مرکز

حیاتیاتی اور شہری تنوع کا تحفظ

فل برائٹ۔نہرو ریسرچ اسکالر اور لاس اینجلس میں رہنے والے ڈینیل فلپس نے شہری حیاتیات اور بنیادی ڈھانچے کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک برس تک بینگالورو میں قیام کیا۔

ڈینیل فلپس نے کیلیفورنیا میں اپنے گھر کے باہر مٹی کے گھروندے بناتے اور مینڈک پکڑتے ہوئے اپنا بچپن بتایا۔ مگر جب وہ بڑے ہوئے اور انہوں نے شہری منصوبہ بندی سے متعلق مسائل کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تو یہیں انہیں اپنی دلچسپی کا سامان ملا۔

اب انہوں نے مختلف شہروں اور قدرت کے لیے مخصوص اپنے دونوں شوق کو اپنی عملی زندگی میں شامل کر لیا ہے۔ وہ اندنوں قدرتی مناظر سے متعلق فن تعمیر کے شعبے میں سرگرم ہیں اور شہری ماحولیات کے ماہر بن چکے ہیں۔ ان کے اِنہیں شوق نے اُنہیں  ۱۷۔۲۰۱۶ تعلیمی سال میں فل برائٹ ۔ نہرو اسکالر کے طور پر انڈیا آنے کا موقع فراہم کیا۔

فلپس نے کیلیفورنیا کے اوٹِس کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں تعلیم حاصل کی جہاں سے انہیں ۲۰۰۸ ء میں گریجویٹ ڈگری ملی۔یہیں ان کی ملاقات ان کی ہونے والی شریک حیات اور تخلیقی شراکت دار کِم کارلسرَڈ سے ہوئی۔ ان دونوں نے مل کرکامن اسٹوڈیوکے نام سے ایک تخلیقی تنظیم بنائی ۔ فلپس کہتے ہیں ’’ خاکہ کشی کرنا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ عمل کو انجام دینے کی غرض سے لگائی جانے والی صدا ہے۔‘‘

فل برائٹ ۔ نہرو اسٹوڈنٹ ریسرچ گرانٹ کے لیے دونوں نے ایک برس تک بینگالورو میں قیام کیا۔فلپس نے انڈیا کے شہری مستقبل کو ایک شکل دینے کے لیے سرگرم جَن اربن اسپیس فاؤنڈیشن (جے یو ایس پی) اور  اشوکا ٹرسٹ فار ریسرچ اِن اِکولوجی اینڈ دی انوائرونمنٹ (اے ٹی آر ای ای) کے ساتھ اشتراک میں شہر ی ماحولیات کا معائنہ کیا۔

فلپس کہتے ہیں ’’ شہروں کے مستقبل میں دلچسپی لینے والے ایک امریکی ڈیزائنر کے طور پر میں بینگالورو کی جانب راغب ہوتا چلا گیا کیوں کہ یہ دنیا بھر میں بہت تیز رفتار سے ترقی کرتے شہری انبار میں سے ایک ہے جہاں بہت سارے شریر چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو یہاں مستقبل میں زندگی بسر کرنے کی اہلیت کو بڑا غیر یقینی بناتاہے۔ ‘‘

بایو ڈایورسٹی ان بینگلور: ایکسپلورنگ ماڈلس فار کولیبوریٹو ریزیلینس کے عنوان سے اپنے فل برائٹ۔ نہرو پروجیکٹ کے لیے فلپس نے مختلف شعبوں کی ٹیم کے ساتھ کا م کیا۔فلپس نے اس کے لیے بین مضامینی ٹیم کے ساتھ کام کیا تاکہ گندے پانی کی صفائی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے لیے تیار کی گئی مشین میں تبدیلیوں کی خاطر (جسے پروویزنل گرین انفرا اسٹرکچر  یا پی جی آئی کہا جاتا ہے)نئی شکلوں کے لیے ایک تصور تشکیل پاسکے۔ وہ اس کوشش کو  اَربن اکیو پنکچرکہتے ہیں کیوں کہ یہ شہرکے گندے پانی میں نقصان دہ آلودگی کے ارتکاز کو کم کرنے کے لیے پانی صاف کرنے کے قدرتی اصولوں پر مبنی ہے۔اس اصول کے قابل عمل ہونے کی صلاحیت کو ثابت کرنے کی خاطر انہوں نے تجربہ گاہوں میں اور تجربہ گاہوں کے باہر چھوٹے پیمانے کے مطالعے کے لیے بہت سارے تجربات کا اہتمام کیا۔ان تجربات کے نتائج کو  واٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نامی جریدے میں حال ہی میں شائع کیا گیا ہے۔

فلپس بتاتے ہیں ’’ اس ابتدائی تجربے کی کامیابی کی بنیاد پرشہر کے بہتے گندے پانی کا استعمال کرتے ہوئے تجربہ گاہ کے باہروسیع مطالعے کے اہتمام میں مددکی خاطر میں اسی موسم گرما میں بینگالورو واپس آیا۔‘‘

ان کا حتمی مقصد اپنے کام کے وسیع مطالعے کو شہر بھر میں استعمال میں لانا ہے۔وہ کہتے ہیں ’’ سبز بنیادی ڈھانچے کے پھلتے پھولتے شعبے میں نئی معلومات کو شامل کرنے کے علاوہ ہمیں یقین ہے کہ جن طریقوں کو ہم بینگالورو کے لیے فروغ دے رہے ہیں وہ جنوبی ایشیا کے دیگر بہت سارے بڑے شہروں میں آبی آلودگی کے اس طرح کے مسائل سے نمٹنے میں بڑے پیمانے پرموزوں ہوں گے۔ ‘‘

فلپس کو اس بات کا احساس ہے کہ امریکی ہونے کی ان کی حیثیت کا اثر ان کے کام پر پڑنا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں ’’ اس پوری تحقیق کے دوران مجھے اپنے کام میں ثقافتی طور پر ایک خارجی اور نسبتاََ ایک مراعات یافتہ طبقہ ، نسل اور صنف سے تعلق رکھنے والے شخص ہونے کا احساس ہوتا رہا (اوریہ احساس مجھے مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا)۔ ا س سیاق و سباق میں اپنے اقدار کو تھوپنے کی جگہ میںنے فکر وخیالکے نئے انداز اور معلومات کے نئے طریقوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘

فلپس کہتے ہیں کہ اس پروجیکٹ کی زیادہ تر شرکاء ہندوستانی خواتین ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ’’ ایک بین مضامینی معاون، ساتھی اور اس کامیابی کو ضابطۂ تحریر میں لانے والے شریک مصنف کے طور پر ان کے ساتھ رہنا میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ میں اس بات کے لیے کوشاں ہوں کہ ایک دن میں اسی گرم جوشی سے امریکہ میں ان کی میزبانی کروں جس فراخدلی کے ساتھ انہوں نے انڈیا میں میرے قیام کے دوران میری میزبانی کی ہے۔‘‘

اپنے تجربات سے ترغیب پاکر فلپس یونیورسٹی آ ف مشی گن کے اسکول فار انوائرونمنٹ اینڈ سسٹین ایبلٹی سے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ ہم لوگ ایک ناگزیراور تیز رفتار سے انجام پانے والی عالمی تبدیلیوں کے دور میں ہیںجو اجتماعی طو ر پرکسی چیز کو اپنانے کی ہماری صلاحیت کو چیلنج کرنے والی ہے۔ ہم ٹوتھ پیسٹ کو ٹیوب میں پھر سے نہیں ڈال سکتے مگر آگے بڑھنے میں ہم بڑی ہوشیاری کے ساتھ کام لینے کی کوشش تو کر ہی سکتے ہیں۔ ‘‘

اس کے حوالے سے ان کا مشورہ ہے کہ ہر شخص ماحولیات میں بہتری لانے کے لیے اپنے کردار کی جانچ شروع کرے۔ وہ کہتے ہیں ’’ اگر ہم فطرت کو صرف ابتدائی دور اور بغیر آبادی کی ایک جگہ پر مبنی ختم ہوتے وسائل کے طور پر ہی دیکھیں تو ہم ناکامی اور افسردگی کا شکارہو جائیں گے۔ اس کے برخلاف اگر ہم اسے اپنے سے بہت زیادہ قریب ایک چیز کے طور پر دیکھیں، ایک ایسی چیز جس سے ہماری ملاقات اور بات چیت روزانہ ہو۔ ایک ایسی چیز جو ہماری شہری زندگی کا حصہ ہو اور جسے ہم لوگ تشکیل دے سکتے ہیں اور برقرار رکھ سکتے ہیں تو یہ ہمارے نظریے کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔ ‘‘

 

کینڈِس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم ایک قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لیے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط