مرکز

معلومات سے کام نکالنا

فل برائٹ نہروماسٹرس فیلو ابھیلاشا پوروارفضائی آلودگی کے خلاف جدوجہد میں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہیں۔

ابھیلاشا پور وار کے لیے حصولِ علم برائے علم ایک نہایت کارگر ہدف ہے۔وہ کہتی ہیں ’’ میں ایک غیر دلچسپ قسم کی انسان ہوں ۔ میں نے ہمیشہ سے اس چیز میں یقین کیا ہے کہ علم کا تعاقب کسی اور چیز کے لیے نہیں کرنا چاہئے، اونچی تنخواہ یا ملازمت کے لیے بھی نہیں ۔ علم کی جستجو صرف علم اوراس کی خالص ترین صورت کے حصول کے لیے ہی ہونی چاہئے۔ ‘‘ 

یعنی پوروار کی تعلیم اور ان کی عملی زندگی کے پیش نظر ان کے اب تک کے سفر کو اس مقولہ کی مثال کہا جاسکتا ہے کہ علم طاقت ہے۔ 

پوروار گروگرام کو مرکز بناکر سرگرم جغرافیائی اعداد شمار سے نتائج اخذ کرنے والی نووارد کمپنی  بلو اسکائی انیلیٹِکس کی بانی اور سی ای او ہیں۔انہوں نے سیکنڈری تعلیم کے بعد آئی آئی ٹی (بنارس ہندو یونیورسٹی)بنارس میں اطلاقی علم کیمیا میں بی ٹیک سے آغاز کیا اور  انٹیگریٹیڈ ماسٹر آف ٹیکنالوجی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے اونچی تنخواہ والی نوکریوں کی بہ نسبت سرکاری اور سرکاری محکمہ جاتی ملازمت کو ترجیح دی اورحکومت ہند کی وزارت ِ ماحولیات ، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی اور ریاستی آلودگی کنڑول بورڈ میں فضائی آلودگی کی پالیسی سے متعلق صلاح کار کا عہدہ پسند کیا۔ حال آں کہ وہ اس بات کو بخوبی جانتی تھیں کہ گریجویٹ اسکول کی پڑھائی ہمیشہ سے منصوبے کا حصہ تھی۔ تبھی اچانک ان کے علم میں فل برائٹ۔ نہرو پروگرام کی بات آئی۔ انہوں نے فل برائٹ ۔ نہرو ماسٹر فیلو شپ کے لیے درخواست دی۔ اس فیلو شپ سے انہیں ۱۷۔۲۰۱۵ء تک کا وقت امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر  نیو ہیوین میں واقع ییل یونیورسٹی میں بسر کرنے کا موقع ملا۔ گرچہ وہ وہاں ماحولیاتی پالیسیاں پڑھنے کے لیے گئی تھیں مگر انہوں نے یونیورسٹی میں اپنی دانشورانہ دلچسپیوں کو بھی کریدا ۔ انہوں نے بڑے پیمانے کے اقتصادی عناصر اور شیئر بازار پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دی کیوں ان کے خیال میں یہی چیزیں دنیا کا کاروبار چلاتی ہیں۔ 

پوروار ۲۰۱۸ ء میں انڈیا واپس آ گئیں کیوں کہ وہ خود اپنے دم پر کچھ کرنا چاہتی تھیں۔وہ اپنے ساتھ یہ فہم بھی لائیں کہ اعداد وشمار میں یہ اہلیت ہے کہ وہ کسی نظام کو بدل کر رکھ دے۔ وہ ملک کی فضائی آلودگی کے بارے میں کچھ کرنے کی خواہش بھی ساتھ لائیں۔ وہ بتاتی ہیں ’’ ہم نے محسوس کیا کہ آلودگی سے متعلق اعداد و شمار تو ہر جگہ موجود ہیں مگر کوئی نہیں جو ان کا تجزیہ کر سکے۔ہم ایسی مشینیں بنا رہے ہیں جو ان کا تجزیہ کر یں اور اس کام کو بہت خود کار طریقے سے انجام دیں۔ ‘‘ 

بلو اسکائی ،ناسا اور یوروپی خلائی ایجنسی کے سیارچوں سے زمینی سینسروں کے ساتھ مل کر سیارچہ ڈیٹا وسائل کو یکجا کرتی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت سے تحریک یافتہ جغرافیائی اعداد وشمارکی ایک ریفائنری بنائے۔یہ کمپنی بریزوکی بھی پیشکش کرتی ہے جو ہوا کے معیار سے متعلق ڈیٹا اَیپ ہے جس کا مقصد عوام میں بیداری لانا اور استعمال کرنے والوں کی آلودہ فضا میں رسائی کو محدود کرنا ہے۔یہ عوام کو مفت میں دستیاب اَیپ ہے جو باضابطہ استعمال کنندگان کو مفت ملتا ہے مگر اداروں ، محققین اور انضباط کاروں جیسے طاقت ور استعمال کنندگان کے لیے چندہ پر مبنی قیمت کے ماڈل پر دستیاب ہے۔ پور وار کہتی ہیں ’’ ہم نے بریزو کا ایک  بیٹا ورژن  پچھلے سال جاری کیا جس کو ۵ ہزار سے زیادہ استعمال کنندگان نے استعمال کیا جب کہ اس کی بازارکاری پر ایک دھیلا بھی خرچ نہیں ہوا۔ ہم لوگ اس وقت اس ڈیزائن میں تبدیلیاں کر رہے اور  کوڈ بیس کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ اسے دوبارہ انڈیا میں مقامی زبان کے پہلے معیاری ڈیٹا اَیپ کے طور پر جاری کر سکیں۔ ‘‘

بلو اسکائی اب زوری تیار کر رہی ہے جو مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایک پلیٹ فارم ہے جو قاعدوں اور ضابطوں کو نافذ کرنے والے حکام کو کھیتوں اور جنگلات میں لگنے والی آگ پر نظر رکھنے اور اس سلسلے میں مناسب کاروائی کرنے میں مدد دیتا ہے۔پوروار کو یقین ہے ’’ ہمیں اعتماد ہے کہ ۵ برسوں میں ہماری کمپنی جغرافیائی اعداد وشمار سے نتائج اخذ کرنے کے سلسلے میں ایک عالمی کمپنی بن جائے گی اور ہم ہوا اور پانی کے معیار اور آلودگی کے ذرائع سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے والے صف اوّل کے لوگوں میں شامل ہوں گے۔ ‘‘  

پور وار کے مطابق ان کی کمپنی نے دو ہدف مقرر کیے ہیں۔ پہلی چیز انڈیا میں فضائی آلودگی کے ذمہ دار افراد اور اداروں کی نشاندہی ہے جس کے لیے ہم سیارچہ کے اعداد و شمار کا تجزیہ کریں گے، جس سے اس بات کا انکشاف ہوگا کہ صحیح معنوں میں آلودگی کے ذمہ دار کون لوگ ہیں اور آلودگی میں ان کی جانب سے کتنا اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری چیز کثافت سے متاثر شہروں اور علاقوں کے باشندگان کو احتیاطی اقدامات کا اہل بنا ناہے۔ مثال کے طور پر جس دن آلودگی زیادہ ہو اس دن یہ بات ضروری ہے کہ بچوں کو گھر کے اندر ہوا صاف کرنے والی مشین کے قریب رکھا جائے اور کھیلنے کے لیے انہیں باہر نہ لے جایا جائے۔ 

پوروار نے بتایا کہ مذکورہ اہداف کو پانے کے لیے وہ چاہتی ہیں کہ بلو اسکائی سرکاری تنظیموں اور تحقیقی تنظیموں کے طرز عمل سے الگ طرز عمل اختیار کرے کیوں کہ یہ تنظیمیں انڈیا میں صنعتوں کو بند کرکے فضائی آلودگی کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ان کے خیال میں فضائی آلودگی کا مسئلہ نظام کی خاکہ کشی کا مسئلہ ہے جسے زیادہ کارگر ٹیکنالوجی کے استعمال سے حل کیے جانے کی ضرورت ہے۔  

پوروار محسوس کرتی ہیں کہ فضائی آلودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے وقت اور وسائل کا استعمال کرنے کا ان کا جو قول و قرارہے وہ براہ راست ان کی اس سوچ سے پیدا ہوا ہے کہ عوام کا پیسہ ان کی ذات پر خرچ ہوا ہے(خاص کرفل برائٹ۔ نہرو فیلو شپ کے ذریعے)جس سے انہیں اس علم اور اعتماد کو حاصل کرنے میں مدد ملی جو انہیں یہاں تک لانے کے لیے ضروری تھا۔

وہ اس معاملے پر خلوص کے ساتھ رائے زنی کرتے ہوئے کہتی ہیں ’’ اس عرفان سے ذمہ داری کا ایک منفرد احساس پیدا ہو کہ اتنے سارے لوگوں نے مسائل کے حل کے لیے مجھ پر اعتماد کیا ، ییل یونیورسٹی میں میری تعلیم کا خرچ عوام کے ذریعہ دیے گئے محصول ہی سے ادا کیا گیا ۔جب تک میں تعلیم حاصل کرتی رہی مجھے زندہ رہنے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ ہر ماہ ایک چیک ملتا  رہا ۔ اور یہ بہت بڑی رعایت تھی ۔ عوام نے میرے اوپر اعتماد کیا ۔ اب میری باری ہے کہ میں اس قرض کو ادا کروں۔‘‘ 

 

کیری لووینتھل میسی نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط