مرکز

فضلہ کو ازسر نو قابل استعمال بنانا

انٹر نیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام میں شرکت کر چکے میتھیو ہوزے کا کوڑے کے بندوبست سے متعلق کثیرالجہتی ادارہ  پیپر مین انڈیا کو زیادہ پائداری کی طرف لے جارہا ہے۔ 

انڈیا کی آبادی میں اضافے کے ساتھ ہی ملک میں پیدا ہونے والے فضلہ کی مقدار بھی بڑھتی جارہی ہے اور اس کے بندوبست کا چیلنج بھی بڑا ہوتا جارہا ہے۔ اسی کے مد نظر چنئی میں  پیپر مین کے نام سے ایک سماجی ادارے کا قیام عمل میں آیا ہے۔ادارہ کے بانی اور سی ای او میتھیو ہوزے کہتے ہیں ”شہرکاری کی توسیع اور عالمی سطح پر سامانوں کے مختلف طرز استعمال کی وجہ سے کوڑے کا بندوبست کرنا ایک شعبے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے لیے جرأت مندانہ نقطہئ نظر اور جدت کی ضرورت ہے۔ میرا ادارہ ۲۰۱۰ء سے ہی ہند کے جنوبی حصے میں فضلہ کے بند وبست کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اختراعی کاوشیں کر رہا ہے۔“

موبائل فون اَیپ کا استعمال ادارہ کی جانب سے اختیار کی گئی جدت میں خصوصیت کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کی مدد سے سیکڑوں تربیت یافتہ کباڑی والے ہزاروں گھروں سے منسلک ہوتے ہیں۔ اَیپ انہیں مل جل کر کام کرنے اور بااختیار بنانے میں مدد کرتا ہے۔ یوں یہ بات یقینی بنائی جاتی ہے کہ ردی کی ٹوکریاں اور بھرائی والی جگہیں کوڑے سے پاک رہیں۔ گھروں سے نکلنے والے کوڑے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے سے متعلق کوششوں کے علاوہ اس ادارے نے ملک کے جنوبی علاقے کے تقریباََ ۲۰۰ اسکولوں اور دیگر اداروں میں فضلہ کے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے پروگرام کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس طور پر یہ ممکن ہو سکا کہ ۳ لاکھ سے زیادہ بچے کوڑے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے اور کم کوڑا پیدا کرنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنے سے متعلق بیداری مہمات میں شامل ہوسکیں۔ ادارہ اس عمل کو فروغ دینے اور بھرائی کی جگہوں تک کم کوڑا بھیجنے کے طریقوں کو اختیار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر بلدیاتی اداروں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں سے یکساں طور پر رابطہ قائم کرتا ہے۔اس کام کے لیے ہوزے اور ان کی ٹیم  سافٹر ویئر ٹولز کا ایک مجموعہ بھی فراہم کرتی ہے جس سے بڑی کمپنیوں کو کوڑے کا انتظام کرنے، اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے، اس سے متعلق پائداری کی کوششوں کا پتہ لگانے اور کوڑے کے بند و بست سے متعلق ضروری چیزوں کی تکمیل میں مددملتی ہے۔

ادارے کی کارکردگی کی وجہ سے ایک ملین کیلو گرام سے بھی زیادہ کوڑا بھرائی کے لیے مخصوص جگہوں تک نہیں پہنچ پایا۔ اب امید کی جارہی ہے اس میں تیز رفتار ی کے ساتھ اضافہ ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے ادارے کو اپنی کاوشوں کی نتیجہ خیزی کی ضمانت کبھی نہیں ملی۔

ہوزے بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے ۱۲ برس کے ایک نوجوان کی حیثیت سے اپنی کمپنی قائم تھی تواس وقت انہیں کوڑے کے بندو بست اور اس کے دوبارہ استعمال سے متعلق تکنیکی معلومات محدود پیمانے ہی پر دستیاب تھیں۔تجربے کی کمی ابتدائی طور پر کامیابی کی ان کی راہ میں ایک چیلنج کے طور پر سامنے آئی مگر ہوزے بتاتے ہیں ”اس سفر نے مجھے ہر دن ایک بہتر رہنما بننے میں میری مدد کی۔“

اس کے ساتھ ہی اس مسئلہ کو ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھنا بھی ہوزے کے لیے اہمیت کا حامل ثابت ہوا۔ اس صنعت کے بیرونی طور پر مشاہدے نے ہوزے کو دیگر بڑی کمپنیوں کے ذریعہ کام میں لائے جانے والے ماڈل کے مقابلے فضلہ کے بندو بست کامنفرد اور سستا بزنس ماڈل تیار کرنے میں مدد کی۔ اس سے ہوزے کو اپنے گاہکوں کے لیے کم قیمت پر بہتر خدمات فراہم کرنے کے منصوبے کو حقیقی شکل دینے میں مدد ملی۔وہ بتاتے ہیں کہ پیپر مین کے گاہکوں کی فہرست میں ایک اہم زمرہ بلدیاتی اداروں کاہے جن میں اب کوڑے کے بندوبست کی مؤثر حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔اسی طور پر کمپنی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے پائداری کے نقطہ نظر سے کاروباری ضروریات کی تکمیل کو بھی آسان بنانے لگی ہے۔ 

امریکی محکمۂ خارجہ کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام میں شرکت سے حاصل شدہ تازہ ترین معلومات کو بھی ہوزے نے کمپنی چلانے میں استعمال کیا۔ تبادلہ کے اس پروگرام کے ذریعہ انہیں شہری علاقوں میں لوگوں کی جانب سے فضلہ کے انتظام اور ان کے دوبارہ استعمال کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا۔ وہ بتاتے ہیں ”نیو یارک جیسے شہروں کے فضلہ کے انتظام کے طریقوں کے تجربے نے مجھے ان نئی ٹیکنالوجیوں اور بندوبست کی حکمت عملیوں کو سمجھنے میں کافی مدد کی جو اس شعبے کے لیے اہم ہیں۔اس پروگرام کی وجہ سے مجھے اپنی کمپنی کے لیے نئے اشتراکات کرنے اور اس کے کام کو بڑھانے میں بھی مدد ملی۔“ 

 کووِڈ۔۱۹کی وبا نے ملک کے دوسرے اداروں کی طرح ہی پیپر مین کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس سے کمپنی کو کئی اقدامات کرنے کی ترغیب بھی ملی ہے۔ مثال کے طور پر پلاسٹک کے بازارپراس کا اثر پڑنے سے تنظیم نے ہفتہ وارمقررہ قیمت کی ضمانت کا فیصلہ کیا تاکہ اس کے شراکت دارقیمت کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں فکرکیے بغیر کام کرسکیں۔اس کے علاوہ کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے تنظیم کے تمام صف ِاوّل کے عملے کو نوکری پربرقرار رکھنے کے لیے اپنی تنخواہوں میں ۲۵ فی صد کی تخفیف کی۔پیپر مین نے گودام کے احاطوں میں داخل ہونے سے پہلے یا باہر نکلنے کے بعد ہاتھوں کوجراثیم سے پاک کرنے اور کووِڈ۔ ۱۹ سے ملازمین کے کنبوں کو اور آس پاس کے علاقوں کومحفوظ رکھنے کے طریقوں کی تلاش کے لیے ان کے ساتھ ہفتہ وار میٹنگ جیسے اقدامات کی پہل کی ہے۔ 

ہوزے کو امید ہے کہ آنے والے وقت میں پیپر مین کی رسائی اور اس کی صلاحیت میں وسعت آئے گی۔ وہ کہتے ہیں ”اگلے ۵ سے ۱۰برسوں میں ہمیں امید ہے کہ ہم کوڑے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر لیں گے۔ہمارا بڑا ہدف ایک مضبوط اخلاقی اور مؤثر قیادت والی ٹیم کی تشکیل ہے جو کوڑے کو دنیا سے حقیقی طور پر صاف کرنے کے قابل ہوگی۔“

کسی بھی کمپنی،ملک یا ماحول دوست پیش قدمی سے قطع نظر ہوزے کا کہنا ہے کہ پائداری کی بنیادی قدر یہ ہے کہ دنیا کے ہر انسان کو اس کی تعمیل کرنی چاہئے۔ وہ سب سے اپیل کرتے ہیں ”جب بھی کوئی نئی چیز بنائیں، خدمات کے زمرے میں کچھ متعارف کریں،  کوئی گھر، کار یا کپڑا خریدیں تو کرہ ئارض کی صحت کے بارے میں ضرور سوچیں۔“

 

مائیکل گیلنٹ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط