مرکز
1 2 3

نسلوں کے درمیان نقطۂ نظر کا فرق

شالینی شنکر مختلف نسلوں کے درمیان آبادیاتی توضیع میں ندارد تارکینِ وطن اور اقلیتوں کے نقطہ نظر کو شامل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

آپ اپنی نسل کے زندگی نامہ میں کتنی اچھی طرح سے سماتے ہیں؟ 

اگر آپ ۱۹۶۵ء سے ۱۹۸۰ ء کے درمیان پیدا ہوئے جنریشن ایکس سے تعلق رکھتے ہیں تو کیا آپ محتاط اور متشکک شخصیت کے مالک ہیں ؟اور کیا آپ انتہائی آزاد قسم کے اور ملازمت کی سلامتی پر توجہ مرکوز رکھنے والے انسان ہیں ؟ اگر آپ کی پیدائش ۱۹۸۱ء اور ۱۹۹۷ ء کے درمیان ہوئی تو کیا آپ کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ہمیشہ مربوط رہنے والے شخص کے زمرے میں شامل کیا جائے؟ کیا آپ والدین کے ساتھ اچھی طرح گھل مل جاتے ہیں ، جیسا کہ تحقیق بتاتی ہے کہ یہ چیز آپ کے ہم سروں میں عام ہے۔

یہ سوالات عوام کے بڑے گروہ کے بارے میں عام تصور کی طرح لگتے ہیں اور کئی معنوں میں یہ ایسے ہی ہیں ۔ مگر یہ ایسے سوالات ہیں جو ان نسلوں کے تجرباتی مطالعہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ تاہم ان تحقیقات کی درستگی کو لے کر مسئلہ ہے جیسا کہ بشریات کی ہندوستان نژاد پروفیسر اورریاست ایلی نوائے میں واقع نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں ایشیائی امریکی مطالعہ جات کی ڈائرکٹر شالینی شنکر اشارہ کرتی ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کہ زیادہ تر تحقیق سفیدفام لوگوں اور درمیانی طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے تجربات پر مبنی ہوتی ہے اور وہ ہر نسل پر تارکین وطن اور اقلیتی طبقات کے ثقافتی اثرات کو درست طریقے سے درج کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

شنکرکی دلیل یہ نہیں ہے کہ ہر تحقیق کو لازمی طور پر زیادہ متنوع ہونا چاہئے۔بعض تحقیق میں آبادی کے جائزے کو تقسیم کیا جاتا ہے اور آبادی کی تشکیل کے ذریعہ نتائج تک رسائی بھی حاصل کی جاتی ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی مخصوص علاقے کے سب سے زیادہ آبادی والے گروپ کو تحقیق میں شامل کیا گیا ہے۔ مگر شنکر کا کہنا ہے کہ نتائج اخذ کرتے ہوئے لوگوں کی پوری نسل کے بارے میں جو چیز نامعلوم ہو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’میں تحقیق کے اخذ شدہ نتائج کا مطالعہ کرتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کیاکوئی خلا ہے۔میں اس پر توجہ مرکوز کر رہی ہوں کہ اس خلا کو پُر کرکے ہم کیا حاصل کر پائیں گے۔ ‘‘

گگن ہیم فیلو کے طور پر ۲۰۱۸ئ۔۲۰۱۷ء تعلیمی سال میں شنکر تحقیق کے ذریعہ اس خلا کی نوعیت اور اس کے اثرات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جان سائمن گگن ہیم میموریل فاؤنڈیشن  اسکالروں اور فنکاروں کی علمی ترقی کو مہمیز کرنے کے لئے وظیفہ دیتا ہے ۔ یہ وظیفہ علم کے کسی بھی شعبے میں تحقیق اور کسی بھی فن میں تخلیق کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ 

شالینی شنکر اپنی تحقیق اور تحریر کے لئے نسلی جغرافیائی اور نسبتی تجزیہ کے طریقہ کار کا استعمال کرتی ہیں جو انہیں تجرباتی مطالعہ سے حاصل شدہ رپورٹ کے اعدادو شمار کے پس پردہ لوگوں کی کہانیوں کو دیکھنے اور انہیں لوگوں کو بتانے کی اجازت دیتا ہے۔ ان کے اپنے کام کے لئے نہ تو کوئی ٹیسٹ گروپ ہے اور نہ ہی تحقیق کے نتائج کے بارے میں پہلے سے طے شدہ مثبت یا منفی قیاس موجود ہیں ۔بلکہ ایسے افراد، بچے اور خاندان ہیں جن سے وہ ملتی ہیں، ان کی تاریخ جمع کرتی ہیں اور زیادہ وقت تک ٹھہر کر یہ مشاہدہ کرتی ہیں کہ لوگ کس طرح بدل رہے ہیں یا ان خاندانوں میں بچے کس طرح سیکھ رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں ۔ ان کی توجہ اب جنریشن زیڈ پر ہے ۔ یہ وہ نسل ہے جو آج کے جوانوں کی تقلید کرتی ہے ۔ اس کی توجہ اس بات پر بھی ہے کہ اس گروپ کی تعریف کس طرح کی جائے تاکہ تارکین وطن اور اقلیتوں کے تعاون پر توجہ دی جا سکے۔ 

شنکر بتاتی ہیں ’’ جنریشن زیڈ میں بے شمار تنوع موجود ہے۔یہ گمان کرنا نا عاقبت اندیشی ہوگی کہ یہ لوگ صرف سفید امریکی ثقافت سے متاثر ہوں گے اور اس ثقافت پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا۔‘‘

اپنی فیلو شپ کے لئے شنکر اپنی پچھلی تحقیق کو بھی وسعت دے رہی ہیں ۔مثال کے طور پر وہ ۲۰۰۸ء میں شائع شدہ اپنی کتاب دیسی لینڈ : ٹین کلچر، کلاس اینڈ سکسیس اِن سلی کون وَیلی کے لئے تحقیق کے دوران جن افراد سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں تھی وہ ان کی تجدید کر رہی ہیں۔ 

شنکر مزید بتاتی ہیں ’’میں ان لوگوں سے اس وقت ملی تھی جب وہ ہائی اسکول میں تھے۔ اب یہ لوگ اپنی زندگی کی تقریباََ تین دہائیاں مکمل کر چکے ہیں ۔ جب میں نے اس پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا تھا تب میں ان کوکم عمر والے لوگ یا انڈیا، بنگلہ دیش ، پاکستان، ہند نژاد فجی باشندوں کی دوسری نسل سے تعلق رکھنے والے تصور کرتی تھی۔ لیکن اب میں ان کو ایسی عصری نسل سے تعلق رکھنے والے مانتی ہوں جن کے تعاون کو قطعی سراہا نہیں جاتا ہے۔‘‘

۲۰۱۳ء میں ساؤتھ ایشین اسپیلنگ بی کے تعلق سے انہوں نے شرکاء سے ملنا شروع کیا ۔ وہ اب ان پرانے مضامین کے اپنے تجربے پر غور کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہیں ۔ان کی تحقیق کے آغاز کے وقت یہ بچے ۶ اور ۱۴ برس کے درمیان کی عمر کے تھے۔ اس کے نتیجے میں ان کی اگلی کتاب  بی لائن : وہاٹ اسپیلنگ بیزریویل اباؤٹ دی جنریشن زیڈس نیو پاتھ ٹو سکسیس میں شائع کئے جائیں گے۔ وظیفے کے تعلق ہی سے شالینی شنکراسپیلنگ بی کے شرکاء کے گھروالوں سے دوبارہ ملاقات کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ ایسا یہ جاننے کے لئے کر رہی ہیں کہ ان طبقات کے لوگ یا ان طبقات کو باہر سے دیکھنے والے کس طرح ان کو سمجھتے ہیں اوراسپیلنگ بی جیسے کسی مشغلے کے ارد گرد والدین اور بچے کس طرح آپس میں بات چیت کر تے ہیں۔‘‘

جنوبی ایشیائی تارکین وطن اور اقلیتی گروپ کے نقطہ نظر کے ساتھ، جن کے بچے اسپیلنگ بی میں حصہ لیتے ہیں،جنریشن زیڈ اور ان کے سرپرستوں کے بارے میں بڑے سوالات بن جاتے ہیں ۔بچپن کی عمدہ زندگی کے حوالے سے لوگ کیوں اس قدر مختلف اقدار رکھتے ہیں ؟ ہم کیسے جانیں کہ لوگ اب کیا کررہے ہیں ؟ اور ہم کیسے سمجھیں کہ ماضی کے مقابلے اب وہ کیا چیز ہے جو بچوں کو تحریک دیتی ہے؟ 

گرچہ شنکر کی تحقیق جنوبی ایشیائی آبادی کے بارے میں ہے مگر وہ یہ جاننے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں کہ زیادہ وسیع پیمانے پر معاشرے میں بچپن اور مسابقتی سرگرمیوں کے تعلق سے کیا ہو رہا ہے۔وہ مشتاق رہتی ہیں کہ جانیں کہ جنوبی ایشیا کے خاندان ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو اسپیلنگ بی میں شرکت کرتے ہیں۔ وہ اس کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ لوگ کاروبار ، تھیٹر اور زندگی کے دیگر پہلوؤں میں کیا کر رہے ہیں ۔شنکر کو حیرانی ہوتی ہے کہ اس قسم کی تمام سرگرمیوں کو لے کر تارکین وطن کا نقطہ نظر کس طرح ان تمام لوگوں کا رخ تبدیل کر دیتا ہے جو اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں ۔  

شنکر کہتی ہیں ’’ اسپیلنگ بی نے مجھے مختلف چیزوں کے بارے میں الگ طرح سے غور کرنے کی ترغیب دی۔ جنوبی ایشیا کے لوگوں نے اسے کیوں پیشہ ورانہ شکل دے دی؟کیا اس سے تمام لوگوں کے لئے چیزیں بدل جاتی ہیں ؟کیا آگے بڑھنے کا کوئی اور راستہ ہے؟ یا اس کام کو کرنے کا کوئی دوسرا طریقہ ہے؟ 

شنکر اپنی فیلو شپ کے دوران کی گئی تحقیق پر مبنی ایک دوسری کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ تاہم وہ یہ دیکھنا چاہیں گی کہ ان کی تحقیق کے نتائج ان کو کہاں لے جاتے ہیں ۔ حتمی نتائج سے قطع نظر شنکر اس بات سے بہت خوش ہیں کہ انہیں اس موضوع سے متعلق عمیق علم کے لئے کام کرنے کا موقع ملا جس میں ان کی دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’میں بہت پُر جوش ہوں ۔ میں اس تعلیمی سال کا استعمال بہترین طریقے پر کرنا چاہتی ہوں کیوں کہ میں خود کو بہت خوش قسمت تسلیم کرتی ہوں کہ مجھے یہ موقع ملا۔‘‘ 

کیری لووینتھل میسی نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط