مرکز
1 2 3

مدد کی درخواست

اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں ایمرجنسی میڈیسین کی استاد ڈاکٹر جینیفر نیوبیری خواتین کے لئے ریاست گجرات کے ذریعہ شروع کئے گئے ہیلپ لائن نمبر ۱۸۱ ابھیم کے اثرات کے ابتدائی تجزیہ کے لئے اسٹین فورڈ یونیورسٹی اور انڈیا میں اس کے شراکت داروں کی مشترکہ ٹیم کی قیادت کرتی ہیں۔ 

۲۰۱۳ء میں انڈیا میں مواصلات کی وزارت کے تحت کام کرنے والے ٹیلی مواصلات کے محکمہ نے ملک گیر سطح پرایک ٹول فری فون نمبر جاری کیا تھا جس کے لئے تمام ریاستی حکومتوں کو جنس پر مبنی تشدد کا شکار بننے والی خواتین کی مدد کی خاطر اس نمبر کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کی ہدایت بھی دی تھی ۔کیلی فورنیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں ایمرجنسی میڈیسین کی استاد اور سینٹر فار انوویشن ا ن گلوبل ہیلتھ کی فیلو  ڈاکٹر جینیفر نیوبیری خواتین کے لئے گجرات کے مفت ہیلپ لائن نمبر ۱۸۱ابھیم سے متعلق کال سینٹر ڈاٹا کے جائزے کے لئے گزشتہ دوبرسوں سے اس ریاست کا دورہ کر رہی ہیں۔سنہ ۲۰۱۴ ء میں فروری میں اس ہیلپ لائن کو تمام گجرات میں شروع کیا گیا تھا۔گھریلو تشدد سمیت مختلف معاملوں میں یہ چوبیس گھنٹے مفت مشورے ، رہنمائی اور معلومات فراہم کرتا ہے اور دھمکیوں سے پُرمعاملات میں یہ رہائی کا عمل بھی انجام دیتا ہے ۔پیشہ ورانہ طور پرانڈیا میں سب سے بڑی ایمرجنسی خدمات فراہم کرنے والی تنظیموں میں سے ایک جی وی کے ایمرجنسی مینجمینٹ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ۱۸۱ ابھیم کے نفاذ اور اس کے آپریشن کی ذمہ داری کا عمل انجام دیتی ہے۔ 

ڈاکٹرنیوبیریاسٹین فورڈ کے ایمرجنسی میڈیسین او ر شعبہ اطفال کے محکموں اورہندوستان میں اس کے شراکت داروں کے درمیان ۱۸۱ ابھیم کے اثرات کے ابتدائی تجزیہ کے لئے تشکیل شدہ مشترکہ ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں ۔یہ ٹیم ہندوستان میں ہیلپ لائن ماڈل کے اثرات کی تفہیم پر کام کرے گی اور خواتین کودر پیش مشکلات میں مدد اوراس کے ردعمل کے لئے ثبوت کی بنیادتیار کرے گی ۔اس سلسلے میں اس ٹیم نے حال ہی میں اسٹین فورڈ سینٹر فار انوویشن ان گلوبل ہیلتھ سے بنیادی سرمایہ حاصل کیا ہے ۔پیش ہیں ڈاکٹرنیوبیری سے لئے گئے انٹرویو کے اقتباسات۔ 

 

۱۸۱ ابھیم کے اثرات کے ابتدائی تجزیہ پر کام کرنے والی تحقیقی ٹیم کے بارے میں کچھ بتائیں ۔

میں شریک اعلیٰ تحقیق کار اسٹین فورڈ ایمرجنسی میڈیسین انٹر نیشنل کے ڈائرکٹر ، ڈاکٹر میتھیو اسٹریلو اور اسٹین فورڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین میں مائوں اور بچوں کی صحت کے شعبہ کے ایسوسی ایٹ ڈین ،ڈاکٹر گیری ایل ڈیمیسٹیٹ کی مدد سے اسٹین فورڈ میں تحقیقی ٹیم کی قیادت کر رہی ہوں۔ ہماری ٹیم تین انڈر گریجویٹ ریسرچ اسسٹنٹ  شرویہ گروپو، جپ سمرن کور اور روشالی پٹیل ، گلوبل ایمرجنسی میڈیسین فیلو میں سے ایک ڈاکٹرسائبل زیچاریا  اور رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرنے والی ایک پوسٹ ڈاکٹورل فیلو کرشمہ دیسائی پر مشتمل ہے۔ہم لوگوں نے اپنی ٹیم کے لئے کسی کی تقرری نہیں کی بلکہ انڈیا کے تہذیبی ورثہ سے تعلق رکھنے والی ان تمام خواتین کوجب ہمارے منصوبے کے بارے میں معلوم ہوا تویہ ہماری مدد کی خاطر ہم تک پہنچیں۔ ان میں سے ہر فردانفرادی جذبے کے تحت انڈیا میں صنف پر مبنی تشدد کے خلاف لڑنے کے لئے پُر عزم ہے۔ 

جی وی کے ایمرجنسی مینجمینٹ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں شامل ادارے بھی ہماری ٹیم کے شراکت دار ہیں جو گجرات میں ۱۸۱  ابھیم پروگرام کی نگرانی کرتے ہیں ۔مطالعہ کی غرض سے ہم رواں موسم ِ گرما میں تحقیق میں مدد کرنے والے ایسے چھ اضافی مقامی افراد کی تقرری کرنے والے ہیں جو انگریزی اور گجراتی زبان میں بہت اچھی استعداد رکھنے کے ساتھ تحقیق کا معیاری تجربہ بھی رکھتے ہوں۔ 

آپ کی ٹیم اثرات کے تجزیہ کے عمل کو کیسے انجام دے گی؟

اثرات کے تجزیہ کے لئے میں رواں موسمِ گرما میں دو ماہ تک گجرات میں قیام کروں گی۔دوران قیام میں ان خواتین سے بات کروں گی جنہوں نے ہیلپ لائن نمبر پر فون کیا ۔ میرا ارادہ ان خواتین سے بھی بات کرنے کا ہے جنہوں نے اس نمبر کا استعمال نہیں کیا۔ 

ہمیں امید ہے کہ یہ تفصیلی انفرادی انٹرویو ہمیں یہ سمجھنے میں بہتر طور پرمدد کرے گا کہ ۱۸۱ ابھیم کس طرح خواتین کی زندگی پر اثر ڈالتا ہے خواہ وہ مدد کے ذریعہ ہو ، قانونی امداد کے ذریعہ ہو یا پھر ذہنی صحت سے متعلق مشاورت یابا اختیار بنانے کے عمل کے ذریعہ، یا بس اس یقینی دہانی کے ذریعہ ہو کہ وہ لوگ مشکل حالات میں جب بھی فون کریں تو کوئی نہ کوئی ان سے بات کرنے والا ہوگا۔ ہمیں یہ امید بھی ہے کہ ہم ان مشکلات کی بھی نشاندہی کر سکیں گے جن کا سامنا خواتین ہیلپ لائن پر بات کرنے کے دوران کرتی ہیں۔ ہم ان خصوصی گروپ کی بھی شناخت کر پائیں گے جنہیں مزید رسائی کی ضرورت ہے جیسے کہ نوجوان خواتین۔ اس کے ساتھ ہی ہم ان مواقع کی بھی شناخت کر سکیں گے جو ۱۸۱  ابھیم خدمات کو تقویت بخش سکیں۔ 

گجرات میں ۱۸۱ ہیلپ لائن کی کامیابی کے بعد کیا دیگر ریاستوں نے بھی اس کا آغاز کیا ہے ؟

گجرات کے ۱۸۱ ابھیم کی کامیابی کے بعد دیگر ریاستوں نے بھی اسی ماڈل پر ہیلپ لائن شروع کی ہے۔ چھتیس گڑھ نے ایک جامع ۱۸۱ ہیلپ لائن کا آغاز کیا ہے جو پوری ریاست کا احاطہ کرتا ہے ۔ اتر پردیش نے کم از کم ۱۱ اضلاع میں ۱۸۱ خدمات شروع کی ہیں اور دیگر ضلعوں میں بھی اسے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ آندھر پردیش اور آسام اس سلسلے میں منصوبہ بندی کے آخری مراحل میں ہیں۔ 

آپ کے خیال میں خواتین کو اس ہیلپ لائن پر فون کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کا سب سے موثر طریقہ کیا ہے؟ 

گجرات کے ہرضلع میں آؤٹ ریچ کونسلر ہیں۔ یہ خواتین تربیت یافتہ ۱۸۱ ابھیم اسٹاف ہیں جو کال سینٹر میں کونسلر کی طرح کام کرنے والی خواتین کی طرح ہوتی ہیں۔آؤٹ ریچ کونسلرباہر رہتی ہیںجن کی بنیادی ذمہ داری ۱۸۱ ریسکیووَین میں عملہ کے طور پر کام کرنے کی ہوتی ہے ۔ ہروَین میں ایک آؤٹ ریچ کونسلراور ایک خاتون پولس کانسٹبل ہوتی ہیں۔جب کسی خاتون کا فون آتاہے ، اس کی رضامندی یا خصوصی طور پر اس کی گزارش پر کونسلر اور پولس کانسٹبل دونوں وہاں جاتی ہیں اور ثالثی، مشاورت اور وسائل تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ اوراگر ضروری ہو تو انہیں وہاں سے نکالنے کا کام بھی انجام دیتی ہیں۔

آؤٹ ریچ کونسلر اور ریسکیووَین کو خواتین کی ہیلپ لائن وَین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔خواتین کوفون کرنے کے لئے تیار کرنے میں یہ کافی اہم ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ وَین ان لوگوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمت اور  ۱۸۱ ابھیم کے تئیں رد عمل کی علامت ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب آؤٹ ریچ کونسلر  فون کے جواب دینے کاکام نہیں کرتی ہیں تو ۱۸۱ ابھیم کے تعلق سے وہ کمیونٹی کے متعلقہ ذمہ داران تک پہنچتی ہیں اور بیداری کی مہم کا انعقاد کرتی ہیں ۔بیداری کی مہم خواتین کو ان کے حقوق اور مقامی سرکاری اور غیر سرکاری وسائل کے بارے میں بتاتی ہیں اور خواتین کو ان کی روز مرہ کی زندگی میں با اختیار بنانے میں کوشاں رہتی ہیں۔ کمیونٹی کے اندر اس قسم کی گہری مشغولیت شفافیت اور اعتماد پیدا کرتی ہیں۔ 

گجرات میں تحقیق سے حاصل ہونے والی اہم باتیں کیا ہیں؟

بہت ساری باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہم سمجھ نہیں پاتے کہ کیسے ، کیوں اور کب خواتین تشدد کے بعد مدد کی خواہاں ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں جتنی خواتین تشدد کے دور سے گزرتی ہیں ان میں سے ایک فی صد سے بھی کم اپنے کنبے اور دوستوں سے باہر کی تلاش کرتی ہیں ۔ ہماری تحقیق کے دونوں حصے ، سابقہ حالات سے متعلق جائزہ اور ممکنہ مطالعہ رواں موسم ِ گرما میں شاید ہی مکمل ہو پائیں مگر میں دو موضوعات، بااختیار بنانے کا عمل اور اعتماد کو ابھرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ فون کرنے کے لئے خواتین کو خود کو بااخیتار محسوس کرنا چاہئے۔

 اس طرح سے با اختیار بنانے کے عمل میں صرف خود مختاری کا احساس او ر اپنی زندگی پر عبور حاصل کرنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ فہم بھی ہے کہ انہیں حقوق حاصل ہیں جن کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ خواتین ایک بار جہاں با اختیار ہو جاتی ہیں توانہیں اس پر اعتبار ہونا چاہئے کہ یہ ادارے حقیقت میں ان کی باتوں پر توجہ دیں گے اور انہیں جو بھی ضرورت ہو وہ مدد فراہم کریں گے ۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط