جریدہ میں کیمیاوی علاحدگی کی تکنیک پر ایک تحقیقی مقالہ پڑھا جس میں یہ بات بتائی گئی تھی کہ عرق کشی کے عمل میں امریکہ کی قریب ۱۲ فی صد توانائی خرچ ہوتی ہے۔ اس چیز نے مجھے دوبارہ گِری فِن کی جانب توجہ دلائی جس پر ہم تحقیق کر چکے تھے۔ مگر ہم نے صنعتی پیمانے پر چھاننے کا کام کرنے کے لیے یکسر مختلف معیارات کا استعمال کیا۔ ہم نے صارفین سے گفتگو بھی کی۔ اس سے ہم نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہمارا  گِری فِن آکسائڈ فلٹر چھاننے کے عمل کے دوران  تھرمل سیپریشنس کے مقابلے توانائی کا ۹۰ فی صد بچا سکتا ہے۔ 

 

کیا آپ مختصراً بتائیں گی کہ  وایا نیو فِلٹریشن پلیٹ فارم کس طرح کام کرتا ہے؟ 

کیمیاوی علاحدگی کے بیشتر عمل میں حرارت کا استعمال ہوتا ہے۔ پاستہ کے برتن کی مثال لیں جس میں پانی چھلنی میں چھننے کی بجائے ابل رہا ہو۔ چھلنی کا استعمال اس معاملے میں بہت کارآمد ہو سکتا ہے ۔ اس سے وقت اور توانائی دونوں کی اچھی خاصی بچت ہوسکتی ہے۔ہم نے اپنی توجہ ایسا مواد اور ایسی مِمبرین تیار کرنے پر مرکوز کی تاکہ ایک نئی قسم کی چھلنی بنا سکیں جس سے کیمیاوی علاحدگی کا عمل مزید بہتر بن سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں استعمال ہونے والی چینی مٹی سے بنی مِمبرین سے محض بہت چھوٹے چھوٹے سالموں اور مرکبات کو چھاننا ممکن تھا۔ وایا نیو فِلٹریشن پلیٹ فارم نئے موادگِری فِن آکسائڈ کو متعارف کراتا ہے جس سے بہت چھوٹے سالموں کو چھاننا بھی ممکن ہے۔ 

 

آپ  نے کھانے پینے کی صنعت پرہی توجہ کیوںمرکوز کی؟ 

کھانے پینے کی صنعت ہمارے لیے دووجہ سے ممتاز ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ صنعت نہایت اختراعی ہے اور اپنے لیے مفید تکنیک کے شانہ بہ شانہ چلتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ مِمبرین اور فلٹر جیسے آلات کو یہاں بخوبی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں صارفین کو ان چیزوںکے بارے میں زیادہ تفصیل سے نہیں بتانا پڑتا ، لہٰذا ہمار ا قیمتی وقت بچ جاتا ہے۔ چوں کہ کھانا بہت ہی اہم عالمی وسیلہ ہے ، اس لیے کھانے پینے کی صنعت اسٹارٹ اَپ کے لیے نہایت پُر جوش بازار ہے۔ 

 

کیاآپ ابتدائی نمونوں یا حقیقی دنیا میں اس تکنیک کی جانچ میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں کچھ بتائیں گی؟ 

ہم نے تکنیک کی جانچ پوری طرح کر لی ہے اور یہ نہایت ولولہ انگیز ہے۔ ہم نے سائنس، علم ِ کیمیااور علم طبیعیات پر مبنی تمام سوالات کے جوابات تلاش کر لیے ہیں ۔ اب صرف انجینئرنگ پر توجہ کرنی ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ اسے نافذ کیسے کیا جائے۔ 

 

وایا سیپرینشنس کے حوالے سے مستقبل میں آپ کن کن صنعتوں میں کام کرنا چاہیں گی؟

ربڑ ، پلاسٹک بیگ جیسی روز مرہ کے استعمال کی چیزوںکی پیداوار میں استعمال ہونے والی توانائی میںوایا سیپریشنس کے حوالے سے کافی کمی واقع ہوگی۔ اگر  پیٹرو کیمیکل انڈسٹریکی بات کریں تو اس صنعت میں اس کا اطلاق کافی دلچسپ ہو سکتا ہے۔ گیسوں کو علاحدہ کرنے کا عمل کافی اہم ہے۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہم اس کا حصہ بنیں گے۔

 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکارہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط