مرکز

آبی مسائل کا حل

فل برائٹ اسکالر تروپتی جین کے سماجی ادارے کے ذریعہ فروغ دیا گیا آبپاشی کا اختراعی بھُنگرو نظام ماحولیاتی تبدیلی کے اس دَور میں کسانوں کو خوشحال بننے میں مدد کرتا ہے ۔

 ماحولیاتی تبدیلی ہرشئے میں تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔اور اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دنیا بھر کے غریب ترین افراد ہیں۔اس کی مثال انڈیا کے وہ لاکھوں کسان کنبے ہیں جنہیں موسم کے روز افزوں اتار چڑھاؤسے نمٹنے کے طریقوں کو جاننے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بصورت دیگر وہ اپنی قیمتی فصلیں اور اپنی آمدنی کا اہم ذریعہ دونوں گنوا دیں گے۔ان میں سے قریب ۲۰ لاکھ کنبے ایسے ہیں جن کو بارش کے موسم میں اضافی پانی اور بقیہ مہینوں میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد کے لیے گجرات میں واقع سماجی ادارے، نیریتا سروسیز نے بھُنگرو نامی آبپاشی کے ایک اختراعی نظام کو فروغ دیا ہے ۔اختراع پرداز ، نیریتا سروسیز کے شریک بانی اور اس کے ڈائریکٹربِپلَب کیتن پَول کہتے ہیں ” میں نے مغربی بنگال میں بچپن میں سیلاب سے ہونے والی تباہی دیکھی ہے اور اپنی عمر کی دوسری دہائی کے آخر کے برسوں میں ریاست گجرات میں پانی کی کمی اورشدید خشک سالی کے مسائل کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان دونوں یکسر مختلف صورت حال نے مجھے قدرت کی عظمت اور اس کی طاقت کا قائل کر لیا۔انسانی حماقتوں اور فطرت پر انسانیت کے اثرا ت کو سمجھنے کی خاطرمیرے لیے اس کی حیثیت چشم کشاکی رہی ہے۔“

نیریتا سروسیز کی اس ایجاد کی ترقی اور اس کی بہتری میں دو دہائی سے زیادہ کا وقت لگا۔بہت ہی کم جگہ لے کر کام کرنے والااورپانی کے بندوبست اور سینچائی کا یہ اختراعی نظام بھُنگروبرسات میں کھیتوں سے اضافی پانی کوباہر نکالتا ہے ، چھانتا ہے اور پھر اسے مٹی کے نیچے قدرتی ذخائر میں جمع رکھتا ہے۔اسی پانی کا استعمال کسان خشک موسم کے دوران (پانی کی کمی کے زمانے میں)اپنی فصلوں کی آبپاشی میں کرتے ہیں۔ اس نظام کے اثرات ڈرامائی ہو سکتے ہیں ۔ اس سے سیلاب اور خشک سالی سے ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے اور برباد ہوتی فصلوں میں جان ڈالی جا سکتی ہے۔

پَول بتاتے ہیں کہ انڈیا ، بنگلہ دیش ، افریقہ اور مشرقی ایشیا کے دیہی علاقوں میں رہنے والے ایک لاکھ سے بھی زیادہ غربا کو اس نظام سے فائدہ پہنچا ہے۔ پَول اور نیریتا سروسیز کی شریک بانی اور ڈائریکٹر تروپتی جین نے بھُنگرو کی ٹیکنالوجی کوسب کے استعمال کے لیے عام کرنے کا ایک غیر معمولی قدم بھی اٹھایا ہے۔یعنی دنیا میں کہیں بھی اور کوئی بھی آبپاشی کے اس نظام کی نقل کر سکتا ہے ، اس کو فروغ دے سکتا ہے اور اسے مفت میں استعمال کر سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟ اس کا مقصد دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود غریب کسانوں تک فائدہ پہنچانا ہے۔

شروعات میں بھُنگرو کو دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ان میں دیہی علاقوں کی دہقاں برادری کو اس کے استعمال کے لیے راضی کرنا بھی شامل تھا۔پَول بتاتے ہیں ” کسانوں کو یہ سمجھانا واقعی سخت مشکل تھا کہ ان کے کھیت کی صرف ایک مربع میٹر کی جگہ میں ایک ایسی مشین نصب کی جا سکتی ہے جو ان کے کھیت کو تمام اضافی پانی سے نجات دلا سکتی ہے اورجس سے ان کے کھیتوں میں پانی جمع ہونے کی پریشانی باقی نہیں رہے گی۔ کسانوں کی لاچاری اور بے بسی نے انہیں کسی نئی چیز پر یقین نہیں کرنے کو مجبور کر دیا تھا ۔ لہٰذا ان کا اعتماد حاصل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔“

تو آخر اس دشواری سے نمٹنے میں کامیابی کیوں کر حاصل کی گئی؟ پَول توجیہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ”یقین مشاہدے سے آتا ہے۔ ہم نے اپنے نظام کی نمائش کی اور نتیجہ زبردست نکلا۔ جب لوگوں نے نتائج دیکھ لیے تو پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔“

تروپتی جین نے سیریتا کو انجینئرنگ کی اپنی وسیع صلاحیت اور صنف اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق پر اپنی مہارت کے استعمال سے نوازا۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں ۲۰۱۳-۲۰۱۲ءمیں انوائرونمینٹ اور گورنینس میں ایک فل برائٹ اسکالر کے طور پر حاصل معلومات، تجربہ اور شراکت داری کی مدد سے جین نے نیریتاسروسیزکی سرگرمیوں میں اس بات پر توجہ دی ہے کہ بھُنگرو کو غریب خواتین کے لیے مہیا کرایاجائے اور خود کفیل اور خوشحال بننے میں ان کی مدد کی جائے۔ جین کے فل برائٹ تجربے میں ماحولیات پر مبنی اسی قسم کی دشواریوں سے نبرد آزما دوسرے ملکوں کے طلبہ کے ساتھ پانی سے متعلق مسائل پر تبادلہ ٔ خیال بھی شامل تھا۔

بھُنگرو کی ٹیکنالوجی کے ذریعہ لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی نیریتا سروسیز کی کوششوں کواس وقت تقویت ملی جب اسے حکومت ہند ، یوایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس ایڈ) اور دیگر شراکت داروں کی انجمن، ملینیم الائنس سے مالی امداد ملی ۔پَول بتاتے ہیں ” اس اعانت سے زرعی شعبے میں عالمی مواقع کا دامن وسیع ہوا۔ انڈیا میں ایک ضلع سے شروع کرکے ہم اب کامیابی کے ساتھ ملک کی ۱۲ریاستوں تک اپنا کام پھیلا چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہم نے جنوب مشرق ، مشرقی ایشیا اور افریقہ میں بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ “

نیریتا سروسیزکو خاص طور سے یو ایس ایڈکے سکیورنگ واٹر فار فوڈ پروگرامکے تعاون سے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے ، وقت اور لاگت بچانے اور اعلیٰ معیار کی تکنیکی معاونت حاصل کرنے میں مدد ملی۔پَول کہتے ہیں”یہ تمام چیزیں کام کرنے کے محاذ پر فوری اور زیادہ درست فیصلوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئیں۔ “

کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں نیریتا سروسیز نے ملک بھر میںاپنی ریاستی ٹیموں کے ذریعہ بیداری سے متعلق پروگراموں کا انعقاد کیا ۔ اس طور پر ۸ ریاستوںمیں ۳۱ہزارسے بھی زیادہ اراکین نے اس وائرس سے محفوظ رہنے کے بارے میں مقامی زبانوں میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے علاوہ بھُنگرو کی خاتون ممبران اورآب و ہوا پر کام کرنے والی اس تنظیم کی خاتون رہنماﺅں نے ساتھیوں کی نگرانی اور ان کی مدد کے لیے ۲۱۰ خواتین خود امدادی گروپ کی اراکین کی صلاحیتوں کو فروغ بھی دیا ۔ انہوں نے گجرات کے پتن ضلع کے دیہی علاقوں میں ۱۸ ہزار ۷۰۰ سے زیادہ افراد کی نگرانی میں مدد کی اور متعلقہ حکام کو اہم علامات والے معاملات کی اطلاع دینے کے بارے میں تربیت فراہم کی۔اس سماجی تنظیم نے تقریباً۴۱۰کنبوں کوذاتی حفاظت سے متعلق اشیاءتقسیم کی ہے اور ہجرت کی اعلیٰ شرح اور کمزور افراد کی بڑی تعداد والے علاقوں میں امدادی پیکجوں کی فراہمی اور تقسیم میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی مدد کی ہے۔

جیسے جیسے بھُنگرو ٹیکنالوجی کو وسعت مل رہی ہے جین اورپَول کو امید ہے کہ ان کی کاوشوں کا فائدہ دنیا بھر میں لاکھوں غریب اور دیہی کنبوں تک پہنچے گا اوراس سے ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں غذائی تحفظ اور محفوظ موافقت کی ضمانت ملے گی ۔وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عالمی حرارت اورغربت کے مسائل سے نمٹنے میں تمام نسلوں کی حصہ داری لازمی ہے۔آئی آئی ٹی کانپور کے انکیوبیشن سینٹر کے ایک جیوری ممبر اور ایک مشیر کی حیثیت سے پَول کی بہت سے نوجوان اختراع سازوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ وہ ان میں سے کامیاب اختراع ساز انہیں قرار دیتے ہیں جو صارفین کی پریشانی کا سبب شناخت کرکے اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔پَول کہتے ہیں” اگر ان تمام شرائط کے مد نظر کام کیا جائے تو کسی بھی سماجی تنظیم کی کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد تمام چیزیں خود بہ خود طے ہوجاتی ہیں۔“

 

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہتے ہیں۔ 

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط