مرکز
1 2 3

اجالے کی سمت سفر

سنیتا کرشنن  عورتوں اور بچوں کو جسم فروشی کی دلدل سے باہر نکال کرانھیں نئی زندگی عطا کرتی ہیں۔ 

سماجی کارکن سنیتا کرشنن نے ساڑھے بارہ ہزار سے زیادہ لڑکیوں کو جنسی غلامی کی دلدل سے باہر نکالا ہے۔وہ انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی کی پاداش میں لگے زخم کا ہر روز مشاہدہ کرتی ہیں اور پھر اس صورت حال کو بدل ڈالتی ہیں ۔حیدر آباد میں بنائی گئی اپنی تنظیم پراجوالا کے ذریعہ وہ متاثرہ لڑکیوں کو پناہ دیتی ہیں اور انھیں زندگی بہتر ڈھنگ سے گزارنے کی تربیت فراہم کرتی ہیں ۔ وہ اور ان کے اہلکار ایسی خواتین کو ویلڈنگ کرنے، بڑھی کا کام کرنے، ٹیکسی چلانے ، راج مزدور کا کام کرنے ، سیکو ریٹی گارڈ کی ذمہ داری نبھانے ، کیمرہ اسسٹنٹ کا کام کرنے اور دیگر چیزوں کی تربیت دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں اور آزادانہ طور پر زندگی گزار سکیں ۔ سنیتا انھیں پُر اعتماد بناتی ہیں اور انھیں یقین دلاتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرسکتی ہیں ۔ 

سنیتا بذاتِ خود تبدیلی کا پیکر ہیں اور یہی تبدیلی وہ ہر اس لڑکی میں لانا چاہتی ہیں جس کی وہ مدد کرتی ہیں ۔۱۵ برس کی عمر میںآٹھ مردوں نے سنیتا کی اجتماعی آبرو ریزی کی تھی۔ جیسا کہ انھوں نے ۲۰۰۹ میں ٹی ای ڈی(ٹکنالوجی، انٹرٹینمنٹ اور ڈیزائن) کانفرنس میں بتایا تھا کہ عصمت دری کے اس سانحہ کے بارے میں انھیں اب زیادہ کچھ یاد نہیں مگر جو چیز انھیں یاد ہے وہ ہے اس واردات کے بعد ان کے اندرپیدا ہوئی ناراضگی۔ آبرو ریزی کا شکار بنائے جانے کے بعد دو سال تک ان کا بائیکاٹ کیا گیا اور انھیں بالکل الگ تھلگ کر دیا گیا ۔ یہ چیز کسی متاثرہ کو شرمسار رکھنے کا مظہرتھی۔
انھوں نے اپنے غصے کا استعمال کیا،ذہنی امراض کا علاج کرنے والی کارکن کی حیثیت سے تربیت حاصل کی اورجنسی استحصال کی شکار لڑکیوں کو بدمعاشوں کے چنگل سے نکالنے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔ گو کہ اپنی کاوشوں سے جنسی غلامی سے آزاد کرائے گئے بچوں اور بچیوں کی زندگیاں بہتر بنانے میں وہ کامیاب ہو رہی ہیں مگر اس میں انھیں بہت سی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ بچوں اور بچیوں کو چھڑانے کی کاروائی کے دوران کئی بار ان پر حملے بھی ہوئے ہیں ۔ ایسے ہی ایک حملے میں ان کے کان میں چوٹ آئی اور وہ ایک کان سے سننے سے محروم ہو گئیں ۔ 
لیکن ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جنسی اور جسمانی استحصال کے لئے انسانی درآمد اور برآمد کا شکار بننے والی لڑکی یا عورت کے بارے میں سماج کا نظریہ کیسے بدلیں؟اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عصمت فروشی کی دلدل سے نکال کر لائے گئے بچوں کو اپنانے سے افراد اور تنظیمیں انکار کردیتی ہیں ۔معاشرتی بدنامی کی پاداش میں ایسے بچے دوسرے بچوں سے، گھروں سے اور اچھی ملازمتوں سے دور کردئے جاتے ہیں۔ حالاں کہ ضرورت ہے کہ سماج انھیں گلے لگائے اور ان کو سہارا دے۔ سنیتا نے اپنے ٹی ای ڈی ٹاک میںہی بتایا ’’انھیں آپ کی دردمندی کی ضرورت ہے ۔ انھیں آپ کی ہمدردی چاہئے۔ دوسری کسی چیز سے زیادہ انھیں اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ انھیں قبول کریں ۔ ‘‘
جنسی اور جسمانی استحصال کے لئے انسانی درآمد اور برآمد سے متعلق عالمی تناظر کی تفہیم کے لئے انھوں نے ۱۹۹۹ میں آئی وی ایل پی میں شرکت کی جو پیشہ ور افراد کے لئے امریکی محکمہ ٔ خارجہ کا تبادلہ پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے توسط سے سنیتا نے امریکہ میں مختلف مقامات مثلاََ واشنگٹن ڈی سی، نیو یارک، سان فرانسسکواو رنواڈا کے شمالی خطے کا سفرکیا ۔ انھوں نے جنسی اور جسمانی استحصال کے لئے انسانی درآمد اور برآمدکی روک تھام کے لئے کام کرنے والی تنظیموں جیسے ایس اے جی ای پروجیکٹ کے لیڈران سے ملاقات کی۔ وہ بتاتی ہیں کہ نواڈا میں وہ’ مَسٹینگ رینچ‘ نامی قحبہ خانہ دیکھنے بھی گئیں تاکہ جسم فروشی کے معاملے کوپوری طرح سمجھ سکیں ۔  
سنیتا کہتی ہیں ’’ اتنے برس گزر جانے کے باوجود مجھے اب تک وہ دورہ پوری طرح یاد ہے کیوں کہ اس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور بڑی اہمیت کی چیزیں میرے علم میں آئیں جن کا میرے اوپر بہت اثر پڑا۔ امریکہ میں کئی طرح کی مداخلتیں دیکھ کر مجھے اس بات کا اندازہ لگانے میں مدد ملی کہ اگر میں اپنے ملک میں مداخلت کروں تو اسے کس نگاہ سے دیکھوں گی۔‘‘
جنسی اور جسمانی استحصال کے لئے انسانی درآمد اور برآمد کی روک تھام سے متعلق جن کاوشوں کو سنیتا نے امریکہ میں دیکھا ، انھیں بعد ازاں ہندوستان میں نئے پروگراموں میں ڈھالاتو نہیں جا سکا مگر یہ معلومات آئندہ برسوں میںسنیتا کے فیصلوںپر اثر انداز ہوئیں۔سنیتا کا کہنا ہے ’’ میری سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ امکانات کی نوعیت دوسری بھی ہے ۔ کام کرنے کے طریقے ایک سے زائد   ہو سکتے ہیں ۔ کئی برس بعد میں نے ایک گروپ بنایا جس کا نام رکھا ’ مِین اگینسٹ ڈیمانڈ فار   پروسٹی ٹیوشن ‘(جسم فروشی کا مطالبہ کرنے کی تجویز کی مخالفت کرنے والے مرد )۔ اس بات کی تحریک مجھے سان فرانسسکو میں ایک قانونی مداخلت دیکھ کر ملی تھی۔ہندوستان میں اسے میں    عملی جامہ نہیں پہنا سکی کیوں کہ یہاں قانونی پابندیاں عائد تھیں ۔ ‘‘
اپریل ۲۰۱۵ میں سنیتا ایک مرتبہ پھر نیو یا رک واپس آئیں ۔ اس بار وہ آئی وی ایل پی شرکا ء کے ایک روزہ اجتماع میں شرکت کی غرض سے آئی تھیں ۔انھوں نے اس پروگرام کے توسط سے سیکھنے کے موقع کا پھر لطف لیا ۔ان کی خواہش ہے کہ وہ شرکا ء کے ساتھ مسلسل تبادلوں میں شریک رہیں ۔ انھیں امید ہے کہ ان ہی کے شعبہ میں کام کرنے والے امریکی شرکا ء ہندوستان کا دورہ کریں گے تاکہ وہ مختلف پروگراموں میں شرکت کرسکیں اوریہ سمجھ سکیں کہ یہاں چیزیں کس طرح کام کرتی ہیں ۔  
دریں اثنا وہ جنسی غلامی کے عذاب سے نوجوان عورتوں اور بچوں کو نکالنے کی کوشش جاری رکھیں گی ۔ بقیہ دنیا سے ان کی درخواست وہی ہے جو چھ برس قبل ٹی ای ڈی ٹاک میں انھوں نے کی تھی :
 ’’ اپنی محدود دنیا میں رہتے ہوئے کیا آپ اپنے دماغ کے دریچے کھول سکتے ہیں ؟ کیا آپ دلوں کے در وا کرسکتے ہیں ؟ کیا ان لوگوں کو بھی آپ اپنی بانہوں کے حلقوں میں سمیٹ سکتے ہیں ؟ یہ لوگ بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں ۔ کوئی بچہ ، کوئی انسان ایسی زندگی کا اہل نہیں جیسی زندگی گزارنے پر یہ لوگ مجبور کر دئے گئے ہیں یا کر دئے جاتے ہیں۔‘‘
 
کیری لووینتھل میسی نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلم کار ہیں ۔ 
 

تبصرہ کرنے کے ضوابط