مرکز
1 2 3

کھیل کے ذریعہ کایا پلٹ کرنا

 ریاست جھارکھنڈ میں ٹیم کے طور پر کھیلے جانے والے لڑکیوں کے کھیل کوپلیٹ فارم کی شکل میں استعمال کرکے کیلی فورنیا کی یُووا نامی غیرمنافع بخش تنظیم معاشرے کی ترقی کے لئے استعمال کرتی ہے۔ 

جھارکھنڈ میں ہر صبح فجر سے پہلے ہی تقریباََ ۱۵۰ لڑکیاں نیند سے بیدار ہوتی ہیں اورساکر(فٹ بال کی طرز کا ایک کھیل جس میں گیارہ گیارہ افراد پر مشتمل دو مخالف ٹیمیں گیند کو آگے بڑھا کر، مار کر یا ٹھوکر لگا کر مخالف گول میں ڈالنے کی کوشش کر تی ہیں) کے خالی میدانوں کا رخ کرتی ہیں ۔ان لڑکیوں کا تعلق ۲۰۰۹ ء میں ہندوستان میں قائم کئے گئیساکر پروگرام یُو وا سے ہے جس کے مجموعی طور پر ۲۵۰ اراکین ہیں۔

یُو واکے تحت قبائلی اور پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والی ۶۰۰ سے زیادہ لڑکیوں نے  ساکر کھیلا ہے ۔  یُو وا میںانہیں زندگی اور قیادت کا ہنر بھی سیکھنے کو ملا۔ یہ پروگرام  یُو وا کارپوریشن کے زیر اہتمام چلتا ہے جو کیلی فورنیا میں واقع ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے اور جس کا مقصد نوجوانوں پر مشتمل اس پہل کی بدولت دیہی ہندوستان میں معاشرے کی ترقی کو رفتار دینا ہے۔

ریاست جھارکھنڈ میں ۶۵ فی صد سے بھی کم لڑکیاں اور خواتین پڑھنا لکھنا جانتی ہیں، ۱۰ میں سے ۶ لڑکیوں کو عام طور رپر ۱۵ برس کی عمر ہی میں شادی کے لئے اسکول چھوڑ دینا پڑتا ہے اورکم عمری ہی میں انہیں ماں بننے کی ذمہ داری بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ جن لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت مل بھی جاتی ہے انہیں بھیڑ بھاڑ والے کلاس روم میں پڑھنا پڑتا ہے۔ انہیں اسکول میں بیت الخلا اور پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی میسر نہیں آتیں ۔ 

مگر یُو وا  لڑکیوں کو روایتی طرز زندگی سے نجات پانے کی راہ دکھاتی ہے۔بڑی عمر کی لڑکیاں آزادانہ طور پرنو جوان کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرتی ہیں، ٹیم کے ارکان کا انتخاب کرتی ہیں اور پھر اپنی مقامی ٹیمیں چلاتی ہیں۔ ساکر  کی مشق کرنے کے بعد متعدد لڑکیاں  یُو واکے سات کمروں پر مشتمل اسکول میں جاتی ہیں جہاں تجربہ کار اساتذہ انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں ۔ یہ پروگرام انہیں اس بات کی تربیت دیتا ہے کہ وہ بہتر اسکولوں میں کیسے داخلہ حاصل کریں ۔ اس پروگرام سے لڑکیوں کو کمپیوٹر سائنس ، انگریزی ، ریاضی اور سائنس جیسے مضامین سیکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ 

 یُو واکے شریک بانی اور کارگزار ڈائرکٹر فَرینز گَیسلر ۲۰۰۷ ء میں امریکہ سے ہندوستان تشریف لائے۔ انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے بین الاقوامی سیاسی معیشت میں تعلیم حاصل کی اور  یُو واکے قیام سے پہلے کنفیڈ ریشن آف انڈین انڈسٹری  میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔  یُو واکے قیام کا مقصد معاشرے میں لڑکیوں کے حقوق ، کردار اور اقدار کے تئیں اس پورے خطے کے تصور میں تبدیلی لانا ہے۔ 

 یُو واکی ٹیمیں اسکول میں پڑھائی جاری رکھنے کے علاوہ اپنی اور اپنے دوستوں کی صحت اور ضروریات کی دیکھ ریکھ میں لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ٹیم کپتان کی ذمہ داری میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کریں کہ ٹیم کے ارکان باقاعدگی سے اسکول میں حاضر رہیں۔ 

یہاں زندگی جینے کے ہنر سے متعلق ایک گھنٹے کا ورکشاپ ہر ہفتہ منعقد کیا جاتا ہے جس کا انعقاد خواتین عملہ کے مقامی اراکین یا لڑکیاں خود کرتی ہیں۔ ورکشاپ میں صحت، صنف، تشدد، جنسیت ، خود اعتمادی اور مالی امور جیسے موضوعات پر بات ہوتی ہے۔  

اساتذہ کے ساتھ والدین کی ملاقات بھی   یُو وا کا ایک دیگر اہم حصہ ہے۔ اس میں لڑکیاں ، کوچ اور والدین کئی موضوعات پر تبادلہ ٔ خیال کرتے ہیں۔ ان میں اس امر پر بھی بات ہوتی ہے کہ کیا لڑکیاں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنی شادی کا منصوبہ موخر کرنا چاہتی ہیں جویہاں کے بہت سارے کنبوں کے لئے ایک بنیادی اہمیت کی حامل چیزہے۔ 

اس پروگرام کی شروعات اس وقت ہوئی جب   یُو واکواس بات کا احساس ہوا کہ پڑھائی جاری رکھنے کے لئے وظیفہ دئے جانے کے باوجود خطے کی لڑکیاں اسکول سے غائب ہیں اور لڑکیوں کے مستقبل سے متعلق ان کے والدین کے توقعات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے۔جب وظیفہ یاب کچھ لڑکیوں نے جاننا چاہا کہ کیا وہ   ساکر  کھیل سکتی ہیں تو یہ سوال ایک اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 

 اس سے ایک منظم سماجی برادری کو فروغ ملا جس کی وجہ سے اسکول میں طلبہ کی حاضری کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ یُو وا کی لڑکیاںاپنے دوستوں کے گھر یلو کام کاج میں ان کی مدد کرتی ہیں تاکہ مشق میں ان کی شرکت کو یقینی بنا یا جاسکے اور وہ ایک دوسرے سے بات کرسکیں۔

 یُو واکی شرکا لڑکیاں ٹیڈ ٹاکس (خیالات کی تشہیر کے لئے قائم ایک غیر منافع بخش تنظیم) اور یونیورسٹیوں میں بھی اپنی بات رکھتی ہیں ۔  یُو وا ٹیم نے تین بر اعظموں میں مقابلوں میں بھی حصہ لیا ہے۔۲۰۱۳ ء میں لڑکیوں کی ایک ٹیم نے  گاستیز اورڈونوسٹی کپ ٹورنامنٹ کے لئے اسپین کا دورہ کیا تھااور گاستیز  میں تیسرا مقام حاصل کیا تھا۔ بہت ساری لڑکیوں کے لئے یہ صرف مصنوعی گھاس پر کھیلنے کاہی پہلا موقع نہیں تھا بلکہ ان کے لئے راجدھانی رانچی کے باہرواقع اپنے گاؤںاورمانجھی سے باہر نکلنے اور کسی طیارے پر پروازکرنے کا بھی پہلا موقع تھا۔ اپنی جیت کا جشن منانے کے لئے لڑکیوں نے جوتوں کے ساتھ ہی ساڑیا ں پہنیں اور میدان میں رقص کیا ۔ 

ڈونوسٹی کپ ٹورنامنٹمیں ٹیم نے ۳۵ دیگر ٹیموں کا مقابلہ کرکے کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔ یُو وا   ٹیم کی لڑکیوں کو اس وقت سُپر گوٹس کے نام سے شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے اپنے جوتوں کی محدود تعداد کو آئندہ میچوں کے لئے محفوظ رکھنے کے لئے دوستانہ مقابلے ننگے پاؤں ہی کھیلے۔

 یُو واکو نہ صرف جھارکھنڈ میں بلکہ پوری دنیامیں بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس تنظیم کا ارادہ اب ۳۰۰  لڑکیوں کے لئے ایک اسکول قائم کرنا ہے اور۱۶۰۰  لڑکیوں کو  ساکر  کی تربیت دیناہے۔اس کا منصوبہ بنایا گیا ہے کہ اسکول کا اپنا  ساکر فیلڈ بھی ہو۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر لیب اور  ساکر کے ۱۰۰ کوچ اور تمام جدید سہولتوں کا نظم بھی ہوگا۔ 

 

 کینڈس یاکونو جنوبی کیلی فورنیا میں مقیم قلمکار ہیں جو جرائد اور روزناموں کے لئے لکھتی ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط