مرکز
1 2 3

ماحولیات اور مساوات

اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای میں شرکت کرنے والی مونالیسا پانڈا اپنے اوڈیشہ میں واقع اسٹارٹ اپ کے ذریعہ ماحولیاتی طریقوں کی حمایت اور انہیں بہتر بنانے کے لیے کام کرتی ہیں۔

مونالیسا پانڈا  سائی بایو کیئرمیں ایک ڈائرکٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔سائی بایو کیئر مشرقی ہند میں ایک سرکردہ ماحولیاتی مشاورتی فرم ہے۔ اڈیشہ میں واقع سائی بایو کیئر ایک تسلیم شدہ، کثیر جہتی تجارتی تجربہ گاہ ہے جو مختلف النوع خدمات کے ذریعہ ماحولیاتی طریقوں کی حمایت اور انہیں بہتر بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔ ان میں گھریلو پانی کے معیار کی جانچ، جڑی بوٹیوں سے تیار دواؤں اور آیوروید ک دواؤں کا لیباریٹری تجزیہ، گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے لگائے جانے والے پلانٹ کی ڈیزائننگ اور اسے شروع کرنے اور آلودگی سے پاک تعمیراتی تصدیقی خدمات فراہم کرنا شامل ہیں۔ اس طرح کی خدمات کی ان دنوں بہت زیادہ مانگ ہے۔

پانڈا بتاتی ہیں ’’ اڈیشہ میں سرمایہ کاری کی مہم میں کافی تیزی آتی جارہی ہے جس سے بہت ساری غیر ملکی کمپنیاں ریاست میں اپنی صنعتیں شروع کرنے کے لیے راغب ہو رہی ہیں۔‘‘

بڑے پیمانے پر جاری اس قسم کی سرگرمی سائی بایو کیئر کی فراہم کردہ رابطہ کاری اور مشاورتی خدمات کو لازمی بناتی ہیں۔ پانڈا بتاتی ہیں ’’آلودگی پر کنڑول سے متعلق ہمار ا بورڈ تجارتی سطح پر سامانوں کو بنانے کے لیے لائسینس اور این او سی سرٹیفکٹ حاصل کرنے میں کاروباریوں کی مدد کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ دستاویزات تیار کرنے، آن لائن فارم بھرنے اور دیگر مشاورتی خدمات کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

صنعت کاری کے ذریعہ خواتین کی معاشی خود مختاری سے متعلق آل انڈیا روڈ شو ٹوپوائنٹ زیرو کی ایک شراکت دار کے طور پر پانڈا انڈیا میں قائدانہ کردار بالخصوص اسٹیم شعبہ جات اور دیگر روایتی طور پر مردوں کے غلبہ والے شعبوں میں خو اتین کے مقام کو مسلسل فروغ دینے کی اہمیت کو سمجھتی ہیں۔اے آئی آر ایس ڈبلیو ای ای ای ٹو پوائنٹ زیرونئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ کے عوامی امور کے دفتر کا ایک امداد پروگرام ہے جسے امریکہ میں واقع ایک غیر منافع بخش تنظیم  دی انڈس انٹر پرینرس اِنک اور اس کی ہندوستانی شاخوں کے ذریعہ نافذ کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے بارے میں بتاتے ہوئے پانڈا کہتی ہیں ’’ یہ پروگرام سیکھنے کا ایک زبردست تجربہ ثابت ہوا۔ یہ نوخیز کمپنیوں کے لیے ایک عملی تکنیکی ماڈل فراہم کرتا ہے۔پروگرام عملی مشاورت اور امکانات اور ممکنات کے احساس کو (جو ایک خاتون کے طور پر ایک اسٹارٹ اپ کمپنی قائم کرنے میں ہوتا ہے) یکجا کرتا ہے۔ جب میں نے خود ایسی ایک شروعات کی تھی تو میری خواہش تھی کہ مجھے بھی قوت سے بھرپور ان خواتین کی راہنمائی ملے۔‘‘

وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں ’’ کسی خاتون کے لیے کاروبار کرنا مشکل کام ہے۔ ایک سائنسداں کی حیثیت سے خاتون کو بڑی آسانی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن جب اس کا امتزاج منافع کمانے سے ہوتا ہے تو یہ چیز بہت مشکل ہو جاتی ہے۔‘‘

خواتین کو متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے کیوں کہ ان کو بالخصوص ایسے عہدوں پر کم اہل کے طور پر دیکھے جانے کی روایت رہی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ خیال عام ہے کہ ان عہدوں پر مردوں کا رہنا زیادہ مناسب ہے۔پانڈا بتاتی ہیں ’’ ایک عورت ہونے کے ناطے میرے کاروبار میں جو بڑی رکاوٹ ہے وہ علاقہ کا دورہ کرنا ہے۔اور یہ بات خصوصی طور پراس وقت سچ ثابت ہوتی ہے اگر یہ کانکنی کے علاقہ جیسا ہو۔ یہ دورے مشکل ترین ہو سکتے ہیں۔کلائنٹ کی سائٹوں پر افسران کبھی کبھی فیصلہ کرنے اور کسی خاتون کی صلاحیت پر شبہ کر سکتے ہیں۔‘‘

چیلنج کے باوجود پانڈا عروج وزوال سے یکساں طور پر لطف اندوز ہوئی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ علم متعصبانہ رویہ کے لیے ایک حقیقی تریاق ہے۔

پانڈا کہتی ہیں کہ میرا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ علم طاقت ہے، اس لیے سائی بایو کیئر میں ہم ہمیشہ نئی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے اور اس کی ترقی کے لیے تیار رہتے ہیں۔وہ ان دیگر خواتین کو صلاح دیتی ہیںجو اسٹیم شعبہ جات میں داخل ہو سکتی ہیںکہ وہ درست طریقہ کار کے قیام پر اپنی توجہ مرکوز کریں، انسانی وسائل کا خیال رکھیں اور اہم ترین بات یہ کہ وہ اپنے آپ پر یقین کریں۔‘‘

اور ابھی بہت کام کیا جانا باقی ہے۔

پانڈا کے مطابق، فضلہ کی ری سائکلنگ خواہ کوڑا ٹھوس ہو یا سیّال اور پانی کا بحران آنے والے دنوں میں سب سے زیادہ اہم تشویشات میں سے ہیں ۔ زیر زمین پانی کی سطح بہت تیزی کے ساتھ گر رہی ہے اور پینے کے صاف پانی کا حصول ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر ہم صورت حال کو جاری رہنے دیں گے اور مسئلہ سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں کریں گے تو یہ خیانت ہوگی۔ پانڈا اور سائی بایو کیئر ان مسائل کا سامنا کرنے کے تئیں پابند عہد ہیں۔ ہمیں پانی کی ری سائیکلنگ کے تئیں پابند عہد ہونا چاہئے تاکہ ہماری ندیاں اور زیر زمین موجود پانی آلودہ نہ ہوں۔ ہم سائی بایو کئیر میں ہر صنعت کے مسئلہ سے براہ راست طور پر دیکھ بھال اور اعلیٰ درجہ کی تطبیق سے نمٹ سکتے ہیں۔‘‘

 

ٹریور لارینس جوکِمس نیویارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور عصری ثقافت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط