مرکز
1 2 3

ہمہ وقت دستیاب ہیلپ لائن

آر اے آئی این این (رین)کی ہروقت موجود ہاٹ لائن جنسی تشدد کا شکار ہونے والے افراد کی مدد کرتی ہے۔ امریکہ میں ہر چھ میں سے ایک عورت جنسی حملے کی زد میں آتی ہے۔ ایسے میں مدد    کے لئے بیشتر متاثرہ خواتین خفیہ ٹیلی فون ہیلپ لائن کا سہارا لیتی ہیں۔ 

جنسی حملے کی صورت میں مدد کے لئے چوبیس گھنٹے کام کرنے والی پہلی قومی ہاٹ لائن بیس سال پہلے قائم کی گئی تھی جس کا مقصد پورے امریکہ میں متاثرین کی ضرورت کی تکمیل تھا۔ اس ہاٹ لائن کا ٹول فری نمبر ۱-۸۰۰-۶۵۶-HOPE (۴۶۷۳) ہے۔پورے امریکہ میں آبروریزی کے بحران میں مددکے لئے مقامی طور پر قائم ایک ہزار مراکز کے ساتھ شراکت داری کرکے ریپ، ایبیوز، اِنسسٹ نیشنل نیٹ ورک (رین )نے ۱۹۹۴ سے اب تک پندرہ لاکھ ایسے لوگوں کو مفت خفیہ امداد بہم پہنچائی جنھوں نے رین سے بذریعہ فون رابطہ کیا۔اس قومی نمبر پر کی گئی کال خود کار طریقے سے رابطہ کرنے والے کے آس پاس موجود مقامی مرکز پر پہنچ جاتی ہے جہاں ہاٹ لائن رضاکار جذباتی طور پر سہارا بننے سے لے کر بحرانی کیفیت میں مداخلت اورمقامی قوانین ،برادری کے توسط سے دستیاب امدادی خدمات اور اسپتال لے جائے جانے کی صورت میں وہاں تک ساتھ جانے سے متعلق تمام چیزوں کے بارے میں مشورے فراہم کرتے ہیں۔ فون کرنے والی خاتون کے نقطۂ نظرسے یہ بہترین خدمت واقف کار،سمجھداراور سہارا دینے والے رضاکار سے متصف ہے جو ان کی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر وقت ان کے مسائل سننے اور ان کی مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔    

رین کے مطابق جنسی زیادتی کا شکار ہونے والیوں کی اکثریت کی عمر تیس برس سے کم ہوتی ہے جن میں تقریباََ نصف اٹھارہ برس سے کم عمر والیاں ہوتی ہیں۔ آج کے نوجوانون کے فون پر بات کرنے سے زیادہ فوری پیغام رسانی کے میلان کو دیکھتے ہوئے رین نے ۲۰۰۶ میں قومی جنسی زیادتی آن لائن ہاٹ لائن قائم کی۔ شروع میں کچھ لوگوں کو اس پر شبہ تھا کہ آیا یہ کامیاب بھی ہوگی یا نہیں کیوں کہ ہاٹ لائن شروع ہونے کے پہلے مہینے میں روزانہ تقریباََ سات افرادہی اس کے ذریعہ رابطہ کرتے تھے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ تعدادبڑھتی گئی اور ۲۰۱۲ تک اس ہیلپ لائن کا استعمال کرنے والوں کی یومیہ تعداد ۴۰۰ سے زیادہ ہو گئی۔

رین کے بانی اور صدر اسکاٹ برکووِز بتاتے ہیں کہ کسی متاثرہ خاتون کے لئے یہ بتانا بہت مشکل ہو سکتا ہے کہ جنسی حملے کے دوران اصل میں اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اسی کے مدِ نظر آن لائن ہاٹ لائن متاثرہ خاتون کو مکمل رازداری فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے معاملہ سے واقف کرا سکے اور معاون عملہ سے ذاتی طور پر بات چیت کرکے مسئلہ کی نوعیت سمجھا سکے۔ آن لائن خدمت کے استعمال کرنے والے ایسی نوجوان متاثرین کی جانب ملتفت ہوتے ہیں جنھیں علم ہوتا ہے کہ وہ آن لائن فارمیٹ میں اپنی بات زیادہ بہتر ڈھنگ سے رکھ سکتی ہیں ۔ 

برکووِز بتاتے ہیں ’’ یہ زیادہ رازدارانہ محسوس ہوتا ہے خاص کر ڈَورمیٹری میں رہنے والی طالبہ یا کمونَل اپارٹمنٹ (ایسی رہائش گاہیں جہاں مختلف خاندان کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں مگر رہنے سہنے کی جگہ کے علاوہ ان کے لئے کھانے پینے کی جگہ مشترک ہوتی ہے۔ انقلابِ روس کے بعدوہاں ایسی اقامت گاہوں کا چلن ہوا )میں رہنے والے افرادیا گھر کے کسی فرد کی جانب سے کسی بچے کے استحصال کے نتیجے میںمسئلے کی جانکاری دیتے وقت یہ اندیشہ نہیں رہتا کہ بات چیت کو کوئی اور بھی سن لے گا۔‘‘ 

خواہ آن لائن ہو یا فون پر،برکووِزخاص طور پر ذکر کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہیلپ لائن کا استعمال کیا انھوں نے پہلے کبھی کسی سے جنسی زیادتی کا ذکر نہیں کیا تھا کیوں کہ انھیںخدشہ تھاکہ ان کے ہی متعلق خیال آرائی کی جانے لگے گی۔ ’’سب سے عام سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے بارے میں دوستوں اور ماں باپ کو کیسے بتایا جائے؟  ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ اس کام کے لئے وہ ایسے شخص کی نشاندہی کریں جو ان کے خیال میں سب سے موزوں ہو۔ کسی بھی بڑے ذہنی صدمہ کی طرح یہاں بھی مضبوط سہارے کا نظام کار آمد ہوگا۔ اس صدمے سے باہر نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ بات کرنے کے لئے آس پاس قریبی دوست اور گھر والے موجود ہوں۔ ‘‘

برکووِزبتاتے ہیں ’’ہیلپ لائن پر کئی رابطہ کرنے والیاں جنسی حملے کے لئے کسی حد تک خود کو بھی الزام دیتی ہیں ۔ ہمارے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم انھیں یہ بات سمجھنے میں مدد کریں کہ وہ ایک ہولناک جرم کا حصہ بنی ہیں اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو انھوں نے خود کی ہو یا اس جرم میں کسی طرح ہاتھ بٹایا ہو۔‘‘ہاٹ لائن کے توسط سے پولس میں شکایت درج کروانے کے طریقۂ کار سے متعلق سوال بھی کیا جاتا ہے۔ فون کرنے والیاں جاننا چاہتی ہیں کہ ان کے پاس قانونی متبادل کیا ہیں؟ متاثرہ خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ جس قد ر جلد ممکن ہو طبی معائنہ کروائیں تاکہ فورنسِک ثبوت اکٹھا کیا جا سکے۔ متاثرہ کو راست مدد فراہم کرنے کے علاوہ رین عوام کو جنسی تشدد کے بارے میں تعلیم دینے ، جنسی زیادتی کی روک تھام    کے لئے عوامی حکمتِ عملی بہتر بنانے اور آبرو ریزی مخالف قانون سازی میں مدد دینے کا کام بھی کرتی ہے۔ 

 مسلح افواج میں جنسی حملے سے متعلق روز افزوں تشویش کے جواب میںمحکمۂ دفاع کی سیف ہیلپ لائن چلانے کے لئے رقم کے بدلے رین کی خدمات لی گئیں ۔یہ ایک مخصوص آن لائن ہیلپ لائن ہے جس کے ذریعہ فوج کے اراکین کو ۲۴ گھنٹے گمنام سہارا ملتا رہتا ہے۔اس کے علاوہ اس کے لئے ایک موبائل ایپ( ایپلی کیشن) بھی ہے جس کی مدد سے متاثرین اپنی دیکھ ریکھ کا بالکل ذاتی منصوبہ تیار کر سکتی ہیں ۔ برکووِز وضاحت کرتے ہیں ’’ جب فوج بیرون ِ ملک تعینات رہتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اہلکاروں کو فون اور رازداری کی سہولت دستیاب نہ ہو لیکن ایک ایپ ان کے فون پر کوئی ایسی چیز پیش کرتا ہے جس تک وہ کسی وقت بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں ۔یہ پروگرام علامات اور جذبات کے بارے میں مسلسل چھوٹے چھوٹے سوالات کے ذریعہ متاثرین کی راہ نمائی کرتا ہے اور انھیں بتاتا ہے کہ اس صورتِ حال سے نکلنے کے لئے انھیں کس طور پر کوششیں کرنی ہیں ۔ محکمہ ٔ دفاع کے مطابق اس سیف ہیلپ لائن کو استعمال کرنے والوں کی تعداد اب بیس ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔  

برکووِز تسلیم کرتے ہیں کہ اس کام میں کامیابی کی پیمائش مشکل ہے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ جنسی زیادتیوں کے معاملات میں اضافہ کیا مسئلہ کی افزائش کی جانب اشارہ کرتا ہے یا اس بات کا غماز ہے کہ جنسی زیادتیوں کے معاملات سے متعلق خبرنگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ تو انھوں نے کہا ’’ ہم محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ پر انحصار کرتے ہیں ۔قومی جرائم متاثرین جائزہ دراصل کسی مخصوص سال میں جنسی حملوں کی تعداد کا تخمینہ پیش کرتا ہے ۔یہ تنظیم پولیس میں درج کی گئی شکایت کے مقابلے ایسے حملوں کا اندازہ کئی ہزار گھروں کے لوگوں کے ساتھ انٹرویوکرکے قائم کرتی ہے۔ ‘‘ برکووِز کہتے ہیں کہ ۱۹۹۳سے اب تک ہر سال جنسی حملوں کی تعداد میں تقریباََ نصف کی کمی آئی ہے مگر پچھلے پانچ برسوں میں ایسے حملوں کی جانکاری دینے کے معاملات ۳۰ فی صد سے بڑھ کر ۴۰ فی صد ہو گئے ہیں ۔ رین امید کرتا ہے کہ ایسا ماحول پیدا ہوگا جہاں ہر متاثرہ پولس میں شکایت درج کرواناپسند کرے گی۔ 

 ٹیلی فون اور آن لائن ہاٹ لائنوں سے دستیاب ہمہ وقت کار آمد سہارے کے علاوہ رین کی ویب سائٹ پر ایسی جامع اطلاعات ڈالی گئی ہیں جو جنسی حملوں کا شکار ہونے والیوں ، ان کے دوستوں اوران کے خاندان کو مدد پہنچاتی ہے۔ متاثرین کی تربیت اور ان کی حمایت کے لئے ویب سائٹ پر مفت آن لائن کورس بھی دستیاب ہیں ۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ پر ریاستی قوانین کی جانکاری دی گئی ہے اور رضاکاروں کے لئے اپنی مدد آپ کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیںکیوں کہ کام کے دباؤ کی وجہ سے یہ رضاکار بہت زیادہ تھک جاتے ہیں ۔ پچھلے برس  www.rainn.orgنے امریکہ کے ایسے ۳۴لاکھ منفرد افراد کی خدمت کی جنھوں نے ویب سائٹ کھولی۔ ویب سائٹ دیکھنے والیوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد(۳لاکھ ۶۶ ہزار) ہندوستانیوں کی تھی۔   

برکووِزبتاتے ہیں کہ امریکہ میں جنسی تشدد کا معاملہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کوئی آسان حل دستیاب نہیں ہے۔مگر اس کے باوجود وہ پُر امید ہیں ’’ ہم لوگ ہنوز مسئلہ کا حل تلاش  کر رہے ہیں ۔ ۲۰ برس کا تجربہ بتاتا ہے کہ معاملہ میں پیش رفت کی گنجائش موجود ہے یعنی اس جرم کا مقابلہ کرنے کا راستہ موجود ہے مگر یہ عمل بہت سست ہے۔‘‘ 

جین وارنر ملہوترا واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلم کار ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط