مرکز
1 2 3

تشہیر کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال

وہائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل افراد کو سماجی میل جول کے میڈیا سے بڑھے ہوئے جوکھم کا خدشہ تورہتا ہے مگر وہ اس کی بدولت  بڑے انعامات کی امید بھی کر سکتے ہیں۔ 

امریکہ میں ہر ۴ برس بعد کچھ جاہ طلب امریکی باشندے ملک کا اگلا صدر بننے کے لئے مقابلہ آرائی کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ووٹروں تک اپنی بات پہنچانے کے لئے ٹیلی ویژن، اخبارات، ریڈیو اور بہت سے دوسرے واسطوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ مگر ماضی کے برخلاف حالیہ برسوں میں اس کی صورت گری ایک بالکل جداگانہ انداز میں ہوئی ہے۔  

اس کی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ امریکہ میں ہر صدارتی انتخاب کے ساتھ امیدوار ٹوئیٹر،    فیس بک اور انسٹا گرام جیسی سماجی میل جول کی خدمات کے ذریعہ زیادہ مؤثر اور طاقت ور ڈھنگ سے لاکھوں لوگوں کے ربط میں آنے اور ان پراثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسکول آف میڈیا اینڈ پبلک ایفیرس کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ایک کتاب دَ موو آن ایفکٹ: دَ اَن ایکسپیکٹیڈ ٹرانسفارمیشن آف امریکن پالیٹیکل ایڈووکیسی کے مصنف ڈیوڈ کارپف کہتے ہیں ’’صدارتی انتخاب کی مہم میں ہمیشہ ہی ممکنہ حامیوں تک پہنچنے کے لئے دستیاب میڈیا آلات کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ ۱۹۷۰کی دہائی سے ۱۹۹۰کی دہائی کے برسوں تک سب سے زیادہ توجہ ٹیلی ویژن پر رہی۔‘‘ 

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کارپف کہتے ہیں’’آج اس کا مطلب ٹیلی ویژن اورآن لائن تشہیر کا مجموعہ ہے۔ خاص کر ایسے وقت میں جب زیادہ سے زیادہ امریکی شہری ٹیلی ویژن کے راست نشریے سے کنارہ کش ہورہے ہیں، اس لئے ان سے  ٹیلی ویژن اشتہارات کے توسط سے رسائی مشکل تر ہوتی جارہی ہے ۔ سوشل میڈیا اسی لئے اہمیت اختیار کر گیا ہے کیوں کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں لوگ موجود ہیں ۔‘‘

۲۰۱۶کے صدارتی انتخاب میں دونوں امیدواروں ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میںان کے حامیوں کو متحرک کرنے کے لئے سماجی میل جول کے میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کارپفنے بتایا ’’اس میں حامیو ںسے یہ درخواست شامل ہے کہ وہ فیس بک اور ٹوئیٹر پر موادکی تشہیر کریں اور نئے سرے سے ٹوئیٹ کریں۔ اس میں حامیوں کو ویب سائٹ اور ای میل جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر لے جانا بھی شامل ہے جہاں ان سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ووٹروں کو فون کریں، ان کے گھر جاکر ان سے ملیں یا چندہ دیں۔ ‘‘ 

سماجی میل جول کے میڈیا کو مخصوص گروہ تک رسائی کے لئے ڈیجیٹل اشتہارات ، وائرل پیغامات(ایسے پیغامات جنہیں بازارکاری کی غرض سے سوشل میڈیا کا استعمال کرکے جا بجا لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان میں وہ پیغامات بھی شامل ہیں جو بہت تیزی کے ساتھ ایک بڑے عوامی گروہ تک پہنچتے ہیں)اور دیگر حکمت عملیوں کا استعمال کرکے ممکنہ ووٹروں کو نشانہ بنانے اور انہیں اپنی جانب مائل کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتاہے۔شاید امید وار کی سماجی میل جول کے میڈیا پر یہ کوشش بہت اہم ہے کہ مرکزی ذرائع ابلاغ کے ٹی وی شو، اخبارات اور ویب سائٹوں پر جو کہانیاں سنائی جا رہی ہیں ان کو اپنے حق میں استعمال کر سکیں ۔ 

اس کی مثال دیتے ہوئے کارپف بتاتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ ’’وہ مین اسٹریم میڈیاکو کنارے لگانے کے لئے سماجی میل جول کے میڈیا کا استعمال نہیں کر رہے ہیں بلکہ اصل دھارے کے میڈیا کی توجہ پر غالب آنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں ۔ ‘‘

 کارپف کا کہنا ہے کہ یہ بات خاص طور پراہم ہے کیوں کہ امریکہ کے تمام تر ووٹر ٹوئیٹر یا فیس بک پر نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا ’’صحافی ان پلیٹ فارموں کا پوری شدت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور خبریں جمع کرنے کے معمول میں انہوں نے ان کو بھی شامل کرلیا ہے۔ اب سے پہلے طریقہ یہ تھا کہ پریس ریلیز یا پریس کانفرنس کے ذریعہ کوئی امیدوار خبرنگاری پر اثر انداز ہوتا تھا۔ اب ان لوگوں نے اپنے مواصلاتی اسلحہ خانے میں ٹوئیٹ(ٹوئیٹر سے بھیجا گیا پیغام) اور پوسٹ بھی شامل کر لئے ہیں ۔‘‘

سماجی میل جول کا میڈیم دیگر ذرائع ابلاغ کے مقابلے گرچہ نیا ہے مگر اس نے بنیادی طور پر صدارتی انتخاب لڑنے والے امید واروں کی انتخابی حکمت عملی کو تبدیل کردیا ہے۔ کارپف نے کہا ’’اب انتخابی مہم چلانے والے افراد صحافیوں، حامیوں اور مخالفین کو نئے ڈھنگ سے اپنی طرف راغب کرنے کا طریقہ سیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ ایسا مواد تیار کررہے ہیں جسے صرف ٹیلی ویژن پر اور اخبارات میں ہی نہیں بلکہ یوٹیو ب اور 

انسٹا گرام پر بھی استعمال کیا جاسکے۔وہ لوگ اپنے سرگرم حامیوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور ایسے ووٹروں پر ان کی توجہ کم ہوگئی ہے جو کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے اور ووٹ دیتے وقت ایک طرف سے دوسری طرف ہو جاتے ہیں۔پہلے عام طورپر صدارتی انتخابات میں اس قسم کے سُو اِنگ ووٹرس(ایسے ووٹر جوکسی انتخاب میں کسی جانب بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ ایسے ووٹر کسی انتخاب میں بڑی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں کیوں کہ یہ نتائج میں بڑا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں) صدارتی امیدواروں کا خبط ہوا کرتے تھے۔‘‘ 

ہلیری کی سوشل میڈیا مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کارپف کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم اکثر سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئیٹر کا استعمال کرتے ہوئے مخالف امیدوار کو رد عمل کا اظہار کرنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ اپنی دلیل کو درست ثابت کرنے کے لئے کارپف ہلیری کی مہم میں اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کریں جیسی عبارت کے ٹوئیٹرپر استعمال کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں ۔ اس سے کارپف بتانا چاہتے ہیں کہ کیسی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ ان کی جانب سے یہ نئی چیز ہے اور یہ انفرادی حریف کے لئے نہایت ہی موزوں ہے۔ یہ مِٹ رومنی یا جان مَیک کین کے لئے اتنی موثر نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘  

 کارپف کے مطابق سماجی میل جول کے میڈیا پر کی جانے والی کوششوں کے ذریعہ سیاست سے عوام کا ربط ضبط بڑھانے کا عمل کارگر اور کارآمد ثابت ہورہا ہے۔وہ کہتے ہیں ’’اس سے عہد بند سیاسی کارکنوں کو اقدام کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔خبر کی بہت تیزی کے ساتھ تشہیر کے ذریعہ سیاسی اعتبار سے لا ادری ووٹروں تک پہنچنا آسان ہوجا تا ہے ۔اس سے مہم چلانے والے لوگوں کو اپنا طریقہ کار بدلنے اور پیغامات تبدیل کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے تاکہ وہ لوگوں تک زیادہ موثر ڈھنگ سے پہنچ سکیں۔‘‘

اس کے ساتھ ساتھ سماجی میل جول کامیڈیا اونچی آوازوں کا شور مزید بڑھا سکتا ہے جس سے اس پورے عمل میں افراتفری پیدا ہو جا سکتی ہے۔ کارپف کہتے ہیں ’’جو واسطہ سیاسی اطلاع کو جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیلانے میں آسانی پیدا کرتا ہے وہی وسیلہ غلط اطلاعات کی بہت تیز ترسیل کا بھی سبب بن سکتا ہے ۔‘‘

سوشل میڈیا امیدواروں کے لئے خود نئے گڑھے بھی کھودتا ہے۔ مثال کے طورپر ۲۰۱۲کے صدارتی انتخاب میں ری پبلکن پارٹی کے امید وارمِٹ رومنی کی ایک ویڈیو کلپ سماجی میل جول کے میڈیا پر بہت بری طرح سے پھیل گئی جس میں انہیں واضح طور پریہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ ۴۷ فیصد ووٹروں کی پروا نہیں کرتے ۔ اس ویڈیو نے انتخابی عمل کے ایک کلیدی مرحلے میں ان کی انتخابی مہم کو زبردست زک پہنچائی۔

 کارپف نے مزید بتایا ’’رومنی بڑے عطیہ دہندگان کے ساتھ فنڈ حاصل کرنے کے لئے ایک نجی محفل میں شریک تھے۔ ایک ساقی نے اس موقع پر دی گئی ان کی تقریر کو موبائل فون پر ریکارڈ کرلیا اور بعد میں اسے ایک صحافی کو بھیج دیا۔ جب ہرشخص کے ہاتھ میں ریکارڈ کرنے والا آلہ ہو تو آپ کو اپنے پیغام کو محدود کرنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ ‘‘

اب خواہ اچھا ہو یا برا ہو ، اس بات کا امکان ہے کہ سماجی میل جول کا میڈیا آنے والے برسوں میں صدارتی انتخاب میں بہت بڑا کردار نبھائے۔ کارپف  متحیر ہیں کہ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔وہ کہتے ہیں ’’ڈونالڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بن گئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے تجزیات کا اس میں بڑا کردار ہے۔ ‘‘   

 

مائیکل گیلنٹ ، گیلنٹ میوزک کے بانی اور چیف ایکزیکٹو آفیسر ہیں ۔ وہ نیو یارک سٹی میں رہتے ہیں۔  

 

اعداد و شمار اور جمہوریت

حالیہ صدارتی انتخابات میں سماجی میل جول کے میڈیا سے قطع نظر تکنیکی اختراعات نے بھی بڑا کردار نبھایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اصطلاح اکثر کان میں پڑتی ہے اور وہ ہے بِگ ڈیٹا۔ 

یہ تصور بہت سیدھا سادا ہے: ۔ ووٹروں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات یکجا کریں، اس کا تجزیہ کریں اور پھر ووٹ ، عطیہ اور دوسرے امداد کے حصول کے لئے صحیح طریقے سے اس کا استعمال کریں ۔یہ اصولی طور پر ایک طاقتور حکمت عملی ہے لیکن جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسکول آف میڈیا اینڈ پبلک ایفیرس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈیوڈ کارپف  کا کہنا ہے کہ اس کی حیثیت ابھی تک ایک سراب کی سی ہے۔  

کارپف ایسے دستیاب عوامی ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ، جن میں ووٹر کی رجسٹریشن اور تاریخ کے علاوہ ان کے نسلی تشخص کا حوالہ ہوتا ہے ، کہا ’’انتخابی مہم میں ، خاص کر ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جو مہم چل رہی ہے ، اس میں ڈیٹا کا استعمال بہت بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے لیکن وہ لوگ زیادہ تر پبلک ووٹر فائل پر انحصار کررہے ہیں۔‘‘

انتخابی مہم کے دوران لوگ خود اپنے اعدادو شمار کے ذخائر جمع کرتے ہیں۔ ایک ایک فرد کی تفصیل جمع کی جاتی ہے۔ اس کے لئے لوگ گھر گھر جاتے اور دروازہ پیٹتے ہیں۔ممکنہ ووٹر سے ربط قائم کرنے کے لئے انہیں فون کرتے ہیں اور ان سے سوالات پوچھتے ہیں۔

اس  بِگ ڈیٹاکا جمع کیا جانا اور اس کا استعمال بہت نمایاں رول ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بارک اوباما کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران خام اطلاع کو ووٹ میں بدلنے کا فن اپنے کمال تک پہنچایا گیا۔ 

کارپف نے بتایا ’’ہر انتخابی مرحلے میں ہم دیکھتے ہیں کہبِگ ڈیٹا   فروخت کرنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ووٹروں تک بڑی مہارت اور درستگی کے ساتھ پہنچ سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہمیشہ کار گر نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات زیادہ الجھاوے پیدا کرتی ہے اور اس میں غلطیوں کا بھی احتمال ہے۔‘‘

ووٹر تک پہنچنے اور اس پر اثر انداز ہونے کے سلسلے میں موبائل ایپس بھی امکانات کے نئے در وا کرتے ہیں۔ کارپف بتاتے ہیں ’’ جوایپس سب سے زیادہ پُراثر ہوسکتے ہیںان میں پولِس پالیٹکس شامل ہے جس کی مدد سے گھر گھر جاکر ووٹروں سے ملنے اور ان کو ہمنوا بنانے کے لئے گلی گلی گھومنے کی حکمت عملی پر کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پولِسکا طریقہ کار بڑا سادہ ہے ۔ یہ ایپ انتخابی مہم چلانے کا پیچیدہ کام اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اورزیادہ اثرانگیزی سے اسے تکمیل تک پہنچا دیتا ہے۔‘‘

تاہم کارپف کا خیال یہ بھی ہے کہ موبائل ایپس کے تمام امکانات ابھی تک بروئے کار نہیں لائے جا سکے ہیں۔ انہوں نے کہا’’کچھ دوسرے ایپس بھی ہیں جو زیادہ بڑے اورنمایاںفائدے پہنچاسکتے ہیں لیکن ابھی تک میں نے ان میں سے کسی کو اس کے اپنے امکان پر کھرا اترتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘         -م گ

 

تبصرہ کرنے کے ضوابط