مرکز
1 2 3

رمزنویسی کے مستقبل کی فکر

ونود ویکُنٹنا تھن بڑھتے ہوئے اطلاقات اور ابھرتی ہوئی رقابتوں کی ایک دنیا میں رمز نویسی کو بہتر بنانے کے مقصد کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں۔

جنوبی ہند کے ایک چھوٹے سے گائوں میں پرورش پانے والے ایک لڑکے کے طور پر ونود ویکُنٹناتھن نے گھر میں ادھر ادھر پڑی ہوئی اپنے دادا کی کتابیں پڑھ کر خود سے حساب داری کی تعلیم حاصل کی ۔ برسوں بعد کالج میں انہوں نے اعداد کے نظریہ کا مطالعہ کرنے کے لیے کتب خانے میں اپنا وقت گزارا۔ اس نظریے میں اعداد کی خصوصیات اور ان کے رشتوں ، خاص کر مثبت اشاروں کی بات کی جاتی ہے۔ 

مطالعہ کے اس شعبے نے ویکُنٹنا تھن کو رمز نگاری کی جانب بڑھایا جسے وہ ’’ عصر جدید میں عددی نظریہ کا سب سے اہم اطلاق ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔ آج ویکُنٹناتھن ، جو ایم آئی ٹی میں الیکٹریکل انجینئر نگ اور کمپیوٹر سائنس کے حال ہی میں مقرر کیے گئے ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں ، 

رمز نگاری کو قلعہ بند کرنے کے لیے عددی نظریہ اور دیگر ریاضیاتی تصورات کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ انہیں نئے اطلاقات کے لیے استعمال کیا جاسکے اور انتہائی سخت مخالفین کا سامنا کرنے کے لیے بھی انہیں کام میں لایا جا سکے۔ 

ان کی توجہ کا ایک بڑا مرکز زیادہ مؤثر رمز گزاری تکنیکوں کا فروغ ہے جن کو اس حد تک بڑھایا جا سکتا ہے کہ زیادہ بڑے ڈاٹا سیٹوں پر پیچیدہ کمپیوٹیشن کی جا سکے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک سے زیادہ پارٹیاں ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ اعداد و شمار حسب دستور نجی رہیں ، کسی ڈیٹا کا اشتراک کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر محقق جینومِک ڈیٹا  اور مریض کے ڈیٹا دونوں کا ایک ساتھ تجزیہ کریں تووہ بیماریوں سے منسلک جینومک ترتیبات کی شناخت کرنے کے لائق ہو سکیںلیکن جینوم اور مریضوں کے بارے میں اطلاعات الگ الگ لوگ نجی رکھ سکیں ۔ اس لیے اس شعبے میں اشتراک مشکل ہے اور ویکُنٹنا تھن اسی خلیج کوپاٹنا چاہتے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں ’’ان مقاصد کے لیے ڈیٹا ہر جگہ دستیاب ہے لیکن اسے محفوظ تہہ خانے میں رکھا جاتا ہے ۔بہتر رمز گزاری راز داری یقینی بنانے اور اسی کے ساتھ رمز گزار شئے کو رکھنے کی کسی شخص کو اجازت دینے کا ، تاکہ وہ اس سے کوئی کام کی چیز برآمد کر سکے ، ایک راستہ ہے۔رمز گزاری اور کسی گراں قدر مقصد کے لیے ڈیٹا کا استعمال ایک دوسرے کے لیے مخالفت کرنے والی رکاوٹوںجیسے نہ ہوں ۔ کبھی کبھی آپ دونوں دنیائوں کی بہترین چیزیں حاصل کر سکتے ہیں ۔‘‘

ان کے کام کے ایک حصہ کا مقصدایک ایسی دنیا میں جو بہت جلد انتہائی تیز کوانٹم کمپیوٹروں کا عروج دیکھنے والی ہے ، رمز گزاری کی

فیوچر پروفنگ ہے۔کوانٹم کمپیوٹر،جو اس وقت عہد طفلی میں ہیں ،مادّی سائنس ، دوائوں کی دریافت اور مصنوعی ذہانت سمیت بہت سے شعبوں میں کسی دن انقلاب لا سکتے ہیں ۔ لیکن چوں کہ ان کی رفتار ناقابل یقین ہوگی اس لیے وہ آج کی انتہائی سخت رمز گزاری اسکیموں میں سے ،سب نہ سہی ، بیشتر میں پیش رفت کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے ۔ 

وہ کہتے ہیں ’’اگر آپ کوانٹم کمپیوٹر بنا سکتے ہیں تو رمز گزاری کے تمام موجودہ نظام ، جنہیں آپ انٹرنیٹ پر استعمال کر تے ہیں ، غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ آج یہ بات تقریباً ہر کوئی جانتا ہے اس لیے ضرورت ہے کہ ہم انٹرنیٹ کو محفوظ کرنے کے لیے ، تاکہ وہ کوانٹم کمپیوٹروں کے آجانے کے بعد بھی محفوظ رہیں ، دوسری صورتیں نکالیں۔

قدم بہ قدم 

رمز نگاری اور ایم آئی ٹی تک ویکُنٹناتھن کا سفر ، اپنی علمی دلچسپیوں کی بڑے شہروں اور اداروں تک پیروی کے قدم بہ قدم عمل اور اس پورے سفر میں خود اپنی تعلیم کرنے کا سلسلہ ہے ۔یہ سفرانڈیا کے نیّا تنکارا میں شروع ہوا ،یہ ایک اتنی چھوٹی جگہ ہے کہ ویکُنٹناتھن کے مطابق ’’ اسے نقشے پر تلاش کرنا آپ کو مشکل لگے گا۔‘‘  آج بھی ان کے اور ان کی اہلیہ کے درمیان اس پر اتفاق نہیں کہ اس کو قصبہ کہا جائے یا گائوں ۔ وہ آخر الذکر پر اڑے ہوئے ہیں ’’وہاں ایک شاپنگ مال تک نہیں، اور اسی معیار کو سامنے رکھتے ہوئے میں اسے گائوں کہتا ہوں‘‘۔

۱۲ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ، اپنے دادا کی پرانی کتابیں پڑھ کر ویکُنٹناتھن نے اتنا کچھ علم حاصل کر لیا تھا کہ انہیں حساب داری کی تسلیم شدہ مکمل فہم حاصل ہو گئی تھی ۔انہوں نے کہا ’’ یہ درست نہیں تھا اور اس میں غلطیوں کا احتمال بہت زیادہ تھا۔ لیکن آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں آپ کو بہتر اساتذہ مل جاتے ہیں۔ کوئی آدمی بہترین کام یہی کر سکتا ہے کہ وہ ان خیالات کے بارے میں خود اپنے آپ کو سکھا ئے ، اس میں جد و جہد کرے۔اس میں غلطی ہوگی، اور بعد میں آپ کو روشنی مل جائے گی‘‘۔

اس علاقہ کے ہائی اسکول میں پڑھائی کے بعد ۱۵سال کی عمر میںانہوں نے اپنے گھر سے ہی تقریباً ۲۰ میل دور ،قریب کے زیادہ بڑے شہر تری وندرم میں ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے پری یونیورسٹی پروگرام میں داخلہ لے لیا۔جہاں ان کی ملاقات ہم جماعتوں کے ساتھ ہوئی ۔ انہوں نے بتایا’’ ایسے لوگ زیادہ نہیں تھے جو حساب اور سائنس کا خیال کرتے ہوں لیکن ہم میں سے کئی لوگ آپس میں متحد ہوئے اور ہم نے اپنے طور پر ایڈوانس میتھ خود سیکھی ۔بیشک اس میں کچھ نقصان تھا ۔ ہندوستان کے ٹریفک میں ۲۰ میل چلنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے وہ بھی سرکاری بس میں جو کہ ٹھسا ٹھس بھری ہوتی تھی۔ وہاں سفر کرنا دنیا میں کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا تھا۔‘‘

۲ برس بعد انہوں نے آئی آئی ٹی مدراس میں داخلہ لے لیا جو کہ ملک کے بڑے شہروں میں سے ایک میں واقع انجینئر نگ کا ایک بڑا کالج ہے ۔وہاں سے معاملہ شروع ہو۔ جیسا کہ اپنے پچھلے کالج میں انہوں نے کیا تھا ۔ یہاں بھی انہوں نے بھائیوں کا ایک گروپ بنایا ۔یہ طلبہ کی ایک تثلیث تھی جس میں وہ خود شامل تھے اور ان لوگوں نے رمز گزاری پڑھنا شروع کی ۔

اس کے بعد ان کے جونیئر سال میں ان کے پروفیسر نے  لیکچر نوٹس آن کرپٹو گرافیکی ایک نقل انہیں دی۔ یہ ۳۰۰ صفحات پر مشتمل ایک پرنٹ آئوٹ تھا جس کے اندر ایم آئی ٹی میں پڑھائے جانے والے رمز نگاری کے ایک کورس کے شفیع گولڈ واسر اور مہر بلاری کے ترتیب دیے گئے نوٹس تھے ۔ویکُنٹناتھن نے بتایا ’’ہمارے پروفیسر نے یہ ہمیں دیا اور کہا جائو اسے پڑھو اور ایک سال تک مجھے پریشان مت کرو۔‘‘

 شعبہ کے دیو پیکروں کے ساتھ کام

ویکُنٹناتھن نے رمز نویسی میں اپنی دلچسپی کو گریجویٹ اسکول تک لے جانے کی کوشش کی ۔جب انہیں ایم آئی ٹی اور برکلے کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا دونوں میں داخلہ منظور ی مل گئی تو ویکُنٹناتھن یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے رجوع کیا اور مشورہ چاہا کہ داخلہ کہاں لیا جائے۔وہ بتاتے ہیں ’’ میں نے والد کو گوگل سے کیمرج کی تصویریں دکھائیں جہاں اس وقت جاڑوں کے دن تھے اور چارلس ندی منجمد ہورہی تھی۔ پھر میں نے والد کو برکلے کی تصویر دکھائی جہاں دھوپ چمک رہی تھی اور شہر زندگی سے بھرپور نظر آرہا تھا ۔ تصویریں دیکھ کر والد نے برکلے جانے کے حق میں فیصلہ صادر کیا ۔ مگر میں نے کہا نہیں ، میں ایم آئی ٹی جا رہا ہوں ۔ میری یہ پسنداس لیے تھی کیوں کہ اس شعبے کے دیو پیکر افراد وہیں ملنے تھے۔ ‘‘ 

گولڈ واسرو ان دیو پیکر افراد میں سے ایک تھیں جو ان کے گریجویٹ تعلیم کی مشیر بن گئیں ۔ وہ باخبر کرتے ہیں ’’ میں نے ان کی کتابوں سے آغاز کرنا سیکھا تھا ، اس لیے یہ بہت شاندار تھا۔‘‘

ایم آئی ٹی میں ویکُنٹناتھن کے کچھ اہم کام کوانٹم کمپیوٹنگ کی مقبولیت کے تناظر میں رمز نویسی کو پھر سے مضبوط کرنے کے ارد گرد گھومتے تھے۔ اس میں جالیوں کا استعمال شامل تھا جو ایک ایسی طرز تعمیر ہے جس میں نمبر تھیوری کا استعمال کیا جاتا ہے اور انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی مسائل کے اندر اعداد و شمار کو اس طرح چھپا دیا جاتا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر بھی انہیں نہ پا سکیں۔انہوں نے پی ایم ڈی کی جو پڑھائی کی اس کا خاتمہ جالیوں پر مبنی رمز نویسی کی اسکیموں کو مل کر ایجاد کرنے پر ہوا ۔ انہوں نے  ٹول کِٹ ایجاد کی تاکہ دوسروں کو ان اسکیموں کی تیاری اور تبدیلی کے بارے میں پڑھایا جا سکے۔ یہ کوشش انہوں نے اپنے سابق ہم جماعت اور گرو کرش پیکرٹ اور اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے  کریڈ جینٹری کے ساتھ مل کر کی ۔

پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ویکُنٹناتھن نے آئی بی ایم اور مائیکرو سافٹ میں مختصر وقت کے لیے محقق کے طور پر کام کیا اور اسی دوران جینٹری نے ہو بہو ایک جیسی رمز نویسی ایجاد کی۔ ویکُنٹناتھن نے بتایا ’’ اس ایجاد نے رمزنویسی میں کام کرنے والے ہم تمام لوگوں کی دنیا بدل کر رکھ دی ۔لیکن اس کا اصل نمونہ کمپیوٹر کے کام میں استعمال ہونے کی صورت میں اتنا مہنگا تھا کہ اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ تھوڑی دیر کو پوری طرح ہو بہو ایک جیسی رمز نویسی بچوں کے لیے کھیلنے کی عمدہ چیز تھی مگر کسی اور صورت میں بیکار تھی۔‘‘

سنہ ۲۰۰۰ء کی دہائی کے آخری برسوں میں ویکُنٹناتھن نے جینٹری  اور  وائزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے  زویکا براکرسکی کے ساتھ مل کر جالیوں کو پوری طرح ہو بہو ایک جیسی رمز نویسی کی تکنیک میں مربوط کر دیا اور اس طرح ایک ایسا ماڈل تخلیق کیا جس سے زیادہ بہتر سلامتی اور اثر انگیزی حاصل ہوسکی۔ اس کے بعد سے دیگر محققین نے اس ماڈل کے او پر مزید کام کیا ہے ۔ یہ ماڈل

 گِٹ ہَبکمپنی کے پاس بی جی وی (براکرسکی ۔جینٹری ۔ویکُنٹناتھن )کے طور پر مفت دستیاب ہے ۔ویکُنٹناتھن نے بتایا ’’ لوگوں نے اس نظام کو بار بار بہتر بنایا ہے اور ۱۰ برسوں میں اس نے جس قدر ترقی کی ہے اس کا دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ ‘‘

ویکُنٹناتھن نے اس کے بعد یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں چند برس پڑھایا ۔ ایم آئی ٹی میں ایک وزیٹنگ ریسرچر کے طور پر کام کرتے ہوئے ایک موسم گرما کے دوران انہیں لگا کہ انہیں یہیں واپس آنا ہوگا۔ وہ بتاتے ہیں ’’مجھے معلوم تھا کہ اس جگہ پر جو لوگ ہیں وہ بے حد توانائی، تخلیقیت ، جوش اور امید والے لوگ ہیں۔ اسی چیز نے مجھے واپس بلا لیا ۔ ‘‘

انہوں نے ۲۰۱۳ ء میں ایم آئی ٹی میں پڑھانا شروع کیا ۔ اس سے ۲ برس پیشتر انہوں نے گولڈ اسرو اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایک اسٹارٹ اپ کمپنی  ڈوالیٹی ٹیکنالوجیز قائم کی تھی جس کا مقصد رمز نویسی کی ایسی تکنیک ایجاد کرنا تھا جس سے استعمال کنندگان پیچیدہ  کمپیوٹیشن اور رمز نویس اعداد و شمار پر تحلیل و تجزیہ کا کام کرنے کے اہل ہوسکیں ۔ ویکُنٹناتھن کے لیے یہ اسٹارٹ اپ کمپنی اس کی نمائندہ ہے کہ ان تمام برسوں کے دوران انہوں نے جن ریاضیاتی تصورات پر محنت کی تھی وہ ثمر آور ثابت ہوئے۔ وہ کہتے ہیں ’’ مجرّد عددی نظریہ کو ان بہت ٹھوس اطلاقات میں بدلتے دیکھنا بہت ہیجان خیز ہے۔ ‘‘

 

ایم آئی ٹی نیوز کی اجازت سے دوبارہ شائع کیا گیا۔ پہلی باریہ مضمون ایم آئی ٹی کے سلائس میں شائع ہواتھا ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط