مرکز

دھاگے سے ریشہ نکالنا

فل برائٹ۔ نہرو اسکالر شرے یا مہروترا ایک مکمل فعال ریشم سے دل کی پیوندکاری کی تعمیر میں استعمال کیے جا سکنے والے موگا ریشم کے استعمال کی دریافت کر رہی ہیں۔

اگر شرے یا مہروترا نے تمل ناڈو کے ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ٹشو انجینئرنگ کا کورس نہیں کیا ہوتا تو موگا ریشم کا استعمال کر کے مصنوعی انسانی ریشے کی تخلیق کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔موگا ایک پروٹینی حیاتی کثیر سالمیہ ہے جو ریشم کے مقامی ہندوستانی کیڑے کی قسم  اینتھیریا اسیمینسِس سے حاصل ہوتا ہے۔کانپور میں بچپن گزارنے والی مہروترا اپنے والد سے ہر قسم کے موضوع پر بات کیا کرتی تھیں ۔ ان کے والد نے بچی کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے سائنس، علم نجوم اور سیاست سے متعلق موضوعات کو تبادلہ خیال کے دوران بطور موضوع متعارف کیا۔ مہروترا بتاتی ہیں ’’ میرے گھر میں معیاری تعلیم اور خود پر انحصار کرنا دو اہم موضوعات تھے۔ ‘‘

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سائنس کے تئیں ان کی دلچسپی زیادہ بڑھی اور اب وہ متعدد بیماریوں سے دو چار مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کام کر رہی ہیںجس میں پٹھوں کی کمزوری اور حرکت قلب کا بند ہو جانا بھی شامل ہے لیکن ان کا کام صرف پٹھوں کی کمزوری اور حرکت قلب کے بند ہو جانے تک ہی محدود نہیں ہے۔

حفظان ِ صحت میں تحقیق کے امکانات سے ترغیب پاکر مہروترا نے پی ایچ ڈی کرنے کے لیے آئی آئی ٹی گوہاٹی میں داخلہ لیا۔اور دل کے پٹھوں کے ریشوں کی مدد کے لیے حیاتیاتی مواد تیار کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کی۔مختلف قدرتی کثیر ترکیبی مواد پر کام کرتے ہوئے ان کی ٹیم نے موگا ریشم کی متعدد باطنی خصوصیات دریافت کیں۔ مہروترا بتاتی ہیں ’’ موگا ریشم بہت زیادہ خواص فراہم کرتا ہے جو کہ میکانکی مضبوطی، حیاتیاتی موزونیت، کم قوت مدافعت والے ردعمل اور داخلی خلیہ کی موجودگی سمیت کسی بھی قدرتی طور پر پائے جانے والے مواد میں شاید ہی کبھی پایا جاتا ہو۔ ‘‘

لازمی طور پر سائنسدانوں کی اس ٹیم نے پوری طرح سے فعال ریشم سے دل کی پیوندکاری کرنے کی تکنیک کی دریافت میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ۔ پھر مہروترا کا انتخاب فل برائٹ۔ نہرو فیلوشپ پروگرام کے لیے ہو گیا جہاں انہوں نے ہارورڈ ۔ ایم آئی ٹی ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویزن میں اس وقت موجود پروفیسر علی خادم حسینی کے ساتھ کام کیا ۔ ساتھ ساتھ انہوں نے برمنگھم کے انتہائی باوقار ریسرچ سائنسدانوں اور ایم آئی ٹی کے ومینس ہاسپٹل اورہارورڈ میڈیکل اسکول کے سائنسدانوں کے ساتھ بھی کام کیا ۔

انہیں شمالی کیرولینا کے چارلوٹ میں ٹشو انجینئرنگ اور دوبارہ تخلیق کی جانے والی ادویات پر منعقد ایک کانفرنس میں اپنے کام کو پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

ایک فعال دل والا ریشہ بنانا انتہائی چیلنج بھرا کام ہے۔ کچھ انسانی اعضا کے برعکس دل کا دورہ پڑنے کے بعد دل خود کی تخلیق ِنو نہیں کرسکتا ہے۔ مردہ پٹھے کو اکثر وبیشترریشے سے بدل دیا جاتا ہے جو برقی اشاروں یا کنٹریکٹ کی ترسیل نہیں کرسکتا ہے جس میں سے دونوں صاف ستھرے اور طاقتورحرکت قلب کے لیے ضروریی ہیں۔ایسے میں جب کہ دنیا بھر میں ۲۶ ملین سے زیادہ لوگ دل کے ناکام ہوجانے کے شکار ہیں، مریضوں کی شرح اموات کی اونچی شرحوںکے ساتھ متعدد امراض قلب ایک وبائی بیماری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔دواؤں کے ذریعہ علاج معالجہ کی کامیابی کی کم شرحیں، معاون آلات کی اونچی لاگت اور اعضا عطیہ کرنے والوں کی کمی کے نتیجہ میں مصنوعی ریشہ سازی کے ذریعہ درست حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ہارورڈ۔ ایم آئی ٹی میں انہوں نے جو تحقیق کی ہے وہ ایک خودکار ۳ ڈی بایو پرنٹنگ طریقہ کار کا استعمال کرکے دل کے لیے پیوند تیار کرنے پر مشتمل ہے جس سے بہ آسانی مریض کے متاثرہ دل میں پیوند کاری کی جا سکتی ہے۔ 

موگا ریشم سے متعلق انڈیا میں اپنی تحقیقات کی بنیا د پر مہروترا ان ۳ ڈی ڈھانچوں کی پرنٹنگ کے لیے بنیاد کے طور پر ریشمی کیڑوں کے استعمال پر اپنا دھیان مرکوز کرنے میں کامیاب رہیں جو دل کی بافتوں اور اس کے خلیوں کی بناوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔  

اپنی پی ایچ ڈی کے ایک حصہ کے طور پر، مہروترا فل برائٹ۔ نہرو فیلوشپ سے اپنے اہم کام کو جاری رکھے ہوئے ہیںاوربطور نمونہ چھوٹے جانوروں پر دل کی پیوندکاری کا تجربہ کر رہی ہیں۔ مہروترا کہتی ہیں کہ اگلے مرحلے میں وہ ایسے پیوند تیار کریں گی جنہیں خود کو برقرار رکھنے والے روبوٹک ورژن میں رکھا جاسکتا ہے تاکہ پیوند کاری کے بعد طویل مدت تک یہ بہتر مظاہرہ کرسکیں۔ 

اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد مہروترا کا ارادہ کسی یونیورسٹی میں کوئی عہدہ حاصل کرنا ہے تاکہ وہ ٹشو انجینئرنگ اوردوبارہ تخلیقی کی جا سکنے والی ادویات کے لیے موثر حیاتیاتی مواد تیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

 

میگن میک ڈریوکیلی فورنیا کی شہر سانتا کروز میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا اور کیلی فورنیا کے ہی ہارٹ نیل کالج میں عمرانیات کی پروفیسر ہیں ۔ وہ کیلی فورنیا کے مونٹیرے علاقے میں رہتی ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط