مرکز
1 2 3

سوشل میڈیا کا استعمال: کتنا مفید، کتنا مضر!

ٹیک گر و سری سری نواسن یہ بتارہے ہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح اور کس مقصد سے کیا جانا چاہئے۔


حقیقی زندگی میں ہم جس چیز کو عقل سلیم سے تعبیر کرتے ہیں، فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی وہی چیز عقل سلیم ہوتی ہے۔ اس لئے ’’فیس بک یا ٹوئٹر پر ضرورت سے زیادہ چیزیں شائع نہ کریں۔ اس میں اپنا سارا وقت نہ لگائیں۔ اگر کریں بھی تو اس کا مظاہرہ کرنے سے گریز کر یں ۔ ٹوئٹر پر لکھی ہوئی باتیںہمیشہ یا طویل عرصہ تک رہتی ہیں اور اس سے حقیقی نقصان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘

یہ مشورہ آپ کیلئے سری سری نواسن کا ہے جو کہ کولمبیا یونیورسٹی میں گریجویٹ اسکول آف جرنلزم میں طلبہ کے امور کے ڈین اور پروفیسرہیں۔ وہ اس اسکول میں ڈیجٹل میڈیا پروگرام پڑھاتے ہیں ۔ ۲۰۰۴میں نیوز ویک میگزین نے سری نواسن کو امریکہ کے۲۰ انتہائی بااثر جنوب ایشیا ئیوں میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا تھا۔ وہ آن لائن اسکولس ڈاٹ آرگ (onlineschools.org)کے تعلیمی شعبے میں ٹاپ ۱۰۰ ٹوئٹر بازوں میں شامل۲۲پروفیسروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے فیس بک (http://www.facebook.com/sreetip) شیدائیوں کی تعداد ۴۰۰۰ سے زائد ہے۔

ان کے ٹوئیٹرپیروکاروں کی تعداد ۰۰۰،۲۲ سے زائد ہے۔ اس(www.twitter.com/sree)پر وہ ٹکنالوجی کے بارے میں معلومات اور ترکیبیں بتاتے ہیں، مضامین شائع کرتے ہیں اور روزگار کے بارے میں اطلاعات بھی فراہم کرتے ہیں۔ ’’اسپین ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں سری نواسن نے کہا کہ ’’ سوشل میڈیا کو زیادہ محفوظ طریقے پر آپ اپنے خیالات کی ترسیل کیلئے استعمال کرسکتے ہیں ، بجائے اس کے کہ آپ یہ لکھیں کہ آپ نے ناشتے میں کیا کھایا ۔ احمقانہ چیزوں کو پوسٹ کرنے اور گیم کھیلنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ طویل مدتی تعلقات بنانے اور ربط بڑھانے کا ذریعہ ہے ۔ تاکہ جب کوئی آپ کا پروفائل دیکھے تو آپ کے بارے میں اچھا تاثر قائم کرے۔ یہ نہ کہے کہ یہ شخص خواہ مخواہ اپنا ڈھیر سارا وقت برباد کرتا ہے۔ ‘‘

سری نواسن نے امریکن سنٹر میں نئی دہلی کے اسکولوں کے بچوں کے ایک ایسے گروپ کے سوالوں کے جواب دئے جس میں بہت سے بچے فیس بک پر اپنے والدین کے دوست بنانے کی درخواست کو نظرانداز کررہے تھے، یا رضاکار تنظیموں کے ذ مہ داروں کے ساتھ ربط ضبط میں تھے اور انہیںبتا رہے تھے کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنے فائدے کیلئے کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کے سوالوں کے جوابات دینے کے دوران سری نواسن نے بتایاکہ ’’زندگی میں میرا حقیقی مقصد عوام کیلئے سوشل میڈیا کو تباہ کرنا ہے ، لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ وہ فارم ویلے پر بھیڑیںتلاش کرنے یا ٹیٹرس بیٹلس کھیلنے کی بجائے زیادہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ اس میڈیا کا استعمال کریں۔ ‘‘

بنگلور کی ایک طالبہ انکیتا لاتھ نے سری نواسن کے فیس بک پیج پر لکھا ’’آپ نے سچ مچ ہم لوگوں کیلئے سماجی میل جول میں وقت گزاری اور الجھے رہنے کا جز تباہ کردیا لیکن آپ نے ہمیں اس کا تجزیہ کرنے کا نیا زاویہ بھی بخشا۔ اب یہ بات ہماری سمجھ میں آئی ہے کہ وہاںموجود رہنا اور لوگوں کے ربط میں رہنا کتنا ضروری ہے۔‘‘

نوئیڈا میں امیٹی انٹرنیشنل اسکول کے ایک طالب علم شونک بنرجی نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ ای میل پر ایک انٹرویو میں بنرجی نے کہا کہ ’’ انہوں نے مجھے سوشل میڈیاکو بالکل نئے ڈھنگ اور تعمیری انداز سے دیکھنے کی تحریک دی۔ سماجی میڈیا کا تعلق صرف لائک کرنے ، کمنٹس دینے اور اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے سے نہیں ہے۔ یہ اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔‘‘

غیرمنافع بخش اور تعلیمی اداروں کیلئے آن لائن میڈیا سے متعلق تدابیر فراہم کرنے والی ویب سائٹ کے سی ای او ارجن سنگھل محسوس کرتے ہیں کہ ’’ سوشل میڈیا تجارتی ، پیشہ وارانہ اور ذاتی برانڈ سازی کیلئے زبردست امکانات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ہم لوگ موادکے معیار کو بہتر بنا سکیں اور سوشل میڈیا کی بہتر سمجھ کے ذریعہ اپنے سامعین /ناظرین سے ربط ضبط رکھیں تو انٹرنیٹ عوام کے لئے زیادہ حوصلہ بخش ماحولیاتی نظام بن سکتا ہے اور یہ مواصلات ، تعلیم اور نظام حکمرانی کے وسیلے کے طور پر بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ ‘‘

نئی دہلی میں ناسکوم فاؤنڈیشن میں پروگرامس کی وائس پریسیڈنٹ ساگریکا بوس کے خیال میں سری نواسن کی بات چیت ان کے نیٹ ورک میں شامل رضاکار تنظیموں کیلئے معلوماتی تھی۔ ساگریکا بوس کی فاؤنڈیشن رضاکار یت جیسے موضوعات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور ان کی تشہیر کرنے کیلئے سوشل میڈیا کے آلات کا استعمال کرتی ہے۔ ساگریکا نے کہا کہ ’’ مجھے ذاتی طور پر پروفیسر سری نواسن کی جو بات پسند آئی وہ یہ ہے کہ پروفیسر سری نواسن ’’پائیدارسوشل میڈیا ‘‘ پر زور دیتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ غیرمنافع بخش تنظیموں کے پاس قلیل وسائل ہوتے ہیں ۔ لہٰذا زیادہ مؤثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کام کا آغاز چھوٹے پیمانہ پر کریں ، ساری توجہ کام پر مرکوز رکھیں اور ایک واضح لائحہ عمل بنا کر کام کریں۔ ‘‘

اس سیزن میں ہزاروں ہندوستانی طلبہ و طالبات تعلیم کیلئے امریکی کالجوں میں پہنچ رہے ہیں اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سری نواسن سے اس پر زور دیا کہ وطن میں اپنے خاندان کے لوگوں سے مسلسل ربط میں رہنے کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے اور امریکہ میں بھی اس کے ذریعے ربط بڑھائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہــ’’بہت سے ہندوستانی طلبہ ایک طرح سے اپنے خول میں سمٹے رہتے ہیں ۔ میری خواہش ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے میل جول بڑھائیں۔ ‘‘

ممبئی میں سری نواسن کے ساتھ بات چیت میں نین تارا کیلا چند نے بھی شرکت کی۔ وہ کی ایڈیٹر اور بانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’دنیا کے بڑے حصہ میں سوشل نیٹ ورکنگ ایک طرح سے ربط اور بات چیت کا ذریعہ بن گئی ہے۔ آپ اگر اس کی طاقت نہیں مانتے تو اس میں نقصان آپ ہی کا ہے۔‘‘

سری نواسن نے کلکتہ ، حیدرآباد، چنئی ، بنگلور، اندور، جمشیدپور اور تری وندرم میں اپنی بات کے دوران میڈیا کے نئے پلیٹ فارموں کے ارتقا کے بارے میں بات چیت کی۔ جون میں ان تمام ملاقاتوں کا اہتمام امریکی سفارتخانہ نے کیا تھا۔ نئی دہلی میں سوشل میڈیا کے شیدائیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گوگل پلس نے لوگوں میں جس طرح کا جوش پیدا کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ کیونکہ ابھی چند مہینے پہلے کسی نے شاید سوچا بھی نہ تھا کہ یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’جس طر ح نوجوان افرادہندوستان میں سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں ا س میں اور پوری دنیا میں نوجوانوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کے ڈھنگ میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آتا اور اس پس منظر میں گوگل پلس کا ظہور بہت دلچسپ ہے۔ پوری دنیا میں گوگل پلس تقریبا ایک ساتھ منظر پر آیاہے ۔ فیس بک کا معاملہ اور تھا۔ اسے ہارورڈ میں لوگوں نے استعمال کیا، اس کے بعد کولمبیا کے لوگوں نے ۔ یہ عمل سست رفتار تھا لیکن یہاں تو یہ فوراً رونما ہو رہا ہے۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ ایسے لوگ یہاں اس کمرے میں بھی موجود ہوں جو یہ بتا سکیں کہ گوگل پلس کے ساتھ کیا کرنا چاہئے۔‘‘

سابق پروفیسر اور آسام یونیورسٹی کے ڈین دیباشیش چکرورتی نے، جو کلکتہ میں سری نواسن کی ٹاک میں شریک ہوئے تھے ، کہا کہ اگرچہ گوگل پلس کے استعمال کنندگان ابھی بہت زیادہ نہیں ہیں لیکن اپنی مخصوص ، دلکش خصوصیات جیسے کہ ملٹی پل ویڈیو چیٹ اور سرکلس وغیرہ کی وجہ سے اس کے انتہائی کامیاب ہونے کا پورا پورا امکان موجود ہے۔

ناسکوم فاؤنڈیشن کی ساگریکا بوس نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہاکہ گوگل پلس کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ’’یوں تو شروع کئے جانے کے چند ہفتوں کے اندر جس رفتار سے لوگوں نے گوگل پلس کو اپنایا ہے وہ سچ مچ ایک مثال ہے مگر گوگل کو یہ رفتار برقرار رکھنے کیلئے کافی محنت کرنی پڑے گی۔‘‘

سری نواسن کہتے ہیں ’’اپنے ٹیچر یا باس کے کہنے پر کسی بھی کام کو کرنے اور اسے تکمیل تک پہنچانے کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ یہی لوگ زندگی میں آپ کی کامیابی کا تعین کرتے ہیں۔ تاخیر سے بچنا بھی ایک اہم بات ہے۔ فیس بک یا ٹوئٹرپر آپ کو وقت کے صحیح استعمال کا ہنر بھی سیکھ لینا چاہئے ۔ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا آپ کے لئے آپ کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔‘‘

 


تبصرہ کرنے کے ضوابط