مرکز
1 2 3

خاموش تماشائی نہ بنیں!

 صنفی تشدد کی روک تھام سےمتعلق تبصرہ کے کالم میں اپنے خیالات کا اظہار کریں اور انعام جیتیں۔ تبصرہ مقابلہ کی آخری تاریخ میں ۳۱ دسمبر تک اضافہ کیا جارہا ہے۔

جب  خواتین کے خلاف تشدد کی بات کی جاتی ہے تو بالعموم متاثرین اور قصورواروں کا خیال آتا ہے۔یہ چیز کسی مخصوص معاملہ میں تو درست ہو سکتی ہے لیکن سرحدوں اور ثقافتوں سے بالاتر صنفی تشدد کے وسیع تر مسئلہ کے حل کے لئے ہمیں معاشرے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ 

یہ تمام امریکہ کی توجہ اپنی جانب کھینچنے والے اس انوکھے پروگرام کے بنیادی اصول ہیںجو جنسی تشدد سے نمٹنے کے لئے نیو ہیمپ شائر یونیورسٹی میں چلایا جا رہا ہے۔اس کی شناخت ناظر کی شمولیت یقینی بنانے والے پروگرام کے طور پر بھی ہے جس میں حصہ دارمعاشرتی اشتہار بازی سے متعلق ایک مہم بھی شامل ہے جسے ’نو یور پاور‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔  

تماشائی

 مذکورہ پروگرام نیو ہیمپ شائریونیورسٹی میں ۲۰۰۶ میں قائم شدہ تحقیق، تربیت اور پیروکاری کرنے والی ایک تنظیم ’پری وینشن اِ ننو ویشَن‘کی تخلیق ہے۔جین اسٹیپل ٹَن اس کی شریک ڈائرکٹر ہیں جو سب سے پہلے ۱۹۸۷ میں یونیورسٹی کیمپس میں سامنے آئے اجتماعی عصمت دری کے ایک معاملے کے بعد جنسی تشدد کے معاملات کی نگہداشت کرنے لگیں۔ اس کیس میں ملوث لوگوں کو معمولی سزائیں دی گئیں جس کے نتیجے میں متاثرہ لڑکی نے اسکول چھوڑ دیا اور لاپتہ ہو گئی۔ جین اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’’ وہ ایک مختلف دَورتھا۔ اس وقت ’ڈیٹ ریپ‘ یاکسی شناسا کے ذریعہ زنا بالجبر کرنے جیسے جرم کے لئے موزوں الفاظ یا اصطلاح کی نشاندہی بھی نہیں کی گئی تھی۔ حالات کے مدِ نظر میں نے گریجویشن کے لئے منتخب مضمون تبدیل کیا اور جنسی مساوات اور تشدد جیسے مسائل کی جانب اپنی توجہ مبذول کردی۔ ‘‘

آج جین کے کام میں ان تجربات اورجنسی تشدد کے اسباب و ان کے سدّباب سے متعلق برسوں پر مبنی طویل تحقیق کا عکس دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’اس شعبہ کی توجہ خواتین کو محفوظ زندگی گزارنے کی تبلیغ اور مردوں کو زنا سے گریز کی تلقین سے آگے بڑھ کر اب تشدد کے مسئلہ سے نمٹنے کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔تماش بینوں کی مداخلت ایک جداگانہ چیز ہے۔ ہم نہ تو خواتین سے ممکنہ متاثرین کے طور پراور نہ مردوں سے ممکنہ قصورواروں کے بطورملاقات کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کی بجائے ہم تشدد کی روک تھام کے لئے برادری کے نقطۂ نظر کا استعمال کرتے ہیں جہاں جنسی تشدد اور خواتین کا پیچھا کرنے کی روک تھام میں ہر شخص کو کوئی نہ کوئی کردار ادا کرنا ہے۔‘‘   

’پری وینشن اِ ننو ویشَن‘،جس میں عمرانیات ، نفسیات، سوشل ورک ، قانون اور مطالعاتِ نسواں شامل ہے ،نے خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لئے مختلف طرح کے پروگرام وضع کئے ہیں ۔ اسی تناظر میں یہ بات بھی یکساں طور پر اہم ہے کہ یہ لوگ سختی کے ساتھ اپنے پروگرام کا جائزہ بھی لیتے ہیں ۔ جین اس معاملے پر یوں روشنی ڈالتی ہیں ’’ ہمارے کام کے سلسلے میں منفرد چیز وہ تحقیق ہے جو ہم پروگرام کے مؤثر ہونے کا پتہ لگانے کے لئے کرتے ہیں ۔ ہر چیز شہادت کو بنیاد بناکر کی گئی تحقیق پر مبنی ہوتی ہے۔ ‘‘

تحقیق سے حاصل شدہ بہترین طریقۂ کار میں سے کئی تربیتی معیار کو ایک سیریز کی شکل میں پورے امریکہ میں کالجوں اور دیگر اداروں کو فروخت کیا گیا ہے۔ جین کا کہنا ہے ’’ بائی اسٹینڈر پروگرام عوامی صحت کے ماڈل کا استعمال کرتا ہے جس سے تشدد کی نشاندہی اور روک تھام ہو سکتی ہے۔‘‘

۹۰منٹ یا آدھے دن تک چلنے والی ورک شاپ میں شرکا ء تماشائی کی جانب سے مداخلت کے تصور کے بارے میں جانتے ہیں۔وہ یہ بھی سیکھتے ہیں کہ جنسی تشدد سے قبل ، اس کے دوران اور اس کے بعد مداخلت کیسے کی جائے۔ 

 مباحثہ، اجتماعی مشق اور کوئی کردار نبھانے پر مشتمل ورک شاپ کا مقصد شرکاء کو ایسا پُر اعتماد بناناہوتا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر خود کو محفوظ رکھتے ہوئے متاثرین کی مدد کر سکیں ۔اس طرح شرکا ء کو معاشرے میں تبدیلی کے ایک بڑے عمل کا حصہ بننے کی تربیت دی جاتی ہے جہاں جنسی تشدد نا قابلِ قبول ہے۔ 

 اپنی طاقت کوپہچانو 

’نو یور پاور‘ نامی سماجی بازارکاری کی کوشش سے شبیہات کے ایک سلسلے کی داغ بیل پڑی ہے جس میں مشکل اور کشیدگی سے پُرایسے مناظر کی عکاسی کی گئی ہے جوایسے حالات کے تئیں بیداری پیدا کرتے ہیں جہاں ہراساں کرنے، تعاقب کرنے، جنسی تشدد کا شکار بنانے یا عصمت دری کرنے جیسے معاملات سامنے آئے ہیں ۔ ایسی شبیہات کی تعداد بیس سے زیادہ ہے اور یہ ویب فوٹو، اسکرین پَوپ اپ(کمپیوٹر اسکرین پر خلافِ توقع اچانک آجانے والا اشتہار)، پوسٹ کارڈ ، بُک مارک (فیتہ یا کاغذ وغیرہ جو یادداشت کے لئے کتاب میں رکھ دیا جاتا ہے)، پوسٹر یہاں تک کہ بسوں پر مشتہر کئے جاسکنے والے اشتہارات کی شکل میں ہیں ۔

 خاص کر نوجوانوں کو ذہن میں رکھ کر تشہیر کاری کے اس دَور میں ’نو یور پاور‘ کے توسط سے ’مداخلت کرو‘،’ آواز اٹھاؤ‘،’ ایک ناظر کے طور پر آپ کی پہل فرق پیدا کرسکتی ہے‘ وغیرہ نعروں کو پانی کی بوتلوں ، بٹن، جِم بیگ اور فلیش لائٹ جیسی اشیاء پر بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ 

ایک آن لائن ویڈیو میں جین کا کہنا ہے ’’ہم اپنی مہم کو موزوں بنانے اور اس پر نظرِ ثانی کرنے کے لئے مختلف برادریوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں ۔ اس طور پر یہ اشتراک کسی مخصوص منصوبہ کے آغاز ہی سے ہوتا ہے۔ہم واقعی اپنا ہدف تلاش کر لیتے ہیں اور یہ جان جاتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز اہم ہے ، وہ کیسے نظر آتے ہیں ، کس قسم کی زبان کا استعمال کرتے ہیں اور کسی مسئلہ کی وہ کیا مثالیں ہیں جس کو وہ سب سے زیادہ سمجھتے ہیں ؟ 

 جین کے نقطۂ نظر سے،شواہد سے واضح ہے کہ ’بائی اسٹینڈر پروگرام‘ کے جیساطریقۂ کارشرکاء کے درمیان صنفی تشدد کے مسئلے کے بارے میں شعور بیدار کر سکتا ہے اور اصل یا ممکنہ تشدد کی صورت حال میں ان کے اندر مداخلت کرنے کی آمادگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔

اس بات کا سمجھنا اہمیت کا حامل ہے کہ ایسی صورت ِ حال میں کوئی فرد اکیلا نہیں ہے بلکہ وہ مقا بلتاََ بہت بڑی متفکر برادری کا حصہ ہے جو خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ کرنے اور خواتین کے خلاف تشدد روا رکھنے کی اجازت دینے والے روئیے کے خاتمے کے لئے بھی پُر عزم ہے۔ 

ہاورڈ سنکوٹا، ورجینیا میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلم کار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط

تبصرے ملاحظہ کریں
شمیم اختر's picture

آج کے دور میں جب تعلیمی بیداری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اسکولوں اورکالجوں کی تعداد بڑھتی جار ہی ہے، صنفی تشدد میں بھی اضافہ واقعی ہمارے سماج کے لئے ایک ناسور سا بنتا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں مختلف تنظیموں جیسے پری وینشن اننو ویشن کا سامنے آنا اور تعلیمی اداروں اور دوسری جگہوں پر خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لئے بیداری پیدا کرنا واقعی ایک قابل ستائش قدم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صنفی تشدد کے خلاف سماج کی ہر سطح پربیداری میں مزید اضافہ کیا جائے۔ یہ صرف اسٹریٹ لیول ایویئر نیس پروگرام (سلیپ) اور پری وینشن اننوویشن جیسی تنظیموں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص کو اس کے خلاف آواز اٹھانی پڑے گی اور اس کے خلاف کارروائی کرنی پڑے گی جو بھی عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کو دیکھتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے واقعے کو وقوع ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔ میرے خیال میں اس سے بڑھ کر اس بات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ صنفی تشدد کے واقعات پیش آتے ہی کیوں ہیں۔ وہ کون سے اسباب ہیں جو اس طرح کے واقعات کو انجام دینے کی وجہ بنتے ہیں؟ اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ اس کے لئے ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے، اپنے اپنے علاقے اور خطے کے حساب سے سماجی اقدار پر توجہ اور اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ صنفی تشدد کے متاثرین کوہر قدم پر ہمت اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین واقعے سے ٹوٹ نہ جائیں بلکہ اپنی زندگی کو سنوارنےکی کوشش کریں اور صنفی تشدد کی روک تھام کا ذریعہ بنیں۔ اور ہم سب کو اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ صنفی تشدد کی روک تھام کے لئے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔
Nadeem Ahmad's picture

اکیسویں صدی کے اس دور میں جب کہ دنیا خلا میں بودوباش اختیار کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے اور سائنس وٹیکنالوجی کی بدولت وہ نت نئی ایجادات کر کے لوگوں کی زندگیوں میں ایک حیرت انگیز تبدیلی لا رہی ہے، افسوس کہ اس دور میں بھی ہمارا معاشرہ کئی طرح کی پیچدگیوں، الجھنوں اور طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے اور بلاشبہ ان میں سے ایک صنفی تشدد بھی ہے۔ تاریخ عالم کے اوراق صنفی تشدد کے بدنما دھبوں سے بھرے پڑے ہیں۔۔صنفی تشدد کی روک تھام جدید دور کا ایک زبردست چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ نے اسی چیلنج سے نمٹنے اور صنفی تشدد کی حوصلہ شکنی کے لئے ۹۹۹۱ میں ۲۵ نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کا عالمی دن قرار دیا ۔ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں خواتین تشدد سے نبردآزما ہیں۔۱۹۵۰ میں امریکی ریاست ٹینسی وہ پہلی ریاست تھی جہاں خواتین کے خلاف تشدد پر باضابطہ ایک قانون بنایا گیا۔۱۹۷۰ کی دہائی میں عورتوں کے حقوق اور گھریلو تشدد کے حوالہ سے باقاعدہ طور پر آواز بلند کی گئی اور فیمنزم کو بطور اصطلاح استعمال کیا گیا۔قومی اور عالمی سطح پر بہت سے قوانین بنائے گئے، مگر ان قوانین سے آگاہی نہ ہونے اور ان کا معاشترتی رویوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہندوستان اور دیگر ملکوں میں خواتین کے خلاف تشدد بدستور جاری ہیں۔صنفی تشدد کی روک تھام کے لئے انفرادی کوششوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی کوششیں کئے جانے کی اشد ضرورت ہے اور اس کی ابتدا ہر ایک کو پہلے اپنے گھر، خاندان، رشتہ دار، احباب اور پڑوسیوں سے کی جانی چاہئے۔ اگر کہیں صنفی تشدد کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کی فوراً دل شکنی کی جانی چاہئے اور اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئے۔ مزید یہ کہ اس تعلق سے لوگوں کی ذہنیت بھی بدلنے کی سخت ضرورت ہے۔
Samiur Rahman's picture

اندھیرے سے اجالے کی جانب پیش قدمی آپ کی میگزین کا سلوگنBridging US-India Relation ہند پاک تعلقات کے درمیان پل کا کام کرنے کی خواہش کو اس مضمون کے ذریعہ بخوبی عملی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ نہ صرف اسپین بلکہ ہاورڈ سنکوٹا نے اپنی اس خصوصی پیش کش کے سبب قابل تعریف کام کیا ہے۔ عورت پرظلم کیسےختم ہو، یہ سوال سول سوسائٹی میں اکثر اٹھتا رہا ہے لیکن اپنے مضمون کے ذریعہ اسپین نے دنیا کے دو سب سے بڑے جمہوری ممالک میں اس بحث اور اس کے ذریعہ بیداری مہم کو تازہ کر قابل تحسین خدمت انجام دی ہے۔ عام طور پر تمام ہی معاشروں میں صنفی تشدد کے پیچھے غالباً تین بنیادی نظریات وتصورات کارفرما ہیں۔ • معاشرتی اعتبار سے عورت کمتر ہے • مرد کی شہوانی خواہش کے پیش نظر ہر ممکن طریقہ سے عورت کا استحصال کیا جاسکتا ہے۔ • خاندان کی عزت مقدم ہے، لہذا غیرت کے نام پر عورت پر تمام طرح کی بندشیں لگائی جا سکتی ہیں۔ درج بالا نظریات وتصورات کی روشنی میں دیکھا جائے تو صنفی تشدد کے معاملے قدیم زمانے سے ہی ہیں۔یونانی تاریخ میں مرد نے عورت کو صرف اپنی نفسانی تسکین و مسرت کا ذریعہ اور آلہ کار سمجھا۔ یونانیوں کے نزدیک عورت “ شجرۃ مسمومۃ “ ایک زہر آلود درخت اور “ رجس من عمل الشیطان “ کے مطابق عورت شیطان سے زیادہ ناپاک سمجھی جاتی تھی۔ رومن قانون آج بھی دنیا کے مختلف ممالک کے قوانین کا سنگِ بنیاد ہے۔ اس اعلیٰ ترین قانون میں عورت کی حیثیت پست و کمزور تھی اور ان کا عقیدہ تھا کہ عورت کے لئے کوئی روح نہیں بلکہ وہ عذاب کی صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ عورت شادی کے بعد شوہر کی زرخرید غلام ہو جاتی تھی۔ جس موجودہ صورتحال کا خاکہ مضمون میں پیش کیا گیا ہے وہ ہند اور امریکہ کے سماج کے سوچنے سمجھنے والوں کو نہ صرف تشویش میں مبتلا کررہی ہے بلکہ مستقبل قریب کے حالات کی بھی ایک منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ لیکن جس تبدیلی کے آغاز کی بات دونوں سماجوں میں ان رپورٹوں کے ذریعہ بتائی گئی ہے وہ ان منفی حالات میں میں نئی روشنی کی جانب لے جانے والے اقدام ہیں۔ اور اس کے لئے دونو سماجوں کے سرکردہ افراد کو اٹھ کھڑے ہوجانا چاہیے، اور میڈیا کو عوام کو بیدار کرنے کی اس مہم میں اہم ذمہ داری نبھانے میں اپنا بھر پور تعاون دینا چاہئے جیسا کہ اسپین پہلے سے ہی کر رہا ہے۔ ایک بار اس شاندار مضومن کے لئے اسپین اور اس کی پوری ٹیم کا شکریہ
ghuffrana naheed's picture

صنفی تشدد ہمارے سماج میں پایا جانے والا ایک بد نما داغ ہے۔ ہمارے سماج کو اس دھبہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مل جل کر یعنی اجتماعی طریقے سے اس صنفی تشدد کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کی ہر سطح پر مخالفت کرنی چاہئے۔ جہاں بھی ہم اس طرح کے واقعے کو ہوتے دیکھیں، ضروری ہے کہ ہم اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کے خلاف کارروائی کریں اور متاثرین کی ہر طور پر امداد کریں۔ اسکول، کالج، عوامی جگہ اور دیگر مقامات پر صنفی تشدد کے خلاف بیداری پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی بچیوں اور لڑکیوں کو اس تشدد کے خلاف آواز اٹھانے اور لڑنے کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔