مرکز

تکنیک سے اچھی صحت تک رسائی

البوکیرکی میں مقیم ڈاکٹر سنجیو اروڑا کا شروع کردہ پروجیکٹ ایکو(ای سی ایچ او)اصل میں انڈیا میں غیر مستحق طبقات کی حفظان صحت تک رسائی میں توسیع کے لیے ٹیکنالوجی، راہنمائی اور طبی مہارت کا امتزاج ہے۔

اگر آپ کسی بڑے شہر میں رہتے ہیں تو تقریباً ہر قسم کی مہارت والے مستند ڈاکٹروں کو تلاش کرنا اکثر و بیشتر مشکل نہیں ہوتا ہے۔لیکن اگر آپ دیہی برادری میں رہتے ہیں تو کیا ہوگا؟ آپ کو جن ماہرین کی ضرورت ہے وہ ہزاروں کلومیٹر دور ہوسکتے ہیں۔

اسی قسم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پروجیکٹ ایکو(ایکسٹینشن فار کمیونٹی ہیلتھ کیئر آؤٹ کمس)تیار کیا گیا تھا۔ یہ ایک اختراعی اور کثیر جہتی ماڈل ہے جس سے غیر مستحق برادریوں کی حفظان صحت تک رسائی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس پروجیکٹ کا آغاز ۲۰۰۳ ء میں اس وقت ہوا جب نیو میکسیکو میں واقع  البوکیرکی کے جگر کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سنجیو اروڑا نے ایک پریشان کن سچائی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ حقیقت یہ تھی کہ ان کی آبائی ریاست میں ہزاروں مریض ہیپٹائٹس سی کا علاج صرف اس لیے نہیں کرا سکتے تھے کیوں کہ جہاں وہ رہتے تھے وہاں ماہرین تک ان کی رسائی مشکل ہی سے ہو پاتی تھی۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹر اروڑا نے نیو میکسیکو میں کسی مقام پر خود اپنے جیسے ماہرین کی راہنمائی اورحمایت کے ذریعہ مقامی حفظان صحت فراہم کرنے والوں کی راہنمائی کی غرض سے ایک مفت تعلیمی ماڈل تیار کیاتاکہ وہ بیماری کا علاج خود کر سکیں۔ مگر ڈاکٹر اروڑا کے ہدف میں توسیع ہو گئی۔ اس کے بارے میں انہوں نے ۲۰۱۳ء میں ٹی ای ڈی ایکس ٹاک (ٹیڈ ایکس ٹاک)میں یوں بتایا”ہمیں خبر تھی کہ اگر ہم دیہی علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی جیسے مشکل اور پیچیدہ مرض کا علاج کر سکتے ہیں تو ہمارے پاس ایک ایسا نمونہ ہوگا جو ترقی پذیر ممالک میں ہر قسم کی پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں معاون ہوگا۔“ 

آغاز میں پروجیکٹ ایکوکے تحت پورے نیو میکسیکو میں امتیازی نوعیت کے ۲۱ مراکز قائم کیے گئے۔ان میں سے ہر ایک مرکز کو مقامی حفظان صحت فراہم کرنے والے چلاتے۔ اور ان سب کو ریاست میں ہر جگہ ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے مشن کی ذمہ داری سونپی جاتی۔

حالاں کہ کسی بیماری کا علاج کرنا ہدایات کی فہرست پر عمل کرنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ چیز ہے۔ڈاکٹر اروڑہ کو مقامی حفظان صحت فراہم کرنے والوں کو تربیت دینے کا راستہ ڈھونڈنا پڑا تاکہ وہ تیزی سے ایسا خصوصی علم حاصل کرسکیں جسے خود انہوں نے سالوں کے مطالعے اور مشق کے ذریعہ حاصل کیا تھا۔ جواب؟ انفرادی تفاعل کے ذریعہ سیکھنا۔

اس پروجیکٹ کے توسط سے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ ذاتی تربیت ممکن ہو سکی۔ مقامی حفظان صحت فراہم کرنے والے، حتیٰ کہ دور دراز علاقوں میں بھی ہفتہ وار  ویب بیسڈ کالس اور  ورچووَل میٹنگس کے ذریعہ ماہر ٹیموں سے وابستہ ہیں۔ ٹیموں نے اپنے مقامی شراکت داروں کو مشورہ دیا کہ انفرادی مریضوں کا بہترین علاج کیسے کریں۔پروجیکٹ ایکو  روایتی  ٹیلی میڈیسن نہیں ہے جس میں کوئی ماہر مریض کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لیتا ہے۔ یہ  ٹیلی مینٹرنگ ہے جہاں طبیب ہی مریضوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھا تا ہے۔

انڈیا میں پہلا ایکو کلینک ۲۰۱۰ء میں شروع ہوا۔ یہ اصل میں نیشنل ایڈس کنٹرول آرگنائزیشن اور مولانا آزاد میڈیکل کالج کے مابین ایچ آئی وی/ ایڈس مریضوں کو سنبھالنے کے لیے باہمی اشتراک کا نتیجہ تھا۔اس وقت سے شفاخانوں نے نشہ اور منشیات کے استعمال کی خرابیوں، دماغی صحت، تپ دِق،ہیپاٹائٹس سی، جگر کے امراض،سرطان کی جانچ اور روک تھام کے علاوہ کئی چیزوں پر کام کیا ہے۔ ملک میں ایکو کے تمام پروگرام  ایکو انڈیا کے تحت آتے ہیں۔ ایکو انڈیا ایک غیر منافع بخش ٹرسٹ ہے جس کا اندراج ۲۰۰۸ ء میں عمل میں آیا تھا۔یہ ایکو ماڈل  کو صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور ماحولیاتی سلامتی کے شعبوں میں نافذ کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔اب ایکو انڈیا کے مراکز ۱۰ ریاستوں میں قائم ہو چکے ہیں۔ اس نے حکومتِ ہند کی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے ساتھ اس سلسلے میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔

۲۰۱۸ ء میں ایکو انڈیا نے آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت صلاحیت سازی کے نافذ کے طور پر  نیشنل ہیلتھ سسٹمس رسورس سینٹر کے ساتھ شراکت داری کی۔اس پہل کا مقصد ملک گیر پیمانے پر ایک لاکھ ۵۳ ہزار صحت اور تندرستی سے متعلق مراکزقائم کرنا ہے۔ ان مراکز میں کام کرنے والے عملہ کی صلاحیت سازی کی ذمہ داری ایکو انڈیا کی ہوگی۔ ایسے میں جب کہ لکھنؤ کی کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی اور مہاراشٹر کا نیشنل ہیلتھ مشن دونوں پہلے ہی سے ایکو مراکز کے طور پر کام کررہے ہیں تو آشا کارکنان کو تربیت دینے کے لیے ایک پائلٹ پروگرام  کمیونٹی اِمپاورمینٹ لَیب اور اترپردیش کے نیشنل ہیلتھ مشن کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ملک کی تمام ریاستوں میں ایسے ہی مراکز قائم کر نا ہے۔

آیوشمان بھارت پروگرام کے اجزا میں سے ایک جزو کا مقصد صحت اور صحت مراکز میں دستیاب ۱۲خدمات کے توسیعی دائرہ کے ساتھ جامع بنیادی حفظان صحت فراہم کرنا ہے۔ ان کو نافذ کرنے کے لیے درمیانی سطح کے حفظان صحت فراہم کرنے والے کوذیلی سینٹر سطح پر واقع ہرایک ایچ ڈبلیو سی دیا جائے گا۔ این ایچ ایس آر سی نے ان حفظان صحت فراہم کرنے والوں کی مشترکہ تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے پروجیکٹ ایکو کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

علمی اشتراک کا ایک ماڈل(جس میں معلومات اوپر سے نیچے کی جانب منتقل ہو)صحت نظام کی تمام سطحوں پر حفظان صحت فراہم کرنے والوں کی مستقل صلاحیت سازی کے لیے بنایا جائے گا جس میں ماہرین، ڈاکٹر، پیرامیڈیکل پیشہ ور، درمیانی سطح کے حفظان صحت فراہم کرنے والے اور پیش پیش رہنے والے کارکنان شامل ہیں۔حکومتِ ہند کی صحت اور خاندانی بہبود سے متعلق وزارت نے ایک حکم نامہ جاری کرکے ریاستوں پر اس چیز کو لازم قرار دیا ہے کہ وہ تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے ایکو پروگراموں کا انعقاد کریں۔ 

ڈاکٹروں اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق پیشہ ور افراد کے اوریئنٹیشن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ایکو انڈیا کے چیئرمین ڈاکٹر کرنل(سبکدوش)کُمُد رائے نے ۲۰۱۷ء میں کہا تھا ”انڈیا کا صحت کی دیکھ بھال سے متعلق ماحول ایکو ماڈل کے لیے اپنی طرح کا ایک الگ موقع فراہم کرتا ہے۔ ملک میں خصوصی دیکھ بھال (خاص کر دیہی علاقوں میں) کی ضرورت بہت ہے اور اس میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ پروجیکٹ ایکو سسٹم کے اعتبار سے انضمام ایک ایسا حل ہے جس سے پوری آبادی فیضیاب ہوسکتی ہے۔“

انڈیا میں صحت کی دیکھ بھال کے کئی ممتاز انسٹی ٹیوٹ نے ایکو انڈیا کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ملک گیر پیمانے پر ۲۶فعال مراکز ہیں جن میں ممبئی میں واقع ٹا ٹا میموریل سینٹر بھی ہے جس نے پورے ملک میں پھیلے  نیشنل کینسر گرڈ کے اسپتالوں کو مربوط کرنے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کام کے لیے اس نے پروجیکٹ ایکو کے پلیٹ فارم کو استعمال کیا ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسیز(نِمہنس)میں  ورچووَل نالج نیٹ ورک نِمہنس ایکو پروگرام نے ابھی تک ۲۲پروگرام مکمل کر لیے ہیں۔ اس کی جانب سے پورے ملک اور عالمی سطح پر ۸ مزید پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام کی بدولت ۴ ہزار سے زیادہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ورانہ افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔ یہ بہار، چھتیس گڑھ اور کرناٹک ریاستوں کی سرکاروں کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔  

نئی دہلی کے ایمبینس پبلک اسکول نے ایکو ماڈل کو تعلیم کے شعبہ میں اختیار کیا۔ ایکو ٹیچر مینٹرشپ پروگرامکا مقصد اساتذہ کی مہارت کو بہتر بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کی مستقل راہنمائی کی جا تی رہے۔انگریزی، ریاضی، ابتدائی خواندگی، سائنس اور ذہن سازی وغیرہ پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ ایکوپروگراموں کو کامیاب طور پر مکمل کرنے کے بعد دوسرا مرکز گرو گرام کے ایمبینس پبلک اسکول میں شروع کیا گیا۔ایمبینس پریوِنٹِو ہیلتھ اینڈ ویلنیس ایکو بچوں میں مختلف صحت مسائل کی ابتدائی علامات کی نشاندہی کرنے میں اساتذہ، والدین اور مشیروں کی مدد پرتوجہ دینے والا ایک منفرد پروگرام ہے۔ پروگرام کے شرکاء کو ایمس،میکس سپر اسپیشلیٹی اور نِمہَنس  جیسے اداروں کی راہنمائی حاصل ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ پروجیکٹ ایکو نے کن طبقات کو اپنی خدمات بہم پہنچائیں یا کن امراض کا علاج کیا، اس کا مقصد تبدیل نہیں ہوا ہے۔یعنی ہندوامریکہ اور ان ممالک سے بعید انتہائی دیہی اورغیر مستحق برادریوں کے لیے بھی، معیاری اور جامع حفظان صحت سہولیات دستیاب کرانا۔ڈاکٹر اروڑا نے اپنی ٹیڈایکس ٹاک میں یہی بات ان الفاظ میں کہی تھی”ہم علم کی اجارہ داری ختم کرنا چاہتے ہیں۔ عام طور پر، معلومات مجھ جیسے ماہرین کے دماغ کے کسی کونے میں دبی رہتی ہے۔ ہم اسے اپنے بنیادی صحت کی نگہداشت کے ساتھیوں کے ساتھ آزادانہ طور پر بانٹنا چاہتے ہیں۔ ہم معیاری حفظان صحت تک رسائی کو بہتر بنانا اور امتیازات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔“

 

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ نیو یارک شہر میں رہتے ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط