مرکز

ماحول موافق تکنیک کے اثرات

یونیورسٹی آف یوٹاہ سے گریجویشن کرنے والے آکاش اگروال کی نیو لیف ڈائنامک ٹیکنالوجیزانڈیا کے دیہی اور دوردراز علاقوں میں مقیم کسانوں کے لیے گرین چِل نامی سسٹم پیش کرتی ہے جو بجلی کی روایتی فراہمی پر انحصار کیے بغیر کام کرنے والا ایک ریفریجریشن سسٹم ہے۔

 عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ طلبہ کسی کورس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سال کا بریک لیتے ہیں مگر آکاش اگروال نے  یونیورسٹی آف یوٹاہ میں پڑھائی کے دوران ہی شفاف توانائی سے کام کرنے والے ایک کولِنگ سسٹم کو تیار کرنے کی غرض سے ایک برس کا بریک لیا۔ ماحول موافق تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے سماجی کاروباری پیشہ وری میں ہمیشہ دلچسپی رکھنے والے اگروال نے 2011 ء میں ہی  گرین چِل کا خیال پالا تھا۔ اس کا تعلق بجلی کی روایتی فراہمی اور ڈیژل سے کام کرنے والے جنریٹر وں پر منحصر رہے بغیر بائیو ماس یاکھیتوں میں باقی رہ جانے والے فضلہ(جیسے پودوں کے ٹکڑے، چاول کی بھوسی، تنکے، دھان کے خشک پودے، لکڑی کے باقی ٹکڑے، گنے کے پھوک اور کسی بھی فصل کے باقیات) کو استعمال کرکے زرعی پیداواروں کو ٹھنڈا رکھنے سے تھا۔ 

اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کی خاطروہ پھر امریکہ گئے۔اس تکنیک سے متعلق تحقیق کرنے والی اوراس کی بازارکاری کرنے والی نئی دہلی میں واقع کمپنی  نیو لیف ڈائنامک ٹیکنالوجیزکے شریک بانی کے طور پراگروال نے  گرین چِل کو ہند کے طول و عرض میں کامیابی کے ساتھ کھیتوں میں نصب کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں ”میرا تعلق  یونیورسٹی آف یوٹا ہ میں انڈرگریجویٹ ڈگری مکمل کرنے کے پہلے سے ہی زرعی صنعت سے رہا ہے۔میں نے وسیع پیمانے پر انڈیا کا دورہ کیا ہے، ہزاروں کسانوں سے ملاقات کی ہے اور ان کی ضروریات اور دشواریوں کو سمجھنے کے لیے بڑے،درمیانی اور چھوٹے سائز کے کھیتوں کا سروے کیا ہے۔  “  

 

نقصان سے حفاظت 

یہ تکنیک ایک بہت ہی بنیادی مسئلے کو حل کرتی ہے۔ اور وہ ہے زرعی پیداوار کو ہونے والا نقصان جو اکثر کولڈ اسٹوریج کی سہولت کے فقدان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرین چِل بنیادی طور پر چیزوں کو ٹھنڈا کرنے کاایک نظام ہے۔ مثال کے طور پر اس کے استعمال کی بدولت ایک ہزار لیٹر دودھ ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔ اور اس طرح یہ کسانوں کی بہتر آمدنی کی وجہ بنتا ہے۔ اسی طرح اس تکنیک کا استعمال کرکے کسی کولڈ اسٹوریج،پری کولر،رائپِنگ چیمبر اور  بَلک مِلک چیمبر(جہاں بڑی مقدار میں دودھ کو ٹھنڈا کیا جا تا ہے)کو چلانا ایک سستا متبادل ہو جاتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان کھیتوں کے لیے مفید ہے جہاں بجلی یا تو دستیاب نہیں یا جہاں اس کی مستقل فراہمی ممکن نہیں ہو پاتی۔ اس تکنیک کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کے استعمال کی بدولت ماحولیات کے لیے مضر گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا ہے۔

اس تکنیک پر مبنی اپنے پروجیکٹ کے بارے میں اگروال باخبر کرتے ہیں ”ہمارا پہلا پائلٹ پروجیکٹ دہلی کے غازی پور میں شروع ہوا جہاں ہم نے گائے کے گوبر سے پیدا کی گئی بجلی کا استعمال کرکے 500لیٹر دودھ کو کامیابی کے ساتھ ٹھنڈا کیا۔اس وقت سے لے کر اب تک بہت سارے کسانوں نے دودھ، سیب، انار، خربوزہ، سنترا، کیلا، آم، ناشپاتی، شریفہ، لیمون، آلو، شملہ مرچ، مٹر، ہری مرچ اور گیندا کے پھول جیسی خراب ہو جانے والی مہنگی زرعی پیداوار کے تحفظ کے لیے اپنے کھیتوں میں گرین چِل سسٹم نصب کیا ہے۔“

 

تبدیلی کی ترغیب 

گرین چِل کے ابتدائی خیال کی ترغیب اگروال کو اتر پردیش کے سہارنپور کے کسانوں سے ملی تھی جنہیں انہوں نے ٹرکوں کا انتظار کرتے دیکھا تھا جو ان کے دودھ کو وہاں سے 50۔40 کیلو میٹر دور واقع وہاں کے سب سے نزدیکی  پروسیسنگ سینٹر میں لے جانے والے تھے۔ ان کسانوں کو آس پاس ایسی کوئی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ وہ بتاتے ہیں ”یہ دیکھ کر مجھے اس  سپلائی چین لاجسٹک کو تبدیل کرنے اور ٹرکوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو روکنے کے لیے کام کرنے کی تحریک ملی۔ہم گاؤں میں ہی ایک ایسا  ریفریجریشن سسٹم فروغ دینا چاہتے تھے جہاں کسان دودھ محفوظ رکھ سکیں، اور جسے بعد میں اسی دن یا اگلے دن پروسیسنگ سینٹر لے جایا جا سکے۔ آف گرِڈ  بَلک مِلک چِلروہ پہلی مشین تھی جس میں گرین چِل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔اس کے بعد  اس ٹیکنالوجی کا استعمال دیگر مصنوعات کے لیے  آف گرِڈ کولڈ اسٹوریج بنانے میں کیا گیا۔ 

امریکہ کی خوردہ اشیاء فراہم کرنے والی شہرہئ آفاق کمپنی وال مارٹ نے 2018ء میں اپنے معاشرتی ذمہ داری پروگرام کے تحت نیو لیف ڈائنا مک ٹیکنالوجیز کی مالی امداد کی تھی۔ اس کا مقصد اتر پردیش میں 500 چھوٹے اور معمولی کسانوں کو ایک ساتھ لانا تھا تاکہ وہ قدرتی طور پر آم اور کیلے پکائیں اور وال مارٹ کے  بیسٹ پرائس اسٹورس میں براہ راست اس کو بیچیں۔ اپنی پیداوار کی بہتر قیمت پانے میں اس نے کسانوں کی خاطر خواہ مدد کی۔

 

تکنیک کی مقامی سطح تک رسائی 

ان مصنوعات کو فروغ دینے سے متعلق تحقیق کے بیشتر حصے تک رسائی بڑے ریفریجریشن سسٹم اور گرین ٹیکنالوجی کے موضوعات پر جرائد میں شائع مقالوں کی بدولت ہوئی۔ اگروال کی کمپنی نوئیڈا کے اپنے پلانٹ پر مختلف مصنوعات اورپرزوں کو ملا کر مشین کی شکل دیتی ہے جسے وہ مصنوعات سازی اور مزدوری کے بڑے اخراجات میں تخفیف کے لیے دیگر مقامی کمپنیوں کو آرڈر دے کر حاصل کرتی ہے۔ ہر مشین میں ضرورت کے مطابق کچھ نہ کچھ تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے اعتبار سے مشین کی قیمت 12 لاکھ روپے سے 14لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ ان کے روابط بینکوں سے ہوتے ہیں جو ضرورت کے حساب سے کسانوں کو مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔

کو وِڈ۔19 کی وبا کے دوران ملک بھر میں کمپنی کی جانب سے خدمات فراہم کرنے والے ملازمین نے اپنے صارفین کے لیے خدمات کو برقرار رکھا ہے جنہیں گرین چِل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگروال کہتے ہیں ”ہم اس صورت حال کو ایک موقع سمجھ رہے ہیں تاکہ گرین چِل کو ایک نیا ڈیزائن دے سکیں تاکہ بحران ختم ہونے کے بعد ہماری دسترس میں ایک بہترین سسٹم ہو۔“

اگروال اور ان کے والدکو،جن کے ساتھ انہوں نے یہ کمپنی قائم کی، گرین چِل کو فروغ دینے اورمشینیں نصب کرنے میں کافی مشکلات کا سامناکرناپڑا۔اگروال بتاتے ہیں ”کسانوں کوایک ایسی مشین کے استعمال کے لیے راضی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جسے ان لوگوں نے پہلے نہیں دیکھا ہے۔ ہم نے ابتدائی منصوبوں کے لیے پیسے خود ہی لگائے تھے اور اس وقت مشینوں کی لاگت موجودہ وقت کے مقابلے دوگنی ہوا کرتی تھی۔“

اگروال کہتے ہیں کہ یونیورسٹی آف یوٹا میں مینیجمینٹ کی پڑھائی کے دوران ذاتی ملاقات کے ذریعہ سامانوں کا فروخت کرنا ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔ اس تعلیم نے انہیں سکھایا کہ صارفین کو کس طرح ایسی مصنوعات خریدنے کے لیے راضی کریں جنہیں انہوں نے پہلے نہ کبھی دیکھا اور نہ کبھی ان کے بارے میں سنا تھا۔ 

گرین چِل کا استعمال آج نئی دہلی، گجرات،مہاراشٹر، مدھیہ پردیش،اترپردیش، پنجاب اور راجستھان میں کیا جارہا ہے۔ ہر مشین کا استعمال 1000لیٹر دودھ اور جلد خراب ہونے والی پھلوں، سبزیوں، پھولوں اور مچھلیوں پر مشتمل قیمتی پیداوار کے 20 میٹرک ٹن وزن کو تب تک محفوظ رکھنے میں کیا جا سکتا ہے جب تک انہیں بازار یا پروسیسنگ سینٹرنہ بھیج دیا جائے۔ نیو لیف ڈائنامک ٹیکنالوجیزکو حال ہی میں یونائیٹیڈ اسٹیٹس۔انڈیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انڈومینٹ فنڈ(یو ایس آئی ایس ٹی ای ایف)سے مالی اعانت ملی ہے۔امریکہ کے محکمۂ خارجہ اور انڈیا کے ڈپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے 2009ء میں یہ فنڈ قائم کیا تھا تاکہ مشترکہ طور پر اطلاقی تحقیق اور ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔مذکورہ فنڈ امریکی اور ہندوستانی محققین اور کاروباری پیشہ وروں کے مابین شراکت داری کے ذریعہ تیار کردہ ٹیکنالوجی کی تجارت کی بھی حمایت کرتا ہے۔اس کی سرگرمیوں کی دیکھ ریکھ  انڈو۔یو ایس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فورم کرتا ہے۔اگروال بتاتے ہیں کہ یو ایس آئی ایس ٹی ای ایف کے ذریعہ دی جانے والی مالی اعانت  اَیبزورپشن ریفریجریشن سسٹمس کے شعبے کے علم بردار جار جیا ٹیک (جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی)کے ساتھ ہوئے ہمارے مفاہمت نامے کے مطابق ہے۔وہ کہتے ہیں ”یہ شراکت داری ہمیں گرین چِل کی مصنوعات کی آئندہ نسل کو فروغ دینے،اسے تیار کرنے کی لاگت میں کمی لانے اور اس تکنیک کو عوام تک پہنچانے میں مدد کرے گی۔“

 

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط