مرکز

قابل تجدید حل

آئی وی ایل پی میں شرکت کرچکیں آستھا گپتا اس مضمون میں اس تبادلہ پروگرام سے حاصل شدہ درس کا اشتراک کرتی ہیں ۔ وہ اس پر بھی روشنی ڈالتی ہیں کہ یہ اسباق ہند واپسی پر ان کے کس طرح کام آئے۔ 

قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال کو اب زیادہ سے زیادہ ایک پائدار مستقبل بنانے کے لیے انتہائی مؤثر حکمت عملیوں میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے محققین اس زمرہ کو وسعت دینے پر اپنی کوششیں مرکوز کر رہے ہیں۔ آستھا گپتا ایسی ہی ایک محقق ہیں۔وہ دہلی میں صاف توانائی کی مشیر کی حیثیت سے کام کرتی ہیں ۔ انہوں نے دہلی کے  دی انرجی اینڈ رسورسیز انسٹی ٹیوٹ (ٹیری )میں کام کیا ہے ۔ ان کے پاس قابل تجدید توانائی اور توانائی تک رسائی کے شعبے میں ۵ برس سے زیادہ کام کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی اور توانائی تک رسائی کی پالیسیوں کے جائزہ اور تجزیہ سے متعلق منصوبوں ، تکنیکی اور اقتصادی نفاذ پذیری، مطالعہ جات اور بنیادی خطوط مطالعات اور وسائل کے تخمینہ پر کام کیا ہے ۔ گپتا نے تربیتی اور اہلیت سازی سے متعلق پروگرام بھی منعقد کیے ہیں۔ ٹیری میں کام کرنے کے دوران انہیں قابل تجدید توانائی اور پائداری پر امریکی محکمۂ خارجہ کے  انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام(آئی وی ایل پی )کے لیے چنا گیا ۔ پیش ہیں ان سے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

پوری دنیا کے بڑے شہروں میں آلودگی کی خطرناک سطح کے پیش نظر چوں کہ عوام کے لیے صاف توانائی تک رسائی وقت کا تقاضا ہے اس لیے آپ اس مسئلے کے کن حلوں کو اپنانے کا مشورہ دیں گی ؟

عوام کے لیے صاف توانائی تک رسائی حکومت ہند کی ترجیحات میں سے ایک بن گئی ہے ۔ ماحول میں آلودگی کی سطح اور اس سے متعلق ماحولیاتی ابتری کے پیش نظر یہ سچ مچ اہم قدم ہے۔ شہروں کو زیادہ قابل بودوباش اور پائدار بنانے کے لیے بعض حل پیش کیے جا سکتے ہیں جیسے کہ تجارتی اور صنعتی زمرات میں گھر کی چھت پر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کا فروغ ،نقل و حمل کے ذرائع (دو پہیہ اور تین پہیہ گاڑیوں)کے لیے صاف ایندھن کا استعمال ، کوڑا کرکٹ کو الگ کرنا (غیر مرکوز توانائی کی پیداواراور استعمال کے لیے حیاتیاتی فضلات کا استعمال)، سرکاری ٹرانسپورٹ کی منصوبہ بندی اور اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی، سڑک پر ڈیزل گاڑیوں کی کمی وغیرہ ۔

انڈیا میں توانائی کے زمرہ  میں بایو ماس ایک اہم جز کیسے بن سکتا ہے ؟

بایو ماس صرف توانائی کا ایک عمدہ ذریعہ ہی نہیں بلکہ کوڑا کرکٹ کا انتظام کرنے میں مددگار ایک حل بھی ہے ۔ کھیتوں میں فصل کی کٹائی کے بعد جلائے جانے والی باقیات اور نامیاتی فضلات کا استعمال نہ صرف اقتصادی اعتبار سے دلکش بلکہ ماحولیاتی اعتبار سے پائدار بھی ہو سکتا ہے۔ توانائی کے مقصد کے لیے بایو ماس کا استعمال نہ صرف اس آلودگی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جو کھلے کھیت میں ان کے جلائے جانے سے پیدا ہوتی ہے بلکہ بایو ماس توانائی پر مبنی حل غیر مرکوز توانائی کی پیداوار اور استعمال کے لیے بایو ماس کو بدلنے کے ذریعہ دیہات میں توانائی تک رسائی بہتر بنانے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔یہ حل دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھانے میں مددگار ہو سکتے ہیں کیوں کہ لوگ بایو ماس ٹیکنالوجی اور پودوں کو جلانے اور ان کا نظم کرنے پر کام کرسکتے ہیں۔ 

ہمیں آئی وی ایل پی کے دوران اپنے تجربات کے بار ے میں کچھ بتائیں۔

مجھے اگست ۲۰۱۸میں قابل تجدید توانائی اورپائداری کے موضوع پرمنعقد آئی وی ایل پی میں شرکت کا موقع ملا۔اس پروگرام کے دوران میرا تجربہ بہت عمدہ تھا ۔ مجھے مختلف ممالک کے لوگوں کے ساتھ ربط ضبط کرنے اور قابل تجدید توانائی اور پائداری کے زمروں میں ان کے اور ان کے ممالک میں زیر عمل کام کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔اس کے علاوہ امریکہ کو مرکز بنا کر سر گرم تنظیموں سے یہ  جاننے کا موقع ملا کہ وہاں توانائی کا شعبہ کس طرح ترقی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پورے امریکہ میں پالیسی اور انضباطی ڈھانچوں کے بارے میں دلچسپ مباحث سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔ آئی وی ایل پی نے ہمیں امریکہ کی سماجی ، ثقافتی اور سرکاری ساخت کے بارے میں جاننے کا موقع دیا ۔مختصر یہ کہ امریکہ کی مکمل تفہیم میں یہ دورہ بہت کارآمدثابت ہوا ۔ 

آپ کے خیال میں آئی وی ایل پی کے تحت کیے جانے والے دورے سے آپ کو کیا بڑے فائدے ہوئے ؟

مجھے آئی وی ایل پی سے جو اہم فائدے ہوئے وہ درج ذیل ہیں:

پہلا،ان ملکوں میں قابل تجدید توانائی کے زمرہ میں آگے بڑھنے کے لیے بہترین طور طریقوں یا ماڈلوں اور چیلنجوں کے بارے میں دو طرفہ سیکھنے کا موقع ملا جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ پائداربن گیا۔ دوسرا، امریکہ کا سماجی و ثقافتی پہلونیز انتظامیہ مجھ پر زیادہ سے زیادہ آشکار ہوئی۔ تیسرا، اس کی گہری سمجھ پیدا ہوئی کہ امریکہ قابل تجدید توانائی اور پائداری کے شعبے میں راہنمائی کرنے میں زیادہ سرگرمی سے اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکہ نے ۵۰ فی صد سے زیادہ قابل تجدید توانائی کے استعمال کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ اس مقصد کے لیے جن اداروں اور ایجنسیوں میں کام ہو رہا ہے ان میں بلدیاتی اورانضباطی کمیشن شامل ہیں جو ان اہداف کو چھونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

ہمیں آگاہ کریں کہ تبادلہ پروگرام کے دوران آپ کا تجربہ کس طور پر انڈیا میں آپ کے کام میں مددگار ثابت ہوا؟ 

آئی وی ایل پی سے مجھے پوری دنیا کے ملکوں میں کیے جانے والے کام کی مجموعی سمجھ بہتر ڈھنگ سے ہوئی ۔ امریکہ میں بہترین طور طریقوں سے معاملات کا مطالعہ کر کے مجھے جو فہم حاصل ہوا اس سے انڈیا میں توانائی کے اس شعبے میں ان مختلف لوگوں کے درمیان بیداری پیدا کرنے میں مدد ملی جن کا کچھ نہ کچھ دائو پر لگا ہوا ہے۔ آئی وی ایل پی سے مجھے دیگر ملکوں میں ہونے والے واقعات کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر جاننے کا موقع ملا۔ نئی جانکاریوں اور بین الاقوامی نیٹ ورک نے مجھے عملی زندگی میں بہتری میں مدد کی۔ 

 

اس زمرہ میں اپنے کام کے بارے میں آپ کے مستقبل کے منصوبے کیا ہیں؟

انڈیا قابل تجدید توانائی کے وسائل سے بھرا ہوا ہے ۔ اس کے حل سے شہری اور دیہی آبادی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ، روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں اور ایک پائدار مستقبل کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ میں ملک کی تمام ریاستوں میں ان کی توانائی کی مانگ کے لیے انتہائی مناسب لائق تجدید توانائی حل کو استعمال کرنے کے بارے میں پالیسیوں سے متعلق مشورہ دینا پسند کروں گی ۔

تبصرہ کرنے کے ضوابط