مرکز
1 2 3

خواتین کو اپنی سلامتی کے گُر سکھانا

پوجا ناگپال ہندوستان ہی نہیں امریکہ میں بھی نوجوان لڑکیوں کو ذاتی تحفظ کا درس دیتی ہیں۔ 

پوجا ناگپال کو اپنے بچپن میں قدیم دیومالائی کہانیوں سے تحریک ملا کرتی تھی۔وہ بتاتی ہیں ’’ دیویاں میری سپر ہیروز ہوا کرتی تھیں،یہ وہ طاقت ور خواتین تھیں جن میں جنگ کرنے کا منفرد اور علامتی جذبہ ہوتا تھا اور جو کمزوروں کی مدد اور حفاظت کرتی تھیں۔‘‘  

ان پرجوش اورمضبوط خواتین نے تائکوانڈو  سیکھنے کے ناگپال کے جذبہ کو تقویت بخشی جس کی وجہ سے انہوں نے صرف ۱۶ برس کی عمر میں سکنڈ ڈگری بلیک بیلٹ ہولڈرہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ۔مارشل آرٹ سے عشق کا استعمال اب وہ دیگر خواتین کو ہندوستان اور امریکہ دونوں ملکوں میںمتاثر کرنے کے لئے کر رہی ہیں۔ یہ کام وہ اپنے غیر سرکاری ادارہ فار اے چینج ، ڈیفینڈ کے ذریعہ کر رہی ہیں جس کا مقصد صنفی تشدد کا خاتمہ کرنا اور نوجوان خواتین کو با اختیار بنانا ہے۔ ناگپال کالج کی طالبات کی حفاظت کے لئے ایک ایپلی کیشن پر بھی کام کر رہی ہیں۔ 

پوری دنیا میں عورتوں پر حملوں ، انہیں ہراساں کرنے کی وارداتوں اور گھریلو تشدد کے معاملات کا اندازہ ہوجانے کے بعد ناگپال نے محسوس کیا کہ تائکوانڈو  اور اسٹریٹ فائٹنگ کی ان کی تربیت اس شعبہ میں تبدیلی لانے میں مدد کر سکتی ہے۔ عورتوں کی حفاظت کی تحریک میں شامل ہونے کے بنیادی سبب کے طور پر وہ ۲۰۱۲ء میں نئی دہلی میں ایک نوجوان لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اوربعد میں اس کی موت کا حوالہ دیتی ہیں ۔ اس ہولناک واقعہ نے ملک گیر احتجاج اور جنس کی بنیاد پر تشدد کے خلاف بہتر قوانین کے مطالبہ کو جنم دیا تھا۔ 

اگست ۲۰۱۳ ء میں ناگپال نے ہماچل پردیش کے سولن ضلع میں سوباتھو گاؤں میں آریہ پبلک ہائی اسکول سوباتھ کا دورہ کیا ۔وہاں انہوں نے ۴۰ لڑکیوں کو ذاتی تحفظ اور ذہنی طور پر با اختیار بنانے کی تربیت دی۔اس تجربہ کے بارے میں ناگپال بتاتی ہیں ’’میں انہیں جدو جہد کا جذبہ اور برتر ہونے کا عزم سکھانا چاہتی تھی۔ میں جانتی ہوں کہ بہت سی لڑکیوں کو خواب دیکھنے سے پہلے ہی ہار کی نفسیات کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ ‘‘ 

ناگپال نے ہندوستان میں ایک ماہ کا وقت گزارا جس میں انہوں نے۱۰۰ سے زیادہ گھنٹے ذاتی تحفظ سے متعلق نصاب کو ترتیب دینے ، اپنی نئی طالبات کو تربیت دینے اور مستقبل کے شاگردوں کی تعلیم کے لئے ٹول باکس تیار کرنے کے لئے وقف کر دئے۔طالبات نے فوری طور پر سیکھ لیا کہ انہیں حملہ آوروں سے خود کا دفاع کیسے کرنا ہے ۔ دفاعی تکنیک میں ہاتھ اور پاؤں کی تکنیک سے لے کر ذاتی تحفظ کے لئے دباؤ کے مقامات کے علم کے علاوہ خطرناک حالات میں اپنا دفاع کرنا بھی شامل تھا۔

ناگپال کا دو حصوں والا نصاب لڑکیوں کی جسمانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ بات چیت اور قیادت پر مبنی سرگرمیوں ، سماجی خدمت ، اعتماد سازی اور تعلیم کے ذریعہ ان کو ذہنی طور پر بھی مضبوط بناتا ہے۔ ناگپال طالبات کے ساتھ روزانہ ہونے والے ترغیبانہ مباحث کی قیادت کرتیںاور انہیں بتاتیں کہ اپنی خود اعتمادی اور جسمانی قوت کا استعمال کرکے قائدانہ حیثیت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔  

ہندوستان میں اپنی طالبات سے انتہائی مثبت تاثرات موصول ہونے کی وجہ سے ناگپال کو اپنے آبائی شہر کیلی فورنیا کے مَین ہٹن بیچ میں اس کام کو آگے بڑھانے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔اس کے بعد ہی سے ناگپال کی تنظیم  فار اے چینج ، ڈیفینڈ  گھریلو تشدد اور خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی غیر منافع بخش کوششوں کو وسعت دینے پر کام کر رہی ہے۔ معمول کی سرگرمی سے ہٹ کر کام کرنے کے سلسلے میں اس تنظیم نے اسی وقت سے گھریلو تشدد اور خواتین کو بااختیار بنانے کی اپنی غیر منافع بخش کاوشوں کو وسعت دینے پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ اس نے  لاس اینجلس کاؤنٹی کے سائوتھ بے  خطہ میں نوعمر طالبات کو ذاتی تحفظ کی تربیت اور انہیں ذہنی طور پر محفوظ بنانے کے لئے نیو اسٹار فیملی جسٹس سینٹر کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔

ناگپال نے لاس اینجلس پولس ڈیپارٹمنٹ  اور ایف بی آئی کے کچھ سابق تحقیقاتی اہلکاروں کی مدد سے لاس اینجلس میں خواتین کی باز آبادکاری کے مرکز (جو کیلی فورنیا کے لاس اینجلس میں واقع ہے) اَین ڈگلس سینٹر میں بھی ذاتی تحفظ کی ورکشاپ کا اہتمام کیا ہے۔

۲۰۱۵ ء کے موسم ِ سرما میں ناگپال ہندوستان واپس آئیں اور نئی دہلی کے سفر میں انہوں نے اپنی تنظیم فار اے چینج، ڈیفینڈ کے پیغام کو پھیلانے کے لئے سرکاری اسکولوں ، خواتین کے کالجوں،نابینا لڑکیوں کے اداروں اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ ذاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ انہوں نے جسمانی طاقت سے حاصل ہونے والے اعتماد اور ذہنی طور پر با اختیار بنانے پر زور دینا  بھی جاری رکھا ہے۔ہندوستان کے ابتدائی سفر سے ۴۰ لڑکیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ ہی متاثر ہوا تھا مگر ناگپال کا اندازہ ہے کہ ان کے ۲۰۱۵ ء کے دورے کی بدولت ۵۰۰ سے زیادہ طالبات ان کی تنظیم سے جڑ گئی ہیں۔ 

اسی سال ناگپال کو امریکہ کی گرلس اسکاؤٹس  کی جانب سے ۱۰ میں سے ایک امتیازی قومی نوجوان خاتون کے طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔اس اعزاز کے لئے جن کا انتخاب کیا گیا ان کی غیر معمولی قیادت کی صلاحیت اور مقامی یا قومی مسائل پراس کے اثرات کااعتراف کیا گیا۔ یہی نہیں ناگپال ۲۰۱۶ ء میں تمام شمالی امریکہ میں مختلف پس منظر کے متاثر کن ، جوشیلے نوجوانوں کے جذبہ کو تسلیم کرنے والے اعزاز   گلوریا بیرون پرائز فارینگ ہیروز کی فاتحین میں بھی شامل رہیں۔ 

جسمانی تحفظ اور ذہنی طور پر بااختیار بنانے سے متعلق ایک ساتھ مل کر صنفی مساوات کو فروغ دینے والی اس بین الاقوامی تحریک کی قیادت کرنا جاری رکھنے کو لے کر ناگپال پر امید ہیں۔ان کو یقین ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب عورتیں بے خوف ہوکر سڑکوں پر چل سکیں گی۔ان کی مسلسل محنت سے یہ جدوجہد روز بروز اور مضبوط ہو رہی ہے۔

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط