مرکز

ادویات اور تکنیک کا انضمام

ہارورڈ یونیورسٹی کی طالبہ کاویہ کوپاراپو حیات بخش دوائوں کی ایجاد کے لیے دوا ئوں اور تکنیک کے نقطہ انقطاع پر کام کررہی ہیں۔ 

ہارورڈ یونیورسٹی میں پہلے برس کی طالبہ کاویہ کوپاراپو کو  گلیو ویژن کی ایجاد کے لیے علمی سال ۱۹۔۲۰۱۸ ء کے  نیشنل اسٹیم ایجوکیشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ گلیو ویژن ایک درست طبی پلیٹ فارم ہے جسے مصنوعی ذہانت سے تقویت ملتی ہے۔ اور یہ طریقہ روایتی طریقوں کے برخلاف بہت کم وقت اور لاگت میں انسانی جسم میں رسولی کی موجودگی کی تصدیق کر دیتا ہے۔  

علاج کے لیے گلیو ویژن میں بے شمار طریقے موجود ہیں۔ امریکی صدارتی اسکالر قرار دیے جانے ،تہیئل فیلوشپکے فائنل تک رسائی پانے،ویب ایم ڈی ہیلتھ ہیروبننے وغیر ہ سے کاویہ کی اس پہل کے عملی اطلاقات اجاگر ہوئے ہیں ۔ 

گلیو ویژن کاویہ کی پہلی ایجاد نہیں ۔ ۱۷ برس کی عمر میں ہی انہوں نے  آئی اَیگنوسِس بنایا جو ایک تھری ڈی مطبوعہ لینس نظام ہے جس کے ساتھ ایک اسمارٹ فون ایپ بھی منسلک ہے۔ اس آلے کا کام یہ ہے کہ یہ بہت قریب سے آنکھ کے پردے کی تصویر کھینچتا ہے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے اس کا تجزیہ کرتا ہے۔اس تجزیے کے ذیابیطس کے مریضوں کے آنکھ کے پردے کے علاج کے حوالے سے تشخیصی مضمرات ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ انسانوں کو اندھا بنا سکتی ہے۔ یہ طریقہ علاج موثر ثابت ہوا ۔ اس کے ذریعے آنکھوں کی تفصیلی جانچ کی ضرورت سے بچنا بھی ممکن ہو گیا۔ 

کاویہ نے بتایا کہ اس ایجاد کی جڑیں ان کے خاندان اور اس کی ضرورت میں پیوست ہیں۔انڈیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہنے والے ان کے دادا خوش قسمت تھے کہ ان کے پاس ایک بڑے اسپتال میں جا کر اپنے مرض کی تشخیص کرانے کے وسائل موجود تھے لیکن ترقی پذیر ملکوں میں یا دیہی علاقوں میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کو کسی ماہر امراض چشم تک رسائی حاصل نہیں ۔

اس طرح آئی اَیگنوسِس یعنی آنکھوں کی بیماریوں کی اس تشخیص کی پہلی آزمائش ایک اسپتال میں ہوئی جہاں دیہی علاقے کے غریب محلّے کے لوگوں تک رسائی حاصل کی گئی۔کاویہ نے بتایا کہ وہاں اس آلے کو استعمال کرنے سے پہلے روایتی آلات استعمال کرنے کا طریقہ رائج تھا جس کے تحت موٹر سائیکلوں کے پیچھے آنکھ کے پردے کی جانچ کے بڑے بڑے کیمرے لاد کر لانے کی ضرورت پڑتی تھی۔

گلیو ویژن اس چیز کو  گلیو بلاسٹو ما تک لے گیا جو دماغ کے کینسر کی ایک جارحانہ قسم ہے۔ کاویہ نے بتایا ’’ حیاتیاتی تکنیک کو زیادہ قابل رسا بنانے کے لیے کمپیوٹر سائنس کا استعمال کرنے میں مَیں نے اپنی سبقت کا استعمال کیا ۔‘‘

ایک حالیہ ٹیڈ ٹاک میں انہوں نے درست دوا یا دوسرے الفاظ میں انفرادی خصوصیات کے مطابق طبّی علاج وضع کرنے کی اہمیت پر تبادلۂ خیالات کیا۔

جہاں تک سرطان کا سوال ہے تو کاویہ بتاتی ہیں ’’ درست دوا کا مطلب ایک بنیادی سچائی کو تسلیم کرنا ہے ۔ اور وہ یہ کہ سرطان جینیاتی تغیرات سے پیدا ہوتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک سے زائد مریضوں کو ایک ہی قسم کا سرطان لاحق ہونے کی تشخیص ہوجائے مگر مرض کے سالماتی اسباب ایک دوسرے سے جداگانہ بھی ہوسکتے ہیں ۔ ‘‘ 

اسی لیے یہ بات ضروری ہے کہ علاج ہر مریض کی الگ الگ کیفیات کے مطابق کیا جائے۔سالماتی تبدیلیوں کی شناخت ضروری ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ علاج اسی شناخت کی پیروی میں ہو۔ کاویہ کی تحقیق کا مرکز کسی رسولی کے بارے میں معلومات کا حصول ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ عمل بہت سست ہے کیوں کہ گلیو بلاسٹوما جیسے سرطان میں مریض کے بچنے کی اوسط شرح ایک برس سے بھی کم ہے ۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع ہوتا ہے۔ 

کاویہ نے بتایا کہ نئے اعداد و شمار کے ساتھ معلوماتی اندازے قائم کرنے میں کمپیوٹر کی مدد کے لیے تسلیم شدہ اعداد و شمار کا استعمال مرض کی تشخیص کے عمل کو ڈرامائی طور پر تیز کر سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت ایک تیزی سے پھلتی پھولتی چیز ہے مگر دوا کے لیے اس کے مضمرات نے صحیح معنوں میں اب ابھرنا شروع کیا ہے۔انہوں نے بتایا ’’ میں سمجھتی ہوں کہ مصنوعی ذہانت کے امکان اور طاقت کو سمجھ کر ہم اس طاقتور ٹیکنالوجی کو وہ معلومات حاصل کرنے کے لیے جو ڈاکٹر(مثال کے طور پر دماغ کے بایوپسی اسکین )کے ذریعہ حاصل کر رہے ہیں ، استعمال اور اس تصویر سے رسولی کے سالماتی اطلاق کی پیش قیاسی کرسکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے یہیں گلیو ویژن سے ایسی تکنیک حاصل کرنے کی کوشش کی تھی جو سرطان کے علاج میں ایک بڑا قدم بننے کے امکان سے بھری ہوئی ہے۔ 

ان غیر معمولی کمالات کے علاوہ کاویہ آنے والی نسلوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کے لیے حوصلہ دے رہی ہیں۔وہ girlscomputingleague.orgکی بانی اور سی ای او ہیں ۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس نے کمپیوٹر سائنس پرو گرامنگ کی دست گیری اور اس میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم جمع کی ہے اور پورے امریکہ میں کم و بیش ۴۰۰۰ طلبہ پر مثبت اثر ڈالا ہے۔اس کام کے مضمرات وسیع ہیں۔ یہی بات پروگرام کے نظری دستاویز میں اس طور پر کہی گئی ہے:’’ہم یہ دیکھنے کی آرزو کرتے ہیں کہ تکنیک کی کارگاہوں میں کم نمائندگی والے گروپ پھولیں پھلیں اور ایسے نئے تنا ظرات میں نئے عوامل اور صورت حال کومن و عن رکھنے کو چیلنج کرنے والی نئی فکر کے ساتھ اس برادری کو گوناگونیت ملے۔ ہم اس کی بھی تمنا کرتے ہیں کہ ہر کس و ناکس کو تکنیک تک رسائی ملے اور ہر نسل اور برادری کے مشتاق طلبہ دنیا کو بہتر بنانے کے سلسلے میں اپنے طور پر مداخلت کریں اور تبدیلی لائیں۔‘‘

 

ٹریور لارینس جوکِمس نیویارک یونیورسٹی میں تحریر، ادب اور معاصر ثقافت کی تدریس کرتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط