مرکز
1 2 3

قیام ِ امن کی راہ میں نسوانی پیش رفت

وِمن اِن سکوریٹی ، کَنفلِکٹ مینیجمینٹ اینڈ پیس نامی ہندوستانی ہلیانِ علم و دانش حفاظتی بندوبست اور تنازعات سےمتعلق مباحثے اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو مرکزی کردار عطا کرتی ہے۔

جنو بی ایشیا کو طویل عرصے سے تباہ کن تنازعات درپیش رہے ہیں جو اس کے اربابِ اختیار کے ان تنازعات کے حل کرنے کی کوششوں کی راہ میں حائل ہیں ۔لیکن روشن مستقبل کے لئے اب امید کی کرن نظر آنے لگی ہے کیوں کہ ہندوستانی تھِنک ٹَینک ،  وِمن اِن سکوریٹی، کَنفلِکٹ مینیجمینٹ اینڈ پیس(وِسکَومپ)، کے ذریعہ اب تک کم استعمال ہونے والے وسیلے یعنی خواتین نے اس سلسلے میں پیش قدمی کی ہے۔

۱۹۹۱ء میں قائم کی گئی یہ تنظیم ، فاؤنڈیشن فار یونیورسل ریسپونسبیلیٹی کی جانب سے کی گئی ایک پہل ہے جس کا قیام ۱۹۸۹ء میں دلائی لاما کو عطا کئے گئے امن کے نوبل انعام کے تحت ملی رقم سے عمل میں آیا تھا۔ وِسکَومپ کی بانی اور ڈائرکٹر میناکشی گوپی ناتھ بتاتی ہیں کہ ان کی تنظیم خواتین کی دانش مندی اور ہمدردی سے متعلق خصوصیات یاد دلانے کا باعث بن رہی ہے۔ 

 وہ کہتی ہیں ’’تنازعات کے حل کے کام میں خواتین خصوصی مہارت رکھتی ہیں۔ ان کے غیر رسمی نیٹ ورک سے انہیں ایسی معلومات تک رسائی ملتی ہے جو اکثر سرکاری رپورٹوں میں نہیں ہوتی ۔وہ زمینی سطح پر بہت موثر کام کرسکتی ہیں خاص طور سے ماں کے طور پروہ خونریزی کو روکنے کے لئے جنگ میں ملوث گروپوں کو اچھی طرح سے سمجھانے کا کام کر سکتی ہیں۔وہ منظر نامے کے ساتھ کام نہیں کرتیں بلکہ تصوراتی طور پر کمزور شعبوں میں ایک سے زیاد ہ متبادل تلاش کرنے کی اہل ہوتی ہیں جس سے معاملے کو وسیع لچیلا پن میسر آتا ہے۔ ‘‘

   صنف، تنازع، امن اورقیادت جیسے امور پر منعقد کئے جانے والے ورکشاپ، سمپوزیم اور تربیتی پروگرام میں   وِسکَومپ مختلف شرکا کوایک پلیٹ فارم پر لاپاتی ہے۔ تنظیم کی تعلیم اور ادارے سے متعلق تین سوسے زیادہ مطبوعات بھی ہیں۔تنازعات کے حل کے مستقبل کے اثرات پر بھی تنظیم نظر رکھتی ہے جس کی ابتدائی حصولیابی  ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور دیگرجنوبی ایشیائی ممالک کے ان نوجوان افرادکی ایک جماعت کی تشکیل ہے جنہیں اپنے ممالک میں جاری تنازعات کے جامع اورہمہ گیر نظریہ کو فروغ دینے کے لئے تنظیم نے ہی تربیت دی ہے ۔  

گوپی ناتھ بتاتی ہیں ’’ہم مستقبل کے لئے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے سرمایہ کاری کررہے ہیں کہ امن ایک عمل ہے کوئی تقریب نہیں۔ہم نے شروع سے ہی شعوری طور پر نوجوانوں یا یوں کہیں کہ مستقبل کے بااثر افراد میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ہم نے ان پر دیگر جماعتوں کو سمجھنے اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں شمولیت کے جذبے کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمیں اس کا فائدہ ملا ہے۔ آج ہمارے پاس ۵۰۰  نوجوان افراد کا ایک سرگرم دستہ ہے جس نے تنازعات کے حل سے متعلق ہمارے ورکشاپ میں شرکت کی ہے۔ ان میں سے کئی افراد نے ہم سے کہا ہے کہ نظریات کوتبدیل کرنے میں یہ ورکشاپ اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور سے ان نظریات کوجن سے وہ تنازعات کو دیکھتے ہیں اور مداخلت کے ان امکانات کوجس کا وہ جائزہ لے سکتے ہیں۔

 گوپی ناتھ کا اس بات پر اصرار ہے کہ قیام ِ امن میں مرد بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔وہ زور دیتی ہیں کہ ان لوگوں کی باتیں بھی سنی جانی چاہئے جو ان تنازعات کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں’’وِسکَومپ لازمی طور پر اس بات کی تائید نہیں کرتی ہے کہ تمام خواتین حیاتیاتی یا سماجی کسی بھی طور پر امن کے لئے پابند ِ عہد ہیں یا یہ کہ مرد جنگ کا سبب ہوتے ہیں اور خواتین امن کا باعث ہوا کرتی ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر آپ پوری آبادی میں کسی بڑے طبقے کی آواز پر توجہ نہیں دیتے ہیں تو تنازعات کے حل کے بعض قابل قدر مشوروں کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔ ‘‘

گوپی ناتھ کہتی ہیں ’’خود کو حاشئے پرکھڑا پانے کا تجربہ کر نے کے بعد خواتین ، انصاف کرنے والوں کے ایک شعبے تک انصاف طلب مسائل کوموثر طریقے سے پیش کرنے کی اہل ہیں۔خواتین ایک بڑا گروپ تشکیل کرتی ہیں ایسے میں بھی جب ہم خیال کرتے ہیں کہ خواتین و حضرات دونوں کو مشترکہ طور پرانسانیت کے جذبے سے پُر ایک جامع دنیا تشکیل دینی ہے۔جن چیزوں کو ہم فروغ دینا چاہتے ہیں وہ خواتین اور بعض مرد، دونوں میں نسائی توانائیوں کی مثبت خصوصیات ہیں نہ کہ غیر فعال نسوانیت کو مہارت کے ساتھ استعمال میں لانا ۔ان چیزوں کوقیام امن کے عمل میں لوگوں کے درمیان لانے کی ضرورت ہے۔‘‘

وِسکَومپ میں خواتین ، پارٹنرس اِن ویل بینگ نامی پروگرام کے ذریعہ صنفی بنیاد کے تشدد پر بھی توجہ دیتی ہیں ۔اس پروگرام کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے واقعات سے نمٹنے اور اسے روکنے کے لئے نوجوان مرد و خواتین کے رویوں، عقائد اور طرز عمل میں تبدیلی لانا ہے۔صنفی مساوات پرمنعقد کئے جانے والے صنفی حسّاسیت سے متعلق مذاکرات اور صلاحیت سازی کے ورکشاپ شہری اور دیہی علاقوں اور محروم طبقات کے نو جوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے ہیں۔ ہندوستان میں امریکی سفارت خانہ کے عوامی امور کے شعبے سے حمایت یافتہ یہ پروگرام ان موثر طریقوں پر توجہ دیتا ہے جوان لوگوں نے صنف پر مبنی تشدد کے خلاف سزا سے استثنا ء اور خاموشی کی ایسی ثقافت سے نمٹنے میں استعمال کیا ہے اور کرسکتے ہیں جو ہمارے ملک میں گھر کر گیا ہے۔ ‘‘

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ پائیدارامن اور صنفی مساوات کی سڑک ناہموار رہی ہے اوررہے گی ، گوپی ناتھ مستقبل کے بارے میں مثبت خیال رکھتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کا پوری دنیا میں دوسرے ممالک میں بھی اپنی سرگرمیوں کو توسیع دینے کا ارادہ ہے۔ 

وہ کہتی ہیں ’’ہمارا خیال ہے کہ اپنے نیٹ ورک میں موجود قابلِ ذکر خواتین کے کام کے ذریعہ ہم خواتین کی آواز کی اہمیت کے متعلق بیداری پیدا کرنے میں کامیاب ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔ پالیسی  وضع کرنے کے عمل میں مثالی تبدیلی کا حصول باقی ہے۔اس لئے ہمارا کام استقامت ، تخلیقیت اور جدّت کے ساتھ برقرار رہنا ہے۔ ہم اس طور پر کام کرتے رہیں گے جس سے مایوسی کو جگہ نہیں ملی گی اور امید کو عملی جامہ پہنانے کا عمل جاری رہے گا۔‘‘

اسٹیو فاکس کیلی فورنیا کے ونچورا میں مقیم  ایک آزاد پیشہ قلمکار، ایک اخبار کے سابق ناشر اور نامہ نگار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط