مرکز
1 2 3

تجارتی مہم جوئی کی راہیں ہموار کرنے کی جدّوجہد

''یونیورسٹی پروگراموں سے نکلے ہوئے طلبا سمیت تمام نوجوان، اپنی عمر کی ایسی منزل میں ہوتے ہیں جہاں وہ سب سے بڑے خطرات مول لے سکتے ہیں۔''


وویک راما سوامی کہتے ہیں کہ ’’آج، انٹرنیٹ کی سہولتوں، سماجی روابط کی فراوانی اور دیگر میڈیا کی موجودگی میں لوگ ایک دوسرے کے زیادہ قریب آرہے ہیں جس کی وجہ سے تجارتی مہم جوئی پہلے کے مقابلے میں شجرممنوعہ نہیں رہ گئی۔‘‘

ہاورڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی حیثیت سے وِویک راماسوامی کو یہ احساس ہوا کہ یوں تو کیمبرج، میساچوسٹس کو عالمی معیار کی حامل اپنی دو یونیورسٹیوں – ہاورڈ اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پر ناز ہے لیکن یہاں بھی تجارتی مہم جوئی کے آرزومند طلبا کو موثر رفقاء اور سرمایہ کاروں سے رابطے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں انھوں نے اس سلسلے میں کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہاورڈ میں اپنے آخری سال ۲۰۰۷ کے دوران راماسوامی نے اپنے ساتھی طالب علم ٹریوس مے کی شراکت میں کی بنیاد رکھی۔ اس ویب سائٹ کا مقصد تجارتی مہم جو یا نہ ایکوسسٹم سے طلبا کو جوڑنا تھا۔ ان دونوں نے مل کر دو معاون سافٹ وئیر بھی تیار کئے۔ ۲۰۰۹ میں انھوں نے اپنا کاروبار امریکہ میں واقع کاؤف مین فائونڈیشن کو فروخت کردیا جو مستقبل کے تجارتی قائدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ ایجاد و اختراع پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ فائونڈیشن نے بعد میں کا نام تبدیل کرکے آئی اسٹارٹ کردیا۔

راماسوامی، فی الوقت ایل لا اسکول میں زیرتعلیم ہیں۔ انھوں نے تجارتی مہم جوئی اور اپنے کاروبار سے متعلق انڈیا نالج ایٹ وہارٹن سے گفتگو کی جس کے اقتباسات پیش خدمت ہیں:

امریکہ میں تجارتی مہم جوئی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ممکن ہے کہ یہ خیال فرسودہ لگے لیکن میرے خیال میں حقیقت یہ ہے کہ: تجارتی مہم جوئی کے تانے بانے سے ہی وہ پارچہ وجود میں آتا ہے جس کا نام امریکہ ہے۔ تجارتی مہم جوئی کی تازہ ترین سرگرمیاں دراصل کسی ایسی شے کا ابھرنا ہے جس کا جوہر خاص امریکی ہے۔ ماضی میں اِسی کے سبب ملک آگے بڑھا تھا اور یہی عنصر مستقبل میں بھی اس ملک کو آگے بڑھانے میں نمایاں رول ادا کرے گا۔ تجارتی مہم جوئی کے نئے دور کی باگ ڈور کا نوجوانوں کے ہاتھوں میں آنے کا واضح اشارہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے آرزو مند نوجوان مہم جویوں کا تجربہ وسیع ہوتا جائے گا، ویسے ویسے تجارتی مہم جوئی کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔

آپ کے خیال میں، امریکی یونیورسٹیاں اس نئے رجحان سے کس طرح ہم آہنگی پیدا کررہی ہیں؟
آج، انٹرنیٹ کی سہولتوں، سماجی روابط کی فراوانی اور دیگر میڈیا کی موجودگی میں لوگ ایک دوسرے کے زیادہ قریب آرہے ہیں جس کی وجہ سے تجارتی مہم جوئی پہلے کے مقابلے میں شجرممنوعہ نہیں رہ گئی۔ ویب پر مبنی آلات کی گرم بازاری کے سبب آپسی روابط میں خوب اضافہ ہوا جس نے ملک (امریکہ) کے طول و عرض میں یونیورسٹیوں میں تجارتی مہم جوئی کے پروگراموں کو ہوا دے دی۔ میرا کاروبار،۔۔۔۔اسٹوڈنٹ بزنس ڈاٹ کوم یونیورسٹی تجارتی مہم جوئی کے موضوع پر مبنی تھا۔ میری معلومات کی حد تک، گزشتہ پانچ سالوں میں جتنی یونیورسٹیوں نے کاروباری مسابقوں کے منصوبے بنائے یا تجارتی مہم جوئی کی تعلیم کے پروگرام وضع کئے، کسی اور پنج سالہ مدت میں اتنی یونیورسٹیوں نے نہیں کیا۔ ان میں سے بیشتر (پروگرام) ایسی یونیورسٹیوں میں چلائے گئے جو خود ساختہ ’’سازگار‘‘ مقام ہونے کا دعویٰ نہیں کیا کرتے تھے۔ اس کا سہرا انٹرنیٹ، دوسری ٹیکنالوجیوں اور میڈیا کے سر بندھتا ہے جن کے فیضان نے روایتی طور پر سازگار تصور کئے جانے والے مقامات سے دوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک دوسرے سے مربوط کردیا ہے۔

StudentBusinesses.com کا مقصد نوجوان طلبا کو تجارتی مہم جوئی کے ایکو سسٹم سے مربوط کرنا اور اُن کی صلاحیتوں اور توانائیوں سے استفادہ کرنا تھا۔ لیکن چند تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ کامیاب مہم جو تاجروں کی اکثریت خود اپنا کاروبار شروع کرنے سے پہلے کئی سالوں کے تجربوں اور صنعتی مہارت سے لیس تھی۔ آپ کی نظر میں یہ خلا کس طرح پُر کیا جاسکتا ہے؟
یہ ہمارا ایسا امتیاز تھا جسے لوگوں نے تسلیم کرنے سے قطعی طور پر اس وقت انکار کردیا جب ہم نے کا آغاز کیا تھا۔ ابتدائی دور میں ہم نے جن لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ بحیثیت مشیر کار شریک ہوں، انھوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ ہمارے نظریہ سے اس لئے اتفاق نہیں رکھتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تجارتی مہم جو بننے کے لئے وافر صنعتی تجربہ ناگزیر ہے۔

ہم نے اسے قدرے مختلف انداز میں دیکھا۔ ہم نے محسوس کیا کہ یونیورسٹی پروگراموں سے نکلے ہوئے طلبا سمیت تمام نوجوان، اپنی عمر کی ایسی منزل میں ہوتے ہیں جہاں وہ سب سے بڑے خطرات مول لے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے پاس ایک ایسا تازہ تناظر ہوتا ہے جس پر صنعتی تجربے کی چھاپ نہیں ہوتی۔ یہ ناتجربہ کاری یا تازگیٔ افکار، حرکت و عمل کو مہمیز کرتی ہے۔ ہاں، البتہ یہ چیز نوجوان طلبا کی ژرف نگاہی پر قدغن ضرور لگا سکتی ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ یونیورسٹی کے نوجوان طلبا کی اسی اختراعی فکری بصیرت کو بروئے کار لایا جائے۔ ہم تجربے کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کرتے ہیں تاہم ہمارے اہم ابتدائی مقالوں میں سے ایک مقالے کا مرکزی خیال یہ تھا کہ کسی چیز کو شروع کرنے کا تجربہ بذات خود ایک بیش قیمت تجربہ ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے شریک بانی ٹریوِس مے نے کس طرح جمود و تعطل کو توڑا؟ کیا آپ نے مستقبل کا اندازہ کرلیا تھا؟
(دراصل) کسی کاروبار کو شروع کرنے کے لئے یہ بہت مشکل وقت تھا۔ تجارتی مہم جوئی کی افادیت اور اہمیت کا پیغام لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہا تھا لیکن خوف کی ایک ایسی فضا قائم تھی جو کسی نئی کمپنی کی شروعات میں سدِّ راہ تھی۔

نے تجارتی مہم جوئی کا مزاج رکھنے والے طلبا اور اپنے منصوبوں میں یقین رکھنے والے لوگوں کو یکجا کردیا۔ کیا آپ اس بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟
کی سائٹ میں تلاش کئے جانے والے دو ڈاٹابیس تھے۔ ’’بزنسز اِن دی گیم‘‘ اور ’’اسٹوڈنٹس آن دی روسٹر‘‘۔ خواہش مند حالیہ مہم جو ان دونوں میں سے کسی سے بغیر کسی معاوضے کے ربط قائم کرسکتے ہیں۔ تجارتی مہم جو طلبا، اپنے کاروبار کے حوالے سے ’’بزنسز اِن دی گیم‘‘ پر اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں، جب کہ وہ لوگ جو کسی نئے کاروبار سے وابستگی میں دلچسپی رکھتے ہوں، ’’اسٹوڈنٹس آن دی روسٹر‘‘ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری سائٹ میں بھی توسیع ہوئی اور اس میں دو سوفٹ وئیر، سروس پروڈکٹس کی حیثیت سے جوڑ دئے گئے۔ ایک بی پلان اسٹوڈیو اور دوسرا اسٹارٹ - اپ اسپیس ۔ بی پلان اسٹوڈیو نے تجارتی مہم جوئی سے متعلق، یونیورسٹی پروگراموں کو اس قابل بنایا کہ وہ کاروباری منصوبہ سازی پر مبنی ایک مسابقے کا نظم اس خوبی سے کرسکیں کہ مسابقے سے حاصل شدہ ڈاٹا اور معلومات بھی محفوظ رہ جائے۔ دوسری جانب اسٹارٹ - اپ اسپیس نے یونیورسٹیوں بالخصوص بزنس اسکولوں کو اس قابل بنایا کہ وہ تجارتی مہم جوئی کے خواہاں طلبا کے کیمپسوں کے درمیان ایک نیٹ ورک قائم کرسکیں۔

کاؤف مین فائونڈیشن کے ذریعے پر قبضہ و تصرف کے بارے میں کچھ بتائیں گے؟
ابتداء سے ہی ہمارا یہ مقصد رہا ہے کہ نہ صرف ہم اپنے کاروبار میں کامیاب ہوں بلکہ تجارتی مہم جوئی کے ایک اور زیادہ وسیع سماجی تناظر کے پیش نظر دوسرے کاروباروں کو بھی ترقی و کامیابی کے مواقع دیں۔ یہی جذبۂ خالص تھا جس نے کاؤف مین فائونڈیشن کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تجارتی مہم جوئی سے وابستہ وہ فائونڈیشن ہے جسے پوری دنیا میں سب سے بڑا فائونڈیشن تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے بڑے فائونڈیشنوں میں اس کا شمار کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ہماری جانب کاؤف مین کے رجوع ہونے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ یک ایسا پلیٹ فارم چاہتے تھے۔ جہاں سے وہ چند سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اُن سرگرمیوں میں سے ایک کا تعلق تجارتی مہم جوئی کے سلسلے میں یونیورسٹی میں ہونے والی سرگرمیوں تک فائونڈیشن کی رسائی بھی تھی۔ قصّہ مختصر یہ کہ ہمارا مقصد محض مالی منفعت نہ تھا بلکہ اس نصب العین کا حصول تھا جس کے پیش نظر اِس کی داغ بیل ڈالی گئی تھی یعنی اِس ملک کے طول و عرض میں نوجوانوں کے اندر تجارتی مہم جوئی کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔

کیا آپ ہمیں اُن تجربوں کے بارے میں بتائیں گے جنھوں نے آپ کو ایک تجارتی مہم جو بنانے میں اہم کردار ادا کیا؟
میرے ذاتی نقطۂ خیال کے مطابق میرا تجارتی مہم جو ہونا محض ایک اتفاقی امر ہے۔ ہاورڈ میں، میں تجارتی مہم جوئی کلب کی سرگرمیوں میں حصّہ ضرور لیتا تھا، لیکن میں اس کی جانب محض اس لئے راغب ہوا کیونکہ کیمپس میں یہ چیز نئی نئی تھی۔

کوئی ایسی مثال جب آپ کو مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا ہو یا کسی خاص موقع پر آپ نے اور (مے) نے کہا ہو، ’’ہم اسے بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔‘‘ آخر وہ کون سا جذبہ تھا جس نے اس میں جان ڈال دی؟
ہم نے مشاہدہ کیا کہ مثلاً ہاورڈ میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس خیال آفرینی کی صلاحیت تو ہے لیکن اپنے مقصد کو بروئے کار لانے کے لئے مطلوبہ تکنیکی مہارت کا فقدان ہے۔ انھیں اپنی کمیونٹی میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی تلاش ہوتی ہے جو اپنی تکنیکی مہارتوں کو استعمال کرکے ان کے نئے تصور کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

اگلافیس بُک؟
بالکل صحیح۔ حقیقت یہ ہے کہ فیس بک کی بتداء اس وقت ہوئی تھی جب میں ہاورڈ میں تھا اور شاید یہ دوسرے افراد کی آرزوئوں کی بازگشت ثابت ہوئی۔ طلبا کے ذہن و دماغ میں ایسے عظیم خاکے پوشیدہ تھے۔ ان کے پاس اسے انجام دینے کی تکنیکی صلاحیت تو نہ تھی لیکن وہ اس حقیقت سے باخبر تھے کہ انھیں کسی مناسب شخص کی ضرورت تھی جو ان کی رہنمائی کرسکے، اور یہ بھی کہ ہاورڈ میں اس طرح کے افراد کی کمی نہ تھی۔ اس کے علاوہ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں ایسے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد ہے جو عالمی معیار کی تکنیکی صلاحیتوں سے مزیّن ہیں۔ ان دونوں اداروں کے درمیان مشکل سے دو سب وے اسٹاپ کا فاصلہ ہے لیکن دونوں کے مابین ابلاغ کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ باعث تشویش بات یہ ہے کہ اگر کیمبرج میں دو موقر اداروں کے مابین یہ خلیج حائل ہے تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قومی سطح پر مختلف اداروں کے درمیان کس قدر فاصلہ ہوگا۔

 


مکمل انٹرویو پڑھنے کے لئےhttp://span.state.gov پر لاگ آن کریں۔

تبصرہ کرنے کے ضوابط