مرکز

مانسون کی بہتر تفہیم کی پیش قدمی

فل برائٹ ۔ کلام کائمیٹ فیلوتمنا سُبّا انڈیا کے موسمِ گرما کے مانسون کی بہتر تفہیم کے لیے ایرو سول، فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی کے درمیان روابط کی جستجو کرتی ہیں ۔

تمنا سُبّا آسام کی ڈِبروگڑھ یونیورسٹی میں ماحولیاتی سائنس کی ڈوکٹورل اسکالر ہیں۔ وہ اس کے افتتاحی سال(۲۰۱۸۔۲۰۱۷) میں  فل برائٹ ۔ کلام کلائمیٹ فیلو شپ کے لیے درخواست دینے والے ۲۲ افراد میں سے چنی گئی ۳ اسکالرس میں شامل تھیں۔ پین سلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں فیلو شپ کے دوران انہوں نے ایروسول(کسی گیس میں ٹھوس یا مائع ذرات کی موجودگی جو دھوئیں یا دُھند کے باعث بنتے ہیں)، فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی پر توجہ مرکوز کی جس کا مقصدہند کے موسمِ گرما کے مانسون کے بارے میں بہتر تفہیم پیداکرنا تھا۔

پیش ہیں سُبّا سے انٹرویو کے اقتباسات جو فل برائٹ۔ کلام کلائیمیٹ فیلوشپ کے دوران کی گئی ان کی تحقیق اورتحقیق کی بدولت ماحولیاتی سائنس کے شعبے میں ان کے کام میں ملنے والی مدد کا احاطہ کرتے ہیں۔

 

براہ کرم اپنے پس منظر کے بارے میں  کچھ بتا ئیں،اور یہ بھی کہ ماحولیاتی سائنس میں پہلی بار دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟

سائنس کی حیثیت دیو جیسی ہے جب کہ ماحولیاتی سائنس کا رتبہ عظیم الشان ہے۔ میں بچپن سے ہی عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی کے تصورات سے واقف تھی۔جب میں اپنے آبائی شہرکلِمپونگ سے دارجلنگ جاتے ہوئے راستے میں جنگل کو جلتا ہوا دیکھتی تھی تو حیرت زدہ رہ جاتی تھی کہ درختوں کے نقصان کے علاوہ آگ لگنے کی وجہ سے وہاںکتنی زیادہ گرمی اور راکھ پیدا ہوتی ہے۔

طبیعیات کی طالبہ ہونے کے ناطے مجھے ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم (اِسرو) کی طرف سے فضائی آلودگی اور ہوا کے معیار کے مطالعہ کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بھی تجسس اور دلچسپی تھی۔مجھے نومبر ۲۰۱۳ ء میں اِسروجیو اسفیئربایو اسفیئر پروگرام کے تحت آنے والے ایروسول ریڈی ایٹِو فورسنگ اووَر انڈیا(اے آر ایف آئی )پروجیکٹ میں جونیئر ریسرچ فیلو شپ(جے آر ایف) ملی۔ اس کے بعد میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

میری تحقیقی دلچسپیوں میں ایروسولز، بادلوں اور زمین پر گرتی ہوئی بارش کے بارے میں جاننے کے لیے ماڈل سائی مولیشن کے علاوہ زمینی اور مصنوعی سیارہ کی پیمائشوں کا استعمال اور پھر انہیں علاقائی اور عالمی فضائی معیار کی تحقیق پرمنطبق کرنا شامل ہے۔

 

ہندوستانی موسم گرما کے مانسون کو سمجھنے کے لیے ایروسولز اور فضائی آلودگی جیسے موضوعات کا مطالعہ کرنا کیوں ضروری ہے؟

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انسان ماحول پر بڑے طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔موجودہ ماحولیاتی منظر نامے کی بہتر تفہیم کے لیے زمین، ماڈل اور مصنوعی سیارچہ پر مبنی تمام شعبوں میں ماحولیاتی معیارات کا وسیع مطالعہ بہت ضروری ہے۔ جنوبی ایشیا، خاص طور پر ایروسولز میں فضائی آلودگی کی اچھی طرح سے شناخت کرنا اہم ہے کیوں کہ ایروسولز موسمی ارتقا اور ہندوستانی یا ایشیائی موسم گرما کے مانسون کے طویل مدتی تغیر کو بڑی حد تک متاثر کرسکتے ہیں۔

 

فل برائٹ ۔ کلام کلائمیٹ فیلوشپ کے حصے کے طور پر پین سلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں آپ کی بڑی حصولیابیاں کیا تھیں؟

تعلیمی اور پیشہ ورانہ مصروفیت سے ہٹ کر فل برائٹ۔ کلام کلائمیٹ فیلوشپ کا مقصد ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہندکے شہریوں کے مابین افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کرنا ہے۔اس پروگرام کا مقصد آب و ہوا کی تبدیلی کے خلاف لڑنے کے لیے مضبوط بین الاقوامی حکمت عملی تیار کرنا بھی ہے۔

فل برائٹ اسکالر کی حیثیت سے میرا تجربہ انتہائی حوصلہ افزا رہا ہے۔ امریکہ میں ان نو مہینوں کے دوران میں نے ماحولیاتی سائنس پر دنیا کے چند سرکردہ ماہرین کے ساتھ کام کرنا اور سیکھنا شروع کیا اور اس میدان کی کچھ بڑی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی۔اس عرصے میں ایک یادگار تجربہ وہ تھا جب مجھے ناسا کے گوڈارڈ خلائی پرواز مرکز کا دورہ کرنے کا موقع ملا جہاں میں نے  رالف کاہن (سینئرتحقیقی سائنس داں) کے تحقیقی گروپ کے سامنے اپنا کام پیش کیا۔یہ میرے لیے کسی خواب کے سچ ہونے جیسا تھا۔ میں اب بھی اپنے دل کا بڑی تیزی کے ساتھ دھڑکنا یاد کر سکتی ہوں۔

 

 آپ نے ماحولیاتی سائنس کے میدان میں کام  شروع کرنے سے لے کر اب تک کیا بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں؟

تحقیق سے وابستہ ہوئے مجھے تقریباً چھ سال ہو گئے ہیں۔ میں نے پچھلے کچھ سالوں میں اس میدان میں کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ مثال کے طور پر، ماحولیاتی عمل اور ماحولیات اور ماحولیاتی تبدیلی میں ان کی شراکت داری کو سمجھنے کے لیے ماحولیاتی نمونوں کا استعمال زیادہ عام ہو گیا ہے۔زمینی مشاہداتی اسٹیشنوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی سائنس کا مضمون خود بھی متنوع بن گیا ہے جہاںحیاتی کُرّہ ،آبی کُرّہ اور زمین کے ساتھ فضا کے تعامل جیسے نئے مطالعات کا آغاز ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ایروسول اور  ٹریس گیس کی پیمائش میں شامل آلات کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ اس نے محققین کو سائنسی مطالعات کے لیے کارآمد اورقابل اعتماد ڈیٹا سیٹ  حاصل کرنے کی اجازت دی ہے، حتیٰ کہ پیچیدہ خطوں اور سمندروں میں بھی جہاں مشاہدات ناکافی ہیں یا پھر عدم رسائی کی وجہ سے دستیاب نہیں ہیں۔

 

 آپ ماحولیاتی سائنس کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے کسی شخص کو کیا مشورہ دینا چاہیں گی؟

حقیقت سے قریب تر ہونے کے لییایروسول۔ کلائمیٹ انٹریکشن اسٹڈیزکے لیے مضبوط ڈیٹا سیٹ ، مناسب پیمائش اور پیچیدہ ماڈلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا روشن پہلو یہ ہے دنیا میں اس سے متعلق امکانات کی کمی نہیں ہے۔

سب سے اہم بات ان لوگوں کو تلاش کرنا ہے جو ہمیں تحریک دیتے ہیں، متاثر کرتے ہیں اور حوصلہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ایسے فعال ریسرچ گروپ میں کام کرنے کے مواقع تلاش کریں جہاں آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق مسائل کی بنیادی باتوں کو سمجھنے،انتہائی حوصلہ افزا نظریات کی نشاندہی کرنے اور مؤثر انداز میں ان پر تحقیق کے لیے اس علم کو مسلسل فروغ دے سکنے کے مواقع دستیاب ہوں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس سفر میں جن سے بھی حمایت اور مدد ملی ہے، ان کے تئیں ہمیشہ ممنون رہیں۔

 

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ مصنف ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط